تنقید

کیا سناوں میں سفرنامہ تجھے : تبصرہ/نیلماناہیددارنی

کیا سناوں میں سفرنامہ تجھے
نامکمل  ہے  ابھی  میرا  سفر

یہ ڈاکٹر یونس خیال کا،شعر بھی ہے اور ان کے سفرنامہ کا عنوان بھی۔۔۔جو انھوں نے اپنے سفر نامہ برطانیہ کے ابتدائیہ میں لکھا ہے۔۔۔سفر کبھی مکمل نہیں ہوتا۔ ہمیشہ نامکمل ہی رہتا ہے۔ اور مسافر کی جستجو کبھی ختم نہیں ہوتی۔۔۔زندگی ایک سفر ہے ۔۔اور اس سفر کا اختتام ابدی نیند ہے۔ ۔۔اس لیے جب تک سانس ہیں اور قدم چل سکتے ہیں سفر جاری رہنا چاہیئے۔۔۔
اس کتاب کا انتساب انھوں نے اپنی شریک حیات کے ساتھ پچیس سالہ رفاقت کے نام کیا ہے۔۔کیونکہ یہ رفاقت بھی زندگی کے سفر میں زاد،سفر جیسی اہمیت رکھتی ہے۔ جتنا زاد سفر آرام دہ ہو گا اتنا ہی سفر پر سکون اور فرحت بخش ہوگا۔ ڈاکٹر یونس خیال اس لحاظ سے خوش،قسمت ہیں کہ زندگی کے سفر میں انھیں مبینہ خیال جیسی رفیق حیات کا،ساتھ میسر ہے۔
میں نے کتاب کھولی تو ابواب کے ناموں نے ہی اپنے سحر میں لے لیا۔

کعبہ میرے پیچھے ہے کلیسا میرے آگے

کبھی وہ آنکھ سے اترا تو خواب دیکھیں گے

گوگل مرے سماج کی دانش کو کھا گیا

ولیم ورڈزورتھ کے ساتھ ایک مکالمہ

میں بھی ہوں تیرے ساتھ مری بازگشت بھی

باغوں میں پڑے جھولے

ساقی نے کچھ ملا نا،دیا ہو شراب میں

تالا نہ چابی۔۔۔مرے ہاتھ خالی

اتنے شاعرانہ عنوانات ایک شاعر کے سفر نامے کے ہی ہو سکتے تھے۔
میں نے لندن کا،جو پہلا سفر نامہ پڑھا۔۔وہ سجاد ظہیر کا ۔۔۔لندن کی ایک رات۔۔
تھا۔اس کے بعد۔۔لندن لاہور ورگا اے۔۔جمیل پال نے پہلی پنجابی کانفرنس میں شرکت کے بعد 2000 میں لکھا تھا۔
آغا امیر حسین نے بھی لندن کا سفر نامہ لکھا جب ان کا چھوٹا بیٹا یہاں زیر تعلیم تھا۔
ڈاکٹر یونس خیال کے بیٹے احمد خیال مانچسٹر میں زیر تعلیم ہیں اس لیے انھوں نے بھی یہ سفر اپنی اہلیہ کے ہمراہ۔۔اپنے بیٹے سے ملاقات کے لیے کیا تھا۔ ۔۔یوں یہ ان کی برطانیہ سے پہلی ملاقات تھی۔

بہت سے لوگ جو مختلف ادوار میں برطانیہ آتے رہے انھوں نے اپنے سفر کی یادوں کو یکجا کیا ہے ۔۔۔ہر آنے والے نے برطانیہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔۔اپنے موسموں کو محسوس کیا۔۔اور اپنے مشاہدات کا تذکرہ کیا۔
یہ بھی خوب ہے کہ ہر انسان کے تجربات اور مشاہدات مختلف ہوتے ہیں۔۔اس لیے جگہیں تو وہی ہوتی ہیں ۔۔مگر واقعات اور احساسات ہر سفر نامے کو منفرد بناتے ہیں۔
ابتدائیہ میں ڈاکٹر یونس خیال لکھتے ہیں۔
” میں نے کوشش کی ہے کہ بس وہ لکھوں جو میں نے وہاں دیکھا، جو سچ تھا اور ایسے لکھوں جیسے میں محسوس کرتا ہوں ۔ کسی روایتی سفر نامہ کی پیروی میں نہ میں اپنی یادوں کی سچائی قربان کر سکتا ہوں ۔نہ ہی انھیں تحریر میں لاتے ہوئے مجھ سے اپنے فطری انداز سے کسی قسم کا انحراف ممکن ہے۔
ڈاکٹر یونس خیال کا یہ سفر نامہ ان کے مانچسٹر کے مضافات میں ٹھہرنے کے دنوں کی داستان ہے۔ جس میں انھوں نے اپنے میزبانوں ڈاکٹر زریں ان کے شوہر اور پیاری بیٹیوں کا ذکر بھی بار بار کیا ہے۔
مانچسٹر میں انھیں ادبی تقاریب میں شرکت کا بھی موقع ملا۔
پہلی تقریب مانچسٹر کی مشہور ادبی شخصیت ڈاکٹر یونس امین کی طرف سے تھئ۔۔ڈاکٹر یونس امین پاک برٹش آرٹس تنظیم کے بانی ہیں وہ نا صرف خود شاعر ادیب اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں بلکہ فلاحی کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔
ان کے چھوٹے بھائی الیاس امین پاک برٹش آرٹس کے چیرمین ہیں۔۔جو پاکستان سے آنے والے شاعروں اور ادیبوں کے لیے تقاریب کا اہتمام کرتے ہیں۔
ڈاکٹر یونس امین اور الیاس امین نے ڈاکٹر یونس خیال کے اعزاز میں تقریب کا اہتمام کیا۔۔جس میں محفل موسیقی اور پر تکلف عشائیہ بھی تھا۔
کارواں ادب مانچسٹر کے روح رواں
صابر رضا نے ان کے لیے نا صرف تقریب رکھی بلکہ 2024 کا لائف ٹائم اچیوومنٹ ایوارڈ بھی عطا کیا۔
سینئیر صحافی روزنامہ سپیکر مانچسٹر کے محبوب الہی بٹ نے اپنے چینل کے لیے ان کا انٹرویو بھی ریکارڈ کیا۔
ڈاکٹر یونس خیال کو ویلز جانے کا موقع بھی ملا۔ اور وہ مانچسٹر سے دو گھنٹے کی مسافت پر ویلز کے آبشاروں سے بھرے گاوں کی فضاوں سے بھی لطف اندوز ہوئے۔
کتاب کا سب سے دلچسپ حصہ شیکسپیئر کی برتھ پلیس یعنی پیدائشی گاوں اور آبائی گھر میں گزارے لمحات کا ذکر تھا۔
ایک شاعر کے لیے یہ خوشگوار حیرت کی بات ہوتی ہے کہ وہ اپنے پسندیدہ شاعر کے گاوں میں جا کر اس کے دور میں کچھ لمحے گزارے ۔
میں پہلی بار 2015 میں پندرہ اکتوبر کو شیکسپیئر کے گاوں Stratford Upon Avon گئئ تھی۔۔اور وہ میری سالگرہ کا دن تھا۔۔
اس کا مکان دیکھنے کے بعد میں اس چرچ میں گئی تھی جہاں شیکسپیئر اور اس کی شریک حیات کی قبریں ہیں۔۔رنگین شیشوں سے مزین اس پرانے چرچ کی خوابناک دیواروں میں حضرت عیسی کے مجسمے کے پاس سنگ مرمر کی قبروں کے درمیان بیٹھ کر میں نے دونوں ادیبوں سے ناجانے کتنی باتیں کی تھیں۔
ڈاکٹر یونس خیال کی کتاب میں اس چرچ کا ذکر نہیں ہے ۔شاید ان کے میزبان نہیں جانتے تھے ۔کہ شیکسپیئر اسی گاوں کے ایک چرچ میں دفن ہے۔
ڈاکٹر یونس خیال نے شیکسپیئر کے ساتھ مکالمے میں ایک نظم بھی لکھی جو درج ذیل ہے۔

ورڈورتھ کے ساتھ ایک مکالمہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محبت ، لطافت و فطرت کے شاعر
تمھیں آسمانوں میں أڑتے ہوٸے
بادلوں میں سمٹ کر
زمیں پرمحبت کی تشکیل
پر دسترس تھی

کُھلے پانیوں
نیلی گہری وسیع اور شفاف جھیلوں کے اندر کِھلے خوب صورت کنول پھول چننا
اورپھران کےرنگوں میں انگلی ڈبوکر
محبت کےکاغذ پہ نظموں کولکھنا
تمھارا جنوں تھا

یہ سچ ہے کہ دنیاکے تخلیق کأروں میں
تم منفرد ہو۔
محبت ، لطافت وفطرت کے شاعر
مگریہ کہو :
تم نےغربت زدہ بستیوں میں اترکر
کبھی زردچہروں کے پیچھے چھپے
کرب وآلام دیکھے؟
کبھی تم نے بھوکے غلاموں کی چیخیں سنی تھیں؟

کھلے ساحلوں کے مناظرکے شاعر
کبھی تم نے افلاس کی آنکھ سے گرتے آنسو کودیکھا ؟
کبھی ایسے آنسو کی وسعت کوماپا
جہاں جانے  کتنے سمندرپڑے تھے

مگریہ تمھاراکہاں مسٸلہ تھا !
محبت کے شاعر،
تمھارا نہیں،یہ مرامسٸلہ ہے
مراحوصلہ ہے ! !

ڈاکٹر یونس خیال کا یہ سفر نامہ مانچسٹر، اس کے گرد و نواح اور ویلز کے ایک گاوں کا احوال ہے جسے تحریر کی خوبی نے ایک پینٹگ جیسا خوبصورت بنا دیا ہے۔
مجھے پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوا جیسے میں ڈاکٹر زریں کے گھر کے پچھلے لان میں پڑے لکڑی کے جھولے میں بیٹھ کر بدھا کو دیکھ رہی ہوں جو نجانے کب سے تنہا کھڑا ہے۔
یا پھر ویلز کے آبشاروں والے گاوں کے راستے پر چل کر آبشاروں کے گرتے پانی کی آواز کی جھنکار سن رہی ہوں۔
میری دعا ہے کہ ڈاکٹر یونس خیال اپنے اگلے سفروں میں برطانیہ کے دیگر شہروں میں بھی جا سکیں اور اس خوبصورت دھرتی کے سب رنگوں کو اپنے الفاظ کے رنگوں سے سنوار دیں۔

نیلما ناھید درانی

younus khayyal

About Author

2 Comments

  1. گمنام

    فروری 17, 2026

    ما شا اللہ بہت عمدہ اور بھرپور تبصرہ — ڈاکٹر یونس خیال کا یہ سفر نامہ اپنی الگ پہچان کے ساتھ اردو سفر ناموں میں نمایاں نظر آ رہا ہے – ایک انتہائی خوشگوار اظہاریے کا حامل یہ سفر نامہ بے حد خوبصورت اور قابل ستائش ہے – آپ نے بڑی عمیق نظری سے اسے پڑھا ہے – سلامت رہیں

  2. یوسف خالد

    فروری 17, 2026

    ما شا اللہ بہت عمدہ اور بھرپور تبصرہ — ڈاکٹر یونس خیال کا یہ سفر نامہ اپنی الگ پہچان کے ساتھ اردو سفر ناموں میں نمایاں نظر آ رہا ہے – ایک انتہائی خوشگوار اظہاریے کا حامل یہ سفر نامہ بے حد خوبصورت اور قابل ستائش ہے – آپ نے بڑی عمیق نظری سے اسے پڑھا ہے – سلامت رہیں

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

تنقید

شکیب جلالی

  • جولائی 15, 2019
از يوسف خالد شکیب جلالی—————-ذہنی افلاس اور تخلیقی و فکری انحطاط کی زد پر آیا ہوا معاشرہ لا تعداد معاشرتی
تنقید

کچھ شاعری کے بارے میں

  • جولائی 15, 2019
      از نويد صادق مولانا شبلی نعمانی شعرالعجم میں لکھتے ہیں: ’’ سائنس اور مشاہدات کی ممارست میں