تنقید

ڈاکٹرستیہ پال آنند بنام مرزاغالبؔ (۲۳)

بس کہ روکامیں نے اورسینے میں ابھریں پے بہ پے
میری   آہیں   بخیہ ء چاکِ  گریباں   ہو   گئیں

غالبؔ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ستیہ پال آنند

’’ آہ‘‘ یعنی اک تنفس ، ریحِ تر، یا سانس کا تَف

مستتر، مستور ہے یہ، چھو نہیں سکتے اسے ہم

’’بخیہ ٗ چاک ِگریباں‘‘ ، لجلجا، ڈھیلا ، ولیکن

روبرو، مشہود ، یعنی چھو بھی سکتے ہیں اسے ہم

واہ ! کیا ترکیب ہے ، غالبؔ کہ فصل و بُعد میں بھی

دو مغائر ، دگر گوں اقسام کو یوں جوڑ کرہی

آپ نے یکساں کیا اس بے بہا تشبیہ میں یوں

مرزا غالبؔ

آپ؟ ستیہ پال؟ یعنی واقعی کیا آپ ہی خود

میری تحسین و ستائش میں یہ سب کچھ کہہ رہے ہیں؟

یوں عموما ً میری سبکی آپ کا دستور ہی تھی

ٹانگ میری کھینچنے میں آپ کا ثانی نہیں تھا

آج پھر کیسے مجھے یوں واجب التعظیم سمجھا ؟

ستیہ پال آنند

آپ، غالب، واجب التعظیم تو صدیوں سے ہی ہیں

اور ، قبلہ ، پیش رو بھی ، اولیں بھی تب سے ہی ہیں

سابقہ، اولیٰ بھی ہیں اور رائج و حاضر بھی ہیں اب

ارتفاق و عینیت میں ’’آج‘‘ بھی ہیں، ’’کل‘‘ بھی ہوں گے

مرزا غالب

خوب، لیکن کیوں بھلا یکلخت یہ اعزاز، تکریم و دعا؟

ستیہ پال آنند

میں، مسمی ستیہ پال آنند تو چونچال ہی ہوں

دخل اندازی کا قائل بھی ہوں بدلہ سنج بھی

اس لیے ہی آپ کو زچ کرتا رہتا ہوں میں اکثر

پر معافی کا نہیں قائل کہ مستقبل میں بھی تو

عین ممکن ہے کہ میں دہرائوں اپنی زشت خوئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹر شمس الرحمن فاروقی۔ ایک ای میل مکتوب سے کچھ اقتباسات

۔۔۔۔۔ کسی بھی شعر کا اس کے شارح پر یہ حق ہے کہ اس کے باریک ترین معانی بیان کرے۔ جتنے کثیر معانی اس میں ممکن ہوں ، ان کو دریافت کرے کسی بھی اچھے شعر کی یہ خوبی مسلم ہے کہ وہ مختلف زمانوں اور مختلف تناظر میں بھی با معنی رہتا ہے۔ یہاں با معنی سے میری مراد ایک ہی معنی میں امکانات کی کثرت ہے۔ ایک ہی نپا تلا ہوا معنی نہیں ہے، بلکہ اس کی سب پیچیدگی کی شمولیت ہے۔ اس لحاظ سے میں آپ کا ہم خیا ل نہیں ہوں کہ قاری اساس تنقید کا کلیہ درست ہے اور اس کے زیر اثر زمان و مکان میں حائل فاصلہ عبور نہیں کیا جا سکتا۔ کسی بھی بڑے شعر کی خوبی ہی یہ ہے کہ وہ مختلف زمانوں اور مختلف تناظر میں بھی با معنی رہتا ہے۔ ایسا اسی وقت ہو سکتا ہے جب اس میں معنی کے امکانات کی کثرت ہو۔

اس مختصر مکالماتی نظم میں آپ نے غالب کی تعریف و توصیف میں، گویا موصوف کے سامنے ہی، اس کے وصف گنوانے کا کام کیا ہے ۔ کون سا شاعر ہے جو اپنی تعریف سن کر خوش نہیں ہوتا! ہم تک جو کچھ بھی غالب کے ہم عصر شعرا یا ان کے بعد سب سے پہلے شارحین سے پہنچا ہے ( اور اس میں حالی کی ‘مقدمہ ء شعر و شاعری’ اور ‘یادگار غالب’ پیش پیش ہیں) ان سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ غالب نے کبھی اپنے ناقدین کی تعریف یا مذمت کی ہو ۔ اس لحاظ سے آپ کی یہ نظم ایک ایسے نکتے پر تبصرہ ہے، جس کے بارے میں پہلے کچھ نہیں کہا گیا۔

(ایک مکتوب سے صرف غالب سے یا میری نظم سے متعلق اقتباسات کو جاری رکھا گیا) !

younus khayyal

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

تنقید

شکیب جلالی

  • جولائی 15, 2019
از يوسف خالد شکیب جلالی—————-ذہنی افلاس اور تخلیقی و فکری انحطاط کی زد پر آیا ہوا معاشرہ لا تعداد معاشرتی
تنقید

کچھ شاعری کے بارے میں

  • جولائی 15, 2019
      از نويد صادق مولانا شبلی نعمانی شعرالعجم میں لکھتے ہیں: ’’ سائنس اور مشاہدات کی ممارست میں