(میرےاندرایک خیمہ جلتاہے)
اردوادب میںجہاں انشائیہ اورنثری نظموں کی شناخت اورترقی میں ڈاکٹروزیرآغااوران کے’’ اوراق ‘‘کی خدمات تاریخ کاحصہ ہیں وہاں اُن کی نوجوانوں لکھاریوں کےہاں محتلف ادبی اصناف کے مطابق ،ان کی تخلیقی مزاج شناسی کی داددیےبغیرنہیں رہاجاسکتا۔ انہوں نےنوجوان تخلیق کاروں کوان کے فطری مزاج کے مطابق مختلف ادبی اصناف کی طرف راغب کیااورراہنمائی بھی کی۔نوےکی دہائی میں نثری نظم کے حوالےسے نجمہ منصورکی دریافت اسی سلسلےکی ایک اہم کڑی ہے۔وقت گزرنےکےساتھ ساتھ نجمہ منصورنےاس صنف کونہ صرف اعتباربخشابلکہ بین الاقوامی سطح پران کی شناخت میں بہت اہم کرداربھی اداکیا۔
اب تک نجمہ منصور کی پچیس کُتب شائع ہوچکی ہیں جن میںدس نظمیہ مجموعے شامل ہیں۔نثری نظموںپرمشتمل ان کاپہلامجموعہ ’’میں، سپنےاورآنکھیں ‘‘ ۱۹۹۰ءمیں شائع ہوااور ’’ کربلا غم کا استعارہ ہے ‘‘حال ہی میں چھپ کرسامنےآیاہے۔اردومیںنثری نظم جیسی نسبتاً نئی صنف میںنجمہ منصورکی امتیازی حیثیت اس لیےبھی ہےکہ ایک خاص اُسلوب پرمشتمل کرداری نظموں کامجموعہ ’’نظم کی بارگاہ میں ‘‘ کسی غالباًکسی خاتون کاپہلامجموعہ ہے۔اسی طرح ’’ سانس کی گرہ کھلتے ہی ‘‘ طویل نثری نظموں پر مشتمل ہےجب کہ ’’ سفید پرندے کا نوحہ ‘‘ میں جنگ مخالف نظمیں شامل ہیں۔ان سےاُن کےہاں موضوعات کے تنوع کااندازہ لگایاجاسکتاہے۔اوراب کربلا اور شہادت کے موضوع پر ’’ کربلا غم کا استعارہ ہے ‘‘بھی نثری نظم کےاولین مجموعوں میں شامل ہوگا۔
’’کربلاغم کااستعارہ ہے ‘‘ میںنجمہ منصورکی تخلیقی اَپروچ اپنےعروج پرنظرآتی ہے۔انہوں نےکربلاکےموضوع پرکی جانے والی اس شاعری میںکئی نئے استعارے،تشبہات اورعلامتیںمتعارف کرواکر نہ صرف نثری نظم کےدامن کووسعت دی ہےبلکہ بعض الفاظ سےنئےمعانی منسوب کرکےان میں تازگی کااحساس بھی دلایاہے۔نیزے کو ’’ منبر ‘‘کہنا /کربلاکو ’’ یتیمی کاکتبہ ‘‘ قراردینا/حق کامطلب پیاساسجدہ اورظلم کوایک ’’ تاج پہنامجرم ‘‘ لکھنا/اور تاریخ کوایک’’پیاسی ناگن ‘‘ کارُوپ دینا،اس اَمرمیں چندمثالیں ہیں:
(۱)
نیزہ،
محض ہتھیارنہیں
اک منبرہے
جس پرسروں نےخطبےدیے
(تاریخ کےسینےمیں دہکتی آگ)
۰۰ ۰۰
(۲)
کربلایتیمی کاوہ کتبہ ہے
جووقت کی پیشانی پرقیامت تک نصب رہے گا
(شہزادی سکینہ کےلیے)
۰۰ ۰۰
(۳)
لغت کی گردآلود جلدمیں
اب حق کامطلب
صرف ایک پیاساسجدہ بچاہے
اورظلم
ایک تاج پہناہوامجرم
(کربلاکےسائے میں)
۰۰ ۰۰
(۴)
تاریخ،ایک پیاسی ناگن ہےجو
ہرکربلاکےبعد،
خونِ حسینؓ کی سرخی
اپنی رگوں میں جذب کرتی ہے
(تاریخ،ایک پیاسی ناگن ہے)
’’کربلاغم کااستعارہ ہے ‘‘ کی شاعری اوراُس کی شاعرہ کےبیان کااندازکربلاکی زمین اوراُس شاہی حدود سےنسبت رکھنے والےعا م تخلیق کاروں سےذرامختلف ہے۔یہاں شاعرہ روحانی طورپرموجودہےجووجوداوروقت کی قیدسےآزادہوکرمجاوری کاچولاپہنے فرات اورمیدانِ کربلاکے درمیان خیمہ زن نظرآتی ہے۔کربلاکے خطےکی یہی مجاوری اُسےعام تخلیق کاروں سے ممتازکرتی ہے۔وہ وفاکے اصل مفہوم سےآشنا ہے/اس نےاپنےغم کےخیمےسےباہراپنی آوازکودفن کررکھاہے/وہ فرات کےکنارےدفن پیاسی کہانیوں کی زبان جانتی ہے/اُسے اپنےآنسو،لفظ اورخون گوندھ کربی بی سکینہؓ کےلیےنظم لکھنےکاسلیقہ آتاہے،اورمجاوری کی اسی خلعت کےفیض نےہی اُسے صدیوں پرپھیلی کربلاکی اس کہانی کو ’ یک سطری نظم ‘ کہنے کاشعوربخشاہے:
(۱)
میں نےاپنےدل میںایک چھاٹاساخیمہ گاڑدیاہے
خاکی،لرزتاہوا،مگرجلتانہیں
یہ خیمہ وفاکااستعارہ ہے
(کربلاعشق کی داستان)
۰۰ ۰۰
(۲)
دردکےخیمےسےباہر
میں نےاپنی آوازدفن کی
نہ وہ نوحہ تھا،نہ نعرہ
بس ایک ایسی خاموشی تھی
جوذبح ہونےسےپہلےکی سانس جیسی تھی
(کربلاکےسائے میں)
۰۰ ۰۰
(۳)
ریت کی تپتی چادراوڑھے
کربلاخاموش کھڑی ہے
فرات کےکنارےبجھی پیاس میں
پیاسی کہانیاں دفن ہیں
(کربلااورزینب ؓ)
۰۰ ۰۰
(۴)
میں نےشہزادی سکینہ پرلظم لکھنےکےلیے
لفظوں،آنسوئوںاورخون کوگوندا
اورریت پرپہلی سطرلکھی
ہرلفظ ایک ماتم،ہرحرف اک زخم بن گیا
جیسے کسی یتیم کی ہچکی
(شہزادی سکینہ کےلیے)
۰۰ ۰۰
(۵)
میں جانتی ہوں
کربلاغم کاستعارہ ہے
یہ خون ریزیک سطری نظم ہے
جولہوکے قلم میں
سات سمندربھرکر
ٖصدیاں لکھ رہی ہیں
مگرایک نقطہ بھی پورانہیں ہوتا
(کربلاغم کاستعارہ ہے)
۰۰ ۰۰
(۶)
میرےاندرایک خیمہ جلتاہے
جس کی راکھ سےلفظ جنم لیتےہیں
اشک میرےقلم کی روشنائی ہیں
اورخامشی اذان بن جاتی ہے
(کربلا:ایک باطنی مکاشفہ)
نجمہ منصورکاشکریہ کہ جس نےہمیں نثری نظم کے اس ذائقے سے متعارف کروایاجوشاعری سے بڑھ کر عقیدت اورعبادت کا درجہ رکھتی ہے۔

