وبائے عام اور اردو ادب ۔۔۔ ایک جائزہ (۱) : خیال نامہ

 

ادب تنقید حیات ہے۔۔ادب کی اس تعریف کو مشرق و مغرب میں ادب کی مقبول و معقول تعریف کہا جائے تو ہم شعر و ادب میں تاریخی سانحات کا عکس بھی دیکھ سکتے ہیں۔۔ وبائے عام بھی شعری و نثری ادب کا موضوع ہے۔۔جس کی مثالیں دنیا کی بڑی زبانوں کے قدیم و جدید ادب میں مل سکتی ہیں۔۔کرونا کی صورت حال نے جس طرف پوری دنیا کو خوف کی بند گلی میں دھکیل دیا ہے۔۔یہ اپنی جگہ ایسا عالمی سانحہ جسے ادب و صحافت نے اپنے مزاج سے دیکھا اور اپنے منظرناموں کا حصہ بنایا۔۔خصوصا” سوشل میڈیا پر کرونا نے وبائے عام کو ادب کے تخلیقی رویے کے طور پر دیکھنے کا رجحان تیزی سے ابھر رہا ہے۔
اور اس بحث میں فارسی کے اس مشہور شعر کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے۔
چناں قحط سالے شد اندر دمشق
کہ یاراں فراموش کردند عشق
تصور فنا اور زندگی کی حقیقت بطور موضوع ادب میں کئی چہروں کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے۔
وبا عام نفسیاتی اثرات سے لے کر سماجی وجود کو ناصرف جام کر دیتی ہے بلکہ یہ ترقی کے سفر کو بھی پیچھے کی سمت دھکیل دیتی ہے۔گویا زندگی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں جو وبا سے محفوظ نہیں۔۔وبا کی کئی اقسام ہیں۔۔جو ماضی میں مختلف ملکوں میں مختلف شکلوں میں اپنے بھیانک اثرات کے ساتھ ظاہر ہوتی رہی ہیں۔
کرونا کی وبا نے ماضی کے بھولے بسرےادب کے ذکر کو دوبارہ تازہ کر دیا ہے۔
اس باب میں ہر عہد پر غالب مرزا غالب کی اس پیش گوئی کا ذکر بھی بار بار ہو رہا ہے۔جس میں غالب یاسیت میں ہر سال اپنے مرنے کی پیش گوئی کرتے ہیں۔مرزا اپنی ضعیف عمری میں سال کے آغاز پر کہتے کہ اس سال ضرورمر جاؤں گا۔ اتفاق سے ایک برس دھلی میں وبا پھوٹ پڑی لیکن غالب زندہ رہے۔کسی نے پوچھا کہ آپ تو پیش گوئی کے برعکس زندہ ہیں۔۔تو غالب نے فرمایا:
“وبائے عام میں مرنا مجھے گوارا نہ ہوا۔”
ان دنوں وبا میں جاں بحق ہونے والے ادیبوں کا ذکر بھی چھڑ گیا ہے۔جن میں صرف 33 برس کی عمر میں انفلوئنزا کی وبا کا شکار ہونے والے اور ” محاسنِ کلامِ غالب” جیسی لائق تحسین کتاب کے مصنف ڈاکٹر عبدالرحمٰن بجنوری مرکز نگاہ بن گئے ہیں۔
اس سلسلے میں روزنامہ ’’جنگ ‘‘ سے وابستہ نامور فکاہیہ کالم نگار اور پندرہ روزہ ”نمکدان ”کے مدیر مجید لاہوری نے بھی مذکورہ وبا کا شکار ہوکرفوت ہوئے تھے۔ انفلوئنزا کے جان لیوا مرض میں مبتلا ہوتے ہوئے بھی مجید لاہوری نے کالم نگاری جاری رکھی۔انھوں نے موت سے قبل آخری دو کالم عنوان ’’انفلوئنزا کی نذر‘‘. آخری سے پہلے کالم میں جو صرف چند سطروں پر مشتمل تھا، انہوں نے لکھا تھا ’’میں بھی انفلوئنزا کی لپیٹ میں آگیا ہوں اس لئے نہیں چاہتا کہ اس حالت میں کالم لکھ کر جراثیم آپ تک پہنچائوں‘‘۔ آخری کالم میں جو ان کی وفات کے دن شائع ہوا، صرف اتنا تحریر تھا ’’آج دوسرا دن ہے‘‘۔
اردو شعروادب میں وبا کے سلسلے میں مولوی نذیر احمد کا ناول توبہ النصوح (1888ء) بھی شامل ہے۔مذکورہ ناول میں شہر میں پھیلنے والے ہیضے کی تصویر کشی ملتی ہے۔اس بحث میں اگر قحط کے المیے کو بھی رکھا جائے تو قحط بنگال پر فضل فضلی کا ناول “خون جگر ہونے تک” بھی اپنے موضوع کو خوبی سے نبھایا ہے۔قدرت اللہ شہاب کی آپ بیتی “شہاب نامہ” میں بنگال کے قحط کو سانحہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
اردو فکشن کے ضمن میں راجندر سنگھ بیدی کا افسانہ ” پلیگ اور کوارنٹین ” بھی قابل ذکر فن پارہ ہے۔
بات تراجم کی ہو تو اولین ذکر ہسپانوی ادیب گبریل گارشیا مارکیز کے ناول ” Love in the days of Cholera” کا ضروری ہے۔ 1985 میں لکھے گئے ناول کا اردو ترجمہ ارشد وحید نے کیا جسے اکیڈیمی ادبیات پاکستان نے شائع کیا۔تاہم تراجم کے سلسلے میں ضروری ہے کہ وبائے عام پر مبنی عالمی فکشن کے پہلو بہ پہلو شاعری کے منظوم تراجم بھی کیے جائیں۔
اب آتے ہیں کرونا وائرس کے تازہ انسانی المیے پر اردو شعر و ادب پر ایک نظر ڈالیں۔۔
کرونا وائرس کی وبا دسمبر میں چین میں پھوٹ پڑی ۔تاہم اردو شاعروں اور ادیبوں نے کرونا پر تب قلم اٹھایا جب اس وبا نے پڑوسی ملک ایران اور سعودیہ سے لوٹنے والے زائرین کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔اور اس وبائے عام کرونا نے پاکسان اور اردو ادب میں قدم رکھا۔
یہاں اس کوتاہی کا ذکر ضروری ہے کہ پاکستانی میڈیا اور اخبارات اور ادیب ماروی سرمد اور خلیل الرحمان کے لایعنی زبانی تلخ کلامی پر اپنی صلاحیتیں اور قوم کا وقت ضائع کرتے رہے۔۔کاش میڈیا اور اہل ادب بروقت چین میں وبا کی تباہ کاریوں کا ادراک کر لیتے۔تو عوام اور حکومت کو بروقت اپنے فرائض کا احساس ہوجاتا۔
پاکستان میں وبا داخل ہونے کے بعد زیادہ تر معاصر شعرائے کرام نے ہی نظم،قطعات اور غزلیات کی اصناف میں کرونا کے اثرات کو مختلف زاویوں سے تخلیقی رنگ دیا۔
ممکن ہے آئندہ چند مہینوں میں کرونا اردو افسانوی ادب میں بھی بطور موضوع شامل ہو۔تاہم شاعری میں یہ ایک تخلیقی رجحان کے طور پر سینئر اور تازہ دم شعراء کی شاعری کا حصہ بن چکا ہے۔زیادہ تر نظمیہ شاعری میں وبائے عام پر ادب تخلیق ہو رہا ہے۔۔تاہم غزل میں بھی مسلسل غزل یا اکا دکا شعر کے طور پر بھی کرونا کا ذکر مل جاتا ہے۔
غزل میں جدید لہجے کے شاعر ڈاکٹر اسحاق وردگ کے اس شعر کو کرونا پر اردو میں پہلا شعر قرار دیا جا چکا ہے۔۔جو جنوری میں انھوں نے تب کہا جب ان کے قریبی واقف اور پاکستانی طلبہ کرونا کے باعث چین میں پھنس چکے تھے۔اور چین جیسی ترقی یافتہ سپر پاور اس کے سامنے بے بس نظر آ رہی تھی۔
ڈاکٹر اسحاق وردگ کا شعر دیکھیے:
ایسی ترقی پر تو رونا بنتا ہے
جس میں دہشت گرد کرونا بنتا ہےکرونا کی وبا پاکستان میں آنے کے بعد اس شعر کو الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سمیت سوشل میڈیا نے توجہ دی۔غزل ہی کے سلسلے میں درج ذیل اشعار نے بھی اپنی گہری معنویت اور وبائے عام کے سماجی اثرات کو خود میں جذب کرتے ہوئے انسانی احساسات کی عکاسی کی ہے۔

افسوس یہ وبا کے دنوں کی محبتیں
ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے سے بھی گئے
سجاد بلوچ
زمیں پر ہم نے پھیلایا ہے شر کا وائرس کیا کیا
کہیں شکلِ انا کیا کیا کہیں رنگِ ہوس کیا کیا
جلیل عالی

اے زلفِ پراگندہ، زنجیر کشائی کر
مجھ سے تو نہ ٹوٹے گا زندانِ قرنطینہ

واعظ نے یہاں پر بھی کیا خطبہ فروشی کی
یہ شخص بھی کیا شے ہے، نادانِ قرنطینہ

ڈاکٹرمعین نظامی

اک بلا کُوکتی ہے گلیوں میں
سب سمٹ کر گھروں میں بیٹھ رہی
محمدجاویدانور

میں وہ محرومِ عنایت ہوں کہ جس نے تجھ سے
ملنا چاہا تو بچھڑنے کی وبا پھوٹ پڑی

۔ نعیم ضرار

مجھے یہ سارے مسیحا عزیز ہیں لیکن
یہ کہہ رہے ہیں کہ میں تم سے فاصلہ رکھوں
سعود عثمانی

ہوا کرتی ہے پُراسرار سی سرگوشیاں تاباں
تو کیا گھر میں نئے آسیب داخل ہونے والے ہیں؟

عبدالقادر تاباں

ہم فقیروں پہ ہو کرم یارب
شاہ زادے وبا کی زد پر ہیں
عارف امام

کچھ اپنے اشک بھی شامل کرودعاؤں میں
سنا ہے’ اس سے وبا کے اثر بدلتے ہیں

شکیل جاذب

ہم محبت میں ہوش کھو بیٹھے
تم  کرونا  کی   بات  کرتے  ہو
سعیداشعر

۔۔اتنا کافی ہے مجھے زندگی ساری کے لئے
وقت جو تُم نے دیا وقت گزاری کے لئے

حوصلہ دیکھ کے بیمار کا پلٹی ہے قضا
ورنہ پھرتی ہے وبا مرگ شماری کے لئے

صـائمـہ نورین بخــاری
وبا کی صورت حال پر تادم تحریر غزل کے مقابلے میں نظم زیادہ مقبول ہے۔اور نظم میں وبا سے جنم لینی والے خوف اور رائگانی کے احساسات کو زیادہ بیان کیا جارہا ہے۔چند نظمیں نمونے کے طور پر ملاحظہ کیجیے۔

کرونا وائرس کے بعد (ڈاکٹرستیہ پال آنند)

وہ جو ہر روز اپنی کھڑکی سے
دیکھتا ہے کہ دور سے کوئی
راہرو آئے، اور وہ اس کو
گھر میں مدعو کرے، محبت سے
بیٹھ کر گفتگو کرے، اس کو
اس حقیقت کا کوئی علم نہیں؟
شہر کی موت ہو چکی، اور وہ
اپنی کھڑکی سے جھنکنے والا
اک اکیلا ہے ساری دنیا میں
نسل کا آخری نمائندہ!

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں مرنے والا نہیں(قمر رضا شہزاد)

میں زمانوں سے سب دیکھتا آیا ہوں
جنگ اور جنگ سے ہونے والی یہ بربادیاں
قحط کی زد میں آئی ہوئی بستیاں
زلزلوں سے زمیں بوس ہوتے مکاں
کتنے سیلاب اور کتنے آتش فشاں
میں نے جھیلی ہیں سینے پہ سب سختیاں
میں اگر خاک ہوبھی گیا۔۔۔۔ کیا ہوا
پھر اسی خاک سے ایک دن
یونہی ہنستا ہوا اک نئے روپ میں کھل اٹھا

میں بہادر ہوں
اور اب بھی لڑتے ہوئے
اس نئی جنگ میں دیکھ لینا اگر تیرے ہاتھوں سے مارا گیا
پھر نئے حوصلے سے جنم لوں گا
اور اس زمیں کو دو بارہ سجاؤں گا
میں ڈرنے والا نہیں
مرنے والا نہیں

بہت بے رنگ موسم ھے (نوید مرزا)

گھروں میں قید ھیں سارے
بہت بے رنگ موسم ھے
ھماری سانس کی رفتار بھی
مدھم سی لگتی ھے
کسی خطرے کی آمد ھے
نہ جانے کیوں
اندھیرا بڑھ رھا ھے
روشنی بھی کم سی لگتی ھے
صفوں کو متحد کرنا پڑے گا
اب ضرورت ھے
دلوں سے نفرتیں اب ختم کر دیں
چاھتوں کے بیج بوئیں
الفتیں بانٹیں
بہت بے رنگ موسم ھے
سکوت مرگ ھے
اب زندگانی کو
دعاؤں کی ضرورت ھے
اٹھاؤ ھاتھ
آنکھیں نم کرو
اندر کی دیواریں گراؤ
سر جھکا رکھو
یقیں رکھو
فلک سے اب مدد آنے ھی والی ھے
نظر سب کی سوالی ھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جانے کیا دوڑتھی (حمیدہ شاہین)

تونے کچھ دیر کو
ٹھیرنے, سوچنے کا اشارہ دیا
یا خدا شکریہ
دائیں بائیں سبھی سگنلوں پر جو سرخی کا ہالہ بنا
اُس نےاِس بھاگتی , اپنے رستے کی ہر چیز کو روندتی
تیز رفتار دنیا کو ٹھیرا دیا
گھومتی, شور سے کان بھرتی ہوئی چرخیاں رک گئیں

جانے کیا دوڑتھی
زندگی اپنے پیروں می پہنے ہوئے
اپنی آنکھوں پہ خواہش چڑھائے ہوئےبھاگتے ہی چلے جارہے تھے سبھی
اتنی مہلت نہ تھی
رک کے دیکھیں ذرا
کون پیچھے گرا
کون کچلا گیا
کون پہلو میں ہے
آئینہ دیکھنے کی بھی فرصت نہ تھی
اپنے پیاروں کے چہرے بھی دھندلے سے تھے
ایک چابک بدن پر برستا تھا بس
کچلا جائے گا جو ایک پل بھی رکا

یا خدا شکریہ
تونے جھٹکا دیا
اور اک بار پھر سب کو سمجھا دیا
زندگی کو سدا ساتھ لے کے چلو
ورنہ مر جائے گی.
………………

مسیحائوں کو سلام( انیس احمد)

انتھک محنت ، جذبے اور ایقان میں ہے
تو ہی ہر اک بات تمہاری شان میں ہے
آج مسیحا خود کو ثابت کر ڈالا
انسانوں کی خدمت جو ایمان میں ہے
مشکل وقت ہے ، کٹ ہی جائے کا آخر
رقم ہوئی تاریخ تمہاری شان میں ہے
سب انسان ہیں میرے جسم کا حصہ تو
میری جان یہاں کے ہر انسان میں ہے
دنیا بھر کے لوگ سلام کرہں تم کو
آج منایا دن یہ پاکستان میں ہے
اور سلام ہے طبی عملے کو دل سے
خدمت کرنا شامل ان کی جان میں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

“کرونا” (ڈاکٹر اشہد کریم الفت)

کرونا کی دہشث نے
ساری دنیا کو خوف زدہ کر دیا ہے
کیونکہ کرونا کاٹتا ہے
سانسوں کی ڈور
زندگی کی پثنگ …..!
کرونا آیا کہاں سے ؟
اور جائے گا کیسے ؟
ایک بڑا سوال ہے
ہم ثلاش کر رہے ہیں
اس سوال کا جواب
اور لڑ رہے ہیں زندگی کی جنگ
اس کرونا نے ہمیں موت کے تحفے میں
بہت سی باتوں کا دھیان دلایا
خود شناسں اور خداشناسی کی طرف
مائل کیا
کھانے پینے کے اصول کو توڑنے کا مزہ چکھایا
نائٹ کلبوں کے راون سے بچنے کے لئے
کھینچ دی لکشمن ریکھا
اور کہا اپنے جسم کی حرارت اپنے اندر رکھو !
بڑھتی ہوئ ابادی اور پھیلتی ہوئ آ لودگی سے
سختی سے خبر دار کیا … !!
حلال اور حرام میں فرق کیا
ایک کمرے میں بند ہو کر
قبر کی گھٹن یاد کرائ
اس تنہائ میں کوئ کسی کا نہیں ….
سوچئے فطرت سے چھیڑ چھاڑ
بے شمار ایٹمی تجربے کس لئے ؟
جنگل کا کٹاو , ندیوں کی پراگندگی
سمندر کو زہراب کس نے کیا
علم کا فریب ..اور جھوٹا تکبر کیا ہوا …؟
صرف ایک “کرونا وائرس” نے سنی ٹائز ہوکر
جینے پہ مجبور کر دیا ہے
اگر زندگی چاہتے ہو تو
سنی ٹائز ہو کر ، صاف ستھرے ماحول میں
اپنں اور اپنے خاندان کی
سماج اور ملک کی
دین اور دنیا کی مسکراہٹ کا حصہ بنو …
ورنہ کرونا بے وقت موت کی دستک دے رہا ہے
جہاں کفن اوڑھنے کی بھی
مہلت نہیں ہے ….؟
اور لاش عبرت و حسرت کا نمونہ !
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قرنطینہ ۱ (سلمان ثروت)

زندگی میں یہ پہلا موقع ہے
کہ میرے اندر باہر ایک جیسا سناٹا ہے
چڑیوں اور بچوں کا شور بھی
اس سناٹے کو کم نہیں کرپا رہا

خود کو زندہ رہنے پر اُکسانے کا عمل
اب روزانہ کی بنیاد پر کرنا پڑتا ہے

دیمک کی طرح پھیلتی فراغت
مصروفیت کے بہانے کھوکھلے کیے دے رہی ہے

کتنی ہی کتابیں
میرا انتظارکرتے کرتے
بوڑھی ہوچکی ہیں
ان میں کچھ میری محبوبائیں بھی ہیں
جن سے محض سرسری ملاقات ہی رہی
اور اب فرصت کے اِس بے کنار منظر میں
میری نظر شلیف کی طرف نہیں اُٹھ رہی

کچھ ادھوری نظموں کو
یک دم امید سی ہو چلی تھی
لیکن مَیں کیا کروں
مَیں دن میں کئی بار ہاتھ دھوتا ہوں
اور اِن نظموں پر پانی ڈال آتا ہوں

قرنطینہ میں ساتواں دن(عمر عزیز)

ہوائیں بولتی ہیں
روشنی آواز دیتی ہے
خموشی بوجھ رکھتی ہے
منوں میں یا ٹنوں میں
کہہ نہیں سکتا
مگر یہ بوجھ سینے پر اترتا ہے
میں سترہ سو اٹھارہ
سرخ اینٹوں کے قفس میں ہوں
یہاں سردی نہیں لیکن ہوا کچھ سرد ہے
پنکھا تبھی خاموش و ساکت ہے
یہ دیواریں جو چاروں سمت ہیں
اکثر گلے ملتی ہیں
ان کے بیچ میں بیٹھا بدن
غلے کے دانے کی طرح پستا ہے
چھت بھی
تھک کے ٹھنڈے فرش پر آرام کرتی ہے
یہ کرنیں صبح کی چھن چھن چھلکتی ہیں
یا شامیں جھانکتی ہیں بند کھڑکی سے؟
اگر چادر کی شکنوں سے اٹا یہ جسم میرا ہے
تو آنکھیں کس کی ہیں جو دیکھتی ہیں
میرے پیکر کو؟
میں زندہ ہوں، نہیں ہوں
سو رہا ہوں، جاگتا ہوں
یا کہ دونوں حالتوں کے بیچ میں ہوں
کہہ نہیں سکتا
نہ ہونے اور ہونے کی حدیں واضح نہیں ہیں
صرف وحشت ہے
کہاں ہے میری تنہائی
شناسائی کوئی
تپتے ہوئے ماتھے پہ اپنا ہاتھ رکھے
اور کہہ دے
کچھ نہیں ہوگا
تمہیں کچھ بھی نہیں ہو گا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ڈاکٹروں، نرسوں اور اسپتال کے عملے کا حوصلہ بڑھاتی ایک خوبصورت نظم

“تمھارا شکریہ”(محمد عثمان جامعی )

اے زندگی کے ساتھیو
حیات کے سپاہیو!
وبا سے لڑتے دوستو
نجات کے سپاہیو!

ہوا کی زد میں آئے، وہ
دیے بچارہے ہو تم
اندھیرا پھیلتا ہے اور
چراغ لارہے ہو تم
ہے بڑھتی آگ ہر طرف
جسے بجھا رہے ہو تم
ہتھیلی پر دھری ہے جاں
ڈرے بنا، رواں دواں
یہ جذبہ کتنا پاک ہے
ہو جیسے صبح کی اذاں
یہ ولولے، یہ حوصلے
کبھی نہ ہوں گے رائیگاں

صدا ہر ایک دل سے ہے اُٹھی
تمھارا شکریہ
سبھی لبوں پہ ورد ہے یہی
تمھارا شکریہ
پکارتی ہے یہ گلی گلی
تمھارا شکریہ

تمھیں سے تو ہے فخرِآدمی
تمھارا شکریہ
یہ کہہ رہی ہے آنکھ کی نمی
تمھارا شکریہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک نادان نظم ( پروین طاہر )
حبیب جاں!
تم اگر وبا کے دنوں میں آئے
تو بصد عقیدت و محبت
تمہار ےہاتھ چوموں گی
کیونکہ یہ میرے مسیحا کے ہاتھ ہیں
تمہاری چادر کو اپنے ہاتھوں سے
تہہ کر کے اپنے سرہانے رکھوں گی
کہ اس بکل کی حرارت مجھ پر
کشف کے در کھولتی ہے
تمہارے جوتوں کو قرینے سے جوڑ
کر پلنگ کے پاس رکھوں گی
تمہارے ساتھ ایک پلیٹ میں
کھانا کھاؤں گی
اورتمہاری ضدی نظروں کا
بھرم رکھوں گی !
نجانے مجھے کیوں لگتا ہے
کہ وبا کی آنکھ میں
محبت کرنے والوں کے لئے
کچھ حیا باقی ہوگی !
۔۔۔۔۔۔۔۔
ہم ایک ہی باپ کی اولاد ہیں ( افتخار بخاری )
ہم ہاتھ نہیں مِلائیں گے
یہ وقت دِلوں کو ملانے کا ہے

ہم نے تنہائی اوڑھ لی
اور انسانیت کی اکائی کو سرھانا بنا لیا

ہم سفر نہیں کریں گے
جب تک ہمارے صندوق
خوبصورت تحائف سے تہی ہیں

حاجت سے زیادہ خریدیں گے نہ بیچیں گے
کہ دکانیں اور بازار
فراوانی سے بھرے رہیں

بغیر ضرورت گھروں سے نہیں نکلیں گے
کہ شاہراہیں،میدان اور باغ جلد آباد ہوں

اگر ضروری ہوا تو
کسی خاموش کونے میں مریں گے
کہ زمین ہمارے بعد بھی گیتوں سے گونجتی رہے
۔۔۔۔۔۔۔۔
وبا کے دنوں میں محبت ( خمار میرزادہ )

وبا کے دِنوں میں محبت سلیقہ شعاری سکھاتی ہے
باتوں میں اک تازگی کی گھلاوٹ
ہنسی میں چھپا اجتماعی تاسّف دکھاتی ہے
ہم بات کرنے کے موضوع پوروں پہ گنتے ہیں
چہروں پہ پھیلے ہوئے ماسک ہم کم نماؤں میں خود اعتمادی بڑھاتے ہیں
ہم اپنے ہاتھوں پہ دستانے کھینچے کسی لمس کی یاد میں تمتماتے ہیں
بستر کی گرمی سے لپٹے ہوئے خود کو محفوظ کہتے ہیں
خوابوں کی ویکسین سے دل تسلی کا سامان کرتے ہوئے
اک محبت کے دونوں کنارے ملاتے ہیں
لیکن بہلتے نہیں ہیں
وبا کے دنوں میں ہم اپنے گھروں سے نکلتے نہیں ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔
وبا کے دنوں میں ( صفیہ حیات )

زمین گونگی ہورہی ہے
پرندے چپ سادھے
اجڑی شاخوں پہ بیٹھے نوحہ کناں ہیں۔
رات کے بدن پہ
نیند کے پیالے اوندھے پڑے بلک رھے ھیں۔
عورتوں کے رحم میں
زندہ لاشوں کے گلنے سڑنے سے تعفن پھیل رہا ہے
خواب بستیاں اجڑ رہی ہیں
سمندروں نے دیکھا
موت دانت نکوستی دندناتی پھرتی ہے
۔
بڑھیا کھڑکی سے جھانکتے چیخی
“کوئی مذہب
اسے لگام کیوں نہیں ڈالتا
کیسی شتر بے مہار ہوئی پھرتی ہے
کوئی دعا اسکا گلہ کیوں نہیں گھونٹتی
اس منحوس کو تعویز گھول کر پلاوء”
۔
درباروں میں جھاڑو دیتی
بے وقوف بڑھیا !
فلم کاوہی کردار ہٹ ہوتا ہے
جس نے
ریہرسل کی ہو
۔
کھڑکی میں سناٹا پھیل گیا
موت نے اپنا گیت جاری رکھا
۔۔۔۔۔۔۔۔

وبائے عام کے دنوں میں اردو ادب نے اس عالمی المیے کے مختلف منظروں کو تخلیقی رنگ سے دیکھا ہے۔۔گویا ہم کہہ سکتے ہیں۔اردو شعروادب نے وبائی منظرنامے کی تاریخ قلم بند کی ہے۔ یقینا” وبا پر لکھی گئی تخلیقات میں ہنگامی نوعیت اور فوری ردعمل کے معائب بھی محسوس ہوں گے۔۔تاہم خوش آئند امر یہ ہے کہ پاکستان،انڈیا اور دنیا کے دوسرے خطوں میں اردو شاعروں اور ادیبوں نے کئی اعلی نگارشات بھی کاغذ پر اتار کر اردو ادب کو ادبیات عالم کی نمائندہ آواز میں شامل کر لیا ہے۔۔

(  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری ہے)

 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post