ڈاکٹر یونس خیالؔ ، فرسِ خیال پر اقلیمِ ادب کی سیر و سیاحت کو اپنی متاعِ حیات سمجھتے ہیں ۔ انھوں نے مختلف اصناف ِ ادب میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہےاورشاعری ، تنقید اورتحقیق میں اپنے انمٹ نقوش چھوڑے ہیں ۔ اب یونس خیال کی ایک نئی ادبی جہت جو سامنے ائی ہے وہ سفرنامہ ہے ۔ ان کا برطانیہ میں بیتے 20 دن پر مشتمل سفرنامہ” کیا سنائوں میں سفرنامہ تجھے“ کے نام سے شائع ہوا ہے۔
انھوں نے اپنے سفر نامے کو 16 مختلف عنوانات میں تقسیم کر رکھا ہے اور ہر عنوان کے ساتھ کسی نہ کسی معروف شعرکا مصرع دے کر اس کو ایک نیا خوب صورت انداز عطاکیا ہے۔ مثال کے طور پر ان کا پہلا عنوان ہے” کیا سنائوں میں سفر نامہ تجھے“ کے نیچے بریکٹ میں انہوں نے” کعبہ میرے پیچھے ہےکلیسا میرے آگے۔ “اسی طرح انہوں نے کئی مصرعے وہاں دے کر ان عنوانات کو دلکشی عطا کی ۔ ایک اور عنوان ”لان کا دایاں کونا اور لکڑی کا بڑا جھولا“ اس میں انہوں نے ”باغوں میں پڑے جھولے “ایک اردو ماہیے کا پہلا مصرع دیا ہے۔ پاک برٹش آرٹس کا مشاعرہ اور شام موسیقی کے نیچے انہوں نے بریکٹ میں” گھنگھرو کی طرح بجتا ہی رہا ہوں میں“ذیلی عنوان دیاہے،اسی طرح ایک عنوان ہے” برادر عزیز شاہد الیاس کی دعوت“ اس کے نیچے انہوں نے ریاض مجید کے شعر کا ایک مصرع دیا ہے” رو پڑا وہ آپ مجھ کو حوصلہ دیتے ہوئے“۔ یہ عنوانات اور شعروں کے مصرعے سفرنامے کو ادبیت عطاکرتے ہیں اور ان کے شعری ذوق کا بھی پتہ دیتے ہیں۔
ڈاکٹر یونس خیال کا اسلوب انتہائی دلچسپ ہے وہ جہاں بھی جاتے ہیں جو بھی منظر دیکھتے ہیں یا جو بھی وہاں محسوس کرتے ہیں اس کا موازنہ کرنے لگتے ہیں ۔ شاپنگ کرتے وقت وہاں کی کرنسی کا پاکستانی کرنسی کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے مختلف اشیا ءکی قیمتوں کا تعین کرتے ہوئے بیگم کو بتاتے رہتے ہیں ۔ ان کے اسلوب میں شگفتگی کا عنصر بدرجہ اتم موجود ہے ۔ ان کے بعض جملے پڑھتے ہوئے زیر لب مسکراہٹ پھیل جاتی ہے ۔ یہ انداز ِ اسلوب انشائیے کی عطا ہے ۔ خاص طور پرجہاز میں بیٹھتے ہی وہ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ”جہاز والیوں کا لہجہ بھی گھر والیوں کے لہجے سے کچھ زیادہ مختلف نہ تھا“۔ وہ مانچسٹر کے مختلف مقامات اور مارکیٹوں کی سیر کرتے ہوئے وہاں کی خوب تعریف کرتے نظر آتے ہیں لیکن جہاں کہیں انہیں کوئی خرابی نظر آتی ہےاس کا بھی اظہار ضرور کرتے ہیں۔ خاص طور پر ایمرٹس ائیر لائن کی لاہور سے دوبئی اور پھر دوبئی سے مانچسٹر کے سفر کے دوران جہاز کی سہولیات اور خدمت کے معیار ات میں واضح فرق کے حوالے سے بھی نالاں نظر آئے ، لکھتے ہیں:
” ایک ہی فضائی کمپنی کے ایک ہی روٹ پر دو مختلف حصوں میں سفر کرتے صارفین کے لیے خدمت کے معیار میں اس واضح فرق سے مجھے احساس کمتری ہونے لگا۔ مشرق اور مغرب میں صارف کی ایک جیسی تعریف کے باوجود پراڈکٹ کے معیار میں اتنا فرق کیوں ؟۔ایک جیسی قیمت ادا کرنے والے دو خریداروں میں تفریق کیسی یہ میرا احساس تھا حالانکہ ڈالر اور روپے کی قدر و قیمت کے فرق اور اس کی وجوہات سے بھی میں اگاہ تھا۔ میرا تعلق غربت اور جہالت میں لتھڑے ہوئے اس معاشرے سے تھا جہاں قرض منظور ہونے پر جشن منائے جاتے ہیں اور اس پر ایک حدسے زیادہ سوچنے کی سکت نہیں تھی۔“
مردوں کا خواتین کی طرف مائل ہونا اچھنبے کی بات نہیں ۔یہ ایک فطری امر ہے جس سے کسی کو مفر نہیں ہے ۔ ڈاکٹر یونس خیال برطانیہ گھومنے اور دیکھنے گئے بھی تو عمر کےاس حصےمیں اور پھر بیگم کے ہمراہ۔۔۔پھر بھی ان کی ہمت ہے کہ وہ ”برطانیہ “ کو بیگم سے آنکھ بچا کر دیکھتے رہے ہیں۔ اس کی بنیاد ی وجہ یہ ہے کہ وہ مرد بھی ہیں اور حسِ جمالیات رکھنے والے بہتر ین شاعر بھی ہیں ۔مارکیٹ جاتے ہیں یا نرسری میں پودے خریدنے تو وہ تھوڑی دیر بیگم اور دیگر افراد سے بچ بچا کر خواتین والی سائیڈ پر جا کر اپنی آنکھوں کو طراوت دینے کی کوشش بھی کرتے ہیں اس حوالے سے ایک جگہ لکھتے ہیں :
”خواتین کی پھولوں کے گملوں میں زیادہ دلچسپی نے مجھے اس بڑی نرسری کی روشوں میں کھو جانے کی تحریک دی اور میں ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے کہ ”میں اس طرف ہوں۔“کہتا چل نکلا ۔“
پھر جب وہ دوبئی سے مانچسٹر جار ہے تھے تو ائیر ہوسٹس نے میزبانی کے فرائض ادا کرتے ہوئے ٹرالیو ں میں سجے سامانِ خوردونوش ہر مسافر کے پاس لے جاتیں اور بڑی اپنائیت سے پوچھتیں کہ کیا لیں گے ۔ جب ائیر ہوسٹس ڈاکٹر یونس خیال کے پاس آئی تو ساتھ بیٹھے مرد مسافر نے وائٹ وائن مانگی تو اس پر ڈاکٹر یونس خیال نے اپنی بیگم کی طرف دیکھا جو تسبیح پڑھ رہی تھیں، لکھتے ہیں :
” مختلف رنگوں کی بوتلوں اور کھانوں سے سجی ٹرالی لیے جب ان میں سے ایک میزبان نے ہماری سیٹ کے قریب آکر پوچھا تو ساتھ بیٹھے دوست نے اس خوب صورت لہجے میں وائٹ وائنWhite wine)) کہا کہ اس پر پیار آنے لگا ۔ میری چوائس پوچھنے کے لیے جب اس دوست اور جہاز کی میزبان نے ایک ہی وقت میںمیری طرف دیکھا تو میرے حلق سے بس ”جوووووس“ نکل پایا ۔
دائیں جانب بیٹھے سری لنکا کے ہوش مند دوست کے لیے خوب صورت میزبان سلیقے سے پیک بناتی ہوئی گلاس میں برف کے چھوٹے کیوب ڈال رہی تھی اور بائیں طرف دل کے قریب بیٹھی بیگم صاحبہ کے ہاتھوں میں تسبیح گردش کررہی تھی ۔ “
اس طرح کے واقعات نے سفرنامے کو خاصا دلچسپ بنا دیا ہے ۔ مانچسٹر میں ان کے بھائی ڈاکٹر یاسر ، ان کی بیگم ڈاکٹر زریں اور ان کے بیٹے احمد خیال جو وہاں کسی یونیورسٹی میں پڑھ رہا تھا ۔ ان تینوں نے ڈاکٹر یونس خیال اور ان کی بیگم کی خوب میزبانی کی انہیں احساس تک نہ ہونے دیا کہ وہ لاہور سے کتنی دور ہیں ۔ اس کے علاوہ وہاں مانچسٹر میں ان کے دوست احباب نے ان کی دعوتیں کیں ۔ ادبی پر وگراموں میں بھی شریک ہوتے رہے ۔ ” کیا سنائوں میں سفرنامہ تجھے “ مختصر مگر بھرپور ادبی سفرنامہ ہے جس میں سفرناموںجیسے حیرت او ر مسرت کے تاثرات بھی ہیں ۔
اس سفرنامےمیںڈاکٹر یونس خیال نے بعض لفظوں میں اختراع کرتے ہوئے ان کے تلفظ میں تبدیلی بھی کی ہے جس سے وہ مجھے ماہر لسانیات بھی نظر آئے ہیں خاص طور پر ”محدود “ سے انھوں نے ” محدودیت “ اختراع کیا ہے اس طرح ” کسان “ سے انھوں نے ”کسانیت “ بھی لکھا ہے ۔ ان نئے لفظوں کو پڑھتے ہوئے ہوئے ابلاغ میں بھی کوئی دشواری نہیں آتی ۔
مانچسٹر میں مختلف مقامات کی سیر کے دوران انہیں جب کوئی خاص چیز نظر آتی ہے تو وہ اس کا موزانہ اپنے دیس کی اشیاءسےکرنے لگتے ہیں ۔جب وہ سویلو ویلزآبشار دیکھنے جاتے ہیں تو وہ جنگلے کے ساتھ چھوٹے بڑے بے شمار تالے دیکھتے ہیں۔پوچھنے پر پتہ چلتا ہے کہ نوجوان جوڑے اپنی محبت کو تالا لگاکر چابی آبشار میں پھینک دیتے ہیں ۔پھر انہیںاپنے ملک کےمزار اور خانقاہیں یاد آنے لگتی ہیں اوروہ اپنےماضی میں کھوجاتےہیں، لکھتے ہیں :
”ایک پل میں میرے سامنے نہ جانے کتنے مزاروں پر کبوتروں کو ڈالی گئی چوگیں‘ بوڑھے درختوں سے باندھے گئےمختلف رنگوں کے دھاگے، سرسوں کے تیل سے جلائے گئے دیے اور چھوٹی بڑی اگر بتیوں کی خوشبوئیں تصویروں کی صورت رقص کرنے لگیں۔ میں ان سب کے درمیان خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہا تھا لہذا رسمی سے انداز میں وہاں کچھ تصویریں بنوا کر ایک بڑے پتھر پر آن بیٹھا۔“
یوسف خاں کمبل پوش ، سرسید احمد خان،مولوی مسیح الدین علوی ،شاہ ایران ناصر الدین ،مولوی سمیع اللہ خاںاور مرزا نثار علی بیگ جیسے سفرنامہ نگاروںنے قدیم برطانیہ کو دیکھا اور اس دور کی معاشرت کو پیش کیا ہے ۔ ڈاکٹر یونس خیال کے سفرنامے کو پڑھ کر ان قدیم سفرناموں کے ساتھ برطانیہ میں ہونے والی ترقی کی رفتار کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور طرزِ معاشرت کا بھی موزانہ کیا جا سکتا ہے ۔
ڈاکٹر یونس خیال کا سفرنامہ صرف ۹۰صفحات پر مشتمل ہے لیکن قاری پر اپنا ایک بھرپور تاثر چھوڑتا ہے ۔اس میں ایک اچھے سفرنامے کے تمام خصائص و اوصاف موجود ہیں ۔ ”کیا سنائوں میں سفرنامہ تجھے “ ایک شاندار اور ماہر سیاح کا سفرنامہ ہے جس میں ہمیںآج کے برطانیہ کوقریب سے دیکھنے کا موقع ملتا ہے ۔
……………………

