’’دانہ ہائے ریختہ ‘‘ از ڈاکٹر محمد نواز کنول : ڈاکٹر سمیرا اکبر

( ایک تعارف)

’’دانہ ہائے ریختہ‘‘ پروفیسر ڈاکٹر محمد نواز کنول کی حالیہ تصنیف ہے جو 2022 میں مثال پبلشرز فیصل آباد سے شائع ہوئی۔یہ کتاب اردو کے نابغہ روزگار، ہفت زبان اور مشکل پسند شاعرو نثار عبدالعزیز خالد کی سادہ گوئی کے انتخاب پر مشتمل ہے۔
ڈاکٹر محمد نواز کنول اردو تحقیق ،تنقید اور تدریس کا ایک ابھرتا ہوا نام ہے۔انہوں نے اپنے تعلیمی مراحل میں سندی تحقیق کے لیے عبدالعزیز خالد جیسے بڑے ادیب کا انتخاب کیا۔ڈاکٹر صاحب نے ایم فل کا تحقیقی مقالہ ’’عبدالعزیز خالد کی غزل گوئی‘‘کے عنوان سے لکھا اور پی ایچ ڈی اردو کا تحقیقی مقالہ عبدالعزیز خالد کے فکروفن جیسے مشکل موضوع پر قلم بند کیا۔سندی تحقیق کے بعد انہوں نے تحقیق و تنقید کی اس روش کو ترک نہیں کیا بلکہ اسے اپنا شعار بنا لیا۔ تحقیق و تدوین میں عبدالعزیز خالد ان کااختصاصی میدان ہے۔ وہ نہایت مستعدی اور دلجمعی کے ساتھ عبدالعزیز خالد کے فکر و فلسفہ اور فن و اسلوب سے اردو دنیا کو آشنا کر ارہے ہیں۔انہیں فنا فی عبدالعزیز خالد کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔
عبدالعزیز خالد بنیادی طور پر نظم کے شاعر سمجھے جاتے ہیں۔تاہم انہوں نے غزل جیسی کلاسیکی صنف سخن میں بھی خامہ فرسائی کی ان کی غزلوں کے چھے مجموعے شائع ہو چکے ہیں جو اس صنف میں بھی ان کی قادرالکلامی کا ثبوت ہے۔’’دانہ ہائے ریختہ‘‘معجز بیان شاعر عبدالعزیز خالد کی غزلیات سے سادہ گوئی کا انتخاب ہے۔ان کی علمیت اور مشکل پسندی پر ناقدین نے بہت لکھا لیکن ان کی سادہ گوئی پر ابھی تک کوئی قابل ذکر تصنیف منظر عام پر نہیں آئی۔بقول ڈاکٹر محمد نواز کنول:
’’میرے خیال کے مطابق ان کی شاعری کے ایک بڑے حصے کو جو سادہ گوئی پر مشتمل ہے مشکل پسندی کی بھینٹ چڑھاتے ہوئے اسے بھی نظر انداز کر دینا ان کے فکر و فن اور شاعرانہ عظمت سے سراسر انحراف کے مترادف ہیں۔‘‘(ص ۱۲)
’’دانہ ہائے ریختہ‘‘ ڈاکٹر آصف علی چٹھہ اور ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد کی آراء سے مزین ہیں۔اس کتاب میں ڈاکٹر محمد نواز کنول عبدالعزیز خالد کی غزلیہ مجموعوں کو زمانی ترتیب سے پیش کرتے ہوئے ان میں سہل ممتنع کے اشعار کا انتخاب کیا ہے۔سب سے پہلے ان کے اولین غزلیہ مجموعے "زنجیر رمِ آہو” (١٩٦٠) کا مختصر تعارف اور معروف شعراء کے اس مجموعے کے بارے میں آراء تحریر کی گئی ہیں۔ جان ایلیا اس مجموعہ کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’زنجیر رم آہوکی غزلوں کو اگر ان کے ہفت عجایب سے تعبیر کیا جائے تو مناسب ہوگا ۔‘‘
بعدازاں اس مجموعہ غزلیات میں سے سادہ گوئی پرمبنی 144 اشعار کادل کش انتخاب پیش کیا گیا ہے:

سُلگ اٹھتی ہیں تری یاد سے ویراں راتیں
کہکشاں تاب ہے محفل تنہائی کی(ص۱۷)
حُسن مغرور بھی ہے مائل بھی
عشق سردار بھی ہے سائل بھی(ص ۲۲)
’’کلکِ موج‘‘ عبدالعزیز خالد کی غزلوں کا دوسرا مجموعہ ہے جو 1963 میں شائع ہوا اس مجموعہ کے بارے میں مشفق خواجہ لکھتے ہیں:
’’کلکِ موج‘‘ ہمارے سامنے ایک ایسے شاعر کو پیش کرتی ہے جس نے ادب اور دیگر علوم عمرانی کے گہرے مطالعے زندگی کی بو قلموں پہلوؤں کے مشاہدے اور غوروفکر سے اپنے لیے ایک ایسا راستہ متعین کیا ہے جس پر چل کر اردو شاعری کے دامن کو بہت سی دوستوں اور جہان ہائے معنی سے روشناس کرایا جاسکتا ہے۔‘‘( ص ٣٦)
اس غزلیہ مجموعے سے ڈاکٹر محمدنواز کنول نے سلاست اور سادگی پر مشتمل 196 عمدہ شعر کا انتخاب کیا ہے:
کیا کرے آدمی کدھر جائے
ایک دل ہے ہزارہا غم ہے(ص ۳۹)
جب کبھی دل میں تلاطم ہو بپا
شعر لکھ ، محو غزل خوانی ہو(ص ۴۶)
عبدالعزیز خالد کے تیسرے غزلیہ مجموعے ’’کف دریا‘‘ مطبوعہ 1965میں بھی روانی ،سلاست اور سہل ممتنع کے عمدہ نمونے موجود ہیں جو ڈاکٹر محمد نواز کنول نےنہایت عرق ریزی کے ساتھ179 اشعار کی صورت منتخب کیے ہیں:
گا، نری خوب صورتی کے نہ گیت
ہر صدف میں گہر نہیں ہوتا(ص ۶۹)
ہر زمانے کو اپنے شاعر کا
مستقل انتظار رہتا ہے(ص ۷۵)
’’دشتِ شام‘‘بے مثل شاعر عبدالعزیز خالد کا چوتھا شعری مجموعہ ہے جو 1965 میں منظر عام پر آیا۔اس مجموعے میں غزلوں کے ساتھ ساتھ نظمیں بھی شامل ہیں ۔ڈاکٹر محمد نواز کنول اس شعری مجموعے سےسادہ کاری پرمبنی87 اشعار کا دل کش انتخاب پیش کیا ہے ۔
کیوں کر نہ معطر ہو مشامِ دل خالد
چنبے کی کلی ہے سخن حضرت باہو(ص ۹۷)
نہیں ہے کھیل زبان و محاورہ کا سخن
اثر ہو شعر میں سوز و گداز سے پیدا(ص ۱۰۲)
اس مجموعہ کلام کے بارے میں ڈاکٹر طاہر تونسوی لکھتے ہیں:
’’دشت شام‘ کی غزلیں اور نظمیں پڑھ کر یہ صاف اندازہ ہوتا ہے کہ خالد کا حسن بیاں پورے طور پر جلوہ گر ہے۔لفظ اس کے آگے ہاتھ باندھے کھڑے ہیں گویا اس کے ہاتھ میں تیشہ لفظ ہے جو معنی و مفہوم تراشنہ چاہے تراش لیتا ہے۔‘‘( ص ٩۴)
’’حدیثِ خواب‘‘ مطبوعہ 1974 عبدالعزیز خالد کی غزلوں کا پانچواں مجموعہ ہے اس مجموعہ کلام میں غزلیں اور نظمیں دونوں اصنافِ سخن شامل ہیں۔اس مجموعہ کلام کا اختصاص عربی زبان کا بکثرت اور خوبصورت استعمال ہے۔اس وقیع شعری مجموعہ سے ڈاکٹر صاحب نےانتہائی محنت و محبت سے سادہ گوئی پر مشتمل 108 اشعار منتخب کرتے ہیں:
مجھے اعتراف خطا ہے مگر
وہی مارے پتھر جو ہے بے خطا(ص ۱۱۰)
جو خود کتاب بھی ہے صاحب ِ کتاب بھی ہے
بنا کے اس کو مشیت نے سانچہ توڑ دیا(س ۱۲۰)
’’سراب ِساحل‘‘ عبدالعزیز خالد کی غزلیات کا چھٹا مجموعہ ہے جو 1987 میں زیور طبع سے آراستہ ہوا۔پروفیسر عبدالغنی اس مجموعہ کلام کے بارے میں کہتے ہیں:
’’اس وقت اردو شاعری میں عبدالعزیز خالد کے سوا کوئی ایسا شخص نہیں جو عصر حاضر کی کشمکش سے نبرد آزما ہونے کی صلاحیت رکھتا ہو۔‘‘( ص ١٢٦)
اس مجموعہ کلام سے ڈاکٹر محمد نواز کنول سہل ممتنع پر مشتمل 157 خوبصورت اشعار کا انتخاب ’’دانہ ہائے ریختہ ‘‘ میں پیش کیا ہے ۔
ہم خُدا سے خُدا کے ہیں طالب
جنت و حور کے نہیں خواہاں(ص ۱۳۱)
میں پاکستان کا باشندہ ہوں دنیا کا شہری ہوں
وسیع المشربی فطرت ہے میری تو بُرا کیا ہے؟(ص ۱۳۷)
غزلیات کے ان چھ مجموعوں کے علاوہ اس غیر معمولی اورسحر طراز شاعر عبدالعزیز خالد کا کلام متعدد رسائل و جرائد میں بھی بکھرا پڑا ہے۔ان رسائل میں ’’ابلاغ‘‘، ’’افکار‘‘، ’’الحمرا‘‘، ’’بادبان‘‘،’’شاعر‘‘، ’’ادب لطیف‘‘،’’ بیاض‘‘ اور’’سفید چھڑی‘‘ جیسے موقر ادبی جرائد شامل ہیں۔ ڈاکٹر محمد نواز کنول نے نہایت جستجو ، محنت اور کاوش کے ساتھ ان رسائل سے عبدالعزیز خالد کا کلا م ڈھونڈا اور اس کلام سے سہل ممتنع پر مشتمل 116 اشعار کا انتخاب اس خوبصورت کتاب کی زینت بنایا ہے۔
لکھیں نہ شعر ہم آرائش بیاں کے لیے
ہمارے حرف نہیں زیب داستاں کے لیے(ص ۱۵۲)
اے آسماں ِ روشن و آباد و جاوداں
بے خانماں بنا کے ہمیں تجھ کو کیا ملا(ص ۱۶۶)
ڈاکٹر محمد نواز کنول کی یہ تصنیف خالد شناسی کے باب میں ایک اہم اور گراں قدر اضافہ ہے ۔ خالد فہمی پر مشتمل ان کی متعدد تصانیف میں یہ کتاب اس لیے بھی ممتا ز ہے کیونکہ یہ مشکلاتِ خالد سے خائف اہل نقد و نظر کو اس بے نظیر شاعر کی فکر کے ایک اچھوتے اور عام فہم پہلو سے آشنا کرانے کابیڑا اٹھائے ہے اور عبد العزیز خالد کو خراج تحسین پیش کرنے کاایک عمدہ انداز بھی ہے۔ڈاکٹر محمد نواز کنول کی یہ تحقیقی و تدوینی کاوش علم و ادب کے حلقوں میں تادیر موضوع گفتگو رہے گی۔

You might also like
  1. younus khayyal says

    بہت عمدہ تجزیہ

  2. ڈاکٹر عبدالعزیز ملک says

    شاندار تبصرہ

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post