ماریشیس کے ساحل پر ​لایعنیت کی شاعری کا ایک نمونہ Absurd Poetry :ڈاکٹرستیہ پال آنند

ایک لڑکا سر کے بل ایسے کھڑا ہے
نرم گیلی ریت پر
جیسے اسے آکاش کی اونچائی میں پانی
سمندر کی اتھاہ گہرائی میں آکاش
ساحل پر کھڑےلوگوں کے جمگھٹ
سب کو اُلٹا دیکھنا ہے۔
آتے جاتے لوگ اس کے سامنے چادر پہ سکّے پھینکتے ہیں
تو وہ ہِلتا ہی نہیں ہے
ہاں، اگر اک نوٹ کوئی پھینک دے ، تو
یک بیک سرعت سے اس پر کنکری رکھتا ہے۔۔۔
تا کہ نوٹ چادر پر رہے
۔۔۔اٹھکھیلیاں کرتی ہوا میں اُڑ نہ جائے
صرف مَیں ہی دیکھتا ہوں
نوٹ تک آنے میں اس کو وقت لگتا ہے کہ اس کے
دونوں پاؤں ہی نہیں ہیں۔

(۲)

ایک چوزہ ، سر کٹا، جو
نزع کے عالم میں گیلی ریت پر
اپنے تڑپنے کا فقط خود ہی تماشائی بنا ہے
(وقت ضائع کر رہا ہے )
پاس انگیٹھی پہ جلتی آگ پر کالی سلاخوں میں پروئے
ـسیخ مرغابےـ ہیں جن کو دیکھ کر میرا تو جی متلا گیا ہے
گوشت کے قتلوں کا بیوپاری
کٹے سر کا گلابی پھول ہاتھوں میں لیے
اب بے حس و بے جان چوزہ بھی اُٹھا لیتا ہے ۔۔۔
بگھی کے اِدھر آنے سے پہلے

(۳)

کالی بگھی
ایسے لوگوں کی سواری
ریت پر چلنا جنہیں دشوار لگتا ہے ، کہ وہ تو
ہوٹلوں میں قیمتی قالین پر چلنے کے عادی ہو چکے ہیں۔

(۴)
ناریل آدھا
شکستہ، راستے پر
ریت پر لیٹا ہوا بے جان سورج
گہن کا کھایا ہوا سا
مجھ کو ایسے دیکھتا ہے، جیسے میں ہی
ایک ’’راہو‘‘ ہوں کہ ’’کیتو‘‘ گہن ہوں
جو اس کا حصہ کھا گئے ہیں

(۵)

شام اب ڈھلنے کو ہے، جاؤں کہاں ۔۔۔
سب لوگ تو اب ہوٹلوں ، اپنے گھروں کو چل چکے ہیں
اور میرے پاس شاید
ایک ہی اب راستہ ہے
لوٹ جاؤں ؟

(۶)

میں اکیلا چل رہا ہوں
۔۔۔ صرف سولہہ سال کی ہے
بیوٹی فُل ہے او ر ـینگـ بھی
خوب صورت ۔۔اپسرا سی
دل کو بہلائیں گے، صاحب؟
صرف دس ڈالر میں یا پھر پانچ سو
انڈین روپیے
دو قدم آگے کو چل چُکتا ہوں تو
یہ مجھ پہ کھلتا ہے کہ وہ تو’پِمپ‘‘ ہے دلّال، جسموں کا بیوپاری
مجھے گاہک سمجھتا تھا، حرامی!

(۷)
لوٹ چلتا ہوں۔۔۔کنارے پر بنے اک
پھوس کے چھپّر میں شاید
چائے خانہ یا کوئی ڈھابہ ہے
اک کپ چائے پی لوں؟
پھوس کے چھپّر کے باہر ایک بُڑھیا
ادھ مری کتیا سی، اپنی ٹانگ کھجلاتے ہوئے بیٹھی ہے
اس کی آنکھ چھپّر میں لٹکتے
ایک کیلنڈر کے کاغذ میں مقید
اُس جواں عورت کے پستانوں پہ ہے، جو ہنس رہی ہے

(۸)

پھوس کے چھپر کے اندر
اک قدم رکھتا ہوں ۔۔
پچھواڑے کے حصے سے کوئی کہتا ہے
’’ّآ جاؤ’’
دھندلکے میں مجھے لگتا ہے، دنیا سو نہیں سکتی
کہ ٓآنکھیں تو کھُلی ہیں
اور ڈھیلی چارپائی پر سجی سنوری وہی عورت ہے
جو کیلنڈر کے کاغذ میں مقید ہنس رہی تھی

آج تو میں بچ نہیں سکتا کہ کندھوں پر اُٹھائے پھِر رہا ہوں
جسم اپنا۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post