حلقہ اربابِ ذوق پاک ٹی ہاؤس کا ’’جشنِِ فرحت عباس شاہ‘‘ ۔۔۔ رپورٹ : تاثیر نقوی

Image may contain: 1 person, beard

                               اردوشاعری کاایک بڑانام ۔۔۔۔ فرحت عباس شاہ 

Image may contain: 1 person

 تحریر : تاثیرنقوی

جشن کا مطلب خوشی کی محفل, خوشی کا دن , عید کا دن اور مسرت و شادمانی کی محفل ہے ۔ ہمارے معاشرے میں بڑی بڑی ہستیوں کے کارہائے نمایاں کے اعتراف میں جشن منعقد کیئے جاتے ہیں جن میں ہر مکتبہء فکر سے تعلق رکھنے والی نابئغہ روزگار شخصیات , صاحب ِجشن کے بارے میں اپنے اپنے خیالات کا اظہار اور مقالہ جات پیش کر کے اُسے خراجِ تحسین پیش کرتی ہیں ۔ اِسی طرح ادبی دُنیا میں بھی معتبر اور نامور شخصیات کے جشن انکی زندگی یا مرنے کے بعد جشن منانے کی روایات ملتی ہیں ۔ ماضی قریب میں پاکستان کے علاوہ دوبئ, قطر , مسقط وغیرہ میں جشن ِ علی سردار جعفری , جشن ِ فراز , جشن ِ فیض , جشن ِ منیر نیازی اور جشن ِ جالب کے جشن اعتراف ِ فن کے طور پر مناۓ گئے ہیں مگر وقت کے ساتھ ہمارے ملک میں سیاسی تغیر و تبدل نے حالات کا رُخ کسی اور جانب موڑ دیا جس سے عوام کی ترجیحات میں واضح فرق محسوس ہوتا نظر آیا ۔ اِن معاشرتی اور سیاسی حالات کی وجہ سے جہاں عوام اپنے اپنے مسائل میں اُلجھی نظر آئی وہاں ادبی دُنیا میں بھی پسند ناپسند اور گروہی سیاست نے شعراء و ادباء کو متنازعہ صف میالں لا کھڑا کیا مگر ابھی غیر مُتنازعہ اور کھرے لوگ موجود ہیں جو بغیر کسی تعصب کے جینوئن اور مُعتبر افراد کو اپنے لفظوں اور خیالات کے زریعے اُن کا حق تسلیم کرتے ہیں ۔
اُسی طرح حلقہ ارباب ِ ذوق پاک ٹی ہاؤس کی جانب سے شعراء و ادباء کے ساتھ تقریبات منعقد کر کے ماہ ِ رواں کی تخلیقی شخصیات کو خراج ِ تحسین پیش کرنے کی روایت کا اجراء کر چُکی ہے ۔ مگر پچھلے چھ سات ماہ میں کرونا وائرس کے حالات کی وجہ سے پاک ٹی ہاؤس اور ہوٹلز وغیرہ کی بندش ایسی تقریبات میں رکاوٹ کا زریعہ بنی ۔ لیکن حلقہ ارباب ِ ذوق پاک ٹی ہاؤس نے ایسے حالات میں ادبی زوق رکھنےوالے افراد اور ادب دوستوں کے ذوق کی تسکین کے لیئے اپنی سرگرمیوں کو آن لائن مشاعروں کی صورت جاری رکھ کر ادب کی ترویج و ترقی کے ساتھ ایک نئی روایت بھی قائم کی , جوکہ کامیابی کے ساتھ کرونا وائرس کے اختتام اور پاک ٹی ہاؤس و ہوٹلز کے کھُلنے تک جاری رہے گی ۔ حلقہ نے جو سلسلہ ماہ رواں کی شخصیات کے اعتراف ِ فن کے طور پر شروع رکھا تھا اب اُسی روایت کو ایک اور قدم آگے بڑھاتے ہوئے شعراء و ادباء کی خِدمات کے اعتراف میں آن لائن عالمی پروگرام و مشاعرے ” جشن ہائے شعراء ۔ آبروئے ادب ” کے نام سے جشن منعقد کروا کے ادب کی دُنیا میں ایک اور احسن اقدام کی داغ بیل ڈالی ۔ اور 10 , جولائی 2020ء کو پاکستان کے معروف شاعر , نقاد, مُترجم اور دانشور جناب اختر عثمان کے ساتھ جشن منا کر اِس سلسلے کا آغاز کیا گیا ۔ جسمیں اندرون اور بیرون ممالک سے کثیر تعداد میں شعراء و دانشوروں نے اختر عثمان کے فن اور شخصیت ہر خوبصورت گفتگو کی اور اپنے اپنے خوبصورت کلام سے ناظرین کو محضوظ کرتے ہوئے کمینٹس کی صورت خوب داد وصول کی ۔ اتنے خوبصورت جشن کی صدارت ملک کے ممتاز شاعر , نقاد اور دانشور جناب پروفیسر ڈاکٹر خورشید رضوی نے کی ۔
اِسی سلسلے کا دوسرا جشن 24 , جولائی 2020 ء کو ادبی دُنیا کی ایک اور معتبر و قد آور شخصیت جناب فرحت عباس شاہ کے فن اور شخصیت کو خراج پیش کرتے ہوئے منایا گیا جسکی صدارت کا اعزاز ممتاز شاعر و نقاد جناب اختر عثمان کو پیش کیا جبکہ مہمانان ِ خصوصی کے طور پر ممتاز شاعر, نقاد اور دانشور پرفیسر ڈاکٹر سعادت سعید اور معروف شاعر , کالم نگار اور دانشور پروفیسر ناصر بشیر کو زینت ِ سٹیج بنایا گیا تھا ۔ جشن کا آغاز معروف افسانہ و ناول نگار اور براڈ کاسٹر علی نواز شاہ سیکرئٹری حلقہ ارباب ِ ذوق پاک ٹی ہاؤس لاہور نے فرحت عباس شاہ کو خوبصورت الفاظ کی مالا جڑتے ہوئے پیش کیا ۔ اِس آن لائن عالمی جشن میں پوری دُنیا سے تقریبا” 80 کے قریب شعراء اور ادبی و سماجی شخصیات نے فرحت عباس شاہ کو خوبصورت الفاظ میں خراج ِ تحسین پیش کیا جبکہ جناب ابتہاج تُرابی لاہور, جناب اعجاز رضوی لاہور , جناب وحید ناز لاہور, مُحترمہ اثرہ اسلم لاہور , جناب جی اے انجم لاہور, جناب ساغر سرموی گلگت بلتستان , جناب ماجد رضا امبر اوکاڑہ, جناب سُہیل واسطی زیدی انڈیا, مُحترمہ تابندہ سراج لاہور , جناب نعیم سرکار چکوال, جناب عامر رانا لاہور , جناب نوید مرزا لاہور , جناب احمد سُبحانی آکاش لاہور , جناب سید ضیاء حُسین لاہور, جناب راجہ محمد یوسف خان جرمنی, جناب سخاوت علی نادر کراچی, جناب واحد رازی کراچی, جناب زاہد زر کراچی, جناب زین شکیل جلال پور جٹاں گجرات , جناب شائق شہاب کراچی, جناب راول حُسین لاہور, جناب پروفیسر ارشد شاہین لاہور, جناب امجد بابر ٹوبہ ٹیک سنگھ, مُحترمہ تانیہ جبین انڈیا, جناب علیم اطہر لاہور, محُترمہ ایمان قیصرانی رحیم یار خان, جناب آغا صدف ملتان, جناب علی حماد حامی امریکہ, جناب توقیر احمد شریفی لاہور, جناب تاثیر نقوی لاہور, جناب طاہر عدیم جرمنی, جناب پروفیسر ریاض قادری فیصل آباد, فیصل زمان چشتی لاہور, حافظ محمد طلحہ لاہور, جناب ناصر معروف مسقط, جناب اسرار اعظم چشتی لاہور, جناب عمران ثاقب بیلجیئم, پروفیسر ڈاکٹر محترمہ نسیم صحرائی فیصل آباد, محترمہ شائستہ مفتی کراچی, جناب سید اظہر فرید لاہور, جناب شوکت علی ناز قطر, محترمہ شہناز نقوی لاہور, جناب ملک اسلم دوبئی , جناب منظر نقوی اسلام آباد, جناب مکیش عالم انڈیا, محترمہ آسناتھ کنول لاہور, جناب سید ریاض حسین زیدی ساہی وال, محترمہ ثمینہ سید لاہور, جناب سلیم فگار لندن, جناب جمشید اعظم چشتی لاہور, محترمہ نیلما ناہید درانی لاہور, جناب اعجاز حیدر قطر, جناب احمد ساقی اوکاڑہ, جناب ڈاکٹر سید تقی حیدر کیلیفورنیا امریکہ, جناب خالد رانا گلف, محترمہ زیب النساء زیبی کراچی, جناب ڈاکٹر سعید اقبال سعدی گوجرانوامہ, محترمہ ڈاکٹر نکہت افتخار لندن, جناب اکرم سحر فارانی, جناب میاں منیر ہانس مڈل ایسٹ, جناب پرپروفیسر ظفر منصور گوجرانوالہ, جناب شکیل اختر اسلام آباد, جناب پروفیسر ڈاکٹر اختر شمار لاہور, جناب خالد شریف لاہور, جناب پروفیسر شفیق احمد خان لاہور, جناب راؤ منظر حیات لاہور, محترمہ نشو قریشی لاہور, جناب میجر ریٹائرڈ شہزاد نیئر لاہور, جناب میاں شہزاد لاہور, جناب ڈاکٹر عدنان خالد کینیڈا ۔ جناب پروفیسر ناصر بشیر لاہور, جناب پروفیسر ڈاکٹر سعادت سعید لاہور, جناب وسیم جبران گل اسلام آباد نے فرحت عباس شاہ کو خوبصورت خراج ِ تحسین پیش کیا ۔ آخر میں حرف ِ تشکر کے طور پر جناب فرحت عباس شاہ نے اپنے پیارے احباب اور خصوصا”حلقہ ارباب ِ ذوق پاک ٹی ہاؤس کی تمام ٹیم کا خوبصورت الفاظ میں شکریہ ادا کیا اور اِس بات کا اعادہ کیا کہ ہر لکھاری اور ادب دوست کو خلوص نیت اور خالصتا” شعوری, ادبی اور فطری جذبوں کے ساتھ بنا کسی تعصب اور سیاست کے ادب کے ترویج و ترقی کے لیئے ادب تخلیق کرتے رہنا چاہیۓ جو خود ہی اپنے راستے و مقام کا تعین کرنے میں منزل تک پہنچتا ہے ۔
فرحت عباس شاہ بنیادی طور پر شاعر ہیں جو اپنی ہمہ جہت خدادا صلاحیتوں کے بل بوتے پر منفرد مقام کے حامل ہیں ۔ مگر اِس کے ساتھ ہی وہ ایک ماہر ِ نفسیات, دانشور, صحافی, براڈ کاسٹر , اداکار, گلوکار اور نقاد کے طور پر بھی جانے اور پہچانے جاتے ہیں ۔ جو کہ فرحت عباس شاہ اپنی اِن خوبیوں اور صلاحیتوں کی دجہ سے ہر میدان میں بہادر شہہ سوار کی طرح آگے بڑھتے نظر آتے ہیں ۔ ان کے پہلے ” شعری مجموعے ” شام کے بعد ” نے فرحت عباس شاہ کو مقبولیت کے اُس مقام پر لا کھڑا کیا جس کو برقرار رکھنے کے لیئے انسان کو بہت محنت, ریاضت اور تخلیقی سفر کو جاری رکھتے ہوئے معیار کے کڑے امتحانی مرحلے سے گذرنا ہڑتا ہے اور ایک نوجوان لکھاری اسکی خواہش کر سکتا ہے مگر فرحت عباس شاہکے شعری جنون اور صلاحیتوں نے اُس کو شہرت جیسے بلند مقام سے نوازا ۔ فرحت عباس,ایک خوددار اور غریب طبعیت شخصیت کا نام ہے اِسی لیئے اِس کی شاعری محبت, ہجر و وصال کے ساتھ معاشرے کی ناہمواریوں اور ناانصافیوں کے گرد گھومتی نظر آتی ہے جو ہر مقام پر ایسے پسماندہ و متاثرہ لوگوں کی آواز بن کر ابھرتی ہے ۔ اصناف ِ سُخن میں غزلوں کے علاوہ فرحت عباس شاہ نے نظمیں کہہ کر اپنے دل کی بھڑاس نکالی اور ایسی ایسی مزاحمتی اور علامتی نظمیں کہی ہیں جو اپنی مثال ہیں ۔ جشن ِ فرحت شاہ میں ہر کسی نے دل کی گہرائیوں سے فرحت عباس شاہ کو خوبصورت الفاظ میں انکی ادبی خدمات کو سراہا مگر یہاں چند احباب کے تاثرات کا زکر نہ کرنا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہوگا جن سے فرحت عباس شاہ کے شعری سفر کی مختلف پرتیں کھلتی نظر آتیہیں ۔
خوبصورت اور نوجوان نقاد میاں شہزاد نے 1993 ء میں فرحت شاہ کی نظموں کے شائع شدہ مجموعے ” سرابی ” کے بارے میں اپنے ایک مضمون سے اقتباس پیش کرتے ہوئے حلقہ ارباب ِ ذوق کی کاوش کو سراہا اور جشن کے انعقاد پر صاحب ِ جشن فرحت شاہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ فرحت شاہ صاحب کے اتنے زیادہ تخلیقی کام پر حیرت ہوئی کہ بظاہر ایک دبلا پتلا مارشل آرٹ کا ماہر ننجا ماسٹر کیسے اتنی ساری تخلیقات لکھ سکتا ہے اگر یہ سب زور ِ قلم کا نتیجہ ہے تو پھر بھی باعث ِ حیرت ہے لیکن اِن میں یقینی طور پر فرحت عباس شاہ کے ندرت ِ خیال, اظہار و بیان پر دسترس اور خود کو اِس کائنات کے حقائق کو جاننے کا تجسس بھی شامل ہے جس نے انھیں ایک منفرد مقام پر پہنچا دیا یے ۔ اسلام آباد سے ایک اور خوبصورت شاعر و نقاد وسیم جبران نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے فرحت عباس شاہ کو محبت کا بے مثال شاعر قرار دیا اور کہا کہ انکے اشعار میں محبت سانس لیتی نظر آتی ہے اور انکی شاعری زندگی کی تمام تر خوبصوریوں اور محبتوں کا اقرار ہے ۔ انہی محبت کرنے والے احباب میں شامل یار ِ دیرینہ اور معروف شاعر, اویب, نقاد, دانشور اور کالم نگار پروفیسر ڈاکٹر اختر شمار نے اپنے دوست فرحت عباس شاہ کو انکے اعزاز میں حلقہ ارباب ِ,ذوق پاک ٹی ہاؤس کی جانب سے خوبصورت جشن مناۓ جانے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ فرحت عباس شاہ کی دوستی پر ہمیں فخر ہے وہ اپنی پہلی تخلیق ” شام کے بعد ” سے ہی مقبولیت کے عروج پر پینچ چکے تھے انکی پہلی شاعری میں روایئتی, رومانویت اور خاص طور پر مقبول شعراء کا خاص لہجہ دکھائی دیتا ہے لیکن اُس مقام پر رکنے کی بجائے فرحت نے آگے کا سفر جاری رکھا اور اُسکی شاعری میں بتدریج ارتقائی مراحل طے ہوتے رہے ۔ جوں جوں آپ اُسکی تخلیقات کا مطالعہ کرتے جایئنگے تو آپ کو احساس ہو گا کہ فرحت عباس شاہ نے اپنے فکر و اسلوب میں بہت زیادہ ترقی کی ہے وہ اپنی دھرتی سے جُڑا ہوا شاعر ہے اِس کے ہاں اردگرد کے مسائل کے ساتھ ساتھ اپنے عہد کا,کرب اور جبر بھی نمایاں ہے جو اُس کی شاعری کو نکھارتا ہے ۔ اِسی لمحے جشن کے مہمانِ خصوصی اور فرحت عباس شاہ کے ایک اور دیرینہ دوست معروف شاعر و, نقاد اور کالم نگار پروفیسر ناصر بشیر نے بھی اپنے تعلقات کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ فرحت عباس شاہ میرے ہمعصروں میں شاعری کا ایک برانڈ ہیں ۔ انھوں نے اس زمانے میں نوجوان نسل کو شاعری کی طرف راغب کرنے کی کامیاب کوشش کی تھی جس زمانے میں یہاں سیاست کے خونی کھیل کھیلے جا رہے تھے اُس زمانے میں 20/25 سال پہلے شاید ہی کوئی نوجوان بلا امتیاز لڑکا, لڑکی ایسی نہ تھی جسے فرحت عباس شاہ کے شعر یاد نہ ہوں اور اس کی کوئی کتاب انکی بغل میں نہ ہو ۔ فرحت عباس شاہ ادب کی دنیا میں ایک ممتاز مقام رکھتے ہیں جس پر بجا طور ہمیں فخر ہے ۔
جشن فرحت کے ایک اور مہمان ِ خاص اور دنیائے شعر و ادب کا معتبر حوالہ ممتاز شاعر, نقاد, ادیب اور دانشور جناب ڈاکٹر سعادت سعید نے حلقہ ارباب ِ ذوق پاک ٹی ہاؤس کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا,جنہوں نے ایک جینوئن اور ہمہ جہت صفات کے مالک شاعر فرحت عباس شاہ کے اور ادبی خدمات کے اعتراف میں جشن ِ فرحت منا کر ایک حقدار کو اُس کے حق سے نوازا ۔ اپنے تاثرات میں ڈاکٹر سعادت سعید نے کہا کہ فرحت عباس شاہ ایک عرصہ سے شعر و ادب کی دنیا سے مُنسلک ہیں ۔ اُن کا ادب ایسا مُختلف جہتوں کا حامل ہے جو اُن کے مطالعوں اور تجربوں کے سالوں کا عکس لئے ہوئے ہے ۔ نوجوانی کے تمام تجربات سے آغاز کرنے والے شاعر نے دیکھتے ہی دیکھتے جذبے اور فکر کی بالئی سطحوں کو اپنے دائرہ اظہار میں سمیٹا ہے وہ بلاشبہ مبارکباد کے مستحق ہیں ۔
جشن ِ فرحت کے اختتام پر آن لائن عالمی جشن ِ فرحت کے صدر جناب اختر عثمان نے اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ فرحت عباس شاہ ہمارے اًن شعراء میں شمار ہوتے ہیں جنہیں دنیا جانتی اور مانتی ہے ۔ میں اِس لیئے اُن کی شاعری کو پسند کرتا ہوں کہ اُنھوں نے اپنے تخلیقی عمل کو کبھی رُکنے نہیں دیا اور بہ مقدار اور بہ معیار دونوں سطحوں پر اُنکی شاعری اپیل کرتی ہے ۔ انھوں نے انسانی نفسیات اور خصوصا” مُحبت کی نفسیات پر جو اشعار لکھے ہیں وہ مجھے بہت پسند ہیں اور میں یہ سمجھتا یوں کہ مقبولءت کے حوالے سے انھوں نے اردو شاعری پر راج کیا ہے اور اُس مقبولیت کو اُنھوں نے ہضم بھی کیا ہے ۔ لوگوں سے اِس بات کا گلہ ہے کہ جس رفتار سے فرحت عباس شاہ نے لکھا یے اُس رفتار سے اُن کو پڑھا نہیں گیا ۔ اکثر لوگ تو ایسے ہیں جو بغیر ہڑھے اُن کے بارے میں رائے دیتے نظر آتے ہیں ۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ فرحت عباس شاہ ہمارے اُن شعراء کی صف میں شامل ہیں جنہوں محبت کی نفسیات کو کھولا اور اس کی نفسیات پر بہت دلنشیں پیرائے میں شعر کہے ۔میں ایسے خوبصورت اور باوقار جشن کے انعقاد پر حلقہ ارباب ِ ذوق پاک ٹی ہاؤس کی انتظامیہ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں ۔
ایسے خوبصورت اور شاندار جشن سے جہاں خوب صورت روایات جنم لیتی ہیں وہاں جینوئن اور مستحق شخصیات کے فن اور انکی خدمات کا اعتراف ادب کی ترویج و ترقی کے ساتھ شاعر و ادیب کو حوصلہ بھی ملتا یے ۔گھٹن کے اُس ماحول میں عالمی سطح پر ایسی آن لائن سرگرمیاں ادب کی دنیا میں انمٹ نقوش چھوڑ جاتی ہیں ۔

 

 

You might also like
  1. سعادت سعید says

    بہت عمدہ جائزہ ہے

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post