عہد کرونائی میں لاہور کاسفر : ناصرعلی سید

یار کی گلی جا نا فرصتوں سے باند ھا ہے
یہ اسّی کی دہائی کے اوائل کی بات ہے، یہ وہ دن تھے جب آتش وغیرہ سب جوان تھے اور پشاورمیں ادبی ہنگامے عروج پر تھے، فارغ بخاری،اشرف بخاری، رضا ہمدانی،شوکت واسطی،خاطر غزنوی،محسن احسان،یوسف رجا چشتی،طہٰ خان، روشن نگینوی اور شرر نعمانی سمیت سارے معتبر اور مستند اساتذہ بھی پوری طرح فعال تھے اور ہم جیسے نوواردان قریہئ ادب بھی ان کے کار ادب سے توانائی حاصل کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے، مجھے یاد ہے کہ جتنی تقریبات اس دہائی میں ہوئیں وہ بعد کے مہ و سال کے لئے قابل رشک رہیں، میں ان دنوں گورنمنٹ کالج نوشہرہ میں تھا،جہاں میری ٹرانسفر کے دوسرے ہی دن استاد محترم شرر نعمانی کی صدارت میں ایک شاندار اردو مشاعرہ ہوا تھا،نوشہرہ کالج ساٹھ کی دہائی میں ادبی اور ثقافتی ہنگاموں کے لئے مشہور تھا جب یہاں مشاعرے،مذاکرے،شعرا کے ساتھ شام،میوزیکل کنسرٹ،ڈرامے اور جانے کیا کیاہوتا رہا۔ نوشہرہ پشتو کی ادبی تنظیموں خصوصا رئیس ادبی جرگہ اور لبید سرحد عبداللہ استاد کی وجہ سے پشتو شعر و ادب کا مرکز تھا اسی طرح اس علاقے کے دیگر قصبات اور شہر بھی پشتو شعر و ادب کے ترویج و ترقی میں اپنا فعال کردار ادا کر رہے تھے پھر نوشہرہ کی طرح مردان میں بھی اردو نشستیں تشنگان علم کی پیاس بجھا رہی تھیں،خصوصا مردان کالج میں اردو کی ادبی سرگرمیاں کا شہرہ سنتے تھے تاہم کبھی موقع نہیں ملا تھا کہ شریک ہو سکتے، یہ وہی دن تھے جب حلقہ ارباب ذوق پشاورکے ہفت روزہ اجلاس میں بڑی رونق ہوتی،غلام محمد قاصر مردان سے حلقہ کی نشست میں تقریبا َ باقاعدگی سے آتے اور ہمیں مردان میں اردو شعر و ادب کی رفتار کا علم ہوتا رہتا۔پھر ایک بار گورنمنٹ کالج مردان کی ایک شاندار اور یادگار تقریب میں حلقہ ارباب ذوق کے سب دوستوں کو مدعو کیا گیا، یہ تقریب غلام محمد قاصر کے اعزا میں تھی، دو نشستیں تھیں،پہلی نشست میں ان کے فن و شخصیت پر گفتگو ہوئی اور مضامین پڑھے گئے، دوسری نشست مشاعرہ کے لئے تھی، پروگرام کے مطابق پشاور سے ایک کوچ(ویگن) میں احباب کو مردان جانا تھا مگر چونکہ یہ تقریب کالج کے اوقات میں ہونا تھی ا ور ورکنگ ڈے تھا اس لئے بہت سے احباب محروم رہے، طے یہ ہوا کہ مجھے انہوں نے نوشہرہ کالج سے لینا تھا، تب تک میں اپنی کلاسز لے چکا تھا، جب کوچ آئی تو میں نے دیکھا کہ ایک آدھ سیٹ میرے علاوہ بھی ہے، تو میں نے سال سوم کے اپنے ایک شاگرد کو ساتھ چلنے کے لئے کہا، اور اس کے دوست کو ان کے گھر بھیجا تاکہ اطلاع دے دے۔ بلا کے شرمیلے مگر اچھا شعر کہنے والے شاگرد کو نہ صرف ساتھ لے گیا بلکہ انتظامیہ سے کہہ کر اسے مشاعرہ میں پڑھنے کا موقع بھی دلا دیا، اساتذہ اور سینئر شعرا کے ساتھ اپنی زندگی کا پہلا مشاعرہ پڑھنے پر اس کے شعر کو ایک اچھا آغاز اور اعتبار حاصل ہوا،نوشہرہ میں رہنے والا یہ طالب علم جب تعلیم کی تکمیل کے بعد پشاور آیا تو ادبی حلقوں میں شرکت کے لئے اسے ذرا دقت پیش نہیں آئی، اور یہ ”بارش کی ساتویں شام“ کے معروف شاعر امجد بہزاد کی کہانی ہے، یہ سب مجھے اس وقت یاد آ رہا تھا جب میں مردان میں اردو کی ایک” نویں نکور“ اور فعال ادبی تنظیم ”محبان اردو مردان“ کی ایک اہم اور بڑی تقریب میں برخوردار گوہر رحمن نوید کی دعوت پر مو جود تھا اور جاننے والے کہہ رہے تھے کہ مردان میں اردو کی بڑی تقریبات نے پشتو شعر و ادب سے جڑے لوگوں کو بڑے پیمانے پر تقریبات کی راہ پر لگایا، یہ بیان ممکن ہے کچھ احباب کو پسند نہ بھی آ یا ہو، مگر اسّی کی دہائی کے پہلے سال کی ’صبح قاصر‘سے لے کر محبان اردو کی دو کتابوں ”شب ریز“ اور ”اکرام اللہ گران۔فن و شخصیت‘ کی رونمائی کی بھرپور،شاندار اور کئی حوالوں سے یادگار شام تک کا سارا سفر سرخروئی کا سفر ہے۔ اور کامیاب تقریب دیکھ کر میرا یہ احساس فربہ ہو تا جارہا ہے کہ سرشاری کا یہ جاری سفر ہر پڑاؤ پر معتبر ہوتا چلا جائے گا۔ براوو محبان اردو۔ایک آن لائن ادبی نشست ٹولیڈو امریکہ میں بھی شریک رہا جہاں نہ صرف اردو نثر سے خورسند ہوا اور اچھا شعر سنا بلکہ روی شنکر کے شاگرد معروف ستار نواز ’استاد اخلاق احمد‘ نے بھی بہت پرسکون کر دینے والی جادوئی دھنیں چھیڑیں، ڈاکٹر امجد نے بہت عمدہ نظامت کی، اس نشست میں امریکہ لندن،انڈیا،پاکستان اور جینیوا تک کے احباب شریک تھے، کہیں صبح تھی کہیں سہ پہر کہیں شام تھی،پاکستان میں رات کا پہلا پہر تھا بہت لطف آیا، شکریہ ڈاکٹر امجد حسین، احباب کو علم ہے کہ گزشتہ کئی برسوں سے یہی معمول ہے کہ میرا زمستان (نومبر تا مارچ) امریکہ کے مختلف شہروں کی ادبی سرگرمیوں اور مشاعروں میں گزرتا ہے۔ تاہم اس برس میں جنوری کی آٹھویں شام پاکستان پہنچا،تو ارادہ تھا کہ اب کے نومبر کی بجائے دسمبر میں نکلوں گا جب کہ دوست مہرباں مردان ہی کے ادب دوست اور سماجی کارکن سید کمال شاہ جو کبھی صوبائی کابینہ میں بھی شریک رہے (،یادش بخیر اس زمانے میں (2007ؔ) میرے شعری مجموعہ ”شامیں فریب دیتی ہیں“ کی تقریب رونمائی کے صاحبان صدارت میں بھی شامل تھے،) ان کا یہ کہنا ہے کہ آپ ہر برس سردیوں میں امریکہ جاتے ہیں، اب کچھ ایسا کریں کہ بہار اور گرما وہاں گزاریں۔میں نے کہا میں خود کہاں جاتا ہوں یہ تو وہاں کے دوستوں کی بے پناہ محبت ہے کہ وہ بچوں کے ساتھ مدعو کرتے ہیں، سید کمال شاہ کہنے لگے اب کے میں آپ کو لے کر جاؤں گا۔۔اتفاق سے رواں سال ”عہد کرونائی“ کے نام سے موسوم ہوا تو کیسا جانا کہاں کا آنا۔ سو آن لائن نشستوں کو اس لئے خوب انجوائے کرتا ہوں کہ احباب سے بات چیت ہو جاتی ہے۔
احباب سے ملاقات کا ایک اور اچھا موقع صوبائی حکومت پنجاب نے بہم پہنچایا، عالمی سطح پر جو ایک بے چینی،اضطراب، رنج، غم و غصّہ اور جذباتی کشمکش کو فرانس میں ہوا دی گئی ہے، اس کیخلاف عشاق رحمتہ العالمینﷺ کااحتجاج اور مزاحمت کا ایک بھرپور سلسلہ تو رواں دواں ہے، مگر پنجاب حکومت نے رواں ہفتہ کو ”ہفتہ شان رحمت العالمین“ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے، جو ایک مؤثر پیغام ہے چنانچہ اس ضمن میں وزیر اعلی عثمان بزدار نے پنجاب بھر میں بابرکت محفل ذکر رسول، سیرت کانفرنسیں، مشاعروں اور مذاکروں کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے، اس ضمن میں سب سے بڑی تقریب ایک کثیرالسانی مشاعرہ تھا جووزیر اعلی سیکریٹریٹ کے ہال میں منعقد ہوا، صدارت ریاض مجید کی تھی اور وزیر اعلی عثمان بزدار اور فردوس عاشق اعوان سمیت بہت سے زعما شریک محفل رہے۔پشاور سے پروفیسر اسیر منگل بھی ہمراہ تھے، یہ ایک بہت بابرکت،پر جوش اور عمدہ محفل تھی پاکستان بھر سے شعرا کرام نے آقائے نامدار ﷺ کو اپنی محبتوں،نعتوں اور عقیدتوں کے نذرانے پیش کیا۔ اور ثناخواناں محمدﷺ نے نعت کے ساتھ ساتھ قصیدہ بردہ شریف پیش کر کے اس بابرکت اجتماع کو بہت بے پناہ بنا دیا، معروف فنکار شجاعت ہاشمی نے کلام اقبال پیش کیا جس کا انگریزی اور فرانسیسی ترجمہ پیش کیا گیا۔ اس تقریب کی ترتیب میں پنجاب آرٹس کونسل، اور انفارمیشن اینڈ کلچر ڈیئپارٹمنٹ ،حکومت پنجاب کے احباب اسد ربانی، ابرار احمد، عادل،مغنی، ثوبیہ سمیت بہت سے احباب شامل ہیں،،عہد کرونائی میں گھر سے باہر نکلنے کے لئے بھی سو بار سوچنا پڑ تا ہے چہ جائیکہ پشاور سے لاہور تک کاطویل سفرطے کرنا، پھر محبت کرنے والے بہت سے ہمدرد احباب کی ڈانٹ ڈپٹ بھی ملی، جن میں میرے دل کے قریب دوست ڈاکٹرمحمد ہمایوں ہما اور فیروز آفریدی بھی شامل ہیں کہ وبا کے موسم میں بہت احتیاط کی ضرورت ہے، مگر ایک تو یہ کمٹمنٹ پرانی تھی،خود انہوں نے اسے مؤخر کر دیا تھا(گزشتہ کالموں میں میں نے ذکر بھی کیا تھا) اور سب سے اہم بات کہ مدحت سکار دوعالم ﷺ کی محفل تھی۔ سو جانا لازم تھا۔ اور احباب کے بہت اصرار کے باوجود مجھے جلد آ نا پڑا مگر اس کی ایک وجہ تھی کہ صبح بدھ کا دن تھا اور مجھے ادب سرائے ترتیب دینا تھا، بدھ کی صبح ساڑھے پانچ بجے پشاور پہنچا، مگر اب یہ وقت میرے جاگنے کا تھا، ۔…………..
۔ اس ہفتے ملنے والے جرائد و کتب میں مردان کے دوست غمگین معیارے کی ترتیب دے ہوئی مرحوم فضل الرحمن صابر کی پشتو ”کلیات“ کا پہلا حصہ شامل ہے جس میں ”اسرار د طور“ کا تعارفی مضمون اور غمگین معیارے کا مقدمہ بہت عمدہ ہے، کلیات 0314 9623 639 پر کال کر کے مرتب سے حاصل کیا جا سکتا ہے،غمگین معیارے کی ایک اور اہم اردو کی کتاب ان کے چند ایک حالات حاضرہ مضامین کے ساتھ ساتھ مردان کے قلم قبیلہ کے تخلیق کاروں کا تذکرہ ہے، جوکئی حوالوں سے اہمیت کا حامل ہے، اگر دوست کے لئے ممکن ہو تو اسے خالصتا ادبی تذکرہ بناتے ہوئے نئے سرے سے ترتیب دے اور جن بڑے قلمکاروں کے بارے میں محض تاثرات لکھے گئے ہیں انہیں بھی تفصیل سے لکھے یہ ایک ایک بہت اہم دستاویز بن سکتی ہے۔ مردان سے ایک پشتو شعری مجموعہ جلوہ گر بھی مو صول ہوا ہے یہ خائستہ گل غم غلط کا ہے اس کے بیک ٹائٹل پر غمگین معیارے کی رائے،جبکہ کتاب میں ان کا مضمون اور محمد سعید سعید مردان کا تعارفی تبصرہ شامل ہے،یہ کتاب کچھ عرصہ پہلے شائع ہوئی ہے،، تازہ موصول ہونے والی کتب تو کچھ اور بھی میز پر پڑی ہیں، مگر انہیں، بشرط زندگی، آ ئندہ نشست تک مؤخر کئے دیتا ہوں
ٹولیڈو کی آن لائن لائن ادبی نشست میں اپنی ایک پرانی غزل پڑھتے ہوئے جب میں نے بیہ شعر پڑھا تو احباب نے کہا کہ اسے وبا کے موسم کے ساتھ جوڑ دو، جس پر ایک قہقہہ پڑا، اس شعر کے ساتھ ہی اجازت چاہوں گا

جبر ہے یہ موسم کا، ہم نے ان دنوں ناصر.

یار کی گلی جا نا فرصتوں سے باندھا ہے

You might also like
  1. یوسف خالد says

    واہ واہ ایک بہت عمدہ محفل کی بھرپور عکاسی اور بین السطور بیتے دنوں کی یادیں اور احباب کا ذکر -سب کچھ بہت نکھرا نکھرا سا
    سلامت رہیں جناب

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post