بک شیلف

حامدیزدانی کی کلیات *گلِِ توصیف* …. تبصرہ نگار: محمد کلیم اللہ(ایم فل اسکالر)

نعت و حمد کا فن ہمیشہ ہی سرسبز و شاداب رہا ہے۔ انسانی تاریخ میں جب بھی شعری اصناف کی بات کی جاتی ہے تو حمد اور نعت کو خصوصی مقام حاصل ہوتا ہے۔ ہر شاعر کا انداز جدا ہوتا ہے، اس کے اظہار کی کیفیت منفرد ہوتی ہے، مگر ذکرِ ربِ کائنات اور ذکرِ مصطفیٰ ﷺ ایک ایسا موضوع ہے جو سب کو یکجا کر دیتا ہے۔ یہ وہ مضامین ہیں جن پر کبھی خزاں نہیں آ سکتی۔ یہ گلستانِ سخن کے وہ خوشبودار پھول ہیں جو ہمیشہ تازہ رہتے ہیں اور قلوب کو معطر کرتے رہتے ہیں۔

اس دور میں جب دلوں کی کھیتیاں جلد خشک اور ویران ہو جاتی ہیں، روحانی سیرابی اور ایمانی شادابی کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جوں جوں اس ضرورت میں اضافہ ہوتا ہے، حمد و نعت کا جذبہ بھی اسی تناسب سے قوی تر ہوتا جاتا ہے۔ آج کے شعری منظرنامے میں بھی حمد و نعت کا گلشن پوری آب و تاب سے کھلا ہوا ہے۔ اسی گلشن کا ایک خوش نوا بلبل، پاکستانی نژاد کینیڈین ٹورنٹو کے اردو شاعر سید حامد یزدانی ہیں، جنہوں نے حمد، نعت اور منقبت میں اپنی انفرادیت کے ساتھ طبع آزمائی کی ہے۔

ان کی حمدیہ اور نعتیہ شاعری حال ہی میں ’’گلِ توصیف‘‘ کے عنوان سے ایک کلیات کی صورت میں منظرِ عام پر آئی ہے۔ کلیات کا آغاز صدیق عثمان نور محمد کے حرفِ ستائش سے ہوتا ہے، جس میں انہوں نے ’’گلِ توصیف‘‘ کی وجہ تسمیہ اور شاعر کے سابقہ مجموعوں یعنی برگِ مدحت، برگِ اطاعت، برگِ نعمت، برگِ سیادت اور برگِ عقیدت پر مختصر مگر جامع گفتگو کی ہے۔

ڈاکٹر شبیر احمد قادری نے اپنے مضمون ’’گلبرگِ مدحت‘‘ میں حامد یزدانی کو اُن خوش بخت شعرا کی صف میں شامل کیا ہے جو رومانی دنیا سے نکل کر روحانی و ایمانی فضاؤں میں داخل ہوئے ہیں۔ یزدانی کا پہلا مجموعہ برگِ مدحت خدائے لم یزل کی حمد و ثنا پر مشتمل ہے، جس میں روایتی خیالات سے ہٹ کر نئے زاویے اور تخیلات کو پیش کیا گیا ہے۔ مناظرِ فطرت کی دلکش عکاسی—بحر و بر، کوہسار، وادیاں، گلستان، مہر و ماہ اور آسمان کے جلوے—خدائی حمد کے مضامین کو تازگی بخشتے ہیں۔

دوسرا مجموعہ برگِ اطاعت نعتیہ شاعری پر مشتمل ہے، جس میں وہ حضور اکرم ﷺ سے والہانہ محبت اور عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ شاعر کا دعویٰ ہے کہ جب وہ نعت لکھنے بیٹھتے ہیں تو ان کے قلم سے ستارے نکلتے ہیں جو قاری کے دل و دماغ کو منور کر دیتے ہیں۔ اسی مجموعے میں وہ روایت سے ہٹ کر نئی راہیں تلاش کرتے ہیں:
"ایک انداز جدا چاہتی ہے نعت / پیرایہ نیا چاہتی ہے نعت”

تیسرا مجموعہ برگِ نعمت جدید شعری اصناف مثلاً ہائیکو، سانیٹ اور ترائلے پر مشتمل ہے۔ ان کی ہائیکو نعت میں قرآنی اسلوب اور سورتوں کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ چوتھا مجموعہ برگِ سیادت میں انہوں نے شیخ سعدی اور امام شرف الدین بوصیری کے قصیدہ بردہ پر تضمین لکھی ہے اور آخر میں صلوٰۃ و سلام کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ پانچواں اور آخری مجموعہ برگِ عقیدت ہے، جس میں انہوں نے صحابہ کرامؓ، صحابیاتؓ اور اولیائے کرام کی بارگاہ میں منظوم عقیدت پیش کی ہے۔

یوں ’’گلِ توصیف‘‘ محض ایک شعری کلیات نہیں بلکہ ایک حسین روحانی سفر ہے جو قاری کو خدا کی حمد اور رسولِ کریم ﷺ کی مدحت کے نخلستان سے گزارتا ہے۔ سید حامد یزدانی کی یہ کلیات عصرِ حاضر میں حمد و نعت کے دبستان کو نئی توانائی عطا کرتی ہے اور اردو شعری روایت میں ایک روشن اضافہ ہے۔

younus khayyal

About Author

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

You may also like

بک شیلف

سیدہ فرح شاہ کا شعری مجموعہ " قیاس "

  • جولائی 14, 2019
    تبصرہ نگار ۔  پروفیسر يوسف خالد سیدہ فرح شاہ کا شعری مجموعہ ” قیاس ” انحراف پبلیکیشنز لاہور،اسلام
بک شیلف خیال نامہ

وفیات اہل قلم خیبرپختونخوا

  • جولائی 16, 2019
تبصرہ : خورشیدربانی بقول معروف شاعر اور محقق خالد مصطفیٰ،ڈاکٹر منیر احمد سلیچ کوپاکستان میں وفیات نگاری کے امام کا