یوسف زیدان کا ناول "عزازیل”: ڈاکٹر عبدالعزیز ملک

(تعارفی مطالعہ)

یوسف زیدان کاتعلق مصر کی سر زمین ہے ۔ تعلیم کے سلسلے میں وہ اسکندریہ منتقل ہوئے اور زندگی کا بیشتر وقت وہیں گزارا۔،ابتدائی تعلیم کی تکمیل کے بعد اسکندریہ کی یونیورسٹی سے فلسفے میں گریجویشن کی ۔معروف صوفی عبدالکریم الجیلی کی فکر پر ایم اے کی سطح کا مقالہ لکھا اورپھر اسلامی فلسفے میں 1989ء میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرکے تدریس کا سلسلہ شروع کر دیا ۔سکندریہ کے کتب خانے میں مخطوطات کا شعبہ قایم کیا اور اس کے صدر کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ کتب خانے کے ناظم ڈاکٹر اسماعیل سراج الدین سے اختلاف کے باعث کتب خانے کی ذمہ داریوں سے الگ ہوگئے۔انھوں نے متنوع موضوعات پر کتب تصنیف کیں جن میں فکرِ اسلامی ، تصوف ،طب ،عربی زبان و ادب اورمخطوطہ شناسی جیسے موضوعات زیادہ اہم ہیں ۔یوسف زیدان نے اب تک چھے ناول اور افسانوں کا ایک مجموعہ شایع کیا ہے۔ان کے ناولوں میں جس نے شہرت اور عزت کمائی وہ "عزازیل” ہے جو2008ء میں اشاعت پذیر ہواS ۔2009 میں اسے عربی ادب کے زمرے میں برطانیہ کےبوکر پرائز کا اعزاز ملا تو اس ناول کو پرکھنے اور سمجھنے کے انداز میں تبدیلی رونما ہوئی اور جو تعصبات اس ناول سے وابستہ کر دیے گئے تھے ان سے گرد جھڑنا شروع ہوگئی کیوں کہ زیادہ تر ناقدین اسے قبطی مسیحیت کے خلاف ایک شعوری تحریر خیال کرتےرہے تھے۔2012ء میں اس ناول کے انگریزی ترجمے کوانوبی پرائز سے نوازا گیا۔اپنے مخصوص موضوع اور اندازِ بیان کے باعث اس نے اتنی شہرت حاصل کی کہ 2015ء تک اس کےتینتیس سے زیادہ ایڈیشن شایع ہو چکے تھے اور اس کا دنیا کی درجنوں زبانوں میں ترجمہ بھی ہوچکا تھا۔
یوسف زیدان کے ناول "عزازیل ” کا اردو ترجمہ ندیم اقبال نے کیاہے جو اجمل کمال کے رسالے "آج 107” میں 2019ء میں اشاعت پذیر ہوا ہے ۔مترجم کا تعارف کراتے ہوئے اجمل کمال کا کہنا ہے کہ ندیم اقبال کا تعلق سندھ کے علاقے کوٹری سے ہے اور وہ پیشے کے اعتبار سے نفسیاتی معالج ہیں اورکراچی میں ایک میڈیکل کالج میں پوسٹ گریجوایٹ سطح پر درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔انھوں نے مذکورہ ترجمہ کرتے ہوئے جوناتھن رائٹ کے انگریزی ترجمے کو مدِ نظر رکھا ہے۔اس ناول کے ترجمے کے حوالے سے ان کا اقتباس ملاحظہ ہو:
زیدان کے اس ناول کا جو ترجمہ اگلے صفحات میں پیش کیا جا رہا ہے وہ جوناتھن رائٹ کے انگریزی ترجمے سے کیا گیا ہے،اگرچہ ناموں کے تلفظ اور املا اور بعض دوسری تفصیلات کے لیے اسے عربی متن سے بھی ملا کر دیکھا گیا ہے۔ اس طرح دیکھا جائے تو عربی سے براستہ انگریزی، اردو تک پہنچتے پہنچتے اس متن میں دو اور مترجم شامل ہوجاتے ہیں جو ناول کے بیانیہ نظام میں مزید توسیع کا سبب بنتے ہیں ۔ایک اور ،اور شاید زیادہ اہم بات یہ ہے کہ زمانوں اور زمینوں سے راوی در راوی منتقل ہونے والے اس قصے میں ہم اپنی آج مقامی انسانی صورتِ حال کا عکس دیکھ سکتے ہیں”(1)
"عزازیل” تاریخی فکشن کی مثال ہےجس میں چوتھی صدی کے مصر اور شام کے جغرافیے کو شامل کیا گیا ہےجہاں چوتھی اور پانچویں صدی عیسوی میں ایسے واقعات صورت پذیر ہوئے ہیں جن کی شہادت تاریخی دستاویزات سے ہوتی ہے۔مصری فکشن میں تاریخ کےاستعمال کی یہ پہلی مثال نہیں ہے اس سے پہلے بھی قدیم مصری تہذیب ناولوں کا حصہ بنتی رہی ہے ۔ اس حوالے سے نوبل انعام یافتہ مصری ادیب نجیب محفوظ کا نام خاص طور پر نمایاں ہے جس نے فراعین کے عہد پر تین ناول تحریر کیے ہیں۔یوسف زیدان نے یہ بات محسوس کی کہ مصری تاریخ کا وہ مختصر دور جو چند سو برس کو محیط ہے اور جس کا خاتمہ مسلمانوں نے 639ء میں کر دیا تھا،ایک ایسا خلا ہے جس سے مصری ادیبوں نے اپنا دامن بچایا ہےاور اسے کم ہی فکشن کی پیشکش میں استعمال کیا گیا ہے۔جوناتھن رائٹ نے اس کی دو وجوہات بیان کی ہیں ۔ایک وجہ قبطی کلیسا کا احترام تھا اور دوسری جدید عربی قارئین کو پیش کرنے کے لئےکچھ خاص اس دور میں موجود نہیں ہے۔(2)
مذکورہ ناول میں نسطور، سرل اور ہیپا تیا کے کردار تاریخی ہیں جب کہ ناول کا مرکزی کردار اور کہانی کو آگے بڑھانے کی غرض سے مرکزی کردار کے گردتشکیل دیے گئےضمنی کردار ناول نگار کے تخیل کی پیداوار ہیں۔قصے کا راوی بے نام مترجم ہے جو قاری پر واضح کر رہا ہے کہ وہ ایک ایسے راہب کی آپ بیتی کا ترجمہ کر رہا ہے جس کا تعلق چوتھی صدی عیسوی سے بتایا جاتا ہے۔آپ بیتی جس زبان میں تحریر کی گئی ہے وہ اب غیر مستعمل ہےجسے مروجہ عربی زبان میں مترجم کے نوٹس کے ساتھ ڈھالا جا رہا ہے۔مسودہ کل تیس مخطوطوں پر مشتمل ہے جو 1997 ءمیں فادر ولیم کارزاری کو حلب اورانطاکیہ کو ملانے والی قدیم سڑک کے کنارے آثارِ قدیمہ کی کھدائی کے دوران میں ملے تھے ۔مصری راہب ہیپا نے ان مخطوطوں کو لکڑی کے ایک صندوق میں بند کر کے مہر بند کرا دیاتھا جس کی وجہ سے یہ طویل عرصے تک محفوظ رہ گئے ہیں۔ناول نگار نے قاری کے ذہن کو گرفت میں لینے کے لیے مترجم کے تعارف سے ناول کا آغاز کیا ہےجو فکشن کے بیانیہ میں ٖ”فریمنگ ڈیوائس” کے طور پر استعمال کی گئی ہےجس نے قاری کے ذہن کو اعتبار بخشا ہے اور وہ ناول کے بیانیہ کو حقیقت کے قریب لے آیا ہے۔کہانی کاراوی مسودےکو اس لئے دفن کر دیتا ہے کہ اس میں ایسے خیالات پیش کیے گئے ہیں جو فسادِ خلق ِخدا کا باعث بن سکتے ہیں۔ پندرہ سو سال گزرنے کے بعد فکشن کے بیانیے میں ایک مترجم ظاہر ہوتا ہے جو اسے آرمینیانی زبان سے عربی میں منتقل کرتا ہےاور اسی نیت سے مخطوطات کو نہیں چھاپتا کہ ابھی ان کی اشاعت کا مناسب وقت نہیں آیا۔ناول کے بیانیے کو حقیقی بنانے کے لیے اس میں کئی مقامات پر واہمیاتی حقیقت نگاری سے بھی کام لیا گیا ہے۔خاص طور پر جب عزازیل کا کردار ناول کے کینوس پر ظاہر ہوتا ہے تو بیانیہ” ہیلوسی نیٹری رئیلزم” کی حدود میں چلا جاتا ہے۔مشکل اور ناقابلِ بیان نکات کے بیان میں کئی مقامات پر خوابوں کے بیان سے بھی کام لیا گیا ہے جو حقیقت اور غیر حقیقت کی سر حدوں کو دھند لاتے ہوئے محسوس ہوتے جو جادو اور حقیقت میں فرق کا خاتمہ کر کے قاری کو حیرت انگیز دنیا میں داخل کر دیتے ہیں۔ناول کی سرحدوں میں داخل ہونے کے بعد قاری ایسے کھو جاتا ہے جیسے وہ حقیقی اور روز مرہ کی دنیا میں موجود ہو۔
ہیبا کا کردار ایک دلچسپ اور متحرک کردار کے طور پر سامنے آتا ہےجو متقی اور پرہیز گار بھی ہے اور کافی حد تک تشکیک پسند بھی،دنیا کے حالات سے متعلق وہ متجسس بھی دکھائی دیتا ہے لیکن دنیا سے گریزاں بھی ہے۔جو بات اسے دیگر کرداروں سے متمیز کرتی ہے وہ اس کا ایمان دارانہ رویہ ہے جو اس نے خود سے روا رکھا ہوا ہے۔اس نے ان مخطوطوں میں جسمانی اور روحانی سفر کی روداد قلم بند کی ہے۔ بنیادی طور پرناول کے اس مرکزی کردار کا تعلق اسوان سے ہےجو جنوبی مصر میں واقع ہے۔اس کا باپ ایک ماہی گیر تھا جس نے عیسائی عورت سے شادی کر لی تھی ۔وہ مصر کےقدیم دیوتا خنوم (3)کا عبادت گزار تھا۔یہ وہ دور ہے جب عیسائیت مصر میں اپنے قدم تیزی سے مضبوط کر رہی ہےاوردیگر مذاہب کے ماننے والوں کو اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا اور بہانے بہانے سے انھیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ایک دن ایسا ہی ہوا جب جنونی عیسائیوں نے مندر پر حملہ کیا اور اس کے باپ کو اس کی نظروں کے سامنے قتل کر دیا گیا۔اسے اس بات کا علم ہے کہ اس کی ماں نے اس کے باپ سے بے وفائی کی تھی اور وہ کسی کے ساتھ بھاگ گئی تھی جس کے بعد اس نے اسے کبھی نہیں دیکھا ۔اس کے بعد وہ بھاگ کر اخمیم (4)چلا آیا ۔ یہاں اس کی ایک رحم دل پادری نے پرورش کی اور وہ راہب اور طبیب بن گیا۔ہیبا کی زندگی میں تبدیلی اس وقت شروع ہوئی جب وہ مزیدتعلیم حاصل کرنے کی غرض سے سکندریہ کا سفر کرتا ہے۔سکندریہ اس کی زندگی میں ایک حیرت انگیز شہر ثابت ہواجو اس نے زندگی میں پہلی بار دیکھا تھا۔اسے یوں محسوس ہوا جیسے کچھ کھو گیا ہو۔اب اس کے سامنے سمندر تھا وہ اس میں تیرنا چاہتا تھا لیکن سمندر کی لہریں اسے اٹھا کر گہرائی تک لے گئیں اور پھر اسے ساحل پر دھکیل دیا۔سکندریہ کے ساحل پر اس کی ملاقات ایک خوب صورت عورت سے ہوئی جو اسےگھر لے گئی ۔ اسے جنسی عمل سے متعارف کرایا۔ناول نگار نے اس کا نام اکتاویا بتایا ہے جو ایک تاجر کے ہاں ملازمہ تھی ۔ اس نے ہیباکو اپنے مالک کا کتب خانہ دکھایا جہاں کئی اہم اور نادر کتب موجود تھیں جن سے اس نے استفادہ کیا۔وہ عقیدے کے اعتبار سے غیر عیسائی تھی اور عیسائیوں سے جنون کی حد تک نفرت کرتی تھی ۔ جب اسے علم ہوا کہ وہ راہب ہے تو اس نے اسے گھر سے باہر نکال دیا ۔
یہاں تک کے قصے میں ہیباکے کردار سے دو چیزیں سامنے آتی ہیں ایک یہ کہ اس کا جن جن لوگوں سے سامنا ہوتا ہے وہ فرسودہ، از کاررفتہ اور پامال خیالات کے مالک ہیں، خواہ اس کا تعلق عیسائیت سے ہو یا غیر عیسائیت سے ہو۔ لیکن ناول کا مرکزی کردار ایسا نہیں ہے ،اس میں مخالف مذاہب اورنظریات کو برداشت کرنے کی صلاحیت موجود ہے،حتا کہ وہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ عیسائیت میں غیر قانونی جنسی عمل کی ا جازت نہیں ہے ،وہ اس کو بھی خندہ پیشانی سے برداشت کرتا ہے۔دوسرا اس کا خیال ہے کہ عیسائیت کو ملحدین(جن میں عرب سے زیادہ یونانی شامل ہیں) کے نظریات سے نہ صرف سیکھنےکی بلکہ برداشت اور تحمل سے کام لینے کی ضرورت ہے۔اس تحمل اور برداشت کا مظاہرہ مذکورہ کردار میں اس وقت بھی دیکھنے میں آتا ہے جب وہ سکندریہ کی خانقاہ میں حصولِ علم کی خاطر داخل ہوتا ہے ۔ اسے ہیباتیا میں بھی دلچسپی ہے وہ اس کا خطبہ انہماک سے سنتا ہے ، اس سے بات چیت کا موقع تلاش کرتا ہے جب کہ اس کے ساتھی راہب اس عمل کو ناپسند کرتے ہیں ۔یہی وہ دور ہے جب اوریسٹیس اور سرل کے درمیان مذہبی منا قشہ جاری ہے ۔ اوریسٹیس آزادانہ اور سیکولر بنیادوں پر سوچتا ہے جب کہ بشپ سرل مذہب میں شدت پسند اور تنگ نظر ہے۔دونوں کے منقاشے کے باعث تشدد اور جنونیت کا واقعہ پیش آتا ہے جس میں ہیباتیا کے قتل کا وہ عینی شاہد ہے۔جس طرح اس نے اپنے باپ کواپنی نظروں کے سامنے قتل ہوتے دیکھا تھا اسی طرح وہ ہیباتیا جیسی عالمہ کو بھی اپنی نظروں کے سامنے بے آبرو ہو کر دنیا سے رخصت ہوتے دیکھتا ہے۔یہاں ناول نگار نے مذہبی جنونیت اور عیسائیت کی شدت پسندی کو مہارت سے بے نقاب کیا ہے ۔ ہیباتیا کے قتل کے واقعے کا منظرملاحظہ ہوجو ہجوم کی شدت پسندی اور جنونیت کو واضح کر رہا ہے:
"اس کا ہاتھ ہیباپر جھپٹا اور پھر دیگر ہاتھ اس پر جھپٹے ۔یوں لگا جیسے وہ کسی بادل پر تیر رہی ہے جسے ان لوگوں کے وحشی بازوں نے اٹھایا ہوا ہے ،اور پھر دن دیہاڑے اس دہشت کا آغاز ہوا ۔ہاتھوں نے ہتھیاروں کی مانند حملہ کیا۔ بگھی کے دروازے توڑ دیے گئے۔کچھ نے اس کا لباس نوچنے کی کوشش کی اور دوسروں نے اسے پکڑ کر زمین پر گرا دیا ۔ تاج کی صورت میں گندھے ،اس کے بال کھل گئے جن میں انگلیاں ڈال کر بطرس نے انھیں اپنی کلائی کے گرد لپیٹ لیا۔جب وہ چیخی تو بطرس نے کہا” خداوند کی قسم، ہم خداوند کی زمین کو پاک کریں گے”(5)
اسے اس لیے قتل کر دیا گیا ہے کیوں کہ وہ اس فرقے سے تعلق نہیں رکھتی جس کے پیروکاروںکی وہاں اکثریت ہے ۔ناول نگارجوعہد ہمارے سامنے پیش کر رہا ہے اس عہد میں ریاست کا مذہب پر زیادہ انحصار تھا اور کلیسائی امور اس قدر انتشار کا شکار تھے کہ مذہب کے اسرارو رموز سے متعلق معاملات میں اکثر اوقات حکومت کو مداخلت کرنا پڑتی تھی۔عیسائی تمام اختلاف رکھنے کے باوجود ایک نکتے پر متفق تھے کہ بت پرستوں کے معبد بند ،ان کی جائداد ضبط اور مسیحیت پر اعتراضات کرنے والوں کے خلاف وہی ہتھیار استعمال ہوں جو انھوں نے عیسائیوں کے خلاف استعمال کیے ہیں۔چوتھی اور پانچویں صدی عیسوی کے عیسائیوں پر خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ول ڈیوراں اپنی کتاب” انسانی تاریخ کی کہانی ” میں تحریر کرتے ہیں:
” کانسٹنٹائن نے بُت پرستوں کی نذرو نیاز اور تقریبات کی حوصلہ شکنی کی تھی لیکن ان کی ممانعت نہیں کی تھی لیکن کانسٹنٹین نےسلطنت میں بُت پرستوںکی تمام عبادت گاہوں کو بند کر دیا اور ان مذہبی رسوم اورتقریبات پر پابندی لگا دی گئی ۔حکم عدولی کرنے والوں کی جائیدادوں ضبط کر کے انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔اس فرمان کے نفاذ میں لاپروائی برتنے والے عیسائی گورنروں کو بھی سزا دی گئی البتہ مسیحیت کے پھیلتے ہوئے سمندر میں بُت پرستوں کے جزیرے بدستور موجود رہے” (6)

یہاں ہیبا اتنا بزدل اور کمزور دکھایا گیا ہے کہ وہ ہیباتیا کو اپنی نظروں کے سامنے قتل ہوتے دیکھتا ہے، اس سے ہمدردی محسوس کرتا ہے لیکن اس کی جان بچانے کی ہمت نہیں کر پاتا۔اس واقعے نے اس پر خوف اور دہشت کے اثرات مرتسم کیے ۔ ردِ عمل کے طور پر وہ شہر چھوڑ جاتا ہے اور اب اس کا سفر یروشلم کی جانب ہے۔یروشلم پہنچ کر اس کی ملاقات نسطورسے ہوتی ہے جس نے اس کی فکری اورنفسیاتی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کیے ۔وہ شہری زندگی کی اتھل پُتھل اور شور شرابے سے تنگ ہے اس لیے نسطور اسے دور دراز کی خانقاہ میں بھیج دیاتا ہے جہاں وہ طب میں مہارت حاصل کرتا ہے۔ اپنا ذاتی کتب خانہ تشکیل دیتا ہے۔علم اور زہد کے باعث اس کی شہرت دور دور تک پھیل جاتی ہے۔ وہ زندگی کے خوش گوار دن گزار رہا ہوتا ہے کہ اس کی زندگی میں ایک گانے والی لڑکی مارتھا داخل ہوتی ہے ۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے اتنے قریب چلے جاتے ہیں کہ لڑکی راہب سےشادی کا مطالبہ کرنے لگتی ہے جو ہیبا کے لیے ممکن نہیں۔اسی دوران نسطوقسطنطنیہ کے کلیسا میں بشپ بن جاتا ہے۔اسے سکندریہ کے بشپ سرل سے خطرہ ہے اور وہ ہیبا سے مدد طلب کرتا ہے۔نسطورکے خیالات کچھ اس طرح ہیں کہ وہ واضح انداز میں شہنشاہ کو قائل نہیں کر پاتا اور اسے معزول کر دیا جاتا ہے۔اب ہیبا کا کردار نفسیاتی اور ذہنی اعتبار سے عزازیل کے قبضے میں ہے ۔ وہ عزازیل کے کہنے پر اپنی زندگی کے واقعات ایمان داری سے رقم کرتا ہے اور اسے صندوق میں رکھ کر بند کر دیتا ہے ۔یہی وہ صندوق ہے جو مترجم کو ملا ہے اور اس میں موجود مخطوطات جو آرامی زبان میں قلم بند کیے گئے ہیں، کے ترجمے کے ذریعے،وہ ہم تک کہانی کے واقعات پہنچا رہا ہے۔
ناول کے قصے میں اسے دو عورتوں سے جنسی قربت کا تجربہ حاصل ہوتا ہے۔ ان اقدام سے وہ روحانی کرب کا شکار ہوتا ہے لیکن اس کا الزام وہ عزازیل پر ڈال دیتا ہے جو اس کے جنسی اور فکری انحراف کا باعث بنا ہے۔جنس اور سفر کو ناول نگار نے ہیبا کے کردار کی روحانی بنیاد کے مستور اجزا کو منکشف کرنے کے لئے بطور استعارہ استعمال کیا ہے۔کیوں کہ اس دوران اگر انسان جذبات، احساسات ،خیالات اور تجربات سے آگاہ رہے تو وہ ذہنی اور روحانی بلندیوں کو چھو سکتا ہے۔ہیبا بھی اسی کیفیت سے گزرا ہے۔بڑے شہر میں رہایش ، سفر کی صعوبت اورجنسی تعلق نے اسے ایک ایسی ذہنی ،نفسیاتی اور روحانی کیفیت میں مبتلا کر دیا ہےجو معاشرتی اور سماجی قیود سے فرار حاصل کر کے اپنی ہی ذات کے خول میں گم ہونے کی جانب کھینچ رہی ہے۔وہ لوگوں کے ہجوم میں خود کو تنہا اور اکیلا محسوس کرتا ہے۔معاشرتی معاملات سے لاتعلق ہو کر کتابوں اور حکمت کے نسخوں میں زیادہ وقت گزارتا ہے۔اس کے ذہن میں کئی سوال ہیں :
"وہ کیا چیز ہے جس نے مجھے میرے آبائی وطن سے روانہ کیا؟اور اس مقدس مقام پر لائی ؟ کیا میں صحرا میں ،اپنے وطن میں رہتے ہوئے،اپنی روح میں موجود پارسائی کے جوہر کو نہیں چھو سکتا ؟اگر کوئی خاص جگہ ہی یہ ظاہر کر سکتی ہے کہ ہمارے درونِ ذات کیا ہے،اور صرف سفر ہی اس پر روشنی ڈال سکتا ہے جس سے یہ مزید واضح ہوجائے،تو پھر کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ عاجزی اورانکساری،کنوار پن کی پاکیزگی،زاہدانہ زندگی اور مستقل عبادات اور عظمتِ ربانی کی مناجات ہم پر الوہی دلکشی اور بزرگانہ پن کی وہ روشنی آشکار کر دے جو ہم میں پوشیدہ ہے؟۔۔۔۔۔۔۔”(7)
وہ ان سوالات کےتسلی بخش جوابات کامتمنی ہے،وہ سوچ و تدبر اور گہرےمطالعےسے ان مسائل کو حل کرنے کی جہد میں مصروف ہے ۔یہ عمل اُس کے ذہن میں تجسس اور تحقیق کے مادے کو پروان چڑھاتا ہے اور وہ شکوک اور ابہام کاشکار ہوتا چلا جاتا ہے۔تنہائی، علاحدگی،بیگانگی، اکیلا پن اور خلوت کے عناصر کو اس کردار میں آسانی سے تلاش کیا جا سکتا ہے جو اس کے نفسیاتی اور روحانی سفر میں اس کے ہمراہ رہے ہیں ۔دراصل یہ سارا نفسیاتی اور روحانی کرب اس دور کی علمی اور فکری سر گر میوں میں جمود اور اضمحلال کا نتیجہ ہے۔جیسا کہ تاریخی شہادتوں سے ہمیں علم ہے کہ تھیوڈوسیوس کے دور حکومت میں عیسائیت نے تمام گزشتہ علوم و فنون پر پابندی عائد کر دی تھی۔پادریوں نے تمام مندروں کو تباہ وبرباد کرنا شروع کر دیا ہے۔ غیر مسیحیوں پر ڈھائے جانے والے ان مظالم میں سرافیس کے مندر میں بلوہ ہو گیا،خون ریزی ہوئی ، مندر منہدم ہوا ۔افسوس ناک بات سرافیون کا کتب خانہ بھی اس کا شکار ہوا۔تھیوڈوسیوس کے آخری دنوں میں سرل مصر کا اسقفِ اعظم بنا۔اس نے یہ ظلم کیا کہ فلسفے کے اداروں کو جہالت کا پلندہ کہ کر ان پر پابندی عاید کر دی۔اس کے اشاروں پر فلسفے کو الحاد خیال کیا گیا اور اس دور میں فلسفے اور ریاضی کی ماہر عالمہ ہیباتیا(ہائی پیشیہ)کا درد ناک قتل کر دیا گیا ۔یہ خاتون سکندریہ میں فلسفے کی نو افلاطونی جماعت کی صدرتھی۔انسانی تاریخ کا یہ شرمناک واقعہ 415ء میں پیش آیا تھا۔بات یہاں تک نہ رُکی بلکہ پادریوں نے علم و حکمت پر پابندیاں عائد کر دیں اور منطق و فلسفہ کو بُرا خیال کیا جانے لگا۔اس کے بعد یہاں کوئی بڑا عالم پیدا نہ ہوا جو منطق، استدلال اور عقل پر اپنے خیالات کی بنیادیں استوار کرتا۔بڑا ذہن پیدا ہونے کے لیے اسے فکری آزادی کی ضرورت ہوتی ہے ۔جبر کے دور میں راہب تو پیدا ہو سکتےلیکن سائنس اور فلسفہ پروان نہیں چڑھ سکتے۔ناول کا مرکزی کردار ہیبا تشکیک کے جس عمل سے گزر رہا ہے اور جو سوالات اس کے ذہن کے نہاں گوشوں میں جنم لے رہے ہیں ان کے سوالات کا جواب دینے کے لئے آزاد فکری فضا کی ضروت ہے جو اس دور میں میسر نہیں ۔مثلا ً اس حوالےسے ایک اقتباس ملاحظہ ہو :
"میں اکثر فلوطین اور مصر کےمتعلق سوچتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ ہمارے مذہب کے کئی اجزا وہاں سے آئے ہیں ،یہاں سے نہیں آئے۔رہبانیت،شوقِ شہادت ،صلیب کی علامت،لفظ انجیل ،حد تو یہ کہ تثلیث مقدس کا نظریہ بھی پہلے پہل فلوطین کے یہاں ملتا ہے۔اپنی مشہور کتاب التاسوعات میں وہ کہتا ہے۔۔۔”مجھے نہیں معلوم کہ کیوں، مگر میں نے اچانک دخل اندازی کی اور بغیر سوچے سمجھے اسقف کی گفتگو کو قطع کرتےہوئے بولا”نہیں مقدس باپ،فلوطین کی تثلیث فلسفیانہ ہے،اس کے یہاں پہلا واحد ِمطلق ہے،دوسری عقل اور تیسری روح ِ ارض ہے،جبکہ ہمارے مذہب میں تثلیث سماوی اور ربانی ہے:آسمانی باپ ،بیٹا اور روح القدس۔ان دونوں کے درمیان بہت بڑا فرق ہے،”(8)
خوش گوار فکری فضا اور آزاد خیالی کی تلاش اسے یروشلم لاتی ہے مگر یہاں بھی وہ جہاں رہایش اختیار کرتا ہے وہ شہر اور دیہات کے درمیان کی جگہ ہےجو اس بات کی علامت ہے کہ وہ دو انتہاوں کے مابین معلق ہےوہ اپنی ذات کے بارے میں ،بپتسمہ کے بارے میں،راہب ہونے کے بارے میں ،اپنے طب کے علم کے بارے میں ، اپنی شاعری کے بارے میں اورمارتھا سے محبت کے بارے میں،تشکیک کا شکار ہے۔ایک کے بعد ایک اور تشکیک ہے جو اس کے وجود کا تعاقب کر رہی ہے۔تشکیک ایمان کی مخالف ہے جیسے عزازیل خدا کا مخالف ہے۔ناول کے شروع سے آخر تک قاری ہیبا کی کئی شناختیں متعین کرنے کی کوشش کرتا ہے ،وہ راہب ہے؟ وہ طبیب ہے؟ وہ عاشق ہے؟ وہ پرہیز گار اور متقی ہے ؟ یا وہ جنس پسند انسان ہے جو عورتوں پر فریفتہ ہونے میں دیر نہیں لگاتا۔؟آخر کیا ہے اس کی کوئی ایک شناخت نہیں ہے بلکہ شناختوں کا سلسلہ ہے جو جاری ہے ،جس سے ناول کے اس کردار میں وسعت اور تنوع پیدا ہوا ہے جس سے متن کے معنی میں بھی کثرت اور تنوع کی کیفیت نے جنم لیا ہے۔

حوالہ جات و حواشی
1۔یوسف زیدان، عزازیل ،مترجم :ندیم اقبال،مشمولہ:کراچی:آج107،2019،ص:9
2۔ایضاً،ص:349
3۔خنوم قدیم مصر میں زرخیزی کا دیوتا ہے جو پانیوں پر گرفت رکھتا ہے۔ندیاں ، نالے، دریا اور سمندر اس کے تابع خیال کیے جاتے تھے۔انسان کے دھڑ کے ساتھ مینڈھا کا سر جوڑ کر اس کو ظاہر کیا جاتا تھا۔ایک کمھار کی طرح گیلی مٹی سے اس نے انسان کو چاک پر سے تخلیق کیا۔
4۔اخمیم بالائی مصر میں ایک رہایشی علاقہ ہے۔یہ دریائے نیل کے مشرقی ساحل پر واقع ہے۔اس شہر میں زیادہ تر قبطی قبائل آباد ہیں۔
5۔ یوسف زیدان، عزازیل ،مترجم : ندیم اقبال ،محولہ بالا،ص:148
6۔ول ڈیورینٹ، انسانی تہذیب کی کہانی ،مترجم:نعیم اللہ ملک،لاہور:نثار آرٹ پریس، 2016ء،ص:15
7۔یوسف زیدان ، عزازیل ، مترجم :ندیم اقبال،محولہ بالا،ص:22
8۔ایضاً،ص:33
9۔عزازیل کے عنوان سے یعقوب یاور نے بھی ایک ناول اردو میں تحریر کیا ہے۔ اس ناول کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔

 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post