اگرچہ مجموعے کاعنوان "ہرشعرزندگی ہے”،اُن کے ایک سادہ اورپُراثر شعر”ہر شعر زندگی ہے/اورزندگی میں تم ہو”سے ماخوذہےلیکن باقی احمدپوری کےاس کاسرورق دیکھتےہی دھیان میں ایک ایسےشاعرکاتصوراُبھرتاہےجس کے ہاں شاعرانہ تعلی اس حدتک موجودہو کہ وہ اپنےہر شعرکو خود زندگی سمجھےاورپھراس کےاظہارپرفخربھی کرتاہو۔حیرت کی بات یہ ہےکہ اس پہلو سےبھی ان کےکلام کا مطالعہ کیاجائےتوباقی احمدپوری غزل کی روایت کے اساتذہ کےپہلو میںبا وقارطریق سےکھڑے نظر آتے ہیں۔اوریہی وقار باقی احمد پوری کوباقیوں سےممتازکرتاہے۔
میر تقی میرؔؔ نےجب کہاکہ”سارے عالم پر ہوں میں چھایا ہوا/مستند ہے میرا فرمایا ہوا "تواس وقت یہ شعر،شاعرانہ تعلی ہی تھالیکن اس کے بعد غالبؔ جیسےشخص (جسے اپنے اندازِبیاں پربہت فخرتھا )کے لیے بھی میرؔ کےفرمان کو”مستند”مانے بغیر کوئی چارا نہیں ہوا۔باقی احمدپوری کی اپنے بارےمیں رائے دیکھیے:
میں وہ شاعر میری غزل سن کر
چلے آتے ہیں خود غزال بندھے
۔۔۔
شعر جیسا میں کہہ دیا باقی
شعر ایسا شنید کم کم ہے
۔۔۔
اتنی مشکل ردیف میں باقی
قافیے جو بندھے کمال بندھے
باقی احمدپوری کےاس اندازکواگر شاعرانہ تعلی کے ذمرےمیں شمارکر بھی لیاجائےتوبھی ان کی جگہ اردوغزل کےان اساتذہ کی صف میں ضرور بنتی ہےجنہوں نےاس روایت کومضبوط اورتوانارکھنےکے لیے اپنی ساری عمرگزاردی،اس قبیلے سے تعلق پرنازاں رہے اوراب اس کااظہار عاجزی اورسلیقہ مندی سےکرتےنظرآتےہیں:
پہلے غالبؔ کی اور میرؔ کی بات
بعد میں ہوگی مجھ فقیر کی بات
۔۔۔
میری کوشش ہے غزل باقی رہے
میرو مومن ،غالب و آتش کے بعد
۔۔۔
انیس،داغ، اسد، میر، مصحفی، باقی
انہیں پڑھو گے تو سمجھو گے شاعری کیا ہے
۔۔۔
خود کو غالبؔ نہ تو سمجھ باقی
تیرے جیسے ہزار آئے گئے
ٍ باقی احمدپوری نے جس سنجیدگی سےبطورشعری صنف غزل کواپنایاہےوہ اہم بھی ہے اور قابلِ تقلیدبھی۔جہاںان کے ہاں قدیم اساتذہ سے نیازمندی کااظہارکھل کرملتاہےوہیں انہوںنے عہد حاضرکے شعرااوربالخصوص نوجوانوں کے لیےغزل کی شاعری کےایسے پیمانےبھی مقررکردیےہیں۔جنہیں رہنمااصول بناکراپنی غزل کواوربہتربنایاجاسکتاہے۔ایسے بہت سے اشعارمیں جہاں ان کی غزل سے عشق کااظہارہوتاہےوہاں ان کی تنقیدی بصیرت بھی کھل کر سامنےآتی ہے۔وہ غزل سےاس حد تک محبت کرتےہیں کہ غزل ہی کو شاعری مانتےہوئے نئےلکھنےوالوں کونئےمضامین کی تلاش کرنے /”ہجر”سےباہرنکل کربستی کےاصل حالات کو بیان کرنے/صرف قافیہ پیمائی سےگریزکرنے/عوام کےاصل چہروں کاعکس دکھانے/درسی اندازِفکرسے باہرنکل کرسوچنےجیسے مشورے دےکرپوری درد مندی سے آج کی غزل کوایک بارپھربامِ عروج تک پہنچانےکی تحریک دیتےہیں:۔
خود کو شاعر نہ وہ کہے باقی
جس کا ایماں نہیں غزل گوئی
۔۔۔
ایں نہیں،آں نہیں غزل گوئی
یہ مری جاں نہیں غزل گوئی
۔۔۔
وصل کی داستاں بھی شامل کر
صرف ہجراںنہیں غزل گوئی
۔۔۔
میں نے چہرے لکھے تھے لوگوں کے
میری تحریر کب نصابی تھی
۔۔۔
شعر لکھا ہےجس طرح اترا
اس میں قطع و برید کم کم ہے
۔۔۔
شاعری نام ہی غزل کا ہے
اور صنفِ ادب نہیں کچھ بھی
"چراغ” اور”ہوا "باقی احمدپوری کےبنیادی استعارےہیں ۔مختلف شعراکےہاں یہ الفاظ مختلف حالات کی عکاسی کرتےرہے ہیں ۔ مثلاً عبیداللہ علیم کےمشہوراورخوب صورت شعر” ہوا کے دوش پہ رکھے ہوئے چراغ ہیں ہم /جو بجھ گئے تو ہوا سے شکایتیں کیسی” میںہوا کی مخالفت کی بجائے باامرِمجبوری و لاچاری قبولیت کاپہلونمایاں نظرآتاہے۔ باقی احمدپوری ان تخلیق کاروں میں شامل ہیں جن کے ہاں ان تینوں کاوجودآزاد فضامیں زندہ رہنے کی جدوجہدسےعبارت ہے۔اپنی روشنی کی حفاظت کےلیےہواکےخلاف چراغ کی مزاحمت انسانی معاشرےمیں ظلم اورناانصافی کےخلاف آخری سانس تک آوازآٹھانےکی دلیل ہےاورزندگی کی مسافت میں کسی مسافرکی سب سےبڑی کام یابی یامنزل بھی یہی ہے:
ہوا چراغ بجھانے جب آئے گی باقی
چراغ بات کریں گے ہوا کے لہجے میں
۔۔۔
حریم شب میںچراغ بجھتے ہی جا رہے ہیں
اسی لیے تو یہ رات بھاری بہت ہوئی ہے
۔۔۔
پہلے سارےدیے بجھائے گئے
پھر اندھیروں کے گیت گائے گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
باقی احمدپوری کاانفرادیہ بھی ہےکہ انہوں نے”چراغ” اور”ہوا” کومزاحمتی سرحد تک محدودنہیں رکھابلکہ "انتظار”کاملبوس پہناکر محبوبیت کی مسندپربھی بٹھادیاہے۔محبوب کےآتےہی چراغ جل اُٹھنا/اس کے انتظارمیں روزانہ چراغ جلانا،بجھانا اوریادوں کےچراغ روشن کرنااس حوالےسےعمدہ مثالیں ہیں:
تیرے آنے سے جل اٹھا خود ہی
اک دیا جو بجھا رہا برسوں
۔۔۔
ادھر وہ آئے تو آئےغرض نہیں باقی
چراغ شام جلانا تو روز ہوتا ہے
۔۔۔
گئے دنوں کے سراغ روشن کیے گئے ہیں
جو بجھ گئے تھے چراغ روشن کیے گئے ہیں
۔۔۔
یہ انتظار کا عالم عجیب ہوتا ہے
کئی چراغ جلانے بجھانے پڑتے ہیں
ترقی پسندی نعرہ نہیں بلکہ عوام دوست رویے کانام ہے۔ترقی پسندتحریک کی باقاعدہ رکنیت کسی کے پاس موجود ہونہ ہو،جبرکے خلاف آوازاٹھانے والاہرشاعرکسی نہ کسی حدتک ترقی پسندضرور ہوتا ہے۔ باقی احمدپوری کےہاں اس رویے کوتلاش کرنے میں زیادہ کوشش درکارنہیں ہوتی۔ان کےشعر” نظام ظلمت شب ختم ہونے والا ہے /سنا ہے سرخ سویرا یہیں سے گزرے گا "میں موجود”سرخ سویرا” کا استعارہ بھی ہمیں ان کی شاعری کواس حوالے سےدیکھنےکاتقاضاکرتاہے۔استحصالی نظام اوراس نظام کے بانیوں کےخلاف اُن کی آواز میں دردبھی ہےاورشدید طنزبھی۔ملک میں عدالتی نظام کی بے بسی/حکمرانوں کی لوٹ مار/ملکی اداروں کی ناقص کارکردگی/عوام پرٹیکسوں کی بھرماراور قومی خزانے کےخالی ہوناہونے جیسےمسائل پر ان کی گہری نظربھی ہےاوران کا اظہاربھی کھل کرکرتے ہیں:
کس کے کہنے پہ کس نے لکھا ہے
فیصلہ دیکھ کر بتاؤں گا
۔۔۔
پہلے جو حکمراں تھے عجیب و غریب تھے
اور اب جو حکمران ہے عجب ہے عجیب ہے
۔۔۔
ہر ادارے سے اٹھ گیا ہے یقیں
بدگماں ہو رہے ہیں ٹھیک نہیں
۔۔۔
تخت پر بیٹھے ہوئے بھی اتنے کب آزاد ہیں
تخت پر بیٹھے ہوئوں کہ حکمرانی کچھ نہیں
۔۔۔
دیار غیر میں ہے محل اپنے
یہاں خالی خزانہ ہو گیا ہے
۔۔۔
کہتے ہیں ایک شہر بھی ہوتاتھا اس جگہ
اب تو بس ایک خوف کا جنگل ہے میرے ساتھ
۔۔۔
سب چوٹ کھائے لوگ میرے ساتھ آملے
پہلے پہل میں ایک تھا پھر قافلہ ہوا
وقت کےحکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کربات کرناکسی بھی دورمیں آسان کام نہیں رہالیکن اس دورمیں یہ ضرورت سے زیادہ مشکل ہوگیاہے۔جب دنیادارشاہوں کے قصیدے پڑھنے،مال بنانےاورایوارڈزسمیٹنےکی دوڑمیں لگےہوئےہوں توحق کی بات کوئی صوفی، فقیر ہی کرسکتا ہے۔ باقی احمدپوری کاتعلق ایسےہی قبیل سے ہےاوروہ کہتےہیں،”جلالِ شاہ سے مرعوب ہو نہیں سکتا /فقیر بات کرے گا اَنا کے لہجے میں "۔یہ خوددارفقیرزمینی خدائوں کوماننےسےانکارکرتاہے/ان کےخلاف بغاوت کااعلان کرتاہےاورپھر تلوار اٹھانے سےبھی گریزنہیںکرتا۔
منکر ہوں میں تو صرف زمینی خداؤں کا
باقی جو تم نے سمجھا وہ کافر نہیں ہوں
۔۔۔
اے میرے شہر کے شاعر یہ خاموشی کیا ہے
تو ہی کچھ بول اگر کوئی بھی آواز نہیں
۔۔۔
فریاد سے اب کام نکلتا نہیں باقی
تلوار اٹھا روز نہ فریاد کیا کر
محبت اورنفرت ایک دوسرےکی ضدنہیں بلکہ پہچان ہیں۔ ان کےہاں نفرت کی صرف ایک علامت”سانپ”کےرُوپ میں نمایاںدکھائی دیتی ہے۔اوریہ بھی عوامی یاسماجی حوالے سےنہیں بلکہ آستین میں چھپے ذاتی دوستوں اورعزیزوںسےگلےشکوے کی ایک صورت ہے۔جیسے”کہہ رہا ہوں میں اپنے سانپوں کو /تنگ ہے آستیں چلے جائیں”یا”ایسا دشمن پسند ہے مجھ کو/سانپ ہو لیکن آستیں کا نہیں”۔باقی احمدپوری کے ہاں "محبت”ایک بڑاموضوع ہےاوراس کی کیفیات اوروارداتیں لیےدرجنوں اشعاراس مجموعے کاحصہ ہیں ۔
محبت کےبطن سےجنم لینے والی کیفیات مثلاعشق کاخمار،تنہائی کاشدیداحساس، محرومی،انتظار اورمحبوب کی بےاعتنائی کااظہارکاسلیقہ ان کے ہاں نمایاں ہے:
مےکا نشہ تو اتر جاتا ہے پل دو پل میں
عشق ہو جائے تو رہتا ہےخمارآخرتک
۔۔۔
ہمارے ساتھ نہیں ہے تو ایک تو ہی نہیں
ہمارے ساتھ زمانہ تو روز ہوتا ہے
۔۔۔
دل بھی مزدور ہے محبت میں
رات بھر انتظار کھینچتا ہے
۔۔۔
ہم درختوں کے ساتھ سوکھ گئے
عمر بھر انتظار کرتے ہوئے
۔۔۔
اب وہاں کچھ نہیں رہا باقی
دل جدھر بار بار کھینچتا ہے
۔۔
میں بھی دریا میں بلا خوف اتر جاتا ہوں
جب وہ اس پار بلاتا ہے اشارہ کر کے
ادبی تاریخ یہی بتاتی ہےکہ” آج” اپنےہم عصروں کوتسلیم کرنےکےلیےہوتا ہےاور آپ کےتخلیقی قدکاتعین آنےوالا”کل” کرتاہے۔باقی احمدپوری کےہاں اچھی تعدادمیں اچھے شعرموجودہیں اس لیے کل کےنقادکےلیےممکن نہیں ہوگاکہ انہیں غزل کےبہت اہم شعراکی فہرست سےباہررکھ سکے:
جانے کیا حرف ِربط ہے ان میں
کام ہوتا ہے کاج کے برعکس
۔۔۔
پھیلنے کے لیے جگہ ہی نہ تھی
اس لیےتہہ بہ تہہ گیا ہوں میں
۔۔۔
اِس اِبتلائے عشق میں دونوں خراب ہیں
توخوابِ رائیگاں ہے تو میں رائیگانِ خواب
۔۔۔
بعد میں آسماں کو دیکھیں گے
پہلے زیر زمین چلے جائیں
۔۔
نشتر لگا رہا ہوں کہ آزاد پھر سکے
دل کی رگوں میں میرا لہو قید ہو گیا
۔۔۔
حلقہء چشم سے کھلا باقی
یہ گزرگاہ جیسے آبی تھی
۔۔۔
میں ضبط گریہ سے موتی سنبھال رکھتا ہوں
پراشکِ غم کی نکاسی اداس کرتی ہے
۔۔۔
کہکشاں دور تو نہیں لیکن
اس زمیں کا مدارکھینچتا ہے
ڈاکٹریونس خیال
۸/اگست،۲۰۲۶ء

