عصرِحاضرکاباصلاحیت افسانہ نگار ۔۔۔نورالامین : پروفیسرمجاہدحسین/ڈاکٹر ارشاد احمدخان

انگریزی ادب میں مختصر افسانہ کا آغاز انیسویںصدی کی ابتداء میں واشنگٹن ارونگ’’ اسکیج بک‘‘ ۱۸۱۹؁ء کی اشاعت سے ہوا۔ ہاتھارن نے تمثیلی کہانیاں لکھ کر مختصر افسانہ کے فن میں اضافہ کیا ۔ایڈگرایلن پونے پہلی مرتبہ افسانہ کے فنی لوازم متعین کیے۔امریکہ ، فرانس، روس اور انگلستان کے مشہور و معروف افسانہ نگاروں میں اوہنری، ولیم سڈنی پورٹر ، موپاساں، چیخوف ، ڈکنس، اناطول،،مینسفیلڈ، اینڈرسن اور جدید افسانہ نگاروںمیں سامرسٹ ماہم ، جمیس جوائس اور سین ونا سین وغیرہ قابل ذکر ہیں۔؎
ہندوستان میں مختصر افسانہ کی باقاعدہ ابتداء بیسویں صدی کے آغاز سے ہوئی۔پریم چند کو مختصر افسانہ کا بانی تسلیم کیاجاتا ہے۔ ان کا پہلاافسانہ ’’ دُنیا کا سب سے انمول رتن ‘‘ ۱۹۰۷؁ء میں شائع ہوا۔ جدید تحقیق کے مطابق
بقول ڈاکٹر مرزا حامدبیگ ؎

’’ علامہ راشد الخیری اُردو ادب کے پہلے افسانہ نگار ہیں جن کا افسانہ’’ خدیجہ اورنصیر ۱۹۰۳؁ء کو اُردو جریدے ’’ مخزن‘‘ میں شائع ہوا۔‘‘

’’ مراٹھواڑہ کا پہلا مطبوعہ افسانہ عزیز احمد (عثمان آباد)کا ’’ کشاکش جذبات‘‘ ہے جو مجلہ مکتبہ حیدرآباد (جلدنمبر۴ شمارہ۲) نومبر  ۱۹۲۹؁ء میں شائع ہواتھا۔‘‘ (۱)

بہر حال پریم چند اُردو افسانہ کا بہت ہی اہم اورمعتبر نام ہے جنھوں نے اپنے افسانوںکے ذریعہ سماجی حقیقت نگاری کے رحجان کو پروان چڑھایا تو دوسری طرف سجاد حیدر یلدرم رومانوی رحجان کے علمبردار تھے ان کے ہمعصروں میںنیاز فتخپوری،ل۔احمد اکبر آبادی اور سلطان حیدر جوش نے اُردو افسانوی کا رواںکو آگے بڑھایا ۔ترقی پسندتحریک کے زیر اثر سجاد ظہیر ، کرشن چندر، سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی،راجندر سنگھ بیدی، حیات اﷲ انصاری ، احمد علی،خواجہ احمد عباس ، بلونت سنگھ ، احمد ندیم قاسمی ، ممتاز مفتی ، اختر انصاری، مہندرناتھ، اوپندرناتھ اشک اور اختر او رینوی وغیرہ نے بہترین افسانہ تحریر کرکے اُردو افسانوی ادب میںگراں قدر اضافہ کیا ہے۔
ہندوستان میں افسانہ کے ارتقاء کی روایت کو مستحکم کرنے میںمہاراشٹر کے علاقہ مراٹھواڑہ کے افسانہ نگاروں نے بھی اپنانمایاں کردارادا کیاجس کا بین ثبوت ان افسانہ نگاروں کی وہ تخلیقات ہیںجنھوںنے اُردو افسانوی ادب میں ایک قابل قدر اضافہ کیا۔ اکیسویں صدی میںاُردو افسانہ جہاںاُردو کے افسانوی ادب میںاپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہے وہیں مراٹھواڑہ میں بھی اُردو افسانہ نگاری بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے ۔کہانی سے قاری کو جوڑنے کا سہرا اسی سر زمین مراٹھواڑہ کے افسانہ نگاروں کے سر جاتا ہے۔ مراٹھواڑہ کے پہلے مطبوعہ افسانہ کے بارے میں عنایت علی اپنی تصنیف ’’ مٹی مرے دیار کی ‘‘ میں یوں رقمطراز ہیں:۔

’’ مراٹھواڑہ کا پہلا مطبوعہ افسانہ عزیز احمد (عثمان آباد)کا ’’ کشاکش جذبات‘‘ ہے جو مجلہ مکتبہ حیدرآباد (جلدنمبر۴ شمارہ۲) نومبر ۱۹۲۹؁ء میں شائع ہواتھا۔‘‘ (۱)

اگر عنایت علی کے اس قول کو تسلیم کرلیا جائے تو مراٹھواڑہ میں اُردو افسانے کا آغازہوئے تقریباً نوے (۹۰) سال کا عرصہ ہوچکا ہے۔ مراٹھواڑہ کے ابتدائی دور کے اہم افسانہ نگاروں میں عزیز احمد، عاقل علی خان، اکبر الدین صدیقی،اشفاق حُسین، ع۔احمد ،ڈاکٹر رفعیہ سلطانہ ، وحیدہ نسیم ، سمپت رائے، شاہین فاروقی عباس اقگر، بلند اقبال ، شفیع الدین فرحت ، ممتاز احمد خان، فرہاد زیدی، مجیب اﷲ فاروقی ، تحسین ملک اور کرشنا راؤجوشی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔۱۹۵۶؁ء میں ریاست مہاراشٹر کی تشکیل کے بعد کے دور کے افسانہ نگاروں میں صفی الدین صدیقی،عاتق شاہ ، صادق محسن علی ، شیام کنول، سیدہ مہر، رشید الدین، سریندر کمار مہرہ، غوث ساجد، نعیم زبیری ،حکیم راہی ، اثر فاروقی ،جاوید ناصر ، مجید جمال،اسرار عظمت اور سلطان شمیم وغیرہ اہمیت کے حامل ہیں۔
۱۹۷۰؁ء کے بعد کے وہ افسانہ نگار جنھوں نے نہ صرف مراٹھواڑہ میں افسانہ نگار ی کو بامِ عروج تک پہنچایا بلکہ ہندوستان گیر شہر ت حاصل کی اُن افسانہ نگاروں میں جوگندر پال، الیاس،فرحت، محمود شکیل، رفعت نواز،رشید انور ، ابراہیم اختر، حمید سہروردی، نورالحسنین، عارف خورشید ، عظیم راہی ، شاہ رُخ صحرائی ، اثر فاروقی ، سیّد عباس، صفی اﷲ، متین قادری، حمید اﷲ خان،شجاع کامل اور نورالامین قابل ذکر ہیں۔
نورالامین مراٹھواڑہ کے شہر پربھنی کے ایک باصلاحیت نوجوان اور منفرد افسانہ نگار ہیں۔ وہ شاردا مہاودیالیہ پربھنی میں اسٹنٹ پروفیسر کے عہدے پر فائز ہیں۔وہ مختلف قومی اور بین الاقوامی سمیناروںمیں مقالے پیش کرچکے ہیں ان کے افسانے مختلف ادبی رسائل و جرائد جیسے انشاء ، شاعر، بیباک، اسباق، ذہن جدید، نیا ورق اور آج کل وغیرہ میں متواتر شائع ہوتے رہتے ہیں۔ انھوں نے ’’ جاوید اختر ۔شخص اور شاعر ‘‘ اس موضوع پر ڈاکٹر سردار پاشاہ کی زیر نگرانی ایک مبسوط تحقیقی مقالہ مکمل کیا جس پر اُنھیں سوامی رامانند تیرتھ مراٹھواڑہ یونیورسٹی ناندیٹر نے پی ۔ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی حال ہی میں انہوں نے اپنے اُستاد ڈاکٹر سیّد شجاعت علی المعروف شجاع کامل پر بعنوان ’’ بہت مشکل ہے شجاع ہونا‘‘(فن اور شخصیت ) مرتب کی ۔ ۲۰۱۷؁ء میں انھیں حرف زار لڑیری سوسائٹی ،علی گڑھ نے ان کی افسانوی خدمات کے اعتراف میں ’’ راہی معصوم رضا ‘‘ خصوصی ایوارڈسے سرفراز کیا۔ نورالامین کی پہلی کہانی،’’ عقلمند کسان‘‘ہے جو ۱۹۸۹؁ء میں روزنامہ اورنگ آباد ٹائمز میں شائع ہوئی۔ ’’ بند آنکھوں کے سپنے ‘‘نورالامین کا پہلا افسانوی مجموعہ ہے جس میں بائیس (۲۲) افسانے ہیں عنوان سے عنوان تک ، منزل کی تلاش، پچھلی صدی کا بوجھ، محافظ، ذمہ دار کون ، بند آنکھوں کے سپنے ، جذبات کے دائرے ،’’ اثر ‘‘، ’’بدھا پھر مسکرالے‘‘اور ’’ تلافی‘‘ ان کے بہترین افسانے ہیں۔
افسانوی مجموعہ ’’ بند آنکھوں کے سپنے ‘‘کا پہلا افسانہ ’’ عنوان سے عنوان تک ‘‘ ہے جس کا موضوع آنگن ہے۔ نوفا پنجم جماعت کی طالبہ ہے وہ اپنے والد سے ’’ آنگن ‘‘ اس عنوان پر مضمون کے نکات لکھنے کی فرمائش کرتی ہے لیکن اس کے والد اس کشمکش میں مبتلا ہیں کہ اگر اُنھوں نے آنگن کی صحیح تصویر کشی اور وضاحت کی جیسے صحن، اس میں ہمہ اقسام کے پھول، پیڑ پودے،پیڑوں پر جھولے، بچوں کے کھیلنے اور بڑوںکے آرام کرنے کی جگہ اور اگر اسکی بیٹی نے ایسے آنگن کی چاہت کردی تو وہ کانکریٹ کے جنگل میں اور اپنی محدود ذرائع آمدنی میں اس کی اس خواہش کی تکمیل کیسے کر پائے گا۔ پھلیتا شہر ، سکڑتا گاؤں، شہر کی مصنوعی زندگی اور یہاں پر جینے والا انسان اور اسکی تکلیف دہ زندگی کو پیش کرتے ہوئے والدین کی ذہنی کشمکش کو افسانہ نگار نے جس’’منزل کی تلاش ‘‘اس افسانہ میں عصر حاضر میں بے روز گاری سفارش کے ذریعہ ملنے والی نوکری ، نوکری کے حصول میں سیاسی دخل اندازی و رشوت خوری کو افسانہ نگار نے ایک بیروزگار نوجوان کی زبانی پیش کیا ہے۔ ایک بے روز گار نوجوان کے بارے میں بس اسٹاپ پر کھڑے لوگ مختلف قیاس آرائیاں کرتے ہیں ۔کہانی کا پس منظر ان کی ذہنی کیفیتوں کا غماز ہے۔درج ذیل اقتباس ملاحظہ ہو:۔

ایک صاحب نے کہا ’’ شاید معلوم ہوتا ہے کہ یہ کسی کے پیا ر کا ٹھکرایا ہوا ہے۔‘‘ ایک محترمہ نے جلدی سے کہا ’’ نہیں نہیں ۔۔۔۔ اسے کون پیار کرے گا۔ نہ اس کی شکل ہے نہ صورت ۔۔۔ بھلا کون کرم جلی اس سے محبت کرے گی۔۔۔۔‘‘ دوسرے نے کہا ’’ معلوم ہوتا ہے باپ نے آوارہ گردی کی وجہ سے گھرسے نکال دیاہے۔‘‘ نہیں نہیں تیسرے نے کہا ’’ یہ تو کسی غنڈہ گینگ کا آدمی لگتا ہے۔۔۔ شاید اپنے ساتھیوں کی مدد سے راہ گیروں کو لوٹنے کے ارادہ سے یہاں آیا ہوا ہے۔‘‘ (۲)

ایک بے روزگار نوجوان کو دیکھنے کے بعد اس کے تعلق سے مختلف قیاس آرائیاں کی جاتی ہیں ۔
اُس کو ایک فرد سمجھنے اور اس کی حقیقت سے آگاہی کے بغیر ہی مختلف لیبل اس کے ماتھے پر چسپاں کردئیے جاتے ہیں۔کوئی اسے پیار میں ٹھکرایا ہوا عاشق کہتا ہے ۔ کوئی آوارہ باپ کی اولاد ، کسی کی نظر میں وہ غنڈہ گینگ کا آدمی ہے لیکن جب یہ راز عیاں ہوتا ہے کہ وہ نوجوان کسی روزگار کی تلاش میںآیا تھا۔ آخر میں نوجوان غائب ہوجاتا ہے اور اس کی سرٹیفکیٹ کی فائلس بکھری حالت میں راستے پر پڑی رہ جاتی ہیں۔ اس افسانہ کے ذریعہ افسانہ نگار نے ہمارے معاشرے کی بے حسی اور سماج میں رشوت خوری کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان میں احساس کمتری کو واضح کرتے ہوئے یہ بتلایا ہے کہ آجکل نوکریاں قابلیت و صلاحیت کی بنیاد پر نہیں بلکہ رشوت کے بل بوتے پر دی جارہی ہیں۔ آج اعلیٰ ڈگریوں کی حیثیت ردی کے چند کاغذات کی مانند ہوچکی ہے۔کہانی مختصر ہو نے کے باوجود قاری پر بہت گہرا اثر چھوڑ جاتی ہے۔
افسانہ ’’پچھلی صدی کا بوجھ ‘‘ کا موضوع بے جوڑ شادی کے نتائج ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ اور لکچرر کے عہدے پر فائز عافی کی شادی آٹو ڈرائیور سے کردی جاتی ہے ۔ دونوں کے مزاج ، رہن سہن اورخیالات میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔جس کی وجہ سے عافی اپنے شوہر سے خلع لینے کا ارادہ کرلیتی ہے لیکن اس کے والدین اسکے لئے راضی نہیں۔ درج ذیل اقتباس میں عافی اپنے خلع لینے کی وجہ کچھ یوںبیان کرتی ہے ۔

’’ میں اپنی بچی کو عصری تعلیم سے آراستہ کرنا چاہتی ہوں مگر وہ تعلیم ہی کو بے جا خیال کرتے ہیں۔ میں اپنے رہنے میں تہذیب و اخلاق شامل کرتی ہوں تو انھیں یہ تصنع دکھائی دیتا ہے۔ دیرتک عبادت انھیں وقت کی بربادی لگتی ہے۔ کھانے کا سلیقہ انھیں چونچلہ دکھائی پڑتا ہے ۔ اچھے کپڑے پہننا انھیں کھٹکتا ہے۔ مجھ سے اور میری بچی سے مخاطبت تو اور تیری میری سے کرتے ہیں۔۔۔ میری بچی بیمار ہوئی تو انھوں نے کسی ڈھونگی بابا سے راکھ لا کر کھلا دی میں نے روکا تو مجھے وہ پیٹا کہ زخم بطور ثبوت موجود تھے۔‘‘

عصری تعلیم کو بے جا خیال کرنا ، رہن سہن میں تہذیب و اخلاق کو تصنع سمجھنا ، عبادت کو وقت کی بربادی کہنا، کھانے کے سلیقہ کو چونچلے بازی اور عمدہ کپڑے پہننے کو اسراف سمجھنا ، شوہر کا بیوی اور بیٹی سے حد ادب کے دائرے میں رہ کر گفتگو نہ کرنا اور بیٹی کے بیمار ہونے پر ڈاکٹر یا حکیم کو دکھانے کے بجائے ڈھونگی بابا سے راکھ لا کر کھلانا اور بیوی کے احتجاج کرنے پر شوہر کا اسے پیٹنا یہ تمام باتیں آج کے مہذب معاشرے میںبالکل نا قابل قبول ہیں اور عافی جیسی تعلیم یافتہ اور مہذب خاتون کا اپنے شوہر کی ان تمام ظلم و زیادیتوں کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے خلع لینے کا فیصلہ موزوں و مناسب ہے میرے خیال میں عافی کے کردار کے ذریعہ افسانہ نگار نے اپنا احتجاج جتلا کر اپنی دور بین نگاہی کا بین ثبوت پیش کیا ہے۔
افسانہ ’’محافظ‘‘ میں عصر حاضر میںپولیس کی ظلم و زیادتی اور کرپشن کو موضوع بنایا گیا ہے۔سہیل جو ورکشاپ میںملازم ہے اسے دو پولیس والے زبردستی روک لیتے ہیں اور چند روپیوں کی خاطر اُسے پریشان کرنے لگتے ہیں۔اسکا دوست رگھو وہاں آجاتا ہے اور سہیل کو معاملہ رفع دفع کرنے کے لئے کہتا ہے لیکن سہیل کے پاس صرف سوروپیئے ہیں۔پولیس والے اسکے گھر کی تلاشی لیتے ہیں۔ لیکن کچھ حاصل نہیں ہوتا۔آخر کار انکی نظر سہیل کی بیوی کی سونے کی چین پر پڑتی ہے تو وہ اس کے گلے سے وہ سونے کی چین چھین لیتے ہیں اور گھر سے نکل جاتے ہیں۔ درج ذیل اقتباس ملاحظہ ہو۔

دفعتاً ایک کی نظر سہیل کی بیوی کے گلے پر پڑی اس نے جھپٹ کر بڑی بے دردی سے سونے کی چین کھنچ لی۔ ہاں اب ٹھیک ہے بچ گیا ورنہ پھوکٹ میں ٹاڈا میں بند ہوجاتا اور کئی سالوں تک ضمانت بھی نہیں ہوتی ۔حوالدار بڑبڑاتے ہوئے چلے گئے سہیل اپنا سر تھا م کر بیٹھ گیا۔‘‘(۴)

پولیس عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے ہوتی ہے۔پولیس کو دیکھ کر عام آدمی کا اعتماد بحال ہوتا ہے کہ وہ غنڈوںاور دیگر سماج دشمن عناصر سے انکی حفاظت کرے گی لیکن ہمارے ملک میں آج حالات کی ستم ظریفی کہیئے یا ہمارے سسٹم کی ناکامی پولیس عوام کا تحفظ کرنے کے بجائے عام انسان کو ذہنی اذیت دینے اور پریشان کرنے سے باز نہیں آتی بہرحال اس افسانہ کے ذریعہ افسانہ نگار نے محکمہ پولیس کے سسٹم میں آئی ہوئی انتہائی اہم خامی کی طرف اشارہ کیا ہے وہ اہم اور قابل غور و خوص ہے۔
’’ ذمہ دار کون ‘ اس افسانہ کا موضوع رشوت خوری اور اسکا انجام ہے۔ مصیر ایک ملازم پیشہ شخص ہے۔اس کی ملازمت کے بعد اس کے افراد خاندان کی خواہشات دن بدن بڑھتی چلی جاتی ہیں۔انھیں کے اصرار پر وہ قلب شہر میں عالیشان بنگلہ خرید لیتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسکے والدین اور بھائی بہن اپنی غربت و افلاس کی زندگی کو بھلا کر دولت کے نشہ میں انتہائی مغرور ہوجاتے ہیں۔مصیر اپنے افراد خاندان کی تمام ضروریات پوری کرتارہا اور سب کی زندگی آرام و آسائش میں بسر ہونے لگی۔لیکن اچانک مصیر کے گھر پولیس آگئی۔ گھر کے تمام افراد حیران و پریشان تھے ۔انسپکٹر نے مصیر کے والد کو جب یہ بتلایا کہبہت سارے روپیوں کا غبن کیا ہے تو وہ اور اسکے گھر کے تمام افراد و حیرت زدہ رہ گئے اور اُسے لعنت ملامت کرنے لگے لیکن مصیر اس جرم کے لئے جہاں خود کو مجرم سمجھتا تھا وہیں اس سے کہیں زیادہ اسکے گھر کے افراد کو اسکے اس جرم میں برابر کا شریک سمجھتا تھا۔ درج ذیل اقتباس ملاحظہ ہو۔

’’اگر آپ سب لوگ یہ سوچتے کہ میرے بیٹے کی معمولی تنخواہ۔۔۔ پھروہ کس طرح ہماری خواہش پوری کرے گا۔۔۔ مگر آپ سب کو یہ سوچنے کی فرصت کہا ں تھی۔۔۔ آپ سب کو تو
آنے والی رقم چاہیے تھی۔ ۔۔ پھر وہ کہاں سے آئی اس سے کوئی واسطہ نہیں‘‘

جدید دور کے بہت سارے المیوں میں ایک المیہ یہ بھی ہے کہ جھوٹی نام و نمود کے لئے جھوٹے سماجی رتبہ کے لئے آدمی اپنی آمدنی سے زیادہ خرچ کرنے لگا ہے۔ظاہر ہے آمدنی سے زیادہ خرچ ہوگا تو اس خرچ کی بھرپائی کسی اور طریقے سے ہوگی۔یہاں افسانہ نگار نے مصیر کی زبانی یہ بتلانے کی کوشش کی ہے کہ اس کے افراد خاندان میںظاہری شان و شوکت اور نمود دِکھاواحددرجہ آگیا تھاان کی خواہشات کی تکمیل مصیر کی قلیل آمدنی میں پوری نہیں ہوسکتی تھیں اس لئے وہ رشوت خوری کی جانب مائل ہوجاتا ہے ۔یہاں پر افسانہ نگار نے یہ بتلانے کی کوشش کی ہے کہ رشوت خوری کے لئے مصیر جتنا ذمہ دار ہے اسکے افراد ِ خاندان بھی اتنے ہی ذمہ دار ہیں کیونکہ انھوں نے کبھی اس سے یہ سوال نہیں کیا کہ اتنی کم آمدنی کے باوجود اسکے پاس اتنی زیادہ رقم کہاں سے آرہی ہے؟ یاوہ اتنے زیادہ اخراجات کی تکمیل کس طرح کررہا ہے ؟ آج کل کے حالات کے تناظر میں یہ عمدہ افسانہ ہے۔
’’ بند آنکھوں کے سپنے ‘‘ ایک رومانی کہانی ہے۔عشق کسی عضو کا محتاج نہیں ہوتا۔ آنکھوں کے اسپتال میں شہباز اور شگفتہ دونوں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہونے کے باوجود جسموں میں دھڑکتا دل رکھتے تھے اور ایکدوسرے سے محبت کرنے لگتے ہیں۔ لیکن شگفتہ کی چاچی انھیں اسپتال سے وارڈ میں ایک دوسرے سے محو گفتگو دیکھ کرچراغ پا ہوجاتی ہے وہ شہباز کو بُرا بھلا کہتی ہے اور شگفتہ کا چاچاشہباز کی پٹائی کردیتا ہے۔ وہ دونوں شہباز کو طعنہ دیتے ہیں کہ محبت کرنا آسان ہے لیکن نبھانا انتہائی مشکل حالانکہ شہباز انھیں یہ یقین دلا نے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ ایک عطر کمپنی میں ملازم ہے۔ اور شادی کے بعد وہ شگفتہ کو بہت خوش رکھے گا۔ اگلے دن صبح شہباز کو نرس سے پتہ چلتا ہے کہ شگفتہ کے چاچا اورچاچی اُسے زبردستی اپنے ساتھ لے گئے۔اتنا سننا تھا کہ شہباز بھی اسپتال چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق چند ہی دنوں میں دونوں کی آنکھوںکی بینائی واپس آجاتی لیکن شگفتہ کے چاچا اور چاچی کے بے جا ضد نے دو محبت کرنے والوںکو تمام عمر نابینا اور دکھ بھری زندگی جینے پر مجبور کردیا۔ اس افسانہ کے ذریعہ افسانہ نگار نے ہمارے معاشرے کی اس سماجی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ جہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ معذور یا نابینا افراد کو محبت کرنے یا خوشگوار ازدواجی زندگی کا خیال لانے کا کوئی اختیار نہیںہے۔اس افسانہ میں محبت کا انجام المیہ پر دکھلا کر افسانہ نگار نے حقیقت ’’ جذبات کے دائرے ‘‘ بھی ایک اہم افسانہ ہے۔ معاشی حالات کی تنگی کے سبب عورت کا اولاد کا پیدا کرنے کے تعلق سے سوچنے اور تذبذب کو اس افسانے کا موضوع بنایا گیا ہے۔سمیر کی دلی خواہش ہے کہ اسکے یہاںاولاد ہو لیکن اسکی بیوی اپنے معاشی حالات کو لے کر فکرمند ہے۔ وہ اپنی اولاد کو غربت اور مفلسی کی زندگی دینا نہیں چاہتی۔اسکے جواز نہایت معقول اور واجبی ہیں۔ سمیر اپنے جذبات پر قابو پانے کے لئے خود کا ہی آپریشن کرلیتا ہے تو وہ اسکی خاموش تائید کردیتی ہے۔ اگر چہ کہ عورت کا خواب ہوتا ہے کہ وہ ماں بن کر اپنے وجود کو مکمل کرے لیکن شوہر کے معاشی حالات اس بات کی اجازت نہیں دیتے شاید بہت ساری مائیں ایسا فیصلہ نہ کریں لیکن عصر حاضر میں ہمارے سماج میں اب ایسے بہت سارے کردار ملتے ہیں۔اس افسانہ کے ذریعہ جہاں بیوی کے جذبات کی عمدہ عکاسی کی گئی ہے وہیں وہ افسانہ ہمارے معاشرے پر گہراطنز بھی ہے۔
افسانہ ’ ’ اثر ‘‘ کا موضوع یہ ہے کہ انسان چاہتا کچھ ہے اور ہوتا کچھ اور ہے۔ایک باپ اپنے بیٹے کو ماہر جاسوس بنانا چاہتا ہے۔ وہ اپنے بیٹے کوتربیت دینے کے لئے ایک فوجی میجر کو سونپ دیتا ہے تاکہ وہ ایک بہت بڑا افسر بن کر اپنا اور اپنے مُلک کا نام روشن کرسکے۔ مگر ایک کرپٹ نیتا کو وہ لڑکا پسند آجاتا ہے اور اسے کیمپ سے لے جا کر اپنی گینگ میں شامل کرلیتا ہے۔اور اس طرح اس لڑکے کا مستقبل تاریک کردیتا ہے۔یہاں افسانہ نگارنے بتلانے کی کوشش کی ہے کہ انسان پر اُسکی صحبت کا اثر پڑتا ہے یہی وجہ ہے کہ جب وہ لڑکا نیتاکے یہاں رہنے لگتا ہے تو وہ اسکے سیاہ کارناموں میںاسکا ساتھ دینے لگ جاتا ہے اور اسکے ماں باپ کی اس سے وابستہ اُمیدوں پر پانی پھر جاتا ہے۔
’’بدھا پھر مسکرالے ‘‘کا موضوع آستھا کے نام پر غریبوں کا استحصال ہے۔ موتیوا ایک غریب مزدور ہے۔ وہ بڑی سخت محنت کرکے اپنے بچوں کے لئے ایک عدد روٹی کا انتظام کرتا ہے تاکہ وہ رات میں بھوکے پیٹ نہ سوئیں۔گاؤں کا ایک اور شخص لالی اور اسکے والد جو گاؤں کے بہت بارسوخ لوگ ہیں وہ اس بات کو لے کر پنچایت طلب کرتے ہیں کہ لالی کے جسم پر کوئی بھوت پریت ہے اور وہ جب تک اسکے جسم کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں کہ ایک عدد روٹی جو کسی مزدور نے تیارکی ہو اسے مل نہ جائے۔ موتیوا پنچایت کی بہت منت سماجت کرتا ہے اور یہ قائل کرانے کی ناکام کوشش کرتا ہے کہ بھوت پریت یہ سب بیکار کی باتیں ہیں لیکن پنچایت اس کی کسی دلیل کو قبول نہیں کرتی اور وہ ایک عددروٹی لالی کو دینے کا فیصلہ صادر کردیتی ہے اور مجبوراً موتیوا کو پنچایت کا فیصلہ تسلیم کرتے ہوئے روٹی دینی پڑتی ہے۔ اس افسانہ کے ذریعے افسانہ نگار نے اس بات پر گہری چوٹ کی ہے کہ ہمارے ملک میں آج بھی رسوم ررواج ، عقائد اور آستھا کے نام پر کس طرح غریبوں کا استحصال کیا جاتا ہے۔ پنچایت میں بیٹھے لوگ بھی اعلیٰ مرتبہ کے لوگوں کی قدر و منزلت کرتے ہیں جب کہ غریب کف افسوس ملنے کے سوا کچھ نہیں کرسکتا ۔
افسانہ ’’ تلافی ‘‘ ایک ڈاکٹر کی اپنے فرض منصبی سے کوتاہی اور غفلت کے انجام کی کہانی ہے ۔ ایک ڈرائیور کی کسی کار سے نوجوان لڑکے کا ایکسیڈنٹ ہوجاتا ہے اور وہ اسے لے کر اسپتال پہنچتا ہے ۔ نرس اس نوجوان لڑکے کی زندگی بچانے کے لئے ڈاکٹر کو فون کرتی ہے اور تمام حالات سے آگاہ کرتی ہے لیکن ڈاکٹر یہ کہہ کر اسکی بات کو ٹال دیتا ہے کہ وہ اسوقت نیتا جی سے ملاقات

انکے مکان پر ہے اور فی الوقت اسپتال نہیں پہنچ سکتا۔ آخر کار اس نوجوان لڑکے کا انتقال ہوجاتا ہے جب کافی دیر بعد ڈاکٹر اسپتال پہنچتا ہے تو یہ دیکھ کر اُس کے ہوش اُڑجاتے ہیں کہ وہ نوجوان اس کا اپنا بیٹا ہے۔ اُس کی اپنے فرض منصبی سے غفلت اور کوتاہی کی وجہ سے اُس کا نوجوان بیٹا اپنی جان گنوا چکا تھا۔ یہاں افسانہ نگار نے اس تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ڈاکٹر کی یہ ایسی کوتاہی تھی جسکی تلافی نا ممکن تھی۔ انسان کو اپنی اولاد کے کھونے کا تو دکھ درد ہوتاہے لیکن کسی دوسرے کی اولاد کے لئے آخریہ جذبہ کیوں نہیں پایا جاتا ؟دراصل یہ افسانہ ہمارے سماج اور معاشرے کی بے حسی اور انسان کی اپنے فرضِ منصبی سے غفلت کو اُجاگر کرتا ہے۔
نورالامین عصر حاضر کے افسانہ نگاروں میں ایک اہم نام ہے۔ جہاں وہ ایک شفیق استاد، بیدار مغز نقاد و مبصر ہیں وہیں دیانت دار ی،منکسرالمزاجی ، ہمدردی، خوش گفتاری، انسان دوستی ، وضعداری اور مہمان نوازی وہ خصوصیات ہیں جو ہر کسی کو اُن کا گرویدہ بنالیتی ہیں۔موجودہ طرز نظام پر طنز ، بے جوڑشادی کے نتائج ، آستھا کے نام پر غریبوں کا استحصال ، سماج کی فریب کاریاں ، بیروز گاری ، رشوت خوری، سماجی نابرابری،دہشت گردی، محکمہ پولیس کا ظالمانہ رویہ ، انسانی اور اخلاقی اقدار کا زوال وغیرہ۔ان کے افسانوںکے موضوعات ہیں معروف افسانہ نگار و نقاد ڈاکٹر صغیر افراہیم نے نورالامین کی افسانہ نگاری پر کچھ اس طرح اظہار خیال کیا ہے۔

’’عصر حاضر کے مختلف موضوعات پر لکھے گئے ان افسانوں میں جذبات و احساسات کی عکاسی اور معمولی سے معمولی واقعہ کو بھی زندگی کی پُر پیچ حقیقتوں کے ساتھ پیش کرنے کی امکانی کوشش کی گئی ہے۔۔۔ سماج کی خیانتوں، عیاریوں اور فریب کاریوں کا خوبی سے پردہ چاک کیا گیا ہے۔۔۔بچوں اور بوڑھوں، عورتوں اور مردوں کی نفسیات کے ساتھ ساتھ پلاٹ کی فنی اور موثر ترتیب بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ کردار متحرک ہیں۔ مناظر کی مصّوری اور فضاء کی تاثیر کے لئے حُسنِ بیان پر خاصا زور ہے۔‘‘ (۶)

ڈاکٹر مجیب شہزر نورالامین کی افسانہ نگاری کا فنی تجزیہ کرتے ہوئے یوں قمطراز ہیں۔

نورالامین کے افسانہ عام طور پر پانچ صفحات کے حصار میں ہی رہنا پسند کرتے ہیں ان کے افسانوں میں آغاز و ارتقاء، نقطہ عروج اور انجام کے اہتمام و التزام میں بڑی باقاعدگی پائی جاتی ہے۔ ان کی ہر کہانی مقصد سے ہم آہنگ ہوتی ہے اور افسانے میں وہ کہانی اور پلاٹ کو ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ ان کی ہر کہانی وحدت تاثر کی حامل ہوتی ہے۔ وہ اہم اور بنیادی جزئیات کو چند الفاظ میں سمیٹ دینے کے فن میں بھی طاق ہیںاکثر کہانیوں کو انھوں نے تضاد(Paradoxical)کی بنیاد پر تعمیر کیا ہے۔وہ محاورہ اور روزمرہ بولی جانے والی سلیس وسادہ زبان میں افسانے ترقیم کرتے ہیں۔‘‘ (۷)

اعلیٰ افسانہ نگارکی یہ خوبی ہوتی ہے کہ وہ افسانہ کے اجزائے ترکیبی کو بڑی عمدگی سے بروئے کار لائے۔مجھے نورالامین کے افسانوں میں یہ خوبی نظر آتی ہے کہ ان میں موضوعات کا تنوع ہے اور انھوں نے ہر افسانہ کو ایک نئے زاویہ سے پیش کیا ہے۔
ڈاکٹر سیّدشجاعت علی کی اپنے شاگرد نورالامین کے بارے میں یہ رائے ملاحظہ ہو۔

’’ وہ بھی ایک افسانہ نگار ہیں اور افسانہ نگار کی طرح عہد کی تلخ حقیقتوں کی گہرائیوںمیں انھوں نے اترنے کی سعی کی ہے۔۔۔ وہ نوجوان ضرور ہیں مگر فکر میںکھلنڈرانہ پن نہیں بلکہ پختگی محسوس ہوتی ہے۔ وہ ایک اچھے استاد بہترین افسانہ نگار اور اچھے انسان ہیں ۔۔مجھے ان سے میدان تدریس اور میدان علم وادب میں نمایاں کامیابیوں کی بہت ساری اُمیدیں وابستہ ہیں۔‘‘ (۸)

غرض ان تمام مشاہیرین کی آراء سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ نورالامین کا بحیثیت افسانہ نگار مشاہدہ کافی عمیق اور مطالعہ وسیع ہے۔ اُردو ادب کے علاوہ انگریزی اور علاقائی ادب پربھی انکی گہری نظر ہے۔انھوں نے اپنے افسانوں میں پلاٹ ، وحدت، تاثر ، منظر نگاری ، جزئیات نگاری،کردار نگاری اور علامت نگاری وغیرہ اجزاء کا بخوبی استعمال کیا ہے۔ان کے افسانے حقیقت پسندانہ سچائی کا مکمل اظہار ہیں۔وہ اپنے تجربے کی بنیاد پر نئے نئے موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں۔ انھوں نے افسانہ کو محض فن کے طور پر نہیں بلکہ اسے ایک موثر ہتھیار کے طور پراستعمال کرکے سماج اور معاشرے میں صحت مند رحجانات کو فروغ دینے کا بھی ایک اہم فریضہ انجام دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مراٹھواڑہ کے ادبی حلقوں میں اُنھیں بحیثیت افسانہ نگار قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ نورالامین کے افسانے نہ صرف علاقہ مراٹھواڑہ بلکہ بیرون مراٹھواڑہ بھی ایک قابل قدر اضافہ ہیں۔
٭٭٭

حوالہ جاتی کتب:

۱) مٹی میرے دیار کی عنایت علی ۔ص۔۹
۲) بند آنکھوں کے سپنے نورالامین مشمولہ افسانہ ’’ منزل کی تلاش ‘‘ ص ۱۶
۳) بند آنکھوں کے سپنے نورالامین مشمولہ افسانہ ’’ پچھلی صدی کا بوجھ ‘‘ ص۲۵
۴) بند آنکھوں کے سپنے نورالامین مشمولہ افسانہ ’’ محافظ ‘‘ ص ۳۴
۵) بند آنکھوں کے سپنے نورالامین مشمولہ افسانہ ’’ ذمہ دار کون ‘‘ ص ۱۶
۶) بند آنکھوں کے سپنے ’’ کچھ اس کتاب کے بار ے میں ‘‘پروفیسر صغیر افراہیم ص ۵۰۴
۷) قلم بر قلم ڈاکٹر مجیب شہزر مشمولہ مضمون
’’ عصری سماج کے عکاس افسانہ نگار ۔نورالامین‘‘ ص ۲۲۵
۸) بہت مشکل ہے شجاع ہونا مرتب : نورالامین
(فلیپ ) ڈاکٹر سیّد شجاعت علی

 

 

 

 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post