حکمِ الہی ، سفاری پارک میں موت اور مٹِیّ شِٹیّ : اقتدار جاوید

 

پیش نوشت;
فرضی بھی نہیں اور خیالی بھی نہیں ہے
وہ شکل کوٸی بھولنے والی بھی نہیں ہے
ظفر اقبال

چوہدری شجاعت حسین کا قول روٹی شوٹی کھاٶ ِمٹّی ِشٹّی پاٶ ہمارے معاشرے کا سب سے زیادہ خوب صورت، بامعنی اور قابلِ عمل مقولہ ہے۔مقولے بھی اور ضرب الامثال بھی از خود جنم نہیں لیتے ان کے عقب میں لوک دانش اور صدیوں کا تجربہ ہوتا ہے جیسے کہا گیا ہے۔ع;
وقت کرتا ہے ہرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
اب یہ شعر تو قابل اجمیری کا ہے مگر اب یہ عوام کی میراث ہو گیا ہے قابل اجمیری اس سے جیسے الگ ہو گٸے ویسے چوہدری شجاعت حسین نے ایک بڑی ثقافتی اکاٸی کے سچ کا اظہار کر دیا اس روٹی شوٹی کھاٶ مِٹّی شِٹّی پاٶ کی معاشرتی اور قابل اجمیری کے شعر کی ادبی حیثیت بھی مسلمہ ہے اور دانش بھی۔دانش کا ادب سے براہِ راست تعلق نہیں ہوتا اور اس کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔اس کے اظہار کے ہزار قرینے ہیں۔ دانش از خود اظہار کرتی ہے اور ضرب الامثال تجربے سے پھوٹتی ہیں۔دونوں میں دانش ہی ہوتی ہے مگر ایک میں اکتسابی ایک میں وہبی اور الوہی۔حادثہ بھی یونہی نہیں ہو جاتا اور مِٹّی شِٹّی بھی ایسے نہیں ڈل جاتی۔ مگر ان دونوں باتوں سے کام نہ بنے تو ہمارے معاشرے میں ایک تیسرا قول بھی چلتا ہے حکم ربی، اللہ کی مرضی، اللہ سوہنے کی رضا اور حکمِ الہی ۔یہ سب سے بڑا تجربہ ہے سب سے مقبول وجہ ہے اور سب سے زیادہ قابل عمل دانش ہے۔
راٸے ونڈ روڈ بنی اور سجی سنوری صرف ایک خاندان کے واسطے، دو رویہ ہوٸی ایک خاندان کے واسطے وہاں چہل پہل ہوٸی ایک خاندان کی وجہ سے۔جب اتنا انفراسٹرکچر مہیا ہو جانا تھا تو لازماً تھا کہ نٸی اور بڑی بڑی رہاٸشی کالونیاں بھی تعمیر ہوں اوپر سے رنگ روڈ بن گٸی اور ایک سفاری پارک بھی بن گیا۔سفاری پارک میں اڑتیس شیروں کا انتظام بھی ہو گیا ویسے چالیس شیر ہونے تھے دو شیر ایونٹ فیلڈ کے محل نما فلیٹس کے پنجرے میں بند ہیں۔اس سفاری پارک میں ایک اٹھارہ سالہ لڑکے کو اڑتیس شیر ہڑپ کر گٸے۔یہ بد قسمت واقعہ یا حادثہ رات کے وقت ہوا۔اس سفاری پارک کے دو سو پچاس کینال کے احاطے کے چاروں طرف چودہ اور سولہ فٹ کی دو دو دیو ہیکل دیواریں موجود ہیں۔حسبِ استطاعت سیکورٹی کا انتظام ہے روشنی وافر موجود ہے بجلی نہ ہونے کی صورت میں جنریٹر کا انتظام موجود ہے۔ سی سی ٹی وی کیمرے موجود ہیں مگر انتظامیہ کی ڈھٹاٸی کی انتہا ہے کہ جہاں سے بقول ان کے بلال اندر داخل ہوا وہاں خیر سے کیمرہ نصب ہی نہیں ہے۔ اس بدقسمت واقعہ کی یہ تھوڑی سی تفصیل بھی بہت سارے پردے ہٹا بھی رہی ہے اور اصل صورت احوال چھپا بھی رہی ہے۔بلال کے والد جس کے چہرے سے ازلوں کی محرومی اور غربت نمایاں ہے اپنے بیٹے کی سانخاتی موت کے بعد ایک ہی جملہ بار بار دہرا رہا ہے کہ مجھے انصاف چاہیے مجھے انصاف چاہییے۔ساتھ ہی باپ دلگیر آواز میں بتاتا یے کہ سفاری انتظامیہ پولیس اورہ دوسرے تمام متعلقہ محکموں کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہی ہے کہ بلال کا ذہنی توازن درست نہیں اس لیے وہ رات کو دیو ہیکل دیواریں پھلانگ کر کھلے شیروں کے پاس پہنچ گیا۔ایک موقف مخلوقِ خدا کا ہے کہ بلال کو سفاری پارک کی انتظامیہ سے ملی بھگت سے قتل کیا گیا ہے کہ اس سے قبل اسی سفاری پارک میں اس کے چچا کو بھی قتل کیا گیا تھا۔انتظامیہ کا موقف ہے کہ بلال کا ذہنی توازن درست نہیں تھا مگر مخلوقِ خدا اس بیان کی تصدیق نہیں کرتی کہ وہ بھلا چنگا تھا اور اپنے روزمرہ کے معمولات سے آگاہ تھا بلکہ انہیں بخوبی انجام دینے کے قابل بھی تھا۔اس کی باقیات میں اس کے اتارے ہوٸے بوسیدہ کپڑے اور ٹوٹی پھوٹی جوتی کچھ اور ہی کہانی سنانے کی کوشش کرتی ہے مگر کوٸی محکمہ اس کہانی کو سننے کو تیار نہیں۔البتہ انتظامیہ بلال کے باپ کی طرف سے انگوٹھہ ثبت شدہ بیان دکھاتی ہے جس میں یہ اعتراف موجود ہے کہ یہ اللہ کی مرضی، اللہ کی رضا اور حکمِ الہی تھا اور مجھے سفاری پارک کی انتظامیہ سے کوٸی شکایت نہیں اس پر دو گواہان کے دستخط موجود ہیں کہ میں کسی کے خلاف کوٸی کارواٸی نہیں کرنا چاہتا کہ یہی حکمِ ربی تھا۔ دوسری طرف انتظامیہ کے منتظم کہہ رہے ہیں کہ ان کے پاس فنڈز نہیں ہیں اور فنڈز کی عدم دستیابی کی وجہ سے سیکورٹی کا انتظام مناسب نہیں جونہی فنڈز ملے سیکورٹی کا انتظام مزید بہتر بناٸیں گے۔اب اس معاشرتی اور محکمہ جاتی المیے پر غور کرنے کے لیے وہی آزمودہ حربے آزماٸے جا رہے ہیں۔جب بوڑھے غربت اور محرومی کے مارے باپ سے اس کے حلفیہ بیان کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے جواباً کہا جس کا جوان بیٹا اس طرح شیروں کے آگے چیرنے پھاڑنے کے لیے پھینک دیا جاٸے وہ باپ کہاں جاٸے اس کے درد کی چارہ گری کون کرے۔یہ کیس نہ کسی تھانے میں درج ہونا ہے نہ اس کی FIR کٹنی ہے اور نہ تفتیش ہونی ہے اس طرح کے ہزاروں واقعات روزانہ وقوع پذیر ہوتے ہیں کہیں پولیس کے نجی عقوبت خانے ہیں جہاں تفتیش کے نام بے گناہوں کی بھی چھترول اسیہ طرح ہوتی ہے جیسے مجرموں کی۔جیل میں کسی قیدی سے ملاقات کی خاطر آنے والی اس کی ماں بہنوں کی حالت زار دیکھیں کہ یہ ذلتوں کے اسیر رشتہ دار کس اذیت سے دوچار ہو کر اس سے ملتے ہیں اور وہ بھی کتنوں کی مٹھی گرم کرنے کے بعد۔بلال کے والد کو کیا انصاف ملنا ہے اگر اس نے صلح سے انکار کیا تو مجھے یقین ہے کہ اس کی موت بھی شیروں کے احاطے میں ہی ہو گی
اور چوہدری شجاعت حسین کے قول پر عمل ہونا ہے آج ہو یا کل یہی ہونا ہے اور فاتحہ خوانی کے لیے آنے والوں کے پاس بھی اور بلال کے باپ کے پاس بھی کہنے کے لیے یہی الفاظ ہونے ہیں اللہ کی مرضی، حکمِ الہیٰ۔ایسی سفاکانہ اموات پر بھی ِمٹّی ِشٹّی ہی ڈلتی آٸی ہے۔

پس نوشت ;
چینی کمپنی ہواوے گوگل کا متبادل سرچ انجن لانے کی تیاری کر رہی ہے اور جی میل اور یو ٹیوب کے متبادل بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔مگر جو مزا گوگل اور یو ٹیوب سے وابستہ ہے ویسا ہی مزا روٹی شوٹی کھاٶ مِٹّی ِشٹّی پاٶ میں ہے اس کا متبادل کوٸی جملہ ایجاد نہیں ہو سکے گا۔یہ جملہ ایسا سرچ انجن ہے جس میں ہمارے ملک کے تمام سیاسی اور معاشرتی مساٸل کی نشان دہی بھی ہوتی ہے اور یہ جملہ ساتھ ہی مسٸلے کا حل بھی آشکارا کر دیتا ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post