تنقید

عباس مرزاکےپنجابی بیتوں میں ’’کِکر‘‘ اور’’بوہڑ ‘‘کی علامت :یونس خیال

(بوہڑدے ساوے پترگِدا پاندے رئے )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کسی بھی شاعرتک رسائی کاسب سےموثرذریعہ یہی ہوتاہے کہ اس کی تخلیقات سے رجوع کیاجائے۔اس کی فکراورلفظیات کی ڈور کو رہنما بناکراس کے سماجی اور نفسیاتی پہلوئوں تک رسائی حاصل کی جائے۔عباس مرزاکے حوالے سے یہ کام بہت مشکل نظرآتاہے۔ ایک ایساتخلیق کار جس نےاردوشاعری کےعلاوہ پنجابی میں تیس ہزار سے زائد بیت لکھے ہوئے ہوں اس کی شخصی دریافت یافکری اصل تک رسائی ایک مشکل کام ہے۔
پروفیسرمحمدعباس مرزاکے بیتوں میں پنجاب کاکلچراورزمین سےجُڑی دانش پوری طرح موجودہے۔بھُوری مٹی کی خوشبو،لہلہاتی فصلیں، چہکتے پرندے ،پھولوں کے رنگ او جذبوں میں بھیگی فضائیں،سب مل کر ان کے بیتوں کی شعری فضاتشکیل دیتے ہیں۔ درخت زمین کازیوراورزندگی کےترجمان ہوتےہیں۔پیپل،ٹاہلی (شیشم)،آم اوربیری کے ساتھ ،مجموعی طورپرعباس مرزاکے ہاں کیکراوربوہڑ (برگد)کے درختوں کاذکر زیادہ نظرآتاہےاس لیے اُن کےشعری مزاج کوسمجھنے کےلیےان دونوںعلامتوں کوسمجھناضروری ہے۔
پنجابی شاعری اوربالخصوص میاں محمدبخشؒ کے ہاں کیکرکے درخت کواس کےلمبے نوکیلےکانٹوں کی وجہ سےدُکھ اورتکلیف کاسبب سمجھاگیاہے۔ اس حوالے سےمیاں صاحب کے دومشہوراشعارکےمصرعے ’’کِکرتے انگورچڑھایا، ہر گچھا زخمایا ‘‘ اور ’’پاٹی لیرپرانی وانگوں،ٹنگ گیئوںوچ ککراں ‘‘شاہکارہیں۔پہلامصرعہ موازنےکی صورت میں دانش کی خوب صورت شکل ہے جب کہ دوسرےمصرعے میںمحبوب سے جدائی کی کیفیت کاایسااذیت ناک بیان شایدہی کسی دوسرے شاعرکےہاں موجودہو۔جن لوگوں نے دیہات میں رہتے ہوئے کیکر کےدرخت پرکانٹوں میں اُلجھی پھٹی پرانی کپڑے کی لِیر کوہواکے زورسےکھنچتےاورپھراسےریشوں کی شکل میں تبدیل ہوتے ہوئے دیکھاہے وہ اس شعرمیں موجوددردکی کیفیت کوزیادہ شدت سے محسوس کرسکتےہیں:
ہسَن کھیڈن نال لے گئیوں ! پا گئیوں وچ فکراں
پاٹی لیرپرانی وانگوں، ٹنگ گئیوں وِچ کِکراں
(میاں محمد بخشؒ)
عباس مرزاکےبیتوں کےمجموعوں کی اکثریت میںکیکرکسی نہ کسی طورموجودہے۔وہ کیکرکےکانٹوں کوزخموںکاسبب سمجھنے کے باوجود اس کے پیلے پھولوںکی وجہ سے اسے قبول کرتے ہیں۔شاعرکایہ رویہ جہاں ان کی متوازن شخصیت کی عکاسی کرتاہے وہاں ہمیں ان کی زندگی کوان کےعملی تجربات کی روشنی میں دیکھنےکاتقاضابھی کرتاہے۔کیاسماج ان کےفکری سطح کےسچ کوقبول کرنے سےگریزاں رہا ہےاوران کی زندگی کازیادہ حصہ اپنےراستےسے کانٹوں کوہٹاتےہوئےگزراہے:
کِکراںاک معاہدہ آپس وچ کیتاے
جدھرجاواں میرا ای ناں چتارن گے
(اکھیاں)
۰۰ ۰۰
زندہ کِکر، سک دی چھیلی نہیں سہندا
ایس توں چنگاے اِکوواری ساڑدیو
(اکھیاں)
ذاتی مفادات اورنفرتوں میں سانس لیتے سماج سےایک توقع یہ بھی ہوسکتی ہے کہ وہ شاعر کے رستے کاکانٹابننے کی بجائے اسے کانٹاسمجھ کراپنے رستے سےہٹانے میں مصروف ہوگیاہواورجب حساس شاعرکواپنی سخت مزاجی کااحساس ہواہوتووہ خودکو پھول اور کانٹوں میں تقسیم کرکے ’’جیواورجینےدو ‘‘ کے فلسفے کوشعوری طورپراپنانےکی کوشش میں ہو۔ مجھے یہ دوسری بات زیادہ درست معلوم ہوتی ہے:
ادھے کِکرتے پھُل، ادھے تے کنڈے

ایہ تقسیم تے کسے طرحاں نہیں ہوسکدی
(اکھیاں)
۰۰ ۰۰
کِکر کول وی عیاشی دا منظر اے
کدی تُوں اوہدے پیلے پھُلاں نوں ویکھیں
( قطرے)
۰۰ ۰۰
ایس ککرنوں نہ وڈیں کہ سُولاں نے
پیلے رنگ دی سوہنی چُنی لینی اے
(بانگاں)
۰۰ ۰۰
تیرے حصے سُکاکِکرآیاے تے
اوہدے تے کوئی سوہنی ویل چڑھادیندا
(اکھیاں)
جبر،ضرورت،شعوری قبولیت،کانٹوں میں پھول دیکھنےکی خواہش،ردِعمل یاذات اورمعاشرے میں توازن پیداکرنےکی کوشش۔۔۔’ ’ کیکر ‘‘ سےربط رکھنےیابڑھانےکی وجوہات جوبھی ہوں ،یہ بات طے ہےکہ ’’ برگد ‘‘ سے ان کی نسبت فطری اورنہایت مضبوط ہے۔وہ اپنی شاعری میںایک چھتناردرخت کی صورت چلتے پھرتےنظرآتے ہیں۔ ان کے بیتوں میں ان دونوں درختوں کے موازنے کی صورت بھی موجودہے:
بوہٹرتے اپنےتھلیوں لاہنگادے دینداے
ککری سُولاں سنے گلینواں پاندی اے
(رتیاں)
۰۰ ۰۰
بوہڑنے ساری اوکٹرسرتے لے لئی اے
بھجدے کِکرمینوں نال بھیوں چحڈیاے
(بانگاں)
بوہڑمزاج شاعرنےاس درخت کونہ اپنے اوپراُوڑھاہے اورنہ ہی اس کی تلاش میں اسے کسی مسافت سے گزرناپڑابلکہ اس کے بیج نے ان کی ذات کی اندرنشوونماپائی ہے،پلابڑھاہے،جوان ہواہے اوراب بڑھاپے میں اس کادوست اور غمخوار دکھائی دیتاہے:
اپنے اندربوہڑاُگالئے بندہ جے
اوہدے اُتے ہراک پکھو بہ سکداے
(بانگاں)
۰۰ ۰۰
بوہڑدے تھلے بہ کے ہیرسناون لئی
عرشیں بیٹھے یارنوں ڈھول بلاندا اے
(بانگاں)
۰۰ ۰۰

بوہڑاےنکا،اپنی وڈی خواہش اے
پکھواں نال کھلارنوں ہورودھالیندااے
( قطرے)
اب اس عمربھرکے ساتھی درخت اورشاعرمیں فرق معلوم کرنا دشوارنظرآتاہے۔’’ آپےرانجھاہوئی ‘‘ کےمصداق اب وہ چلتا پھرتا بوہڑہے۔جب وہ اس سے مکالمہ کرتاہے تومحسوس ہوتاہے کہ جیسے وہ ہم کلامی کے عمل سے گزررہاہو:
بوہڑا،چل ہن لہورنوں دوویں ٹُرچلیے
ناروال توں آیاں ہفتہ ہوچلیاے
(رتیاں)
۰۰ ۰۰
تیز ہوا سنگ جھُگی ادھلی تے عباسؔ
بوہڑدے ساوے پترگِدا پاندے رئے
(تِیلاتِیلا)
۰۰ ۰۰
بوہڑ دی ٹیسی اُتے بیٹھے طوطے نوں
میں ویکھاں تےبہت ای ہریل ہوجاندااے
( نگینے)
گھنےدرختوں،بوہڑوں اورپیپلوں سےصوفیوں اورگیانیوںکی نسبت قدیم سے چلی آرہی ہے۔کیاعباس مرزابھی ایک صوفی اورگیانی ہیں کہ ان کی شاعری میں بوہڑکی چھائوں سااحساس اورپھیلائودیکھنےکوملتے ہیں۔اس سوال کاجواب قدرے مشکل ہے۔ وہ ملاازم اور صوفی ازم کے فرق کوجاننے کےباوجودایک صوفی کےطورپرسامنے سے گریزاں ہیں۔اس حوالے سےاُن کے ہاں’’ صاف چھپتےبھی نہیںسامنے آتے بھی نہیں ‘‘ کی سی کیفیت ہے۔میرےنزدیک وہ صوفی توہیں لیکن اس کےبرملااعلان سے گریزکرتے ہیں۔ان کایہ محتاط رویہ شایداس لیے بھی ہےکہ معاشرے میں موجودبہروپیوں اوراداکاروں کی بھرمارنےروحانی قدروں کی حُرمت پرقاری ضرب لگائی ہے۔وہ ایسے صوفیوں پرگہراطنزکرتے ہیں:
پاٹیاں لیراں نال نہیں سِکھی جاسکدی
درویشی کوئی غربت نہیں، رویہ اے
(تِیلاتِیلا)
صوفی دےجدرقص چ روٹی وڑ گئی تے
اوس دھمال نوں ڈھڈ ہلاون ڈاہ دتا
(اکھیاں)
ہمارےشاعرکی طرف سے محتاط رویہ یاواضح اعلان سے گریز اپنی جگہ لیکن مختلف مجموعوں میں ان کے بکھرےہوئے بہت سے بیت اُن کے صوفی ازم کی طرف واضح جھکائوکی دلیل کے طورپرپیش کیے جاسکتے ہیں۔بیت نگارکاکامل ولی ہونا/قطرے سے سمندربننے کی شدیدخواہش/صدیوں سےگنہگارہونے کااعترافی بیان/قلبی طہارت کےلیےآنسوئوںکے پانی کااستعمال/درخت کی آذان پرپرندوں کی عبادت اورپھرمُلاسےمسجدچلنےکی بجائے محبت کرنےپرتکرار،یہ سب رویے ایک صوفی ہی کے توہیں:
۰۰ ۰۰
ساتھوں ودھ کوئی کامل ولی نہیں ہوسکدا
ایڈی سوہنی بیت نگاری سوکھی نہیں

(اکھیاں)
۰۰ ۰۰
کنیں واج پئی جداک سمندردی
میں قطرےنوں لےکےاودھرنٹھ جانایں
( اجڑ)
۰۰ ۰۰
لوکوپاپ نوں میراہانی مت آکھو
میں تے اوہدے نالوں صدیاں وڈا واں
(لالڑیاں)
۰۰ ۰۰
اج میں اپنے دل نوں دھون تےمانجھن لئی
اپنی اکھ دے دووین کھال سنوارےنیں
(اکھیاں)
۰۰ ۰۰
اج چڑیاں دی چوں چوں جےکرتھوڑی اے
کہڑے رُکھ نے صبح اذان کھنجادتی
(اکھیاں)
۰۰ ۰۰
آمسیتے چلیے،کہندا اے ملاں
چل محبت کریے،میراترلا اے
(بانگاں)
پنجابی صوفی شعراکی اگربات کی جائے توعباس مرزاکےبیتوں کاانداز نہ توان میں سے کسی کے ساتھ ملتاہے اوررنہ ہی ان سے کسی طورموازنے کی کوئی صورت بنتی ہےالبتہ بابافریدگنج شکرکےاشلوکوں سے وہ متاثرنظرآتے ہوئے پُراعتمادطریق سے کہتے ہیں کہ:
میں اشلوک وی لکھ سکداساں پرعباسؔ
بیتاں میری ڈورجے ڈِھلی کیتی تے
( نگینے)
ممکن ہے کہ کچھ عرصہ بعد وہ بابافریدگنج شکرکی پیروی میں پنجابی کی اس صنف کی طرف متوجہ ہوجائیںاورہمیں ان کے اچھے اشلوک پڑھنے کوملیں۔کم ازکم مجھے اس وقت کاضرورانتطاررہے گا۔
صوفی اورمُلاکاآپس میں ازل سے ’’اِٹ کھڑکا ‘‘ لگارہاہے۔اس حوالے سے مجھےراجا مہدی علی خاں کی نظم ’’میں اور شیطاں‘‘ یاد آرہی ہےجس میں انہوں نے جنت کی دیوارپہ چڑھ کرحوروں کےپیچھے بھاگنے والوں کاذکربڑےدلچسپ اندازمیں کیاہے۔ ہمارےصوفی شاعرنے بھی اپنے بیتوں میں اسی مُلا پرگہراطنزکیاہے:
میرے مسلک وچ اک مُلاں وڑیااے
میں ہُن اوہنوں کتھوں حورلیا دینواں
(بانگاں)
۰۰ ۰۰

مُلاں جنت دے وچ وڑدا دِسیاتے
سبے حوراں دنیا پاسے نٹھ پئیاں
( قطرے)
۰۰ ۰۰
حوردے ہےہتھ وچ جُتی اج میں ویکھی اے
کھاورے اوہنے ملان آونداویکھ لیاے
(بانگاں)
۰۰ ۰۰
تینوں اے بھلیکھاےجیڑا کڈوی دے
سجدے اندرجنت تے نئیں وڑسکدی
(اکھیاں)
عباس مرزاکے ہاں موضوعات میں بہت تنوع ہے۔ان کےبیتوںمیں محبوب تصوراتی نہیں بلکہ مختلف رنگوں سےگُندھاہوا جیتاجاگتا، سانس لیتااور شاعرکوشاعری کی تحریک دیتادکھائی دیتاہے۔ایک ایسامحبوب جس کی آنکھیںشرابی ہیں اوررنگ بانٹتی ہیں/جس کے ڈوپٹے پرچڑھ کررنگ امرہوجاتےہیں/جس کی خوب صورتی کےبیان میں تشبیہں وجود کھودیتی ہیں/جس کے انتظارمیں آسمان ساکت ہوجاتاہے /جس کودیکھ کرشاعرکےہاں غزلیں اترتی ہیں اورجس کی محبت میں ایک صوفی شاعر عباس مرزا ’’ مرزے جٹ ‘‘ کاساکردار اداکرنے کوبھی تیارہوجاتاہے۔
اکھاں وچ شراباں کسراں بھرنی ایں
تینوں ڈرنئیں لگداکسے وی شاعرتوں
(لالڑیاں)
۰۰ ۰۰
اوہدی اکھ وچ قوس قزح دےڈیرے نے
ساڈیاں سدھراں رنگ برنگیاں کر چھڈیاں
(لالڑیاں)
۰۰ ۰۰
تیری چُنی اتےچڑھ کے رنگاں نے
اپنے آپ نوں اک شہ کار بناچھڈیاے
(لالڑیاں)
۰۰ ۰۰
آجااَج تے چن وی ویہلابیٹھااے
اوہدی مائی داچرخہ گھوکرنئیں پھڑدا
(لالڑیاں)
۰۰ ۰۰
مینوں سوہارنگ کیوں سوہنا لگدااے
ایہ گل اک دن اوہنوں وی میں پچھنی ایں
(لالڑیاں)

۰۰
توں تشبیہ توں کِتے زیادہ سوہنی ایں
تینوں استعارے راہیں ویکھ رہیاں
(اکھیاں)
۰۰ ۰۰
اوہدےلئی شہیدتے میں نہیں ہوسکدا
ہاں البتہ مرزا تے میں بن سکناں
(اکھیاں)
۰۰ ۰۰
غزلاں تینوں ویکھ کےاَگےٹُردیاں نے
آوندل جاندی ادب نوازی کردی رہو
( قطرے)
۰۰ ۰۰
اوہدی چُنی نوں پھُلاں نے تکیا تے
اپنی خوشبُولے کے اودھرٹُرپئے نیں
( قطرے)
۰۰ ۰۰
اوہنے نہ آون دیاں قَسماں چکیاں سن
آجاندی تے اسیں کفارہ دےدیندے
(اکھیاں)
۰۰ ۰۰
پھُلاں نوں میں تیرے ورگاآکھیاسی
اوہناں نے اج میری دعوت کرنی ایں
(اکھیاں)
۰۰ ۰۰
اپنے آپ نوںلاہیا سی ، مُڑپاون نوں
کنیاں ای لیراں کھاورے کتھے رکھ بیٹھاں

( نگینے)
شاعرنے مختلف رنگوں کومختلف کیفیات کےاظہارکےلیےعلامت کے طورپر بھی اپنے بیتوں باندھاہے۔جیسے پیلارنگ ،مایوسی کےلیے/لال رنگ، جذبوں کےلیے/سبزاورنیلا،زندگی اورتحرک کےلیے اورکالارنگ موت اوربدقسمتی کی علامت کےطورپراستعمال ہواہے:
پھُلاں اُتے رنگ چڑھاون والیاسُن
ساڈے گھروچ پیلاموسم آوڑیاے
(تِیلاتِیلا)
۰۰ ۰۰

اپنے کھیسےرَتے،ساوے،نیلےسُو
اسی تے پیلارنگ ہنڈاون والےآں
(تِیلاتِیلا)
۰۰ ۰۰
کالے رنگ نوں بہت ای چنگالگنا،میں
ایسے لئی اوہ قسمت اندرجاوڑیاے
( قطرے)
۰۰ ۰۰
یاپھُلاں دیاربا!کجھ امدادکریں
کنڈیان مینوں چارے پاسے گھیرلیاے
( اجڑ)
پروفیسرعباس مرزاکےاب تک بیتوں کے سترہ مجموعے شائع چکےہیں۔ان مجموعوں کے ناموں پرغور کیاجائےتواکثرایک حرف پرمشتمل ہیں۔یہ نام پنجاب کےگلچراورعام انسان کے استعمال کی چیزوں سے لیے گئے ہیں۔ تِیلاتِیلا/گوہلاں/ مکھانے/پتاسے /۲۷۲ نشتر/ ۳۷۲نشتر/ٹونباں/قطرے/لالڑیاں/نگینے/لیندراں/پکھنو/رتیاں/بانگاں/اَجڑ /ٹوراں اوراَکھیاں کودیکھتے ہوئے میں نے کچھ مجموعوں کے ناموں کے حوالےسےان میں شامل بیتوں کاجائزہ لیاتومجھے تعجب ہواکہ یہ محض عام سے نام نہیں بلکہ بیتوں کے مضامین کے حوالے سےان کاگہراتعلق ہے۔مثلاً پنجابی زبان میں’’ اَجڑ ‘‘ ریوڑ/گلہ اور خاص طورپربھیڑبکریوں کےریوڑکےلیےاستعمال ہوتاہے۔ اس مجموعے میں عباس مرزاکے روایتی مزاج سے ہٹ کرحکمرانوں کے طرزعمل اورجبرکےنظام کے خلاف بیت موجودہیں۔حکمران اپنی عوام کو بھیڑبکریوں کی طرح ہی توسمجھتے ہیںاورظلم کی لاٹھی سےجس طرف چاہیں ہانک دیتے ہیںاورمجبورعوام ان کے خلاف آوازاُٹھانے کی بجائےبزدل بھیڑوں کے طرح ذبح ہوتی رہتی ہے۔کھال اتارنے کا ٹھیکہ دینا/ڈکٹیٹرکی مخالفت کی بجائےاُس کے حق میں بولنا اورہر طرف نفسانفسی کاعالم ہونا،یہ سب کسی باڑے (واڑے)میں رکھےبزدل اورمجبور’ ’ اَجڑ ‘‘ کی ترجمانی ہی توہے۔جسےکوئی جب چاہے اورجیسےچاہےلاٹھی(ڈنگوری)سے ہانک دیاجاتاہے:
اوہنے میرے چم نوں لاہن داٹھیکہ وی
سستاجان کے آخرمینوں ای دے دتا
( اجڑ)
۰۰ ۰۰
جنہوں جان عزیزاے ،اوہ تے بول پیاے
پراوہ ڈکٹیٹردے حق وچ بولیااے
( اجڑ)
۰۰ ۰۰
نفسانفسی دے وچ بھاجڑاپنی ایں
حشردہاڑابالکل پھوکاجاپ رہیاے
( اجڑ)
۰۰ ۰۰
میراجی نئیں کردادنیانوں چھڈاں
کہڑاچھڈے پیاربھریچے واڑے نوں

( اجڑ)
۰۰ ۰۰
ہونکن لگایاد ڈنگوری پھڑناںتے
لنگھیاویلا،اکثراڑیاں کردااے
( اجڑ)
اسی طرح ’’ قطرے ‘‘ کے مطالعہ سے مجھے اس میںآنسوئوں کے قطروں کاتاثربہت زیادہ ملااوراحساس ہواکہ مجموعوں کے نام رکھتے وقت بس عام فہم اورسادہ لفظوں کوہی نہیں چُناگیابلکہ یہ سب گہری سوچ بچارکانتیجہ ہے۔ایسا اہتمام کسی اچھے تخلیق کارکے ہاں ہی ملتاہے:
اَکھ داپانی اپنی پیاس بجھاندارہے
میں کیہ کرنایں،دامن دی سیرابی نوں
( قطرے)
۰۰ ۰۰
کسےدےآکھےتےکیوں ہنجوروک لواں
کسےدےکہن تے انجےہنجو کیوں روکاں
( قطرے)
۰۰ ۰۰
اپنی اَکھ نوں بہت زیادہ کھولیں نہ
اساں سمندرسَک بھڑولا نئیں تکنا
( قطرے)
۰۰ ۰۰
ڈگدااتھروچھیتی چھیتی سفرے پئے
اکھ دابستہ خالی چنگالگدااے
( قطرے)
عباس مرزابہت عمدہ شاعرہیں اوراس بات کاانہیں خود بھی احساس ہے۔تخلیق کارہی سماج کا اصل حُسن ہوتے ہیںاورجن معاشروں میں ان کی قدروقیمت کااحساس کم ہوجاتاہےوہاں مایوسی اوربےچینی کی فضاجنم لیتی ہے۔اس حوالےسے عباس مرزاکاہم سب سے شکوہ بنتاہےاورہم سب کی طرف سےان کے لیے دادوتحسین کااہتمام کرنالازم بنتا ہے۔
تاڑیاں مار کے داد نہ دیو بیتاں دی
میں کلیجہ چیریاے ،قصہ نہیں گھڑیا
(بانگاں)
۰۰ ۰۰
منیاں میرے نالوں وڈادسنا ایں
پرذراجہیاں اڈیان بھوئیں لاتےسہی
(بانگاں)
۰۰ ۰۰
شعرآکھن تے پیارکرن دے جذبے نوں

عمراں گالن بعدای سکھیاجاسکداے
(بانگاں)
۰۰ ۰۰
دل دےاُجڑے کھوہ وچ بوکاسٹن بعد
میں ست رنگے بیت روزانہ کڈھ لیناں
تِیلا تِیلا
۰۰ ۰۰
میں دل وچوں جہڑا اتھروکڈھیاسی
اوہ شبنم دے پھُلاںاُتے دھردتاے
(لالڑیاں)
۰۰ ۰۰
ربا !کیہ میں ہُن بی بی نئیں بن سکدا
میرے شعراں نوں تے کوئی سراہنداای نئیں
( نگینے)
پروفیسرعباس مرزاکا تخلیقی سفرجاری ہےاوراچھی بات یہ ہےکہ اتناکچھ لکھنے کے باوجوداب بھی منزل کی بجائے مسافت ہی ان کی پہلی ترجیح ہے۔یہ رویہ جہاں نوجوان شاعروں کے لیے باعثِ تقلیدہےوہاں اُن کی شعرسےدلی محبت کااظہاربھی ہے:
جیڑے بیت نے مینوں زندہ رکھناایں
اوہنوں روزمیں لبھناں واجاں دیناں واں
(تِیلاتِیلا)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

younus khayyal

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

تنقید

شکیب جلالی

  • جولائی 15, 2019
از يوسف خالد شکیب جلالی—————-ذہنی افلاس اور تخلیقی و فکری انحطاط کی زد پر آیا ہوا معاشرہ لا تعداد معاشرتی
تنقید

کچھ شاعری کے بارے میں

  • جولائی 15, 2019
      از نويد صادق مولانا شبلی نعمانی شعرالعجم میں لکھتے ہیں: ’’ سائنس اور مشاہدات کی ممارست میں