’یا خدا ‘ میں مشرق و مغرب کا تصور : محمد عامر سہیل

واقعہ اور بیانِ واقعہ دو الگ چیزیں ہیں۔واقعہ ایک اور اس کی پیش کش کی نوعیتیں ،بتانے،سمجھانے کے سلیقے و قرینے اور بیان کے طریقے اور اسالیب مختلف،متنوع اور کثیر ہو تے ہیں۔کثرتِ بیان ایک واقعے کو کئی زاویوں،جہات اور نقطہ نظر سے دیکھنے میں معاون ہوتی ہے۔تقسیمِ ہند ایک واقعہ ہے۔یہ واقعہ اسباب،محرکات اور وجوہات کے بعد واقعاتی دورانیہ،اور وقوع پذیر ہونے کے بعد اپنے نتائج اور اثرات کا متحمل ہے۔ادب میں اس واقعہ کو بیان کرنے والوں کی کثرت ہے،مگر کوئی ایک ادیب اور شاعر نہیں جس نے اس واقعہ پر ادبی احتجاج نہ کیا ہو۔تقسیمِ ہند پر لکھا جانے والا ادب’احتجاجی ،وقتی اور جذباتی ادب‘ کے نام سے موسوم کیا گیا،مگر فکشن میںچندقابلِ ذکر ناول،ناولٹ اور افسانے ایسے ہیں جنھیں لازوال شہرت نصیب ہوئی،ان میں قدرت اللہ شہاب کا ناولٹ’یا خدا‘سر فہرست ہے۔یہ بات بڑے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ شہاب افسانوی اسلوب پربے پناہ گرفت رکھتے ہیں۔’یا خدا‘میں پیش کی جانے والی کہانی طرزِبیان،تکنیک اور افسانوی اسلوب میں منفرد اور ممتازہے،جو حقیقت کے بالکل قریب ہے۔اس کے تین حصے ہیں۔
۱۔ پہلا حصہ:رب المشرقین (تیری دنیا میں محکوم و مجبور)
۲۔دوسرا حصہ:رب المغربین(مری دنیا میں تیری پادشاہی)
۳۔تیسرا حصہ:رب العالمین(مجھے فکرِجہاں کیوں ہو جہاں تیرا ہے یا میرا)
پہلے حصہ میں کہانی فسادات،ظلم،انسانی وحشت ناک رویہ ،جنسی تشدد اور ہجرت کی روداد لیے مشرقی پنجاب (سکھوںکا ظلم)،دوسرے حصے میںکہانی لاہور اسٹیشن کی صبح،مغربی پنجاب کا غیر مہذب ،بے حس اور غیر انسانی رویہ،مہاجر کیمپ کی ذلالت،سٹور بابو کا غیر ذمہ دارانہ سلوک اور مسلم بھائیوں کا مسلم بہنوں کے ساتھ انتہائی وحشیانہ جنسی استحصال لیے(حکمرانوں کی بے پروائی)،تیسرے اور آخری حصے میں کہانی کراچی پہنچتی ہے،یہاںبھی انتہائی افسوس ناک صورت حال سے گزرتے ہوئے،بالآخر مرکزی کردار کوہر طرف سے ناامیدیوں اور لاچارگیوں کا سامنے کرنے بعد عید گاہ ایسی جگہ پہ جھونپڑی لگا کر جسم فروشی کے ذریعے اپنا اور اپنی بچی کا پیٹ پالنا پڑتا ہے۔یہ تینوں حصے ایک وحدت میں ڈھلے ہوئے ہیں،کہ کہانی کہیں منتشر ہوتی نہیں دکھائی دیتی ہے۔
تقسیم ہند کا سب سے زیادہ اثر پنجاب پہ ہوا،پنجاب کو دوحصوں میں تقسیم کیا گیا ۔ایک مشرقی پنجاب دوسرا مغربی پنجاب۔مشرقی پنجاب میں جو مسلمان آباد تھے انھیں مغربی پنجاب میں آنا تھا اور جو مغربی پنجاب میں غیر مسلم تھے انھیں مشرقی پنجاب جانا تھا۔’یا خدا‘ کی کہانی کا تعلق مشرقی پنجاب سے تعلق رکھنے والی دلشاد سے ہے،جو سکھوں کے جنسی تشدد کو سہتی مشرقی پنجاب کو چھوڑ کر دیگر کئی عورتوں جیسامغربی پنجاب کا ایک جنت نظیر تصور لیے مغربی پنجاب آتی ہے،جہاں اسے ایک بار پھر اپنے مسلم بھائیوں کے جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے،جس کی وجہ سے بالآخر اسے طوائف بن کر زندگی گزارنی پڑتی ہے۔دیکھنا یہ ہے کہ وہ کس مغرب(مغربی پنجاب) کا تصور لے کر آئی اور اسے کس طرح کے مغرب سے واسطہ پڑا،یہی ہمارے موجودہ تجزیے کا موضوع ہے۔آئندہ مشرقی پنجاب کے لیے مشرق اور مغربی پنجاب کے لیے مغرب کا لفظ استعمال ہو گا۔
تقسیم ہند میں سب سے بڑا’ہجرت کا عمل‘ پنجاب میںہواہے۔مشرق سے جن لوگوںکو مغرب کی طرف ہجرت کرنا پڑی،ان کے ہاں مشرق اور مغرب کا متضاد تصور تھا۔مغرب کی طرف جانا ’مقدس سر زمین‘ کی طرف جانے کے مترادف تھا۔ان کو مغربی پنجاب کا جو تصور دیا گیا اس کے مطابق وہ امن،سکون،محبت،بھائی چارے،اخوت،ایثار اور کھلی آزادی کی سرزمین ہو گی۔جس کی فضامکہ مدینہ کی فضا کی طرح روحانیت سے معطر ہو گی۔وہاں محبت اور مسلم بھائیوں کی عنائیتوں اورامن سے رہنا ہو گا۔مغرب کے اس حسین تصور کے ساتھ مشرقی پنجاب والوں نے اپنا سب کچھ چھوڑ کر ہجرت کی ٹھانی۔ ’یا خدا‘ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دلشاد اور اس کے ساتھ انبالہ کیمپ میں موجود دیگر عورتیں اور بزرگ جنھیں مشرقی پنجاب سے مغربی پنجاب ٹرین کے ذریعے لایا گیا،مغربی پنجاب پہنچنے سے پہلے مغرب کے بارے کیا تصور، خیال اور امید رکھتے تھے اور پھر پہنچ کر ’دلشاد‘ کے ساتھ کیا گزری،ایک دل خراش اور جاں سوز حقیقت ہے۔ذیل میں مغرب کے بارے جو ان کا تصور تھا ،کو بیان کیا جاتا ہے۔’یاخدا‘ سے نکات ذیل میں ہیں:
۱۔انبالہ کیمپ کے ساتھ پڑی ٹرین کی پٹری جو مغرب جا رہی ہے،وہ مغرب جو کیمپ میں موجود لوگوں کے لیے ’سہانے خوانوں کا جزیرہ ‘ ہے۔
۲۔مغرب کا خیال آتے ہی دلشاد کی راکھ میں ایک ننھا ٹمٹما اٹھتا۔
۳۔مغرب میں کعبہ ہے،کعبہ اللہ میں کا اپنا گھر ہے۔
۴۔ عورتیں کہتی تھیں مغرب میں اور بھی بہت کچھ ہے۔وہاں ہمارے بھائی ہیں،ہماری بہنیں ہیں،ہمارے ماں باپ ہیں،وہاں عزت ہے۔وہاں آرام ہے،
۵۔دلشاد سوچتی تھی کہ شاید وہاں رحیم خان بھی ہو،یہ خیال آتے ہی اس کے جسم کا رواں دواں خون مچل اٹھتا اور وہ بے چین ہو جاتی کہ پر لگا کر اڑ جائے اور اپنے تھکے ہوئے،دکھتے ہوئے جسم پر اس ارضِ مقدس کی خاک مَل لے۔
۶۔ مغرب کا خوش آئند تصور دلشاد کے سینوں میں امیدوں کا نور پھیلاتا رہا۔
۷۔جوں جوں ریل مشرق سے مغرب کی طرف بڑھتی جاتی،مسافروں کی دھڑکنیں جاگ اٹھتیں،سینوں کے ارمان تازہ ہو جاتے اور کھڑکی سے ہاتھ نکال کر اس ہوا کو چھونے کی کوشش کرتے جو مغرب کی سمت سے آ رہی تھی۔
۸۔جیسے جیسے گاڑی ایک اسٹیشن سے آگے نکلتی تو عورتوں کے چہروں پر زندگی کے بند کھلنے لگتے،خاک میں سوئے نغمے بیدار ہونے لگتے،وہ گنگنانے لگتیں،کسی نے بالوں میں کنگھی کی تو کسی نے دوپٹہ کے ساتھ دانتوں کو صاف کیا،کوئی کپڑے جھاڑنے لگی،کسی نے بچوں کو لوریاں سنائیں،مل کر گیت گانے لگیں۔’’اے کالی کملے والے ،میں تیری یثرب نگری میں آئی ہوں/مجھے اپنی کملی میں چھپا لے،اپنے پاؤں کہ خاک بنا لے۔۔‘‘
ٹرین مغرب (لاہور) پہنچ چکی ہے۔مسلمان اپنے تصور جو مذکورہ بیان ہوا ہے،کے ساتھ ٹرین سے اتر چکے ہیں۔دلشاد کے پاس ایک نومولود بچی ہے،جس کا جنم ٹرین میں ہی ہوا ہے۔اب دوسرے حصے کی طرف آتے ہیں ،’یاخدا‘ کی روشنی میں اس صورت حال کو دیکھیتے ہیںجو مشرق سے مغرب ہجرت کرنے والوں کے ساتھ پیش آئی۔مغرب میں پہنچ کر کیا سلوک کیا ،ملاحظہ ہو:
۱۔دلشاد اٹھ کر کھڑکی کے سہارے بیٹھ گئی۔اس نے نقاہٹ سے چائے والے سے پوچھا،’کیا یہ مغرب ہے بھائی۔؟‘
چائے والے نے اپنے پیلے پیلے کریہہ المنظر دانت نکال کر ہنس کر پوچھا’’کیوں؟‘‘
کیا نماز پڑھو گی اس وقت!
۲۔اسٹیشن کی مہترانی جب ڈبے کے فرش دھو چکی تو اس نے اپنی محنت کے صلے میں دلشاد سے ایک چونی مانگی۔پھر مایوس ہو کر اس نے دلشاد کو چند غلیظ گالیاں دیں۔’سارا ڈبہ پلید کر دیا رانڈ نے‘،ذرا صبر نہ ہو سکا؟راستے میں ہی جَن بیٹھی__؟
۳۔پلیٹ فارم کے مناظر دیکھ کر دلشا کو خیال آیا شاید وہ رات بھر سوتی ہی رہی ہے اور مغرب کی سہانی منزل مقصود کو کہیں پیچھے چھوڑ آئی ہے۔
۴۔اسٹیشن پر دلشاددو لڑکوں(انور اور رشید) کو دیکھ کر خیال کرتی ہے ’شاید یہ خوب صورت جوان وہ مہربان بھائی ہوں‘جن کی کشش انبالہ کیمپ کی عورتوں کو ہر لمحہ اپنی طرف کھینچا کرتی تھی۔اس خیال سے دلشاد کے دل میں خوشی کی ایک لہر سی ناچی۔وہ تو مسکرانا بھی چاہتی تھی۔
۵۔نوجوانوں نے ایک دوسرے کو انور اور رشید ایسے ناموں سے پکارا تو دلشاد کو محسوس ہوا کہ وہ آبِ کوثر سے نہا رہی ہے۔یہ دو نام اس کے کانوں میں آبِ حیات سا ٹپکا گئے،اس کے مایوس اور غم دیدہ سینے میں امید و مسرت کی کرنیں پھوٹ اٹھیں۔اور اس نے ہاتھ کے اشارہ سے ان دو نوجوانوں کو بلایا۔۔۔نوجوان دلشاد کو اپنے ساتھ لے جانے پر آمادہ تھے لیکن جن انھیں دلشاد کی بچی نظر آئی تو وہ ’آخ تھو‘ کہتے ابکائی لیتے اور’لا حول لا قوۃ‘ کہتے جی متلاتے وہاں سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ریل کی پٹڑی کے پار ایک شلوار قمیض پہنے عورت کے تعاقب میں ہو گئے۔
۶۔پلیٹ فارم پر بزرگ نے دلشاد سے پوچھا کہ کیا تم مہاجر ہو تو دلشاد نے کہا:’جی نہیں!میرا نام دلشاد ہے۔‘
۷۔مہاجر خانے میں سب کے دم میں امید کی لو لگی ہوئی تھی کہ اب وہ اپنی پیاری سر زمین پر آ گئے ہیں،اس ارضِ مقدس کی خاک ان کے گلتے ہوئے ناسوروںپر مرہم لگ جائے گی،یہاں کا متبرک پانی ان کے رِستے ہوئے زخموں کو دھو ڈالے گا،یہاں کے سورج اور چاند کی تنویریں ان کے چاک دامن کو رفو کر دیں گی۔
۸۔ دلشاد میں کو مہاجر کیمپ پہنچی،دفتر سے کمبل لینے گے،کہا ہم پالے سے مر جائیں گے تو ملازم نے جواب دیا’ کوئی نہیں مرتے،صبح آٹھ بجے آنا‘۔
۹۔مہاجر کیمپ میں ایک خوش لباس آتا لوگوں کی کہانیاں سنتا،ایک دن اس نے دلشاد سے کہا کہ اد کا رحیم خان مل گیا ہے،دلشاد اس امید کے ساتھ گئی کہ وہ رحیم خان سے ملے گی‘لیکن وہ (مصطفیٰ خاں) اسے اپنے بنگلہ میں لے گیا ؛چند دنوں اپنی جنسی بھوک کا نشانہ بنا کر واپس اسے مہاجر کیمپ چھوڑ گیا۔
تیسرے حصے میںدلشاد کراچی میں چلی جاتی ہے،جہاں ناکامیوں اور نا امیدیوں کا منہ دیکھنے کے بعد عید گاہ میںجسم فروشی کے ذریعے اپن اور اپنی بچی کا پیٹ پالتی ے۔
مذکورہ بالا میں ’یا خدا‘ سے جملوں اور پیرا گراف کونقل کیاگیا ہے، پہلے حصے میں مغرب کا تصور جبکہ دوسرے حصے میں مغرب کے اس تصور کی حقیقت دکھائی گئی ہے۔سیاسی شعور اور سیاسی بیان دو الگ چیزیں ہیں،’سیاسی شعور‘ ہمیشہ مثبت ہوتا ہے،جس میں ملکی،قومی اور عوامی اجتماعی مفادات کو ذاتی ،انفرادی اور شخصی مفادات پر ترجیح دی جاتی ہے جبکہ’ سیاسی بیان‘ میں غالب رجحان منفیت (انفرادی ،ذاتی)کا ہوتا ہے،جس میں گمراہی زیادہ ہوتی ہے۔تقسیمِ ہند میں پنجاب کا بٹوارہ اس لیے زیادہ المیہ سے گزرا کہ وہاں ہجرت کا عمل زیادہ ہوا۔چوں کہ تقسیم مسلم آئیڈیالوجی کے زیر ہوئی اس لیے ’پاکستان‘ میں آنے والے مسلمانوں کے سامنے پاکستان ’پاک زمین‘ تھی۔مشرقی پنجاب سے مغربی پنجاب جو مسلمان ہجرت کر کے آئے وہ صرف جان بچا کر نہیں آ رہے تھے بلکہ وہ ایک ایسی زمین کی طرف جا رہے تھے جو اسم با مسمیٰ تھی۔فسادات میں مشرقی پنجاب سے مسلمانوں کا نکلنا ناگزیر تھا ،تاہم وہ جس نئی مملکت خداداد کی طرف جا رہے تھے ان کے پیش نظر وہ مقدس سرزمین تھی،جہاں پرُامن زندگی اور آزاد زندگی گزارنے کا موقع انھیں ملنے جا رہا تھا۔مغرب ان کے لیے بھائیوں،بہنوں اور اپنوں کی سر زمین ،وہ ارضِ مقدس جس کی خاک ؛خاکِ شفا اور پانی آبِ حیات تھا۔مغرب ان کے لیے امن،سلامتی،تحفظ اور آزادی کی جگہ تھی۔یہ حقیقت مشرق سے مغرب ہجرت کرنے کے بعد ان پہ کھلی کہ جس مغرب کا تصور وہ لے کر آئے، وہاںتو صورت حال بالکل مختلف ہے۔ مغرب میں ان سے پوچھا گیاتم کون ہو؟تم کیا ہو؟تمھارے جیب میں پیسے ہیں؟تمھارے جسم میں تازگی ہے؟ جن لڑکوں کو بھائی سمجھا گیا وہ ہوس کا شکار ہوئے،جن بزرگوں کو ماں باپ سمجھا گیا وہ طعنہ دینے لگے،جن کو اپنا ہمدرد سمجھا گیا وہ کئی دن تک جنسی استحصال کرتے رہے اور جس مملکت امن،سکون اور تحفظ کی سرزمین سمجھا گیاوہ ان کے لیے وبال جان بن گئی(مہاجر کیمپ میں سردی کی رات انتظامیہ کی طرف سے لحاف نہ ملنے پر اموات واقع ہوئیں اور دلشاد کے ساتھ کمبل مانگنے پر سٹور بابو کا رویہ)،اور جو ارضِ مقدس سمجھی گئی وہ جسم فروشی کے لیے مجبوراً استعمال ہوئی۔اس مسئلے کو مسلم،غیرمسلم اور جغرافیائی حدود سے ماورا ہو کر دیکھا جائے’انسانیت‘ پر سوال اٹھ جاتا ہے۔انسانی بے حرمتی،بے توقیری،بے حسی،بے د ردی اور جنسی استحصال کی مثال کہیں اور نہیں ملے گی جو ’تقسیمِ ہند‘ میں ہوئی۔ مشرق سے مغرب ہجرت کرنے والوں کو جس دھوکے کا سامنا کرنا پڑا اس کی ایک مثال’یاخدا‘ میں دیکھی جا سکتی ہے۔وہ مسلم ہو یا غیر مسلم وہ مشرقی پنجاب کا سکھ ہو یا مغربی پنجاب کا مسلمان جس سے جتنا ہو سکا ،اس نے دوسرے کیا مالی،جانی اور عزت کا استحصال کیا۔دورانِ قرأت احساس ہوتا ہے کہ مشرقی پنجاب والے مسلمانوں کے ساتھ جو مغربی پنجاب ہجرت کر کے آئے ،دھوکہ ہو گیا جس مغرب کے تصور کے ساتھ وہ مغرب آئے انھیں اس کے برعکس حالات کا سامنا کرنا پڑا،اور آئندہ ان کی زندگی ذلت سے گزری۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post