خالد احمد
ربِّ گل! ربِّ رنگ! ربِّ بہار!
ایک نقش اور، ربِّ نقش و نگار!
وسعتِ کائناتِ عشق دِکھا
رَبِّ قوسین! نقطۂ پرکار
کس لیے ارد گرد کھینچ لیے
دائرہ دائرہ دَر و دیوار
جرسِ گُل سنائی دی نہ ہمیں
کر گیا کوچ کاروانِ بہار
راکھ کب تک کریدتے دل کی
ڈال کر سر پہ ہو گئے تیار
جتنی بار اُس طرف نگاہ اُٹھی
روح تک ہم لرز گئے ہر بار
ہر سخن تھا ہم اہلِ غم کے لیے
دل شکن، دل خراش، دل آزار
اِک نم آہنگ حزنیہ لَے پر
کیسے تھم تھم کے چل رہے تھے یار
دیکھتا کون ایک پل رُک کر
رقصِ یارانِ بے سر و دستار
کون گنتا جوان لاشوں کو
کون رکھتا دِلاوروں کا شمار
کچھ چھپایا نہ ہم نے دُنیا سے
عشق ہم نے کیا بھرے بازار
اک مذلّت نشیں تھے ہم ہی یہاں
کوئی خاقان تھا، کوئی قاچار
تختِ مرمر پہ کل تھے آسودہ
مرمر آسودگان زیرِ مزار
آنکھ سر پھوڑتی رہی خالد!
اور منہ دیکھتی رہی دیوار