تنقید

ڈاکٹرشفیق آصف کےرتجگوں میں خواب : یونس خیال

(زندگی کااِستعارہ خواب ہے)
خواب زندگی کی تلخ حقیقتوں سے فرارکارستہ بھی ہیں اورخوشگواراحساسات کی طلب میں پہلاقدم بھی۔ ان دونوں کیفیات میں عملی زندگی سےشعوری اورلاشعوری ،ہردوسطح پرالگ ہوکرنیندکی وادیوں کی طرف مراجعت ضروری ہوتی ہے۔ایک عام شخص اورتخلیق کارکے خواب دیکھنے کی کیفیات میں بہت فرق ہوتاہے۔ تخلیق کارنیندکی سہولت کے بغیربھی خواب دیکھنے کی اہلیت رکھتاہے اور اس کی یہی اہلیت معاشروں میں تبدیلی اورترقی کی پہلی سیڑھی بنتی ہے۔ اسی لیےمہذب معاشروں میںکھلی آنکھوں سے خواب دیکھنےوالے ان فطری وصف سےمالامال تخلیق کاروں کوبہت اہمیت دی جاتی ہے۔بقول عرفان صدیقی:
اٹھو یہ منظر شب تاب دیکھنے کے لیے
کہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لیے
(عرفان صدیقی)
ڈاکٹرشفیق آصف کی شاعری کامضبوط ترین استعارہ خواب ہے اوران کاشماربھی انہی خوش قسمت تخلیق کاروں میں ہوتاہےجو جاگتے میں خواب دیکھتےہیں اورپھران کی تعبیریں تلاش کرنے میں عمریں گزاردیتےہیں:
زندگی کااستعارہ خواب ہے
چاہتوں کاگوشوارہ خواب ہے
۰۰ ۰۰
وہ خواب دیکھیں جوزندگی کانصاب ٹھہریں
وہ لفظ لکھیں جوزندگی کی کتاب ٹھہریں
شفیق آصف کےاب تک سات شعری مجموعے شائع ہوچکےہیں۔اِن کے اشعارمیںاُن رتجگوں کی چھوٹی بڑی کئی کہانیاں لپٹی ہوئی ہیںجوانہوں نےاپنےخوابوں کےانتظارمیں یاپھراُن سے گفتگوکرتےکاٹے۔کہیںان کے حصے میں آنے والی نفرتوں کی آگ کی تپش ہےاورکہیں محبت کےبدلےملے زخموں سے اُٹھتی ٹیسیں/کہیں سماج میں طلم کے تسلسل کابیان ہےتوکہیںاس ظلم کےنظام کےخاتمے کی خواہشوں کے خواب/کہیں طویل رتجگوں سےآنکھیں دہک رہی ہیں اورکہیں اِن میں دیکھےخوابوں کی نامکمل اورمبہم تعبیروں کادُکھ/کہیں انتظارکی شدت ہےتوکہیںبےسودرتجگےکاٹنے کاپچھتاوا:
خواب ہی سےعمربھراپنی رہی ہے گفتگو
ہم سےآکرپوچھ لیناکیاجوابِ خواب ہے
۰۰ ۰۰
یہ جونفرتوں کےالائوہیں ،تیرےگھائوہیں
یہ جوچاہتوں کےنصاب ہیں ،مرےخواب ہیں
۰۰ ۰۰
وہی مدتوں کے سراب ہیں،مرے شہرمیں
وہی رتجگے وہی خواب ہیں،مرےشہرمیں
۰۰ ۰۰
جانے کیساموسم اُتراآنکھوں میں
بچھڑی ہے تعبیر،ہمارےخوابوں سے
۰۰ ۰۰

تارےگنتےگنتےآکرسورج سرپرآپہنچا
جانےاپنی قسمت میں یہ کیسی شب بیداری ہے
۰۰ ۰۰
جہاں آرزوکے گلاب تھے،کئی خواب تھے
وہی شاخِ سبزہے بے نمو،کبھی دیکھ تُو
۰۰ ۰۰
یہ کیسی حدتیں ہیں داستاں میں
زباں پرآبلے ہی آبلےہیں
شعری مجموعہ” رتجگوں کی چاندنی “ میں صرف پچھتاوایامایوسی ہی کی فضانہیں بلکہ اُمیدکےدیے بھی روشن ہیں۔شاعروقت کے اندھیروں میں تنہائی ضرورمحسوس کرتاہےلیکن اپنے رتجگوں سےروشنی کشیدکرکے منزل کی طرف قدم بڑھاتانظرآتاہے۔اسے یقین ہےکہ وقت ضروربدلے گااوردنیامیں امن وسکون کاسورج پھرطلوع ہوگا۔اور اس کےرتجگےاوران میں دیکھےگئے خواب ثمرآورہوں گے:
دھیرے دھیرےکاٹ ہی دےگا،وقت کاتیشہ آخرکار
اپنےسرپررکھاجیون کاجوپتھربھاری ہے
۰۰ ۰۰
اگرسلیقہ ہودیکھنےکا
توتیرگی میں بھی روشنی ہے
۰۰ ۰۰
میں اندھیروں کےسفرپرہوں اکیلاگامزن
ساتھ میرے چل رہی ہے رتجگوں کی چاندنی
۰۰ ۰۰
کھوگیاجوکہکشاں کی دھول میں
مجھ کوایسے خواب کی تلاش ہے
ڈاکٹرشفیق آصف کے ہاں اپنےمحبوب سے تعلق کےاظہارمیںایک خاص قسم کے ضبط اور ٹھہرائوکی کیفیت موجودہے۔ان کی شاعری میںمحبوب اوراس قربت کےحصول کے لیے کہیں بھی سطحی قسم کی بےقراری یااضطراب نظرنہیں آتے۔یہاں بھی ان کے اشعارمیں خواب کااستعارہ نمایاں نظرآتاہے۔وہ خوابوں تک رسائی کےلیے محبوب کی یادوں کے بچھونے کی تلاش میں نظرآتے ہیں اوراس کی آنکھوں میں اپنےہی خواب دیکھتےہیں۔اورہاں وہ محبوب کے آنکھوں سےخواب چُرانے کاہنربھی جانتے ہیں۔محبوب کی آنکھوںسے اپنےمتعلق مسکراتاخواب تلاش کرلینااورپھرانہی آنکھوں سےمحبوب کےخواب تک پہنچنادونوں اندازخوب صورت ہیں:
مسکراتاہےجواس کی آنکھ میں
دیکھ لیناوہ ہماراخواب ہے
۰۰ ۰۰
آصف اس کی آنکھوں سے
کوئی خواب چراناہے
۰۰ ۰۰
خواب وادی میں اُترنے کے لیے
اُس کی یادوں کابچھونا چاہیے

۰۰ ۰۰
اک ملاقات خواب میں ممکن
اک ملاقات شام سے پہلے
۰۰ ۰۰
کسی ستارے کانُورٹھہری
جوتیری آنکھوں کی روشنی ہے
شفیق آصف کے شعری مجموعوں کے ناموں سے بھی اُن کے شعری ذوق اورموضوعات کااندازہ لگایاجاسکتاہے۔رنگوں میں اُتر آنا/کونجاں جاگ پئیاں/جب خواب بکھرتےہیں/محبت دستاویزنہیں رکھتی/اک چہرہ بنائوں گا /ستاراجاگتاہے اوررتجگوں کی چاندنی میں شامل اشعارپڑھنے والاقاری خواب نگرکی وادیوں میں کھوجاتاہےلیکن یہاں بستے خواب آدھی موت کی گودمیں محض خواب ہی نہیں رہتے بلکہ مستقبل کی امید اورروشنی کی نویدسناتےہیں۔
آخرہمارے اس خوب صورت شاعرکےمختلف موضوعات پرچندشعرملاحظہ کیجیے:
مجھےہوائوں کے ہاتھ پرجس نے لکھ دیاہے
میں کس طرح سے تلاش کرتانشان اس کا
۰۰ ۰۰
بارہا چُوما فرازِ دار کو
کون کہتاہے کہ ڈرجائیں گے ہم
۰۰ ۰۰
ایسے درآیاہےاک چاندمری کھڑکی میں
جیسے آنکھوں سے کوئی دل میں آترجاتاہے
۰۰ ۰۰
جوخودایک دن کوڑیوں میں بکاتھا
وہ اب میری قیمت لگانے لگاہے
۰۰ ۰۰
جیون کی تکمیل کےاندر
ہم بھی ہیں تحویل کےاندر
۰۰ ۰۰
ایک شاعراورعاشق کی طرح
موسمَ سرماہے،تنہاچاندہے
۰۰ ۰۰
ذرہ ذرہ چھاناہے
تب خودکوپہچاناہے
mmmmm

younus khayyal

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

تنقید

شکیب جلالی

  • جولائی 15, 2019
از يوسف خالد شکیب جلالی—————-ذہنی افلاس اور تخلیقی و فکری انحطاط کی زد پر آیا ہوا معاشرہ لا تعداد معاشرتی
تنقید

کچھ شاعری کے بارے میں

  • جولائی 15, 2019
      از نويد صادق مولانا شبلی نعمانی شعرالعجم میں لکھتے ہیں: ’’ سائنس اور مشاہدات کی ممارست میں