ادبی تنقیدکی ایک کمزوری یہ ہےکہ نقاداپنے سماجی تجربے اورفکری مزاج کےمطابق تنقیدکے لیےمتن یااشعارکاانتخاب کرتاہے۔ دوسرایہ کہ ہرعہدکےمروجہ استعارےاورعلامتیں اسےتخلیق کارکی اصل تک پہنچےمیں رکاوٹ بنتی ہیں۔اس طرح کسی تخلیق کارکےایسے متُون اوراشعارکھل کرسامنے نہیں آتےجوسماج کےمجموعی مزاج سےمیل نہ کھاتےہوں۔مثال کےطورپرگزشتہ نصف صدی میں اردوادب کی تنقیدمیں مزاحمتی استعاروں اورعلامات کاراج رہااورناقدین ادب نےبھی تخلیق میں انہی رویوں کی کھوج کواولیت دی۔اس طرح نہ صرف بہت سےتخلیق کارفقط ایک ہی دائرےمیں قید ہوگئےبلکہ ان کی دیگرفکری جہات/زاویوں کی نمائندہ تخلیقات اپنی فطری تفہیم سے محروم رہیں۔
اس عہدکی روایت کےمطابق سکندرمرزاکی شاعری اوراخباری کالموں میں مزاحمت کاایک گہرا رنگ موجودہے۔ معاشرےمیں پھیلےخوف،ناانصافی اورجبر کےخلاف ان کی آواز بھرپورطورپر سنائی دیتی ہی۔اس آوازمیں نعرائی انداز جیسی شدت تو نہیں لیکن اس کی تاثیریت قاری کی سوچ کو متحرک کرکےنظام میں موجود ناہمواریوں کوسمجھنےاورپھراس کےسدِباب کےراستے ضروردکھاتی ہے:
یزیدوں کی کبھی بیعت نہیں کرنی
نکل کرشہرسےمقتل سجاناہے
۔۔
جیت خیرات میں نہیں ملتی
جنگ میں خاندان ہارا ہے
۔۔
مظالم کی حقیقت کھولنے والے
چلے جائیں یہاں سےبولنےوالے
۔۔
تیزاس قدرچلیں آندھیاں دیارمیں
قیمتی چراغ بھی ہاتھ سے گنوا دیا
سرفروش قافلےاب رہیں رواں دواں
خون کی لکیرسے راستہ بنا دیا
۔۔
ڈر جائیں جو لوگ سکندر ظالم لوگوں سے
ان کا ہونا یا نہ ہونا ایک برابر ہے
۔۔
زندگی گزار دی خوف کے حصار میں
کون سی ہوئی خطا کچھ خبر نہیں مجھے
لیکن اگریہ کہاجائے کہ سکندرمرزاکےشعری اورفکری سفرکی انتہایہی ہےتومجھےاس بات سےاختلاف ہوگا۔اس کی شاعری میں بہت سےدیگررویوں بھی یہی شان وشوکت ہوتی ہے۔ایسے تمام روّیےجوایک متوازن شخص اورتخلیق کارمیں موجودہونے چاہییں۔وہ مسکراہٹ اورقہقےکےفرق کاسمجھتاہے،آنکھوں کی نمی اوربارش کےسیلاب میں تمیزکرسکتاہے،ہجراوروصال کےرستے کی پیچیدگیوں سے واقف ہے،زمین کوٹھکراکرآسمان کواپنانےکاحوصلہ رکھتاہےاورمحبوبیت کی رمزوں سےآشناہے۔
میں نے تو دل میں کچھ جگہ مانگی
رکھ گیا وہ مکاںہتھیلی پر
۔۔
ایک جانب مجھے زمین کھینچے
اک طرف دوسرا ستارہ ہے
۔۔
اب چپ رہنا ہنسنا رونا ایک برابر ہے
محفل ہو یا گھر کا کونا ایک برابر ہے
۔۔
بولتا ہے سکوت کمرے میں
گفتگو بھی کمال ہے بھائی
۔۔
رات بھر کھڑے کھڑے بارگاہ عشق میں
بولتا میں کیا رہا کچھ خبر نہیں مجھے
۔۔۔
آپ یوں ہی گریز پا نکلے
راستے تو بنے بنائے تھے
۔۔۔
آنکھ بھر لائی سمندر شہر میں
ہر گلی برسات سے دوچار ہے
سکندرمرزا کےمجموعی شخصی اور فکری مزاج کی وسعتوں کااندازہ اس کے ہاں استعمال ہونے والے”آسماں” ،”قلندر” اور”ہتھیلی” کےاستعاروں سےکیاجاسکتاہے۔آسمانوں پرےایک اورآسمان کی تلاش کی خواہش اورپھراس مسافت میں کامیابی ملنےکا اعلان کوئی قلندرصفت تخلیق کارہی کرسکتاہے۔فقرکی یہ منزل آسان نہیںہوتی لیکن جذبوں کی سچائی رہنماہوتوسب ممکن ہے۔وہ مقدرکادھنی ہےلیکن اسکندرسےمقدرکامتلاشی نہیں۔اس کارستہ اس فقیرکارستہ ہےجس کے بارے میںاقبالؒ نےکہاتھاکہ:”نگاہِ فقرمیں شانِ سکندری کیاہے”
اس سے پہلےچھپےہوئےاس کے شعری مجموعوں "خاموش صدائیں” اور”دھپاں پچھلےپہردیاں”میں بھی اس کامجموعی مزاج یہی ہے۔شاعرکےاس مزاج پرکام کرنے کی ضرورت ہے اوراس ضمن میں کئی اشعاربطورمثال پیش کیے جاسکتےہیں۔گفتگومیں طوالت کے خوف سےمیں یہاں اس کےآنے والےشعری مجموعےسےچندشعردرج کیے دیتاہوں:
اور بھی آسمان ہے کوئی
آدمی کے گمان سے آگے
۔۔۔
نئے ارض و سما گر دیکھنا چاہو
جہاں کوئی نہیں جاتا وہاں جائیں
۔۔۔
ہم سکندر نہیں قلندر ہیں
یہ مکان لامکاں ہمارا ہے
۔۔۔
ہم درویش فقیروں کے دل کی اس نگری میں
تانبہ ہو یا چاندی سونا ایک برابر ہے
۔۔۔
بانٹتےہیں مفت ہم مالِ محبت شہرمیں
کام ہے یہ ہم فقیروں کا،سخاوت تونہیں
۔۔۔
یہ کہا ہے مجھے فقیروں نے
جا تجھے حکمراں بنانا ہے
۔۔۔
میرے کاسےمیں کسی نے بادشاہی ڈال دی
ساتھ رہ کر میں فقیروں کے سکندر بن گیا
۔۔۔
ہم تو بس نام کے سکندر ہیں
قسمتیں اب کہاں ہتھیلی پر
۔۔۔
بولتا کیا میں زمانے کا رویہ دیکھ کر
رو دیا اپنی ہتھیلی پر نتیجہ دیکھ کر
۔۔۔
اٹھائے پھرتا ہے پتھر ہتھیلی پر
جنونی سر ہمارے پھوڑ جائے گا
۔۔۔
ڈاکٹریونس خیالؔ
۱۶/اپریل ۲۰۲۶ء۔

