کلام شبلی کے اعلام واشخاص : ڈاکٹرمحمدالیاس الاعظمی

(تعارف وتفہیم اردوکلیات کے حوالہ سے)

علامہ شبلی [۱۸۵۷-۱۹۱۴ء]کی اردوشاعری بلکہ’’ کلیات شبلی‘‘ کادامن بقامت بہت وسیع نہیں ہے ، تاہم اپنی اہمیت ،افادیت اورمعنویت کے لحاظ سے اس کادائرہ محدودبھی نہیں۔ مذہبی اوراخلاقی نظموں کی ایجاد و اختراع نے تو علامہ شبلی کی بطورشاعر بھی ہردلعزیزی میںاضافہ کردیاتھا اوربلا شبہہ تھی بھی وہ اردو میںایک نئی اور منفرد آواز۔پھردورآخر میں ہلالی نظموںنے جو کبھی اصلی اور کبھی فرضی’’ کشاف وصاف‘‘ کے ناموں سے شائع ہوئیں وہ زیادہ پڑھی گئیں اور زیادہ اثرانگیز ثابت ہوئیں۔ اس پر بہت کچھ لکھاجاچکاہے اورآئندہ بھی لکھاجاتا رہے گا۔ اور جب جب عالم اسلام پر ظلم وجبر کابازارگرم ہو گایاناانصافی سے کام لیاجائے گاشبلی کی شاعری بالخصوص شہرآشوب اسلام،قطعات اوراردوقصائدلوگوںکے وردزبان ہوںگے۔پروفیسر آل احمد سرور[۱۹۱۱-۲۰۰۲ء] نے علامہ شبلی کی شاعری کوکبھی کبھی کی موج قراردیاہے ۔خودعلامہ شبلی بھی جذبات کی شدت ہی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔لیکن موجوںکی طغیانی اورساحل نامراد سے آآکے ٹکرانے کی کیفیت اوران کے اثر کو کم محسوس کیاگیا۔ میراخیال ہے آیندہ اس کی اثرآفرینی کو اور زیادہ شدت سے محسوس کیاجائے گا۔
علامہ شبلی کی شاعری کو اس کے جواوصاف استحکام بخشتے ہیں یالطف واثرمیںاضافہ کرتے ہیںان میںایک اہم پہلواعلام واشخاص کاذکرخاص طورپر لائق بیان ہے ،جوان کی شاعری کاایک وصف اوراہم حصہ ہیں۔متعدد علمی ،ادبی، تاریخی، سائنسی ،سیاسی اورتعلیمی شخصیات ہیں جن کاذکر ان کی شاعری میں آگیاہے۔ جن کی خوداپنی تاریخی اورتہذیبی حیثیت مسلم ہے۔ اس میں سب سے بڑی ہستی توآقائے نامدار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کی ہے۔ اورجہاںان کا ذکر ہو وہ جگہ روشن نہ ہو،یہ ناممکنات میںسے ہے۔
علامہ شبلی کی شاعری پر بہت کچھ لکھاگیاہے ۔بلکہ ان کی اردوشاعری سے نقادوںنے خاصی زیادہ دلچسپی لی ہے۔یہی وجہ ہے کہ عہدشبلی سے آج تک سیکڑوںمضامین کے علاوہ متعدد مستقل کتابیںاورتحقیقی مقالے بھی لکھے گئے ہیں۔ مگرابتک ان اعلام واشخاص کی طرف توجہ نہیں کی گئی اورنہ ان کے حوالہ سے علامہ شبلی کی شاعری کامطالعہ وتجزیہ پیش کیاگیا۔زیرنظرمقالہ میں انہیں’’اعلام واشخاص‘‘ کو مطالعے کا موضوع قراردیا گیا ہے۔ اس میں ان کے حالات کے اجمالی ذکرکے ساتھ علامہ شبلی سے ان کی دلچسپی اوراس کے اسباب پربھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ موقع کی مناسبت سے اس شاعرانہ تلمیح کے اسباب و علل بھی واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اس مطالعہ و تجزیہ کی ترتیب الف بائی ہے۔ البتہ آخرمیں’’ کلیات شبلی اردو‘‘ کے وہ صفحہ نمبردیدئے گئے ہیں جہاں جہاںکلیات میںان کاذکرآیاہے۔’’کلیات شبلی اردو‘‘کے ملک و بیرون ملک سے متعدد ایڈیشن شائع ہوئے ہیں۔اس میںجس ایڈیشن کاحوالہ دیاگیاہے اسے دارالمصنّفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ نے ۲۰۱۲ء میںخصوصی اہتمام کے ساتھ شائع کیا ہے اور اس کی ضخامت بھی نسبتاًدیگر شائع ہونے والے تمام ایڈیشن سے زیادہ ہے۔
یہاںاس تاسف کااظہاربے جانہ ہوگاکہ ایک صدی گذر جانے کے باوجودکلیات شبلی اردوکونہ ابتک ایڈٹ کیااورنہ اس کی فرہنگ کی طرف توجہ دی گئی۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم:
حضورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم[ ۵۷۱-۶۳۲ء]سے علامہ شبلی کو بے پایاں عقیدت تھی۔ نظم و نثر دونوںمیںانہوں نے شہنشاہ کونین کے دربارمیں اخلاص وعقیدت کانذرانہ پیش کیا ہے۔تاریخ بدء الاسلام ، سیرۃالنبی ؐ اورمتعدد نظموںسے ان کے عاشقانہ جذبات عیاں ہوکر سامنے آتے ہیں۔ ان کی دینی اورنعتیہ شاعری بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے۔’’ کلیات شبلی اردو‘‘ اگرچہ ایک مختصرسا مجموعہ ہے، تاہم اس میں غزل کے سواتقریباً تمام اصناف سخن کے بہتر سے بہتر نمونے مل جاتے ہیں۔حب نبویؐ کاتوقدم قدم پراظہارواحساس موجودہے۔ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکرمبارک کے لئے انہوںنے اپنی شاعری میں درج ذیل الفاظ استعمال کئے ہیں:
حضرت والا،حضور،خیرالانام، رسول،رسول خدا،رسول عرب،رسول عربی، سرور عالم،شہنشاہ امم، محمدؐوغیرہ۔
ظاہرہے یہ تمام نام ونسبت اورالقاب ضرورت شعری کے ماتحت بیان ہوئے ہیں اور سچ تویہ ہے کہ بڑے برمحل استعمال ہوئے ہیں۔ایک واقعہ یہ بھی ہے کہ’’ کلیات شبلی اردو‘‘ میں مذکور تمام اعلام میںاگرکسی ہستی کاسب سے زیادہ ذکر آیاہے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدس ہے۔ان کے بعد خلفائے راشدین کاذکرمبارک ہے۔اس میںبھی سب سے زیادہ فاروق اعظم ؓ کے کوکبہ جلال کی جلوہ گری ہے۔
کلیات شبلی اردوص:- ۸۰- ۸۱-۸۲-۸۳-۸۵-۸۶-۸۷-۹۰- ۹۱- ۹۹-۱۶۵- ۲۰۵

آغاخاں۔سر:
سرآغاسلطان محمدشاہ معروف بہ آغاخاںثالث[۱۸۷۷-۱۹۵۷ء]اسماعیلی بہرہ تھے، تاہم مسلمانوںکے بڑے بہی خواہ تھے۔ان کاشمار ملک کے مدبرین اور سنجیدہ اشخاص میںہوتا تھا۔ حکومت برطانیہ نے انہیںہزہائی نس کاخطاب دیاتھا۔ملکہ وکٹوریہ،قیصرجرمنی اورعثمانی خلیفہ سلطان عبدالحمیدسے ان کے دوستانہ مراسم تھے۔مسلمانوںکے لئے جدا گانہ انتخاب،ایم اے او کالج علی گڑھ اور اردوزبان کے لئے جدوجہد ان کے لائق ذکرکارنامے ہیں۔ علامہ شبلی سے ان کے مراسم تھے۔ علامہ کی خواہش پروہ۳؍فروری۱۹۱۰ء کو ندوہ کے معائنہ کے لئے تشریف لائے ۔ مفید مشورے دئے اورندوہ کے لئے پانچ سوروپئے سالانہ کی امدادمنظور کی۔علامہ شبلی نے ان کی آمدپر ایک نہایت شاندارجلسہ منعقدکیا،جس میںعمائدین شہرشریک تھے۔مگران کے ایک مضمون پر علامہ شبلی نے اپنی شاعری میں ان پرسخت تنقیدکی ہے۔دراصل ہوایہ کہ جنگ بلقان کے زمانہ میںسر آغا خان نے ایک مضمون لکھ کر ترکوںکویہ مشورہ دیاکہ وہ یورپ چھوڑکر ایشیا میں جابسیں، تاکہ وہ یورپ کے حملوں سے محفوظ رہیں ۔ یہ بات مسلمانوںکو سخت ناگوارگذری۔چنانچہ مسلمانوں نے سخت ناگواری کااظہارکیا۔علامہ شبلی کوبھی ان کایہ خیال ناگوارہوااورانہوںنے اپنی ایک نظم ’’سر آغاخان کاخطاب ترکوںسے‘‘میں طنزیہ انداز میں ان کا جواب دیا ہے۔
کلیات شبلی اردوص:-۱۲۵

آفتاب احمد۔صاحبزادہ:
صاحبزادہ آفتاب احمدخاں[۱۸۶۷-۱۹۳۰ء] مدرسۃ العلوم علی گڑھ کے ابتدائی طلبہ میںتھے۔ یہاںکے بعد۱۸۹۱ء میں بیرسٹری کے لئے لنڈن گئے ۔۱۸۹۳ء میںبیرسٹرہوئے۔ ایک سال مزیدرک کر تاریخ میںسندلی۔سرسیداحمدخاںنے انہیں مدرسۃالعلوم کاٹرسٹی مقررکیا۔ ان کامسلم لیگ سے تعلق تھا۔جس کے وہ نہ صرف رکن تھے بلکہ اس کی دستورساز کمیٹی کے بھی ارکان میںبھی شامل تھے۔وہ یوپی قانون سازکونسل اور اسٹیٹ کونسل آف انڈیا کے بھی رکن رہے۔۱۹۲۲ء میں مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلرمنتخب ہوئے۔آل انڈیامسلم ایجوکیشنل کانفرنس کے بھی ذمہ داررہے۔
علامہ شبلی کے زمانہ قیام علی گڑھ میںوہ کالج کے طالب علم تھے ۔باوجوداس کے علامہ شبلی سے ان کے مراسم بہت اچھے نہیںرہے۔ایک وجہ اس کی یہ ہوسکتی ہے کہ علامہ شبلی کانگریس کے حامی تھے اور صاحبزادہ لیگی تھے۔ندوہ میںعلامہ شبلی کی شدید مخالفت ہوئی اور معاملہ یہاں تک پہنچاکہ طلبہ نے اسٹرائک کردی اورعلامہ شبلی نے استعفا دیدیا۔ تصفیہ ومصالحت کے لئے دہلی میںحکیم اجمل خاں[۱۸۶۸-۱۹۲۷ء] کی قیادت میںایک جلسہ منعقدہوا۔اس میں صاحبزادہ آفتاب احمد نے مخالفین شبلی کی ہم نوائی کی اوران کی ہمدردی میںتقریرکی۔پھریہ سازش بھی کی کہ ایک ایسی معائنہ کمیٹی تشکیل دی جوعلامہ شبلی کے خلاف اور مخالفین شبلی کے حق میں رپورٹ تیارکرے تاکہ ریاستوںنے ندوہ کی جوامدادیںخلفشار کی وجہ سے روک دی ہیںوہ جاری ہوجائیں۔ علامہ شبلی نے اپنی دونظموں(جنگ زرگری حب علیؓ یابغض معاویہؓ ۔اور ندوۃالعلماء اورننگ معائینہ اغیار) میں ان پر سخت طنزوتعریض کی ہیں۔ جو بڑی کاٹ دارہیں ۔ اصلاًوہ علامہ شبلی کے آنسو ہیںکہ اب وہ لوگ ندوہ کے معائنہ کے لئے آتے ہیں جنہیں کبھی ندوہ کے نام سے بھی اجتناب تھا۔ان نظموںکے پڑھنے کے بعدہی ان کی اثرآفرینی اور علامہ شبلی کے جذبات کااحساس ممکن ہے ۔ یہاںدوتین متفرق اشعار نقل کئے جاتے ہیں:

کیا لطف ہے کہ حامی ندوہ ہیں اب وہ لوگ

جن کو کہ اس کے نام سے بھی اجتناب تھا

وہ لوگ جن کی رائے میں یہ ندوہ غریب

اک بیہدہ خیال تھا یا آنکہ خواب تھا

حیرت یہ ہے کہ مجمع دہلی میں یہ گروہ

ندوہ کے حل وعقد کا نائب مناب تھا

سیارگان چرخ علی گڑھ تھے پیش پیش

جن میں کوئی قمر تھا کوئی آفتاب تھا

سرشار ہے حمایت ندوہ میں وہ گروہ

جس کو کہ اس کے ذکر سے بھی اجتناب تھا

یہ اختلاف اپنی جگہ مگرعلامہ شبلی نے جس شخص کے بارے جو شعر کہہ دیاہے وہ بڑا لاجواب ہے اورابتک اس کی کوئی کاٹ نہیں ہوسکی۔
کلیات شبلی اردوص:- ۱۸۸-۱۸۹
ابن زبیرؓ۔حضرت:
حضرت عبداللہ ابن زبیرؓ [۶۲۴-۶۹۲ء]کے والدحضرت زبیرؓبن عوام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پھوپھیرے بھائی تھے۔ان کی والدہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی صاحبزادی تھیں۔ حضرت عبداللہ ابن زبیرؓ مسند خلافت پر متمکن ہوئے تو اموی حکمراںعبدالملک بن مروان [۶۴۶ -۷۰۵ء] نے ججاج بن یوسف [۶۶۱- ۷۱۴ء] کو ان سے بیعت لینے کے لئے بھیجا اور قبول نہ کرنے کی صورت میں اعلان جنگ تھا ۔ چنانچہ نتیجہ یہ ہواکہ حضرت عبداللہ ابن زبیرؓ کو خانہ کعبہ میں محصورہوناپڑااور پھرفوج بے دیںنے کعبہ ملت کامحاصرہ کرلیا۔ آخر کارحضرت ابن زبیرؓ اپنی والدہ حضرت اسماءؓ بنت ابی بکرؓکی خدمت میںگئے۔اور

دیکھا کہ کوئی ناصر و یاور نہ رہا

ماں کی خدمت میں گئے ابن زبیرؓ آخر کار

جا کے کی عرض کہ اے اخت حریم نبوی

نظر آتے نہیں اب حرمت دیں کے آثار

اب فرمائیے اب آپ کا ارشاد ہے کیا

کہ میں ہوں آپ کا اک بندہ فرماں بردار

صلح کرلوں کہ چلا جائوں حرم سے باہر

یا یہیں رہ کے اسی خاک پہ ہو جائوں نثار

بولیں وہ پردہ نشیں حرم سر عفاف

حق پہ گر تو ہے تو پھر صلح ہے مستوجب عار

یہ زمیں ہے وہی قربان گہہ اسماعیل

فدیہ نفس ہے خود دین خلیلی کا شعار

یہاں اگرچہ حضرت ابن زبیرؓ کاذکرروشن ہوکر سامنے آگیاہے، مگر علامہ شبلی نے اپنی نظموں کاایک ایسا سلسلہ شروع کیاتھاجس میں’’خواتین عرب کاثبات واستقلال‘‘ دکھاناتھا۔ یہ نظم اسی سلسلہ کی ایک کاوش ہے۔اس میں بھی اصلاًحضرت ابن زبیرؓکی والدہ حضرت اسماء کی جرات اوران کا استقلال دکھانا مقصود ہے۔ حضرت عبداللہ ابن زبیرؓوالدہ سے اجازت ملنے کے بعد میدان کارزارمیں آئے اورپھر جنگ کرتے ہوئے جام شہادت نوش کیا۔ اس کے آگے کا منظر علامہ شبلی کی زبانی ملاحظہ فرمائیں:

لاش منگوا کے جو حجاج نے دیکھی تو کہا

اس کو سولی پہ چڑھائو کہ یہ تھا قابل دار

لاش لٹکی رہی سولی پہ کئی دن لیکن

ان کی ماں نے نہ کیا رنج والم کااظہار

اتفاقات سے اک دن جو ادھر جانکلیں

دیکھ کر لاش کو بے ساختہ بولیں یک بار

ہوچکی دیر کہ منبر پہ کھڑا ہے یہ خطیب

اپنے مرکب سے اترتا نہیں اب بھی یہ سوار

یہ واقعہ دوبارمنظوم کیاگیاہے اور دونوںتخلیقات ایک ساتھ کلیات میںدرج ہیں۔ علامہ شبلی نے دونوں کو علاحدہ علاحدہ شعری رنگ وآہنگ دینے کی شعوری کوشش کی ہے، مگرچونکہ واقعہ ایک ہی تھا ،شاعرکے جذبات بھی ایک ہی تھے اس لئے قابل محسوس امتیازپیدا نہ ہوسکا۔
کلیات شبلی اردوص:- ۱۱۵-۱۱۷

ابن عمرؓ۔حضرت:
حضرت عبداللہ ابن عمرؓ [۶۱۰-۶۹۳ء] جلیل القدرصحابی ؐ اورحضرت فاروق اعظمؓ کے فرزند ہیں۔ علامہ شبلی کی ایک بہت مشہورنظم ’’عدل فاروقی کاایک نمونہ‘‘ہے۔اس میں حضرت عبداللہ ابن عمرؓ کاذکرخیرآیاہے۔ ایک بارحضرت فاروق اعظمؓ نے منبرسے صحابہ سے مخاطب ہوکر کہا کہ میں اگر تمہیں حکم دوںتوکیا اس پرعمل کروگے ۔ ایک صحابیؓ نے اٹھ کر کہاکہ ہم تسلیم نہیں کریںگے، اس لئے کہ ہمیں آپ کے عدل میں فتور نظر آرہا ہے۔مال غنیمت کی چادر سب کے حصہ میںایک آئی تھی اور آپ کے جسم پہ جولباس نظرآرہاہے یہ اسی لوٹ کی چادر سے بناہوگا، کیونکہ ایک چادر میں آپ کاجسم مستور نہ ہوگا۔ آگے کاواقعہ علامہ شبلی کے الفاظ میں:

اپنے فرزند سے فاروق معظمؓ نے کہا

تم کو ہے حالت اصلی کی حقیقت پہ عبور

تمہیں دے سکتے ہو اس کا مری جانب سے جواب

کہ نہ پکڑے مجھے محشر میں مرا رب غفور

بولے یہ ابن عمرؓ سب سے مخاطب ہوکر

اس میں کچھ والد ماجد کا نہیں جرم و قصور

ایک چادر میں جو پورا نہ ہوا ان کا لباس

کرسکی اس کو گوارا نہ مری طبع غیور

اپنے حصہ کی بھی میں نے انہیں چادر دے دی

واقعہ کی یہ حقیقت ہے کہ جو تھی مستور

نکتہ چیں نے یہ کہا اٹھ کے کہ ہاں اے فاروقؓ

حکم دے ہم کوکہ اب ہم اسے مانیں گے ضرور

کلیات شبلی اردوص:-۹۷

ابن مروان:
اموی حکمراں عبدالملک بن مروان[۶۴۶-۷۰۵ء]۶۸۵ء میں سریرآئے سلطنت ہوا۔اس کے مخالف بہت تھے، مگر شعورودانش سے کام لے کراپنی راہ کے ایک ایک کانٹے اس نے صاف کردئے اور بیس برس تک حکمرانی کی۔ یہ اموی حکمرانوںمیںسب سے زیادہ پڑھا لکھا تھا۔اس نے حضرت عبداللہ ابن زبیرؓ کی خلافت تسلیم نہیںکی اور حجاج کو بیعت لینے کے لئے بھیجا۔بقیہ واقعہ حضرت ابن زبیرؓ کے ذکرمیںآچکاہے۔

مسند آرائے خلافت جو ہوئے ابن زبیر

سب نے بیعت کیلئے ہاتھ بڑھائے یک بار

ابن مروان نے حجاج کو بھیجا پے جنگ

جس کی تقدیر میں مرغان حرم کا تھا شکار

کلیات شبلی اردوص:- ۱۱۵

ابوبکر الصدیقؓ۔حضرت
تاریخ اسلام کی انتہائی اہم اوربرگزیدہ شخصیت، خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ ؓ[۵۷۳-۶۳۴ء] اللہ کے رسول ؐ کے ابتدائی اور سچے جاںنثاروںمیںسے ایک تھے۔ام المومنین حضرت عائشہ ؓ آپ ہی کی صاحبزادی تھیں۔یہ مردوںمیںسب سے پہلے اسلام لائے۔ ہجرت مدینہ میںآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم سفرتھے۔متعدد جنگوں میں حصہ لیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعدآپ ان کے جانشین اورمسلمانوںکے خلیفہ منتخب ہوئے۔ دوسال تین ماہ اور نو دن اس منصب جلیلہ پرفائزرہے۔محض دوسال کی مدت میں مسیلمہ کذاب سے جہاد کیا اور یہی نہیں سب سے پہلے انہیں نے اسلام کے چراغ کودائرہ عرب سے باہر روشن کیا۔
علامہ شبلی کی ایک نظم ’’ہجرت نبوی ؐ ‘‘ہے۔ظاہرحضرت ابوبکر صدیقؓ ہجرت میں ساتھ تھے، اس لئے نظم میںان کاذکرآنالازم تھا،ورنہ نظم ادھوری رہتی۔

اک فقط حضرت بوبکر تھے ہمراہ رکاب

ان کی اخلاص شعاری تھی جو منظور نظر

رات بھر چلتے تھے دن کو کہیں چھپ رہتے تھے

کہ کہیں دیکھ نہ پائے کوئی آمادئہ شر

کلیات شبلی اردوص :- ۸۰- ۱۰۱

ابوسفیانؓ۔حضرت
علامہ شبلی کی ایک نظم بعنوان’’ایک خاتون کی آزادانہ گستاخی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاحلم اورعفو‘‘ہے۔یہ نظم اصلاً نعت کے زمرے میںآجاتی ہے ۔اس میںہند زوجہ حضرت ابوسفیان ؓ کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بے باکانہ بلکہ کسی قدر گستاخانہ انداز میں گفتگو کا ذکر ہے۔ علامہ شبلی نے دکھایاہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کمال درگذر کاایک روشن نمونہ تھے۔اسی میں حضرت ابوسفیانؓ کابھی ذکرآگیا ہے۔
کلیات شبلی اردوص: -۸۴

ارسطو
افلاطون کاشاگرداورسکندراعظم کااستاذارسطو[۳۸۴-۳۲۲ق،م] یونان کا نامور فلسفی ،مفکراور ماہر منطق تھا۔ علم طب میںبھی اسے مہارت حاصل تھی۔بقول شخصے ’’حیوانیات ، ریاضی، علم ہیئت، سیاسیات، مابعدالطبیعات اورعلم الاخلاق پر قدیم حکماء کے مابین وہ مستند اور صاحب الرائے عالم تسلیم کیاجاتاہے۔’’ ارسطو‘‘ کی ’’بوطیقا‘‘ سے توہرشخص واقف ہے۔ اس کے علاوہ بھی اس نے متعدد کتب ورسائل یادگار چھوڑے ہیں۔ الاخلاق، المعقولات، مابعدالطبیعہ، العبارہ، الب رہان، الجدل، الخطابہ، الشعر، النفس، الحیوان، الحس والمحسوس وغیرہ اس کی قیمتی یادگاریں ہیں۔
ارسطوکاذکر ہرپڑھا لکھا شخص موقع بموقع کرتا ہی رہتاہے۔ علامہ شبلی نے بھی فارسی کلام میںاس کا کئی جگہ ذکرکیاہے۔ البتہ اردوکلام میںمحض ایک ہی جگہ نام آیاہے۔وہ شعر اس کے استاذ افلاطون کے ضمن میں کیاجاچکاہے۔
کلیات شبلی اردوص : -۱۱۴

اسفندیار
ایرانی پہلوان اسفندیارجو حریف کوشکست دینے کے لئے آج تک معروف ہے۔ آج بھی جب کسی بہادر یا حریف مقابل کاذکرکیاجاتاہے تواسے رستم واسفندیارسے تشبیہ دی جاتی ہے۔علامہ شبلی گو علی گڑھ سے علاحدہ ہوچکے تھے تاہم ٹرسٹیزنے انہیںبھی مسلم یونیورسٹی فائونڈیشن کمیٹی کا رکن نامزدکیا۔چنانچہ انہوںنے فائونڈیشن کمیٹی کے اجلاسوںمیںشرکت کی۔ اسی طرح کے ایک اجلاس کی روداد انہوںنے منظوم کی ہے۔ جو کلیات میں’’یونیورسٹی فائونڈیشن کمیٹی کا اجلاس لکھنو‘‘ کے عنوان سے شامل ہے۔ یہ اجلاس ۲۸؍دسمبر۱۹۱۲ء کومنعقدہواتھا ۔اس میںاحراربھی شریک تھے ۔علامہ شبلی نے ان کی شعلہ بیانی اور ہنگامہ خیزی کا سماں باندھا ہے:

احرار کی صفوں کی صفیں ہیں جمی ہوئی

مجلس تمام عرصہ گہہ کارزار ہے

اسٹیج پر ہر ایک بپھرتا ہے اس طرح

گویا حریف رستم و اسفندیار ہے

ہاتھ اٹھ رہے ہیں یا علم فتح ہے بلند

چلتی ہوئی زبان ہے یا ذوالفقار ہے

کلیات شبلی اردوص : -۱۷۴

اسماعیل علیہ السلام۔حضرت
حضرت اسماعیل علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے صاحبزادے ، ان کا ذکر قرآن مجید میںآیاہے۔ ذبیح اللہ ان کالقب ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ خانہ کعبہ کی تعمیرمیںیہ بھی شریک تھے۔ اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کوجب آزمائش کے لئے اللہ کی راہ میں اپنی سب سے قیمتی متاع قربان کرنے کاحکم دیاتوحضرت اسماعیل علیہ السلام قربان ہونے کے لئے فوراً تیار ہوگئے تھے۔
علامہ شبلی کی نظم’’خواتین عرب کاثبات واستقلال‘‘ میں دونوںباپ بیٹوں کاذکرایک شعر میںبیان ہواہے۔ اس نظم میںحضرت ابن زبیرؓ اورابن مروان کے درمیان ہونے والی جنگ کاذکرہے۔شعریہ ہے:

یہ زمیں ہے وہی قربان گہہ اسماعیل

فدیہ نفس ہے خود دین خلیلی کا شعار

کلیات شبلی اردوص: -۱۱۶

افلاطون
افلاطون [ ۴۲۸-۳۴۸ق م]یونان کامشہور اورنامور فلسفی ،متعدد علوم فلسفہ، ریاضی ، منطق ، فلکیات،طبیعات اور مابعدالطبیعات میں یدطولیٰ رکھتاتھااوراس نے ان علوم میں تاریخ ساز کارنامے انجام دئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ سیکڑوںبرس سے وہ فکرانسانی پراثرانداز ہے۔ اس نے فلسفہ کے باقاعدہ مطالعہ کے لئے ایتھنز میں ایک اکیڈمی قائم کی تھی۔جہاںوہ لکچردیا کرتا تھا۔ ان علوم وافکار میںاس کی عظمت کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ ارسطو جیسانامور فلسفی اس کا شاگرد ہے۔جس نے استاذکے مکالمات کی تشریح وتفسیرکی۔ ’’مکالمات افلاطون‘‘ اور ’’جمہوریت‘‘ اس کی مشہور تصنیفات ہیں۔ ان کتابوںکااردومیںبھی ترجمہ ہوچکاہے۔
علامہ شبلی اپنی نظم ’’مذہب یاسیاست‘‘ میں کہتے ہیں:

نام لیتے تھے ارسطو کا ادب سے ہر چند

تھے فلاطون الٰہی کے بھی شکر گذار

جانتے تھے مگر اس بات کو بھی اہل نظر

کہ حریفوں کو نہیں انجمن خاص میں بار

کلیات شبلی اردوص :- ۱۱۴

اکبر۔ جلال الدین محمد
مغل بادشاہ ابوالفتح جلال الدین محمداکبر [۱۵۴۲-۱۶۰۵ء]جس کاشمار دنیا کے عظیم ترین اورطاقت ور بادشاہوںمیں ہوتا ہے۔وہ ۱۴؍سال کی عمرمیں تخت نشیںہوااورتقریباً پچاس برس تک ہندوستان پرکشورکشائی کی۔علامہ شبلی نے اپنی نظم ’’ہماراطرزحکومت‘‘ میں اس کا ذکر کیا ہے۔ اس نظم میں جہاںگیرکی شادی کے موقع پراس کی دلہن جوایک غیرمسلم راجہ کی صاحبزادی تھی، اس کی ڈولی خوداکبر اور جہاںگیر اپنے کاندھوںپرلے آئے تھے۔اس واقعہ کو علامہ شبلی نے عطرمحبت کی شمیم انگیزی سے تعبیرکیا ہے۔

یہی ہیں وہ شمیم انگیزیاں عطر محبت کی

کہ جن سے بوستان ہند برسوں تک معطر تھا

کلیات شبلی اردوص : -۱۰۲

امیرعلی۔ سید
سیدامیرعلی [۱۸۴۹-۱۹۱۸ء] ذی علم اوربڑے بیدارمغزمسلمان تھے۔یورپ میں اسلام اور مسلمانوںکی ایک شناخت بن گئے تھے۔انگریزی زبان میں کئی کتابیں لکھیں،جس میں ’’اسپرٹ آف اسلام‘‘ بے حدمقبول ہوئی۔ان کے بعض خیالات سے اہل علم کواختلاف بھی رہا، تاہم ان کے علم وفضل کے سب معترف تھے۔علامہ شبلی نے ان کومخاطب کرکے ایک نظم کہی ہے ، جو ’’کلیات شبلی‘‘اردو میںشامل ہے۔اس کاعنوان ’’خطاب بہ رائٹ آنریبل سیدامیرعلی‘‘ہے۔ مولانا سید سلیمان ندوی نے اس پریہ نوٹ لکھاہے کہ
’’۱۹۱۲ء میںمسلم لیگ نے اپنے اہم اجلاس کے لئے جس میںاحرار کی دراندازی کاخوف تھا، آنریبل سیدامیر علی کو صدارت کے لئے نامزدکیا تھا، انہوںنے منظور کیا، مگرعین وقت پر اس لئے انکار کیاکہ لیگ سفرخرچ کی رقم مہیانہ کرسکی۔‘‘ ( کلیات شبلی اردو،ص۱۴۴،طبع جدید۲۰۱۲ء)
علامہ شبلی نے اپنی نظم میں اس صورت حال پرجو تنقیدیںکی ہیں،وہ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔ خاص طورپراس میں جونکتہ آفرینی کی ہے اورجوبات سے بات پیداکی ہے ۔شاعری میں یہ طنز وتعریض بس انہی کاحق تھا۔
کلیات شبلی اردوص : -۱۴۴

امیرمعاویہؓ۔حضرت
حضرت امیرمعاویہؓ بڑے جلیل القدر صحابی رسول ؐہیں۔ان کی اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے درمیان جومعرکہ آرائی ہوئی وہ تاریخ اسلام کاایک بدنماباب ہے۔ان واقعات کاذکر بھی گذشتہ ۱۴۰۰ برسوںکے درمیان اس طرح رہاکہ وہ ایک محاورہ ’’حب علیؓ یا بغض معاویہؓ ۔‘‘ بن گیا۔علامہ شبلی نے بھی اس محاورہ کا استعمال کیاہے۔’’کلیات شبلی‘‘ میںشامل ان کی نظم کاعنوان ’’جنگ زرگری، حب علی ؓ یا بغض معاویہؓ ‘‘ہے۔
عہدحاضرکے سلگتے ہوئے مسائل پر حزم واحتیاط سے شاعری کرنے کاجو طنزیہ ہنر علامہ شبلی کے یہاںپاجاتاہے، وہ ان کے معاصرین میںغالباً کسی کے حصہ میںنہیں آیا۔اس نظم میںبھی ان کی مہارت کے متعدد جلوے پوشیدہ ہیں۔
کلیات شبلی اردوص : -۱۸۸

اندر
ہندئوںکے عقیدے کے مطابق اندردیوتائوںکے راجہ یعنی بادشاہ کانام ہے۔ علامہ شبلی نے قومی مسدس جس کاعنوان ’’تماشائے عبرت‘‘ہے میںاندرکالفظ استعمال کیا ہے ۔ اس مسدس کوعلامہ شبلی نے علی گڑھ کے قومی تھیٹر میں پیش کیاتھا۔جس میںسرسیداورعلی گڑھ تحریک کے دوسرے بزرگوںنے بھی حصہ لیاتھا۔قومی مسدس کاوہ تمہیدی شعر یہ ہے۔

اس سبھامیں بھی نظر آئے گا اندر کوئی

مسخرا بن کے بھی آئے مقرر کوئی

اس سے یہ نہیںمعلوم ہوتا کہ یہ کسی راجہ کاکردارہے۔
کلیات شبلی اردوص : -۶۱

بلالؓ۔حضرت
حضرت بلال ؓ بن رباح [م:۲۰ھ]کاتاریخ اسلام میںبہت بلندمقام ومرتبہ ہے۔ وہ صحابی رسول ؐاور مسجدنبویؐ کے موذن تھے۔تمام صحابہ کرام ان کا بہت اکرام کرتے تھے۔اسلام سے پہلے امیہ بن خلف کے غلام تھے،جو بڑی سخت اذیتیںدیتاتھا۔ حضرت ابوبکرؓصدیق نے انہیں آزاد کرایا۔سفرجہادمیںقسطنطنیہ کے پاس وفات پائی اور وہیں ترکی میں مدفون ہیں۔
علامہ شبلی کی ایک بہت مشہورنظم ہے ’’مساوات اسلام‘‘ ۔ واقعتا یہ بہت معرکے کی نظم ہے۔ اس میںانہوںنے مساوات اسلامی بیان کرنے کے میںبطورمثال حضرت بلالؓ کے نکاح کے واقعہ کو منظوم کرکے پیش کیاہے ۔ملاحظہ ہو:

بارگاہ نبویؐ کے جو موذن تھے بلالؓ

کرچکے تھے جو غلامی میں کئی سال بسر

جب یہ چاہا کہ کریں عقد مدینہ میں کہیں

جاکے انصار و مہاجر سے کہا یہ کھل کر

میں غلام حبشی اور حبشی زادہ بھی ہوں

یہ بھی سن لو کہ مرے پاس نہیں دولت و زر

ان فضائل پہ مجھے خواہش تزویج بھی ہے

ہے کوئی جس کو نہ ہو میری قرابت سے حذر

گردنیں جھک کے یہ کہتی تھیں کہ دل سے منظور

جس طرف اس حبشی زادہ کی اٹھتی تھی نظر

عہد فاروقی میں جس دن کہ ہوئی ان کی وفات

یہ کہا حضرت فاروقؓ نے بادیدئہ تر

اٹھ گیا آج زمانے سے ہماراآقا

اٹھ گیا آج نقیب پیمبرؐ

کلیات شبلی اردوص : – ۹۱

بوعلی سینا
شیخ الرئیس ابوعلی الحسین ابن عبداللہ ابن سینا [۹۸۰-۱۰۳۷ء] جوابن سیناکے نام سے مشہور ہیں۔ طب وحکمت کے میدان میں یکتائے روزگارتھے۔’’ القانون فی الطب‘‘ ان کی شہرئہ آفاق تصنیف ہے، جس سے بے شمارلوگوںنے استفادہ کیا۔ حتیٰ یہ کتاب ایک مدت تک یورپ کے نصاب درس میںشامل رہی۔’’الادویہ‘‘ ان کی دوسری معروف کتاب ہے ۔دنیائے طب وحکمت میںان کی کتابوںکو صحائف کادرجہ حاصل ہے۔
سفرقسطنطنیہ میںعلامہ شبلی نے ابن سیناکی تصنیفات کوبغوردیکھاتھااوراس کی تفصیل سرسیدکے نام خطوط میںلکھی ہے۔اس کے کارناموںپربھی ان کی نظرتھی۔ابن سیناکاذکر علامہ شبلی نے اپنے ایک قصیدے میںوہاںکیاہے ،جہاںانہوں نے مسلمان حکماء وفلاسفہ اوردیگرعلوم وفنون کے نادرہ روزگاروں کا ذکرکیا ہے۔ فرماتے ہیں:

روم واٹلی کے مدرسے میں کئی صدیوں تک

تھا سند فلسفہ بوعلی سینا کیسا

کلیات شبلی اردوص :- ۷۷

بونصر
ابونصرمحمدبن محمدالفارابی [۸۷۰-۹۵۰ء]مشہورفلسفی اور سائنس داں تھے۔ مدۃالعمر علوم وفنون کی تحصیل میںسرگرم رہے۔ مطالعہ ان کامحبوب مشغلہ تھا۔ایک روایت کے مطابق انہوں نے پچاس سال حصول علم میںصرف کیا۔فارابی ہی کاواقعہ مشہورہے کہ ایک رات وہ مطالعہ میںمشغول تھے کہ چراغ کاتیل ختم ہوگیا۔ان کی ابھی تشنگی علم دورنہیںہوئی تھی۔ چنانچہ وہ گھرسے باہر نکل آئے اور پہریدارسے کہا کہ وہ کچھ دیررک جائے تو اس کے چراغ کی روشنی میںوہ اپناسبق یادکرلیں ۔ چنانچہ وہ رک گیااورفارابی نے اس کے چراغ کی روشنی میں اپناسبق یادکیا۔ دوسرے دن پھر فارابی نے پہریدار کوروکا،مگروہ نہیںرکاتواس سے ساتھ چلنے اورراہ میں اس کے چراغ کی روشنی میںمطالعہ کی اجازت چاہی۔پہریدارنے پھراجازت دیدی، مگراس کے روز روز کے مطالبہ سے بچنے کے لئے اگلے دن پہریدارنے انہیںایک لالٹین لاکردیدی۔
فارابی فلسفہ وسائنس کے علاوہ متعددعلوم میں درک وبصیرت رکھتے تھے۔ ان کی سائنسی ایجادات وتحقیقات کاشہرہ بھی یورپ تک پہنچا اور ایک عرصہ تک یورپ نے ان کے علم وفن سے استفادہ کیا۔ علامہ شبلی نے اسی برتری علم وفن کے سبب ان کاذکرکیاہے:

اب بھی لندن میں غزالی کی ہے شہرت کیسی

اب بھی جرمن ہے بو نصر کا چرچا کیسا

کلیات شبلی اردوص : -۷۷

بیکن۔لارڈ
لارڈفرانسس بیکن [۱۵۶۱-۱۶۲۶ء]فلسفی،قانون داںاورسائنس داںتھا۔ابتدائی ناکامیابیوںکے بعد اٹارنی جنرل مقررہوا۔ رشوت کی شکایت کے بعدمستعفی ہوا۔ یہ ایک بڑا مصنف بھی تھا۔مختلف موضوعات پراس نے گراںقدر کتابیںلکھیں۔جس میں’’علم کی ترقی‘‘ اور ’’تجدد عظیم‘‘ قابل ذکرہیں۔اس نے افسانے اورانشائیے بھی لکھے۔اس کے اقوال انگریزی ادب میں ضرب المثل کی حیثیت رکھتے ہیں۔
علامہ شبلی نے مثنوی’’ صبح امید‘‘میںاس کابھی نام لیاہے۔

وہ گنج گران دانش و فن

وہ فلسفہ جدید بیکن

کلیات شبلی اردوص : -۴۵

تیمور
امیرتیمور [۱۳۳۶-۱۴۰۵ء]جوعرف عام میںتیمورلنگ کہاجاتاہے۔اس کاشمار دنیا کے عظیم فاتحین میں ہوتاہے۔وہ ایک زبردست فاتح اور مغل سلطنت کا بانی تھا۔ کس ازبکستان میںپیداہوا۔ جنگوںمیںمسلسل فتح حاصل کرتاہوا وسط ایشیا پر قبضہ کرلیا۔اس کے قلمرومیں ترکستان ، خوارزم، کاشغر، ہرات، خراسان، فارس، عراق، آذربائیجان، آرمینیا، میسوٹامیہ، جارجیا وغیرہ شامل تھے۔۱۳۹۸ء میں ہندوستان پر حملہ کرکے محمودشاہ تغلق [۱۳۹۴-۱۴۱۴ء] کوشکست سے دو چارکیااوردلی کو لوٹ کر تباہ وبرباد کردیا۔آخرمیںچین کوبھی وہ فتح کرناچاہتا تھا اور ایک بڑے حملے کی تیاری کررہا تھا کہ۱۹؍جون۱۴۰۵ء کواس نے انتقال کیا۔
تیمور لنگڑاتھااور علامہ شبلی کااخیر عمر میں گولی لگنے کی وجہ سے ایک پائوں کاٹ دیا گیا تھا۔چونکہ ایک قطعہ میں جواکبر الہ آبادی[۱۸۴۶-۱۹۲۱ء] کے ایک رقعہ دعوت کے جواب میں لکھا گیاہے ،اس کی طرف اشارہ کرکے خود کو تیمور سے تشبیہ دی ہے :

آج دعوت میں نہ آنے کا مجھے بھی ہے ملال

لیکن اسباب کچھ ایسے ہیں کہ مجبور ہوں میں

لیکن اب وہ میں نہیںہوں کہ پڑا پھرتا تھا

اب تو اللہ کے افضال سے تیمور ہوں

کلیات شبلی اردوص : -۲۱۱

ٹیلر
ٹیلربرطانوی عہدمیں کان پور کے کلکٹرتھے۔
علامہ شبلی نے سانحہ مسجدکان پورسے متعلق جوقطعات کہے ہیں،ان میںایک قطعہ فارسی میںہے ، اس میںٹبلرکاذکرآیاہے:

ہر یکے ازما چو کار خویشتن انجام داد

تاچرا ایں یک شکایت می کند از دیگرے

آں بود ٹبلر کہ فرمان داد بہر قتل ما

ایں منم کاندرمیان خاک وخوں بینی سرے

کلیات شبلی اردوص : -۱۶۵

جبریل امین
علامہ شبلی کی ایک نظم ’’مذہب یاسیاست‘‘ہے۔اس میںانہوںنے دکھایاہے کہ وہ مذہب ہی تھاجس نے عربوںکی کایاپلٹ دی۔اوریہ کہ وہ حضرت جبریل امین علیہ السلام کے اسرار فاش کرنے لگے:

یہ اسی کا تھا کرشمہ کہ عرب کے رہزن

فاش کرنے لگے جبریل امیں کے اسرار

کلیات شبلی اردوص : -۱۱۲

جنید نعمانی
محمدجنیدنعمانی [م:۱۲؍اپریل۱۹۳۳ء] یہ علامہ شبلی کے سب سے چھوٹے بھائی تھے۔ شبلی نیشنل اسکول اعظم گڑھ میںتعلیم حاصل کی ۔یہاںان کے ایک استاذ قاضی عبدالرحمن حیرت تھے۔اعظم گڑھ کے بعد ایم اے اوکالج علی گڑھ گئے اوروہاں قانون کی تعلیم حاصل کی۔بعد ازاں اعظم گڑھ واپس آکروکالت کاشغل اختیارکیا۔کچھ دنوںبعدمنصفی کے عہدہ پرمنتخب ہوئے ۔ پھر ترقی کرکے کان پورمیںسب جج کے عہدہ پرمامور تھے کہ بیمارہوئے۔دوبرس تک علاج و معالجہ جاری رہا، مگر جاںبرنہ ہوسکے ۔علاج کے لئے دہلی میںمقیم تھے ۔ وہیںانتقال ہوا اوردہلی ہی کی خاک کاپیوند ہوئے۔محمداسحاق ایڈوکیٹ کی وفات پر علامہ شبلی نے جودردانگیز مرثیہ کہاہے، اس میںیہ دعا مانگی ہے کہ

اے خدا شبلی دل خستہ بایں موئے سپید

لے کے آیاہے ترے درگہہ عالی میں امید

مرنے والے کو نجات ابدی کی ہو نوید

خوش وخرم رہے چھوٹا یہ مرابھائی جنید

کلیات شبلی اردوص : -۲۰۴

جہاں گیر
مغل اعظم اکبرکاجانشین نورالدین محمدجہانگیر [ ۱۵۶۹-۱۶۲۷ء]ہندوستان کاایک عظیم بادشاہ تھا۔جس نے ۲۲؍ برس تک حکمرانی کی۔ بڑاعلم دوست ،عدل پروراورانصاف پسند تھا۔ شعر وادب کابھی بڑا دلدادہ اور اہل علم وکمال کابڑاقدرداںتھا۔علامہ شبلی نے عدل جہانگیری کے عنوان سے بڑی زبردست نظم لکھی ہے۔ جواپنے زمانہ میں بے حدمقبول ہوئی تھی اور آج بھی ایک تاثرپیداکردیتی ہے۔اس نظم میں جہانگیر کی ملکہ نورجہاںسے بے پناہ محبت کے ساتھ اس کی عدل گستری اورانصاف پروری کا واقعہ بیان ہوا ہے۔یوںتویہ پوری نظم بہت خوب صورت ہے، لیکن خاص طور اس کے مقطع کابندبے حد دلچسپ ہے۔جس میں آخری مصرعہ فارسی کاہے۔ نورجہاں کے خوںبہا اداکرنے کے بعدجب وہ سزا ئے موت سے بچ گئی اور جہاںگیردربار سے اٹھ کرحرم میں آتا ہے، اس کامنظرملاحظہ ہو:

ہوچکا جب کہ شہنشاہ کو پورا یہ یقیں

کہ نہیں اس میں کوئی شائبہ حیلہ و فن

اٹھ کے دربار سے آہستہ چلا سوئے حرم

تھی جہاں نور جہاں معتکف بیت حزن

دفعتاً پائوں پہ بیگم کے گرا اور یہ کہا

تو اگر کشتہ شدی آہ چہ می کردم من؟

علامہ شبلی کی ایک اورمعرکہ آراء نظم جس کاعنوان ’’ہماراطرزحکومت‘‘ ہے۔ اس میں جہاں گیرو اکبرکاذکرآیاہے۔ جہاںگیرکی شادی اوراس کی دلہن کے استقبال کی منظرکشی اس طرح کی گئی ہے۔

کبھی ہم نے بھی کی تھی حکمرانی ان ممالک پر

مگروہ حکمرانی جس کا سکہ جان ودل پر تھا

قرابت راجگان ہند سے اکبر نے جب چاہی

تو خود فرماندئہ جے پور نے نسبت کی خواہش کی

دلہن کو گھر سے منزل گاہ تک اس شان سے لائے

کہ کوسوں تک زمیں پر فرش دیبائے مشجر تھا

دلہن کی پالکی خود اپنے کندھوں پر جولائے تھے

وہ شاہنشاہ اکبر اور جہاں گیر ابن اکبر تھا

یہی ہیں وہ شمیم انگیزیاں عطر محبت کی

کہ جن سے بوستان ہند برسوں تک معطر تھا

پھر وہ اپنے عہدکے لوگوںسے مخاطب ہوتے ہیں اورکہتے ہیں:

تمہیں لے دے کے ساری داستاں میںیاد ہے اتنا

کہ عالم گیر ہندو کش تھا ظالم تھا ستمگر تھا

کلیات شبلی اردوص : -۱۰۲- ۱۰۳- ۱۰۴- ۱۰۵

جے پال ۔راجہ
راجہ جے پال [ ۹۶۴-۱۰۰۱ء]ہندوستان کے بادشاہوںمیںایک نامورپادشاہ تھا ۔ اس کی حکومت کادائرہ لغمان سے کشمیراور سرہند سے ملتان تک پھیلاہواتھا۔ اس کے پڑوس میں سلطنت غزنویہ قائم تھی۔ اسے خیال ہواکہ اگرغزنویوںکی حکومت مستحکم ہوئی تووہ اس کی حکمرانی کے لئے مضر ہوگی، اس لئے اس نے غزنی پر حملہ کردیا، لیکن اسے شکست کھاکر خراج پر صلح کرنی پڑی۔کچھ دنوںبعدخراج نہ اداکرنے کی وجہ سے سبکتگین [م:۵؍اگست ۹۹۷ء]نے اس پرحملہ کرکے اس کی حکومت پر قبضہ کرلیا۔ علامہ شبلی نے اپنے مشہور قومی مسدس ’’تماشائے عبرت‘‘ میں مسلمانوںکی جہاں فتح مندیوں کاتذکرہ کیاہے وہیںراجہ جے پال کابھی نام لے کر عظمت رفتہ یاد دلائی ہے۔
کلیات شبلی اردوص : -۶۵

حافظ شیرازی
فارسی غزل کے باواآدم اور تصوف وسلوک کے دلدادہ خواجہ شمس الدین محمدحافظ شیرازی [۱۳۱۵ – ۱۳۹۰ء]شیرازمیںپیداہوئے۔حفظ قرآن کے بعددینی علوم تفسیراورفقہ وغیرہ اپنے عہد کے نامور اساتذہ سے حاصل کئے۔اس کے علاوہ منطق اور فلسفہ کی بھی تعلیم حاصل کی۔ شاعری کاشوق بچپن سے تھا۔خواجہ کرمانی [۶۷۹-۷۵۳ھ] سے شعری رموزنکات پردسترس حاصل کی اور شاعری میںبڑانام پیدا کیا۔ علامہ شبلی ان سے بہت متاثر تھے۔ شعرالعجم میںان کا بڑاوالہانہ ذکرکیاہے اورمدلل مداحی کی ہے۔ جسے ’’حیات حافظ ‘‘کے نام سے علاحدہ کتابچے کی صورت میںبھی شائع کیاگیاہے۔ یہی نہیں علامہ شبلی نے ان کے رنگ میں شاعری بھی کرنے کی کوشش کی ہے ۔ اردو شاعری میں بھی حافظ کاذکر ایک مقام پر آیا ہے ۔ان کاایک شعربھی اپنی نظم شامل کیاہے۔
کلیات شبلی اردوص :-۱۲۷

حبیب اللہ وکیل۔شیخ
علامہ شبلی کے والد شیخ حبیب اللہ [م:۱۲؍نومبر۱۹۰۰ء]اعظم گڑھ کے ناموروکیل اور بڑے زمیندارتھے۔ابتدائی تعلیم کے بعدرواج زمانہ کے مطابق فارسی زبان وادب کی اعلی تعلیم حاصل کی۔علامہ شبلی نے شعرالعجم میں ان کے ذوق ادب کاجوواقعہ نقل کیاہے ،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ فارسی زبان میںیدطولی رکھتے تھے۔بعدمیںالہ آبادسے وکالت کاامتحان پاس کرکے وکالت کاآغازکیااوربہت جلدان کاشماراعظم گڑھ کے ناموروکلااورماہر قانون دانوںمیںہونے لگا۔وکالت کے ساتھ انہوں زمینداری اور نیل کاکاروباربھی جاری رکھا۔رفاہی کاموںمیںبھی حصہ لیتے رہے۔ اسی وجاہت کی بناپرانہیںاعظم گڑھ میونسپلٹی کاآنریری سکریٹری نامزدکیاگیا، جس پروہ برسوںفائز رہے۔
پہلے وہ قدیم تعلیم کے حامی تھے اوراپنی اولادکودینی تعلیم دلائی اوراعظم گڑھ شہر میں ایک عربی مدرسہ کی بنیاد رکھی۔ جس میںمولوی فیض اللہ مئوی اورمولانافاروق چریاکوٹی [م:۲۷؍ اکتوبر۱۹۰۹ء]کو مدرس مقرر کیا۔ پھرسرسیدسے کے زیراثرآئے اورتعلقات قائم ہوئے تو پھرانہی کے ہوکر رہ گئے۔مدرسۃ العلوم کے قیام سے پہلے اعظم گڑھ میںجن لوگوں نے اس کے قیام کے لئے چندہ دیا، ان میں ایک نام شیخ حبیب اللہ کابھی ہے۔یہ سلسلہ بعدمیںبھی قائم رہااورتعمیرات میںبھی انہوںنے ایم اے اوکالج کامالی تعاون کیا۔اسی تعلق اور ہم خیالی کی بناپر سرسیدنے اپنی پیٹریاٹک سوسائٹی کاانہیں اعظم گڑھ میںکرسپانڈنگ رکن نامزدکیا۔ نیشنل اسکول جس کی بنیاد علامہ شبلی نے رکھی تھی، اس کے پہلے صدر شیخ حبیب اللہ وکیل ہی تھے۔ اعظم گڑھ کوجن لوگوںنے علمی وتعلیمی اعتبار سے وقاربخشا،ان میںایک نمایاں نام ان کابھی ہے۔علامہ شبلی کے تو وہ سب کچھ تھے۔یہی وجہ ہے کہ شبلیاتی ادب میںان کاکثرت سے ذکر آیاہے۔ فارسی کلیات میںان کا پراثرمرثیہ بھی شامل ہے۔ البتہ اردوکلیات میں مرثیہ اسحاق میںدو تین مقامات پران کاذکر ہے اور ظاہراس میں ذکرآناہی تھا۔
کلیات شبلی اردوص :- ۲۰۰ – ۲۰۱ -۲۰۲

حجاج
حجاج بن یوسف [۶۶۱-۷۱۴ء]جس نے قرآن مجیدپرنقطے اوراعراب لگوائے ۔ اور اوربھی اس کے کارنامے ہیں،مگر مورخین نے اس کی سفاکی کے واقعات بھی بیان کئے ہیں۔ حضرت عبداللہ ابن زبیرؓسے جنگ اورپھران کاقتل بھی اس کے نامہ اعمال میں ایک سیہ داغ ہے۔علامہ شبلی نے اس واقعہ کوایک نظم’’خواتین عرب کاثبات واستقلال‘‘میں منظوم کیاہے ۔ ظاہرہے اس کانام بھی اس سیاہ باب میںآناہی تھا۔

ابن مروان نے حجاج کو بھیجا پے جنگ

جس کی تقدیر میں مرغان حرم کا تھا شکار

لاش منگواکے جو حجاج نے دیکھی تو کہا

اس کو سولی پہ چڑھائو کہ یہ تھا قابل دار

کلیات شبلی اردوص : -۱۱۵-۱۱۷

حمزہؓ۔حضرت
سیدالشہداء حضرت حمزہ ؓبن عبدالمطلب[۵۷۰-۶۲۵ء] آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا،صحابی رسول ،ؐ جنہوںنے غزوہ احداورغزوہ بدرمیںحصہ لیااور شہادت پائی۔ انہیںوحشی بن حرب نے شہیدکیا۔ ہندہ نے وحشی کوقتل پہ مامورکیاتھااورجب حضرت حمزہ شہیدہوگئے تو ان کا کلیجہ نکال کر کچاچبایا اوران کی لاش کا مثلہ کیا،جس کاآپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بے حدرنج ہوا۔
نظم’’مساوات اسلام‘‘ میںحضرت حمزہؓ کاذکرآیاہے ۔
کلیات شبلی اردوص: -۹۱

حیدر :- دیکھیں علی ؓ

خضر
ایک بزرگ جن کے بارے میںمتعددآراء وخیالات پائے جاتے ہیں۔ عام خیال یہ ہے کہ انہوں نے آب حیات پی ہے اوریہ کہ انہیں کبھی موت نہیںآئے گی۔’’کلیات شبلی‘‘ میںان بزرگ کادومقامات پر ذکرآیاہے۔ایک مثنوی ’’صبح امید‘‘ کی ابتداء میں،جہاںیہ ذکر ہے کہ اب ہماری پستی اس حالت کوپہنچ گئی ہے کہ

اب خضر کو گمرہی کاڈر ہے

عیسیٰ کو تلاش چارہ گر ہے

اوردوسرادرمیان میںہے جہاںسرسیدکی قوت ارادی بیان کی ہے۔فرماتے ہیں:

تا دیر وہ قوم کا فدائی

وہ خضر طریق رہنمائی

اٹھتے ہوئے جوش دل سے پیہم

عبرت کا دکھا رہا تھا عالم

کلیات شبلی اردوص :- ۲۸-۴۰

رستم
نامورایرانی پہلوان، جس کاذکر فردوسی نے ’’شاہنامہ‘‘ میں تفصیل سے کیاہے۔اسے بعض لوگ افسانوی ہیروخیال کرتے ہیں۔ فارسی ادب میںاس کاکثرت سے ذکرملتاہے۔اس نے تورانی بادشاہ افراسیاب کوباربارشکست دی اورکیقبادکو تخت نشیںکیا۔ایک بار جب یہ کیکائوس کی مدد کے لئے نکلاتوراہ میںسات معرکے سر کئے ،جس کی داستان ’’ہفت خوان رستم‘‘کے نام سے مشہور ہے۔علامہ شبلی نے ایک جگہ بطورتشبیہ اس کانام لیا ہے۔
کلیات شبلی اردوص :- ۱۷۴

رشید رضا۔شیخ
مصرکے ناموراہل قلم،عالم اورصاحب تفسیرالمنار شیخ رشیدرضا [۱۸۶۵-۱۹۳۵ء] مدیر مجلہ المنار مصر اپنے جدید اورروشن خیالی کی وجہ سے ہندوستان کے ایک بڑے حلقہ میں مقبول تھے۔ان سے علامہ شبلی سے مراسم اورمراسلت تھی۔ ۱۹۱۲ء میںندوہ کے سالانہ اجلاس کی صدارت کے لئے علامہ شبلی نے انہیںمدعو کیا اور وہ تشریف لائے اورصدارت کی۔اس کا ہندوستان میں روشن خیال علماء کے طبقے میںعرصہ تک ذکررہا۔ علامہ شبلی اور شیخ رشیدرضامصری دونوںایک دوسرے سے نہ صرف واقف تھے بلکہ متاثر بھی تھے۔ علامہ شبلی نے ماہنامہ الندوہ میںان پر بعض مضامین شائع کئے اور شیخ نے اپنے مجلہ المنار میںعلامہ شبلی اوران کی کتاب’’ الانتقاد‘‘ کے نہ صرف بعض حصے شائع کئے بلکہ ۱۹۱۲ء میں مصرسے کتابی صورت میںبھی شائع کرایا۔
علامہ شبلی کے نزدیک ان کامرتبہ بہت بلند تھا،مگر جب صاحبزادہ آفتاب احمدجیسے تحریک ندوہ کوناپسند کرنے والے دارالعلوم ندوہ کے معائنہ کے لئے آئے تواندازہ کیجیے انہیںکس قدر اذیت پہنچی ہوگی۔ چنانچہ اس موقع پرانہوںنے ایک نظم کہی، جس کاعنوان ’’ندوۃالعلماء اور ننگ معائنہ اغیار‘‘ ہے۔ اس کے چند اشعارجن میںشیخ رشیدرضااورندوہ کاذکر ہے، ملاحظہ ہو:

جو مایہ امید ہے نسل جدید کا

جو کاروان رفتہ کی اک یادگار ہے

جس پر یہ حسن ظن ہے کہ ہے مجمع کرام

جس کا مصر وشام میں اب تک وقار ہے

آیا تھا جس کے شوق میں وہ فاضل عرب

جس کا مرقع ادبی المنار ہے

چلتے ہیں جس کے نقش قدم پر حریف بھی

گو اعتراف حق سے ابھی ان کو عار ہے

جس نے خطابت عربی کو دیا رواج

جو فن جرح و نقد کا آموزگار ہے

جس نے بدل دیا روش وشیوئہ قدیم

یہ انقلاب گردش لیل و نہار ہے

آتے ہیں اس کی جانچ کو نا آشنائے فن

جو رہبر طریقہ اصلاح کار ہے

ارباب ریش و جبہ اقدس کا وہ گروہ

اب چند منشیوں کا اطاعت گذار ہے

کلیات شبلی اردوص :- ۱۸۹

سراقہ بن جعشم
سراقہ بن جعشم [م:۶۴۵ء]اورسراقہ بن مالک کے ناموںسے جانے جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب ہجرت کی غرض سے مکہ سے نکلے توکفارمکہ نے انہیںگرفتارکرنے والے کے لئے انعام اعلان کیا۔انعام کی طمع میںانہیں سراقہ نے آپؐ کا تعاقب کیا تھا۔ بعد میں مشرف بہ اسلام ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بارفرمایاتھا کہ سراقہؓ اس وقت تمہارا کیا حال ہوگا جب تم کسریٰ کے کنگن پہنوگے۔
حضرت عمرؓ فاروق کے زمانہ میںجب مدائن فتح ہوا اور کسریٰ کاخزانہ قبضہ میںآیا اورکسریٰ کے ملبوسات حضرت عمرؓ فاروق کے سامنے پیش ہوئے تو انہوںنے سراقہ کو بلاکر کسریٰ کاتاج ان کے سرپررکھااور اس کے کنگن پہناکر اس کا پٹہ ان کی کمر میںباندھا۔
علامہ شبلی کی مذہبی اوراخلاقی نظمیںاپنے عہدمیں ایک الگ نوع کی ادبی تخلیقات تھیں۔ انہیںنظموںمیں ایک نظم’’ ہجرت نبویؐ ‘‘ہے ،جس میںحضرت سراقہ ؓ کاذکرآیا ہے۔
کلیات شبلی اردوص : -۸۰

سرسیداحمدخاں
سرسیداحمدخاں [۱۸۱۷-۱۸۹۸ء] بانی مدرسۃالعلوم علی گڑھ۔ علامہ شبلی کے محسن ومربی تھے۔جن کی بدولت انہوںنے نئے زمانہ ،نئے علوم اورجدیدافکارو نظریات سے آگاہی حاصل کی۔سرسید دلی میںپیداہوئے اورعلی گڑھ میںوفات پائی اوروہیں مدفون ہیں۔ سرسید اردو کے عناصر اربعہ میںسے ہیں۔جن لوگوںنے اردوکو زبان کی ترقی میں اہم کرداراداکیاہے، ان میںایک اہم نام سرسیدکا بھی ہے۔انہوںنے ملک کوجدیدتعلیم اوراس کی اہمیت اور ضرورت سے آگاہ کیا۔بلکہ سچ تو یہ ہے کہ مسلمانوںکومستقبل پرغوروخوض اور مستقبل شناسی کاسلیقہ انہیںنے سکھایا۔علامہ شبلی ان کے بے حدمداح تھے۔مثنوی’’ صبح امید‘‘ انہوںنے صرف سرسیداور ان کی تعلیمی تحریک کی وضاحت وتشریح کے لئے لکھی تھی۔ ایک نقادنے لکھاہے کہ مثنوی ’’صبح امید‘‘میں علامہ شبلی نے سرسید کاجیساخوب صورت سراپا کھینچاہے ویسا حالی حیات جاویدمیں بھی نہ کھینچ سکے۔ایک دوبندملاحظہ ہوں:

ماتم تھا یہی کہ آئی ناگاہ

اک سمت سے اک صدائے جاںکاہ

اس شان سے تھی وہ آہ دل گیر

پہلو میں اثر بغل میںتاثیر

دل ہاتھ سے لینے میں بلا تھی

جادوتھی؟ فسوںتھی؟ جانے کیا تھی؟

ڈوبی ہمہ تن جو تھی اثر میں

نشتر سی اتر گئی جگر میں

جس سمت سے آئی تھی وہ آواز

وہ جلوہ نمائے سحر و اعجاز

جنبش جو ہوئی رگ اثر کو

دل تھام کے سب بڑھے ادھر کو

دیکھا تو وہاں بجاہ وتمکیں

آیا نظر اک پیر دیریں

صورت سے عیاں جلال شاہی

چہرے پہ فروغ صبح گاہی

وہ ریش دراز کی سپیدی

چھٹکی ہوئی چاندنی سحر کی

پیری سے کمر میں اک ذرا خم

توقیر کی صورت مجسم

وہ ملک پہ جان دینے والا

وہ قوم کی نائو کھینے والا

البتہ علامہ شبلی سرسید کے سیاسی نظریہ کو پسند نہیںکرتے تھے ۔اس سے ان کو اختلاف تھا اوراس کاانہوںنے ذکربھی صاف لفظوںمیںکیا۔ان کا خیال تھاکہ

کوئی پوچھے تو میں کہہ دوںگا ہزاروں میں یہ بات

روش سید مرحوم خوشامد تو نہ تھی

ہاں مگر یہ ہے کہ تحریک سیاسی کے خلاف

ان کی جو بات تھی آورد تھی آمد تو نہ تھی

کلیات شبلی اردوص : -۵۸-۱۵۶-۱۸۷-۱۹۷

سلطان جہاں بیگم
نواب بھوپال سلطان جہاںبیگم [۱۸۵۸-۱۹۳۰ء]بڑی نیک،ذی علم اورجہاں دیدہ خاتون اور حکمراںتھیں۔ اپنی والدہ نواب شاہ جہاں بیگم[۱۸۳۸-۱۹۰۱ء]کی وفات کے بعد ۱۹۰۱ء میں تخت نشیں ہوئیں۔ شاہ جہاںبیگم نے ان کی تعلیم وتربیت میںبڑی دلچسپی لی تھی اور یگانہ عصرعلماء وفضلاء کے سامنے انہوںنے زانوئے تلمذ تہہ کیاتھا ۔ وہ کئی زبانوں سے واقف تھیں۔مختلف اسلامی علوم وفنون پران کی گہری نگاہ تھی۔صاحب سیف وقلم تھیں۔۳۰سے زاید کتابیںان کی یادگارہیں۔ مصوری سے بھی شغف تھا۔شہ سواری اورنشانہ بازی میںبھی مہارت حاصل تھی۔ انہوںنے نہایت عمدہ حکمرانی کی۔ ریاست کانظم ونسق بڑی خوب صورتی سے نبھایا۔ علم اوراہل علم کی بڑی قدرداںتھیںاور نہایت فیاضی اورفراخ دلی سے اہل علم اورعلمی وتعلیمی اداروںکی سرپرستی کرتی تھیں۔بلکہ اس معاملہ میں وہ یکتائے روزگارتھیں۔ علامہ شبلی کوبہت عزیز رکھتی تھیں۔ انہوںنے سیرۃالنبیؐ کاجب آغازکیا تو اس کی تمام ذمہ داری بیگم صاحبہ نے اپنے سر لے لی ۔ اسی سے متاثرہوکرعلامہ شبلی نے یہ قطعہ کہاتھا:

مصارف کی طرف سے مطمئن ہوں میں بہر صورت

کہ ابر فیض سلطان جہاں بیگم زرافشاں ہے

رہی تالیف وتنقید روایت ہائے تاریخی

تو اس کے واسطے حاضر مرادل ہے مری جاں ہے

غرض دو ہاتھ ہیں اس کام کے انجام میں شامل

کہ جن میں اک فقیر بے نوا ہے ایک سلطاں ہے

کلیات شبلی اردوص: -۲۰۶

سیدسجادعالی
سیدسجادعالی سے مرادحضرت حسین ؓ [۶۲۶-۶۸۰ء]ہیں۔علامہ شبلی نے سانحہ مسجد کان پور پرکئی قطعات کہے ہیں۔ان قطعات نے ملک میں رجز کی ایک فضا قائم کردی تھی۔ انہیںمیںسے ایک قطعہ کاعنوان ’’علمائے زندانی‘‘ ہے۔ اس کاایک شعر یہ ہے:

پنہائی جارہی ہیں عالمان دیں کو زنجیریں

یہ زیور سید سجاد عالی کی وراثت ہے

یہ واقعہ جب پیش آیاتوعلامہ شبلی بمبئی تھے۔ اپنی عدم موجودگی پراظہارتاسف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

شہیدان وفا کی خاک سے آتی ہیں آوازیں

کہ شبلی بمبئی میں رہ کے محروم سعادت ہے

کلیات شبلی اردوص:-۱۶۰

سیدمحمود
جسٹس سیدمحمود[۱۸۵۰-۱۹۰۳ء]خلف سرسیداحمدخاںبانی مدرسۃالعلوم علی گڑھ ۔ کوئنس کالج بنارس میںتعلیم پائی تھی۔ ۱۸۵۹ء میںاعلی تعلیم کے لئے انگلینڈ گئے اور ۱۸۷۳ء میں بیرسٹر ہوکرلوٹے۔ پہلے ضلع جج پھرالہ آبادہائی کورٹ کے جج منتخب ہوئے۔ان کے جج مقرر ہونے پر مختلف شہروںمیںجشن منعقد ہوئے۔ اعظم گڑھ میںبھی ایک تقریب منعقدہوئی ،جس میں علامہ شبلی شریک ہوئے اورنہایت شاندار تقریرکی۔علامہ شبلی کی دریافت تقریروںمیں یہ سب سے قدیم تقریرہے۔ یہاںیہ بتاناضروری ہے کہ اس وقت تک علامہ شبلی نہ ایم اے اوکالج سے وابستہ ہوئے تھے اور نہ سرسیداحمدخاںسے قرب حاصل ہواتھا۔
علامہ شبلی ۱۸۸۳ء میںجب ایم اے اوکالج علی گڑھ سے وابستہ ہوئے تو نہ صرف سرسید سے بہت قربت حاصل رہی بلکہ سیدمحمودسے بھی ان کایارانہ رہا۔ ان کی شادی کی تقریب میں علامہ شبلی نے جوتہنیتی اشعار پیش کئے تھے، ان سے بھی والہانہ لگائو کااظہارہوتاہے۔یہ نظم خاصی طویل ہے۔ بطورنمونہ اس کے چنداشعاریہاںنقل کئے جاتے ہیں:

قوم کو ناز ہے اے سید والا تجھ پر

جمع اسلام کو ہے آج تری ذات پہ بل

تیرے اسلاف کے موجود ہیں جوہر تجھ میں

وہی ہمت وہی اخلاق وہی طرز عمل

ہیں تری نکتہ شناسی کے سراپا شاہد

فیصلے صدر میں تونے جو لکھے قل و دل

اک جہاں مان گیا زور قلم کو تیرے

شرع کے معنی پیچیدہ کئے تو نے جو حل

آج ہم سب کی امیدوں کا جو مرکز ہے تو

تو بھی اس راہ میں اسلاف کی رفتار پہ چل

باپ کی طرح سے تو قوم کا بن پشت پناہ

جانشینی کے لئے کون ہے تجھ سے افضل

ایک عالم کو مسلم ہے ترا فضل و کمال

پھر نہ مانے کوئی حاسد تو جنوں کا ہے خلل

قوم کی چارہ نوازی بھی ہے تجھ پر لازم

تجھ کو خالق نے بنایا ہے جو مسعود ازل

بعدمیں بوجوہ دونوںکے درمیان ناچاقی ہوگئی اورسیدمحمود علامہ شبلی کے شدید مخالف ہوگئے اوران میں طرح طرح کے عیوب نکالنے لگے۔ان میںایک الزام یہ بھی تھاکہ علامہ درس قرآن اس قدر دلچسپ انداز میں دیتے ہیںکہ طلبہ دوسرے مضامین سے کم دلچسپی لیتے ہیں۔ ہنرکوعیب کرناشایداسی کوکہتے ہیں۔علامہ شبلی مئی ۱۸۹۸ء میںسید محمود ہی کے زمانہ سکریٹری شپ میں علی گڑھ کالج سے علاحدہ ہوئے۔
کلیات شبلی اردوص :- ۷۳

صلاح الدین ایوبی۔سلطان
سلطان صلاح الدین ایوبی [۱۱۳۸-۱۱۹۳ء]فاتح بیت المقدس کاشمار دنیا کے بڑے اولوالعزم سپہ سالاروںمیں ہوتاہے۔انہوںنے پہلے عراق، دمشق اورمصر کوفتح کرکے اپنی مضبوط حکومت قائم کی۔بعدازاں ۲؍ اکتوبر ۱۱۸۷ء کوبیت المقدس فتح کرکے پورے یورپ پر ہیبت طاری کردی۔عہدشبلی میں یورپ اپنی کھوئی ہوئی طاقت حاصل کرکے مسلمانوںپرمظالم کررہا تھا ۔ علامہ شبلی کی نثرکے ساتھ شاعری میںبھی اس کا ماتم ہے ۔ شہرآشوب اسلام میں علامہ شبلی نے بڑی دردناک شاعری کی ہے۔اسی میںایک شعر یہ بھی ہے کہ

کہاں تک لوگے ہم سے انتقام فتح ایوبی

دکھائو گے ہمیں جنگ صلیبی کا سماں کب تک

کہاجاتا ہے کہ علامہ شبلی کوجاہ وجلال اور عظمت وسطوت بہت پسندہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوںنے ان ناموران اسلام کی سوانح عمریاںلکھیںجن کی عظمت وبلندپایگی مسلم تھی۔ وہ غازی صلاح الدین ایوبی کی بھی سوانح عمری لکھنا چاہتے تھے، مگر یہ خواہش پوری ہونے سے پہلے ان کی زندگی پوری ہوگئی۔
کلیات شبلی اردوص :- ۱۲۰

عالم گیر۔اورنگ زیب
مغل حکمراں شاہ جہاں[۱۵۹۲-۱۶۶۶ء]اورممتازمحل[۱۵۹۳-۱۶۳۱ء]کادوسرا بیٹا اورنگ زیب عالم گیر [۱۶۱۸-۱۷۰۷ء]جس نے نصف صدی تک ہندوستان پر حکمرانی کی۔ انگریزوںنے ہندئوں اور مسلمانوںمیں منافرت پیداکرنے کے لئے جو کوششیں کیں،ان میں ایک کوشش یہ بھی شامل ہے کہ عالم گیرنے ہندئوںپرمظالم ڈھائے اور ان کے مندر توڑے۔ چنانچہ انہوںنے تاریخ میںاس طرح کے متعددواقعات لکھ کر عالم گیرکوظالم وجابرثابت کیااور وہ اپنے مقصد میںکامیاب بھی ہوئے۔اس کے نتیجے میں دونوںقوموںیعنی ہندئوںاور مسلمانوں میں شدیدمنافرت پیداہوگئی۔ علامہ کے ایک شاگردمولانامحمدعلی جوہر[۱۸۷۸-۱۹۳۱ء] نے ان کی توجہ اس منافرت کی طرف مبذول کرائی اورخواہش ظاہرکی کہ آپ اس کاتدارک فرمائیں۔ چونکہ علامہ شبلی ہندو مسلم اتحاد کے زبردست داعی تھے، اس لئے انہوںنے انگریزمورخین کی ان تدلیسات اور اس کے مضمرات کومحسوس کرتے ہوئے بہ دلائل اورنگ زیب پرعائدالزامات کارد کیااوراس موضوع پر نہایت اہم کتاب ’’اورنگزیب عالم گیرپرایک نظر‘‘ لکھی۔جسے اپنے موضوع پرپہلی کتاب ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔علامہ شبلی نے اپنی نظم ’’ہمارا طرزحکومت‘‘ میں ایک شعر یہ بھی کہا ہے کہ

تمہیں لے دے کے ساری داستاں میں یاد ہے اتنا

کہ عالم گیر ہندو کش تھا ، ظالم تھا، ستمگر تھا

سیدصباح الدین عبدالرحمن [۱۹۱۱-۱۹۸۷ء]نے مذکورہ کتاب کاانگریزی ترجمہ کردیا ہے۔جسے دارالمصنّفین اعظم گڑھ نے شائع کیاہے۔
کلیات شبلی اردوص:- ۱۰۲

عباسؓ۔حضرت
حضرت عباسؓ بن عبدالمطلب[۵۶۸-۶۵۳ء]جنگ بدرمیں کفارکی طرف سے شامل تھے۔گرفتارہوکرقیدہوئے۔شب میںتکلیف سے کراہے توسرورعالم صلی اللہ علیہ وسلم بے چین ہوکرکروٹیںبدلنے لگے۔ صحابہ کرام ؓ نے سبب دریافت کیاتوفرمایاکان میں عباس کی کراہ کی آوازیں آرہی ہیں۔چنانچہ صحابہؓ نے ان کی مشکیںکھول دیں۔لیکن پھرانہیںحضرت عباسؓ کا پوتا منصورعباسی تخت خلافت پر جب متمکن ہواتواس نے حکم دیاکہ اولادرسولؐ جہاںکہیںہوںان کو جمع کیاجائے ۔ پھرجوملا سب کو زنجیرپہناکرقیدکردیا۔ ایک دن منصوراس طرف سیرکونکلا جہاں جان و جگر رسول پابہ زنجیر تھے۔مجمع سادات سے ایک شخص نے بڑھ کے اسے یہ واقعہ یاددلایاکہ غزوہ بدرمیں ہم نے جو سلوک کیاتھاوہ توکچھ اورتھا۔
علامہ شبلی نے تاریخ کے اس تکلیف دہ واقعہ کو منظوم کیاہے اورسادات کے سوال کو ’’جرات صداقت‘‘ سے تعبیرکیا ہے۔
کلیات شبلی اردوص:- ۹۹

عبدالحمیدخاں۔سلطان
دولت عثمانیہ کے خلیفہ سلطان عبدالحمید [ ۱۸۴۲-۱۹۱۸ء] جو۱۸۷۶ء سے ۱۹۰۹ء تک مسندآرائے خلافت تھے بالآخر یورپ کی سازشوںاوریشہ دوانیوںسے معزول کردئے گئے اور اسی کے ساتھ اس روئے زمین سے خلافت کاخاتمہ ہوگیا۔ علامہ شبلی کو ترکوںسے بے پناہ اور جذباتی تعلق تھا۔۱۸۷۷ء میںروس سے جنگ کے موقع پر انہوںنے نوجوانی میں تین ہزار روپئے کاچندہ کرکے قسطنطنیہ بھیجاتھا۔ اسی تعلق اور بعض دوسرے علمی وتعلیمی اسباب سے انہوں نے ٹرکی کاسفر بھی کیاتھا۔ خلیفہ سلطان عبدالحمیداس وقت صریرائے خلافت تھے اورانہی کے ہاتھوںعلامہ شبلی کے علم وفضل کا اعتراف ہوا اور’’ تمغہ مجیدیہ‘‘ سے سرفرازکیاگیا۔علامہ شبلی نے فارسی واردومیں سلطان عبدالحمید کے کئی قصیدے لکھے ہیں۔رسم سلاملق پرایک مثنوی بھی کہی ہے۔کلیات شبلی اردومیںبھی ایک قصیدہ شامل ہے۔ اور واقعہ یہ ہے کہ اس قدر عمدہ قصیدہ ہے کہ پڑھئے اورجھومتے جائیے۔ یہاں یہ بھی واضح کردینا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ علامہ شبلی کے قصائد عام قصیدہ نگاری کے طرز سے مختلف ہیں۔نہ شخصیت کے بیان میں مبالغہ کرتے ہیںاورنہ زمین کو آسمان بناتے ہیں۔ باوجود اس کے ان کے قصاید اپنی تمام تررعنائیوں سے پر ہیں ۔اس قصیدہ کی ابتداسے اس کی انتہاکا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔اس لئے شروع کے چنداشعار ملاحظہ کریں:

پھر بہار آئی ہے شاداب ہیں پھر دشت وچمن

بن گیا رشک گلستان ارم پھر گلشن

شعلہ زن پھر چمنستاں میں ہوئی آتش گل

پھر صبا چلتی ہے گلشن میں بچا کر دامن

اؑگ پانی میں لگا دی ہے کسی نے شاید

حوض میں عکس گل و لالہ ہے یا جلوہ فگن

باغ میں باد بہاری کی جو آمد کی ہے دھوم

بہر تسلیم ہر اک شاخ کی خم ہے گردن

کلیات شبلی اردوص :- ۷۸

عتبہ ابن ربیعہ
ابوالولیدعتبہ ابن ربیعہ [۵۶۷-۶۲۴ء]کفارکاایک سردار جو جنگ بدر میں حضرت حمزہؓ کے ہاتھوںماراگیا۔علامہ شبلی نے نظم ’’مساوات اسلام ‘‘ میں اس کاذکریوںکیاہے کہ جب یہ جنگ کے لئے میدان میںآیا اور مسلمانوںکی طرف سے تین جاںباز میدان میںآئے تو اس نے سب سے پہلے نام ونسب دریافت کیا اور یہ معلوم ہونے پر کہ ان کاتعلق انصار سے ہے ، معرکہ آرائی سے منع کردیا۔ پھرحضرت حمزہ ؓ اورحضرت علی ؓ میدان میںنکلے تو معرکہ شروع ہوا۔
اسی طرح حضرت بلال حبشی ؓ نے جب تزویج کاارادہ کیاتومدینہ میںکسی نے انکار نہیںکیا۔یہ واقعات نظم کرکے علامہ شبلی مسلمانوںکومساوات کاسبق دیناچاہتے ہیں۔ ان دونوں واقعات کو منظوم کرنے کے بعدایک شعرمیں کہتے ہیں:

یا یہ حالت تھی کہ تلوار بھی تھی طالب کفو

یا مساوات کا اسلام کے پھیلایہ اثر

کلیات شبلی اردوص:- ۹۰- ۹۱

عثماں
علامہ شبلی کی نظموںمیںکئی مقامات پرلفظ عثماں آیاہے اس سے مراددولت عثمانیہ اور اس کے حکمراںہیں۔ وہ مسلمانوں سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں:

زوال دولت عثماں زوال شرع وملت ہے

عزیزو فکر فرزندو عیال و خانما کب تک

کلیات شبلی اردوص: -۱۲۰

عطیہ بیگم فیضی
عطیہ فیضی [۱۸۷۷-۱۹۶۷ء] ہندوستان کی پہلی مسلم خاتون تھیں جوحکومت کی اسکالر شپ پر جدیدتعلیم کے لئے یورپ گئیں۔وہ ترکی میںپیداہوئیںاورکراچی میںوفات پائی اور وہیںمدفون ہیں۔وہ ایک روشن خیال اور بے باک خاتون تھیں۔ انگریزی اوراردو دونوں زبانوںمیںلکھتی تھیںاوردونوںزبانوںمیں ان کے مضامین اور کتابیںشائع ہوئی ہیں۔ اچھی مقررہ تھیںاوربڑے مدلل انداز میںگفتگوکرتی تھیں۔ فنون لطیفہ سے خاصی دلچسپی تھی۔ان کے والدحسن علی [۱۸۳۸-۱۹۰۳ء]، والدہ امیرالنساء امیرا[۱۸۴۹-۱۹۰۸ء]اور بہنیں سب مہذب، تعلیم یافتہ اور’’ ایں خانہ ہمہ آفتاب است‘‘کے مصداق تھیں۔ ہندوستان کے متعددمشاہیرعلامہ اقبال[۱۸۷۷-۱۹۳۸ء]، سرشیخ عبدالقادر وغیرہ سے ان کے روابط تھے۔علامہ شبلی کے سفر قسطنطنیہ میںان کے والد حسن علی سے روابط قائم ہوئے۔بعدمیں عطیہ فیضی اور ان کی بہنوں زہرابیگم[۱۸۶۶-۱۹۴۰ء] اورنازلی رفیعہ بیگم [۱۸۷۴-۱۹۶۸ء] سب سے بے تکلفانہ روابط قائم ہوگئے جوعلامہ شبلی کی وفات تک باقی رہے۔بابائے مولوی عبدالحق[۱۸۷۰-۱۹۶۱ء] نے ان روابط کوداغدار کرنے کی کوشش کی ۔ جانشین شبلی مولاناسیدسلیمان ندوی [۱۸۸۴-۱۹۵۳ء] کے ایک حریف محمدامین زبیری [۱۸۷۰- ۱۹۵۸ء] نے مدۃالعمراس میںرنگ آمیزی کی۔راقم نے اس کاتفصیلی تجزیہ ماہنامہ ایوان اردو دہلی (جون ۲۰۱۹ء) میں پیش کیا ہے۔اس سے واضح ہوتاہے کہ یہ ایک فرضی قصہ تھا،جسے علامہ شبلی کی شخصیت کو داغدارکرنے کے لئے گھڑاگیاتھا۔
عطیہ فیضی نے ایک یہودی نومسلم فیضی رحمین سے جوایک مصوراورنقاش تھے، شادی کی تو علامہ شبلی نے چنداشعار لکھ کر بطور تحفہ انہیںبھیجا ۔یہ اشعار’’کلیات شبلی‘‘ میں شامل ہیں۔ اس کا ایک شعر یہ ہے:

بتان ہند کافر کرلیا کرتے تھے مسلم کو

عطیہ کی بدولت آج اک کافر مسلماں ہے

تعجب ہے ایسے موقع پربھی علامہ شبلی اسلام کو نظرانداز نہ کرسکے۔
کلیات شبلی اردوص :- ۲۱۲

علیؓ ابن ابی طالب۔حضرت
خلیفہ چہارم حضرت علیؓ ابن ابی طالب[۶۰۱-۶۶۱ء] تاریخ اسلام کے ان لوگوں میں سے ہیں جن سے اسلام کی عظمت وتوقیرقائم ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازاد بھائی تھے اور کم سنوںمیں سب سے پہلے یہی ایمان لائے۔شجات وبہادری کاایک نمونہ تھے۔ شیرخدا اور حیدر کرار کے لقب سے بھی پکارے جاتے ہیں۔علم وفہم،سنجیدگی ،تدبروتفکراورورع وتقویٰ میں بھی بے نظیر تھے۔ تاریخ اسلام کے مشہورمعرکوں میںشریک رہے اوردادشجاعت دی۔ایک بدبخت ابن ملجم نے مسجدمیں فجر کے وقت حملہ کیا اورچنددنوںبعدجام شہادت نوش فرمایا۔علامہ شبلیؒ نے اپنی شاعری میں ایک جگہ علیؓ اوربقیہ جگہوں پرحیدرسے مخاطب کیاہے اور ان کی ذات گرامی کا علامہ شبلی نے جہاں جہاں ذکرکیاہے، شجاعت وبہادری کے استعارے کے طورپر کیا ہے۔
کلیات شبلی اردوص :- ۸۶-۹۱-۱۸۸

عمرابن الخطابؓ۔حضرت
خلیفہ دوم حضرت عمرؓ فارو ق [۵۸۴-۶۴۴ء]کاذکرمبارک علامہ شبلی کی شاعری میں کثرت سے آیاہے۔بلکہ حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مقدس کے بعد سب سے زیادہ انہیںکا ذکرخیرآیاہے۔ کہیں فاروق،کہیں فاروق اعظم، کہیں عمر اورکہیں عمرابن خطاب وغیرہ سے۔ اس سے یہ محسوس ہوتاہے کہ علامہ شبلی کے ذہن اوردل ودماغ پرفاروق اعظمؓ کے کوکبہ جلال کے اثرات ہمیشہ اورہمہ وقت نقش رہتے تھے۔یہاں یہ بات بھی کہنے کوجی چاہتاہے کہ شاعری میں فاروق اعظمؓ کاذکر لاکھ عمدہ سہی اورباربارسہی مگر’’ الفاروق‘‘کی خوب صورت ،پاکیزہ اور کوثر وتسنیم سے دھولی ہوئی نثرکاآج بھی کوئی جواب نہیں۔
کلیات شبلی اردوص: -۸۰-۹۲- ۹۳- ۹۴- ۹۵ – ۹۶- ۹۷- ۹۸- ۱۰۱- ۱۰۹

عمربن عبدالعزیزؒ۔حضرت
خلیفہ راشد حضرت عمربن عبدالعزیز ؓ [ ۶۸۲-۷۲۰ء] ۷۱۷ ء سے ۷۲۰ ء تک مسند خلافت پرفائزرہے اور اپنے عدل وانصاف اوررعایاپروری سے دورخلافت راشدہ کی یادتازہ کردی۔یہی وجہ ہے کہ ان کاذکر تاریخ اسلام میںنہایت تقدس اوراحترام سے کیاجاتاہے۔ علامہ شبلی نے ان کے عدل و انصاف پر ایک مستقل نظم’’خلیفہ عمربن عبدالعزیزؒ کاانصاف‘‘ کہی ہے۔پوری نظم تاثرمیں ڈوبی ہوئی ہے اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کاآخری شعر سن کر آپ سمجھ جائیںگے کہ حضرت عمربن عبدالعزیز ؓ کاعدل وانصاف کیساتھااورعلامہ شبلی نے کیوں کر انہیںخراج عقیدت پیش کیاہے:

بے کسوں کو میں ستائوں کیوں کر

مجھ کو دینا ہے قیامت میں جواب

کلیات شبلی اردوص :- ۱۰۹

عنصری
مشہورفارسی شاعرحکیم ابوالقاسم حسن بن احمدعنصری [۹۸۰- ۱۰۳۹ء] جوبلخ میںپیدا ہوا ۔محمودغزنوی کے بھائی نے غزنی بلالیا۔سلطان محمودکی انہیںخاص توجہ حاصل رہی۔اس نے عنصری کوملک الشعراء کاخطاب دیا۔عنصری نے غزنی میںوفات پائی اوروہیںمدفون ہوا۔تاریخ ادب میں عنصری بلخی کے نام سے مشہور ہے۔یوںتوعنصری نے مختلف اصناف میںطبع آزمائی کی ہے۔ لیکن اس کابڑاشعری سرمایہ محمودغزنوی کی شان میںکہے گئے قصیدوںپرمشتمل ہے۔ علامہ شبلی نے سیدمحمود کی شادی کے موقع پرکہے گئے اشعارمیں اسی نسبت کی طرف اشارہ کیاہے کہ

میں بھی ہوں عنصری وقت جو محمود ہے تو

میں بھی ہوں ناز سلف تو اگر فخر اول

کلیات شبلی اردوص: -۷۴

عیسیٰ علیہ السلام ۔حضرت
مشہور پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام جسے عیسائی اپنا پیغمبر مانتے ہیں ۔ مسلمان بھی انہیں قدیم نبیوںمیںتسلیم کرتے ہیں۔ دنیامیںابھی ایک بار پھر ان کاظہورہوگا۔اس کے بعدہی قیامت سے اس دنیاکاخاتمہ ہو گا۔
کلیات شبلی اردوص: -۲۸- ۴۲

غزالی۔امام
ابوحامدمحمدبن محمدغزالی [۱۰۵۸-۱۱۱۱ء] عظیم فلسفی کی حیثیت سے دنیابھرمیں مشہور ہیں۔ وہ نہ صرف فلسفہ میںبے نظیر تھے بلکہ فلسفہ وحکمت کے ساتھ علوم اسلامی ،فقہ اور علم الکلام کے بھی نادرہ عصرعالم تھے۔’’ احیاء علوم الدین‘‘ ،’’تہافۃ الفلاسفہ‘‘ اور’’ کیمیائے سعادت‘‘ ان کی عالم گیرشہرت یافتہ کتابیںہیں۔ چونکہ انہوںنے اسماعیلیوںاورنوافلاطونیوںکے بڑے مدلل اور مسکت جوابات دئے اس لئے انہیں حجۃ الاسلام کے لقب سے یادکیاجاتاہے۔ ان کی عظمت و شہرت عالم اسلام سے نکل کریورپ تک پہنچی اوریورپ نے ایک عرصہ تک ان کی کتابوںسے استفادہ کیا۔ علامہ شبلی نے اپنے ایک قصیدہ میںجہاںمسلمانوںکی علمی برتری اور فضیلت کاذکر کیاہے، وہاںامام غزالی کے علوئے مرتبہ کوبھی بیان کیاہے۔

روشنی علم کی پھیلائی تھی پہلے ہم نے

ورنہ چھایا تھا زمانے میں اندھیرا کیسا

اب بھی لندن میں غزالی کی ہے شہرت کیسی

اب بھی جرمن میں ہے بونصر کا چرچا کیسا

روم و اٹلی کے مدرسے میں کئی صدیوں تک

تھا سند فلسفہ بوعلی سینا کیسا

امام غزالی کے مفصل حالات اوران کے عظیم الشان کارناموںکے لئے علامہ شبلی کی کتاب’’ الغزالی‘‘ ملاحظہ فرمائیں۔
کلیات شبلی اردوص: -۷۷

فاروق اعظمؓ۔ دیکھئے عمر

فاطمہ زہرا۔حضرت سیدہ
حضرت فاطمہ زہراؓ [۶۰۴-۶۳۲ء]آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری صاحبزادی، سیدہ اوربتول ان کے لقب ہیں۔انہیں جنت کی شہزادی بھی کہاجاتا ہے۔حضرت فاطمہ زہراؓ جنتی خواتین کی سردار ہوں گی۔ حضرت علیؓ کرم اللہ وجہہ کے نکاح میںتھیں۔ حضرات حسنینؓ آپ ہی کی اولادتھے۔۲۵؍سال کی کم عمری میں وفات پائی۔علامہ شبلیؒ نے آپ کی ذات اور سیرت پر بہت ہی خوب صورت نظم کہی ہے۔جس کانام ہے ’’اہل بیت رسولؐ کی زندگی‘‘۔علامہ شبلی کی زندگی کی یہ آخری نظم ہے ۔یہ نظم بھی اثرآفرینی کی ایک مثال ہے:

افلاس سے تھا سیدہ پاک کایہ حال

گھر میں کوئی کنیز نہ کوئی غلام تھا

گھس گھس گئی تھیں ہاتھ کی دونوں ہتھیلیاں

چکی کے پیسنے کا جو دن رات کام تھا

سینہ پہ مشک بھر کے جولاتی تھیں بار بار

گو نور سے بھرا تھا مگر نیل فام تھا

یوں کی ہے اہل بیت مطہر نے زندگی

یہ ماجرائے دختر خیرالانام تھا

کلیات شبلی اردوص:- ۸۶-۸۷-۸۸

قیصر
قیصربازنطینی بادشاہوں کا لقب تھا۔اردومیں اکثر مصنّفین قیصروکسریٰ لکھتے ہیں۔ یہ دراصل دونوںلفظ بازنطینی بادشاہوںکے لقب ہیں۔
کلیات شبلی اردوص:- ۲۷- ۶۴

جون کپلر(Johanes Kepler)
جون کپلر[۱۵۷۱-۱۶۳۰ء]مشہور جرمن منجم،ماہرفلکیات و طبیعات اورریاضی داںتھا۔ سترہویں صدی میںجن سائنس دانوںکی بدولت سائنسی انقلاب آیا،اس میں جون کپلر کانام بھی شامل ہے۔اس نے اپنی فلکیاتی کوششوںکو فلکی طبیعات کانام دیاہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے فطرت سائنس داںتسلیم کیاجاتا ہے۔ اس نے سائنسی تحقیقات میںمذہبی دلائل کوبھی تسلیم کیا ۔ اس کا خیال تھا کہ خدانے یہ خوب صورت دنیایوںہی نہیں بنائی ہے۔ ایک مقام پر علامہ شبلی نے کپلرکا بھی نام لیا ہے ۔گویاعلامہ شبلی جدیدعلوم وافکارکی طرف جب راغب ہوئے توکم ازکم جدید علوم و فنون اورتحقیقات و ایجادات کی بنیادی معلومات سے آگاہی حاصل کرلی تھی۔
کلیات شبلی اردوص: ۴۵

کسریٰ
شاہ فارس کالقب ، بعض لوگوںنے اسے خسروکامعرب لکھاہے۔ اور اس کامفہوم عظمت اور ہیبت والابتایاہے۔ علامہ شبلی نے مثنوی’’ صبح امید‘‘اور بعض دوسری تخلیقات میں قیصرو کسریٰ کاذکر کیاہے۔
کلیات شبلی اردوص: -۲۷- ۷۶

کلیم
حضرت موسیٰ علیہ السلام کالقب کلیم اللہ ،کلام شبلی میںاس کا ذکرآیاہے اورہرجگہ مراد حضرت موسیٰ علیہ السلام ہیں۔ان کاذکرعلاحدہ آچکاہے۔
علامہ شبلی لیگی نظریات کوپسند نہیںکرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی نظموںمیںسخت تنقیدیں کی ہیں۔ایک نظم ’’ مسلم لیگ ‘‘میںاور بہت سی باتوںکے ساتھ یہ بھی کہاہے کہ

جناب لیگ سے میں نے کہا کہ اے حضرت

کبھی تو جا کے ہمارا بھی ماجرا کہئے

کلیم طور پہ کرتے تھے عرض قوم کا حال

تو آپ شملہ پہ کچھ حال قوم کا کہئے

شملہ سے اس وقت انگریز بہادرشوق حکمرانی فرماتے تھے۔
کلیات شبلی اردوص: -۱۳۴

گلیڈسٹون
ولیم گلیڈ اسٹون[۱۸۰۹-۱۸۹۸ء] برطانوی وزیراعظم جوچاربار وزارت عظمیٰ کے منصب پرفائز ہوا۔ آخری باروہ ۸۲؍سال کی عمرمیں وزیراعظم بنا۔ اس کے حامی اسے گرینڈ اولڈ مین اور سیاسی حریف ’’خداکی واحدغلطی‘‘کہتے تھے۔اس نے ترکی کے نقطہ نظرکی مخالفت کی تھی ۔ علامہ شبلی نے ڈاکٹر مختاراحمدانصاری [۱۸۸۰ -۱۹۳۶ء]کے طبی وفدکی واپسی پرجوخیرمقدم لکھا تھا، اس میں گلیڈ اسٹون کا نام لیاہے اورکیسے بلیغ اشعارکئے ہیں۔ یہاںدو شعرنقل کئے جاتے ہیں:

گھروں کو لوٹنے کے بعد زندوں کوجلا دینا

بلاد مغربی کے یہ نئے قانوں بھی دیکھے ہیں

مسلمانوں کا قتل عام اور ترکوں کی بربادی

نتائج ہائے امید گلیڈسٹوں بھی دیکھے ہیں

کلیات شبلی اردوص: -۱۲۴

لاٹ
لاٹ صاحب سے مراداس وقت کے صوبہ متحدہ کے انگریزگورنرمسٹر سرجیمس مسٹن ہیں۔جنہوں نے مسجدکان پورسے متعلق ہوئے فیصلے میںترمیم سے انکارکردیاتھا۔ اس موقع پر علامہ شبلی نے اور قطعات کے ساتھ یہ اشعار بھی کہے :

حضرت لاٹ بفرمود کہ فرمان فرمائے

نیست ممکن کہ دگر بگذرد از گفتہ خود

صدر اعظم بسوئے قسمت بنگالہ شرق

نگہے کرد وفرمود کہ من کردم وشد

مولاناسیدسلیمان ندوی نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھاہے کہ:
’’ اس میں ایک تلمیح ہے۔لارڈکرزن نے جب بنگال کی تقسیم کی تھی، مشرقی اور مغربی بنگال، تو بنگالیوںنے سخت ہنگامہ برپاکیا۔اس کے جواب میں وزیر اعظم نے فرمایا تھاکہ ہماری حکومت کے احکام میںتغیروتبدل نہیں۔ یہ مختتم معاملہ ہے اوراس میں تنسیخ قطعاً غیرممکن ،مگر اس تیقن اورتاکید کامنظر یہ نظرآیا کہ شہنشاہ برطانیہ نے دلی آکر تاج پوشی کے موقع پر اس ناقابل تنسیخ حکم کو منسوخ کردیا،اسی طرح مسجدکامعاملہ بھی ہوگا۔‘‘ ( کلیات شبلی اردو ص۱۶۷)
کلیات شبلی اردوص:- ۱۶۷-۱۶۸

لارڈلٹن
لارڈایڈورڈرابرٹ لٹن [۱۸۳۱-۱۸۹۱ء]گونرجنرل آف انڈیا ۔مثنوی ’’صبح امید‘‘ میںجہاں مدرسۃالعلوم علی گڑھ کے قیام اورسنگ بنیادکاذکر ہے ،وہیںلارڈ لٹن کابھی ذکر ہے۔ وہ اس تقریب سنگ بنیادمیں شریک تھا۔علامہ شبلی نے اس موقع پر اس کایہ بیان نقل کیا ہے کہ یورپ نے علوم وفنون میںجوترقی کی ہے ،اس کاسہراعربوںکے سرہے اور میںیہ بنیادرکھ کر اس کا کچھ حق ادا کررہا ہوں۔علامہ شبلی فرماتے ہیں:

تھا لارڈ لٹن جو صدر محفل

فرزانہ و ہوش مند و عاقل

بنیاد کے سنگ اولیں کو

رکھا تو کہا کہ اے عزیزو!

گو سرور انجمن ہے یورپ

سر چشمہ علم و فن ہے یورپ

بایں ہمہ جاہ و شوکت وفر

ہے اہل عرب کا سایہ پرور

سیکھے ہیں اصول فن ان ہی سے

لی ہے روش سخن ان ہی سے

ہوں جو آج میں شریک محضر

رکھتا ہوں جو اس بنا کا پتھر

مقصود یہ ہے یہ چاہتا ہوں

اس حق سے کسی قدر ادا ہوں

کلیات شبلی اردوص: -۵۴

محسن الملک۔نواب
مولوی سیدمہدی علی نواب محسن الملک[۱۸۳۷-۱۹۰۷ء] علامہ شبلی کے گہرے دوست اور سرسیداحمدخاں کے دست راست تھے۔ ابتداء سے علی تحریک کے ہرکام میںبڑھ کر حصہ لیتے اورایم اے اوکالج کی دامے ، درمے ،قدمے، سخنے ہرطرح سے مدد کرتے۔ سرسیدکوبھی ان پربڑااعتمادتھا۔علامہ شبلی نے مثنوی’’ صبح امید‘‘ میں سرسید کے دونوںرفقاء نواب محسن الملک اورنواب وقارالملک [۱۸۴۱-۱۹۱۷ء]کاایک ساتھ ذکرکیا ہے۔
کلیات شبلی اردوص :- ۴۳

محمداسحاق وکیل
علامہ شبلی کے منجھلے بھائی محمداسحاق[م: ۱۲؍اگست۱۹۱۴ء] الہ آبادہائی کورٹ کے نامور وکیل تھے۔ نیشنل اسکول اعظم گڑھ بعدازاںایم اے اوکالج علی گڑھ سے تعلیم حاصل کرکے وکالت کاشغل اختیارکیا۔ وہ نیشنل اسکول کے نائب سکریٹری تھے۔ ایجوکیشنل کانفرنس علی گڑھ کے کئی اجلاسوںمیںشریک ہوئے۔اپنے والدشیخ حبیب اللہ کی طرح رفاہی کاموںمیں بھی بڑھ چڑھ کرحصہ لیتے۔تعلیم عام کرنے کی غرض سے وہ اعظم گڑھ کے قصبات میںنیشنل اسکول کی طرح اسکول قائم کرناچاہتے تھے۔ اس کے لئے انہوںنے اپنی جیب سے ایک رقم بھی مختص کرلی مگر یکایک انتقال سے ان کی یہ آرزوپوری نہ ہوسکی۔
علامہ شبلی انہیںبہت عزیز رکھتے تھے۔یہی وجہ تھی کہ ان کے انتقال کووہ برداشت نہ کرسکے اورخود بھی اسی غم میں جنت سدھارے۔محمداسحاق وکیل کاعلامہ شبلی نے جومرثیہ لکھاہے وہ خاص طورپر قابل ذکرہے۔علامہ شبلی نے اور اور مقامات پربھی ان کاذکر کیاہے۔’’ مکاتیب شبلی‘‘ میں تو ان کا کثرت سے ذکر آیاہے۔ مرثیہ کاایک بندملاحظہ ہو:

تازہ تھا دل پہ مرے مہدی مرحوم کا داغ

کہ مرا قوت بازو تھا مرا چشم و چراغ

اس کو جنت میں جو خالق نے دیا گنج فراغ

میں یہ کہتا تھا کہ اب بھی ترو تازہ ہے یہ باغ

یعنی وہ آئینہ خوبی اخلاق تو ہے

اٹھ گیا مہدی مرحوم تو اسحاق تو ہے

آج افسوس کہ وہ نیر تاباں بھی گیا

میری جمعیت خاطر کا وہ ساماں بھی گیا

اب وہ شیرازئہ اوراق پریشاں بھی گیا

عتبہ والد مرحوم کا درباں بھی گیا

گلہ خوبی تقدیر رہا جاتا ہے

نوجواں جاتے ہیں اور پیر رہا جاتا ہے

کلیات شبلی اردوص :- ۲۰۰- ۲۰۱- ۲۰۲

محمدشفیع۔سر
سرمحمدشفیع[ ۱۸۶۹-۱۹۳۲ء] لاہورسے تحصیل علم کے بعدلندن گئے اور ۱۸۹۲ء میں بیرسٹر ہوکرواپس آئے۔مختلف مقامات پروکالت کے بعد ۱۹۱۱ء میںامپیریل لیجسلیٹیو کونسل کے رکن منتخب ہوئے۔ بعدازاں۱۹۱۹ء میںوائیسرائے کی مجلس عامہ کے رکن نامزدہوئے۔
تعلیم پران کی گہری نظرتھی۔ انجمن اسلامیہ ہوشیارپوراور مسلم ہائی اسکول کی بنیاد انہیں نے ڈالی تھیں۔اردوکانفرنس کے بھی وہ صدرمنتخب ہوئے۔۱۹۱۶ء میںایجوکیشنل کانفرنس کے ایک اجلاس کے صدرمنتخب ہوئے۔اس کے خطبہ میںپرائمری سطح تک کی تعلیم مفت دئے جانے کی گورنمنٹ سے اپیل کی تھی۔پنجاب یونیورسٹی کے معاملات میںبھی وہ دلچسپی لیتے تھے۔علامہ شبلی سے ان کے مراسم تھے۔علامہ شبلی نے ایک نظم ’’آیندہ مسلم لیگ کی صدارت‘‘ میںان کا ذکر کیا ہے، بلکہ ان کی صدارت پرسخت طنزبھی کیا ہے۔ مولانا سیدسلیمان ندوی[۱۸۸۴-۱۹۵۳ء] نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھاہے کہ:
’’مسلمانوںکے اس ہنگامہ جوش میںارباب مسلم لیگ نے مسٹر محمدشفیع بیرسٹر لاہورکوجو مسلمانوںکے ان ہنگاموںسے الگ تھے اور اس لئے حکومت کی نظر میں محبوب تھے،مسلم لیگ کاصدر بنانا تجویز کیاگیا۔شاعر(شبلی)نے اس کی وجہ یہ تلاش کی ہے کہ ارکان مسلم لیگ کو حکومت کے پیش گاہ میں ایک شفیع کی ضرورت تھی ۔تاکہ مسلم لیگ سے حریت وآزادی کے جو چند جرائم ہوگئے ہیں وہ معاف ہوسکیں۔‘‘(کلیات شبلی اردوص ۱۹۵)
کلیات شبلی اردوص:- ۱۹۵

محمودغزنوی
سلطان محمودغزنوی [ ۹۷۱-۱۰۳۰ء] سلطنت غزویہ کے بانی سبکتگین کابیٹا اور جانشین تھا۔ ۹۷۷ء میںسبکتگین کی وفات کے بعد عنان حکومت سنبھالی اورپے بہ پے معرکے سر کرکے غزنی سلطنت کوبڑی وسعت دی۔ نہایت بہادر ،شجاع اورعلم دوست تھا۔البیرونی اور سعدی جیسے ارباب کمال اس کے دربارسہ وابستہ رہے۔ اس نے اپنے دائرہ حکومت میںوسعت کے لئے ہندوستان پر سترہ بار حملہ کیا۔ایاز اسی کا غلام تھا ،جس کو بڑی شہرت ملی۔ علامہ اقبال کے اس شعر نے تو محمودوایاز کو شہرت عام دیدی۔

ایک ہی صف میں کھڑے ہوگئے محمود و ایاز

نہ کوئی بندہ رہا اور نہ کوئی بندہ نواز

سرسیدکے صاحبزادے سیدمحمود [ ۱۸۵۰-۱۹۰۳ء] کی شادی کے موقع پر علامہ شبلی نے جو منظوم تہنیت پیش کی تھی اس میںتلمیح کے ساتھ بڑے بلیغ اندازمیںشاعرانہ تعلی کی ہے:

مجھ کو خود حسن طبیعت پہ ہے اپنے وہ غرور

کہ لکھوں مدح تو اپنا ہی لکھوں علم وعمل

میں بھی ہوں عنصری وقت جو محمود ہے تو

میں بھی ناز سلف تو ہے اگر فخر اول

کلیات شبلی اردوص:- ۷۴

مختاراحمدانصاری۔ڈاکٹر
مجاہدآزادی اور کانگریس کے سابق صدر ڈاکٹرمختاراحمدانصاری [۱۸۸۰-۱۹۳۶ء] جامعہ ملیہ کے بانیوںمیںسے ہیں۔علامہ شبلی کے پڑوسی ضلع غازی پورکے باشندہ تھے۔ جدید تعلیم یافتہ اورروشن خیال تھے۔ سب سے بڑی بات یہ کہ علامہ شبلی کے ہم خیال قوم پرورمسلمان سیاست داں تھے۔ڈاکٹرانصاری ترکی میںطبی وفدلے کر گئے تھے۔ علامہ شبلی اس واقعہ سے اس قدرمتاثرہوئے کہ اسٹیشن پر ڈاکٹرانصاری کے بوٹ کوبوسہ دیدیا۔ وہ جب طبی مشن سے لوٹ کرآئے توان کے استقبال کے لئے بمبئی تشریف لے گئے۔ اورایک نظم میںانہیں سراہا۔یہ طویل نظم ’’خیرمقدم ڈاکٹر انصاری ‘‘ کے نام سے کلیات شبلی میںشامل ہے۔ یہ طویل نظم بھی پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔اس میںانہوں نے اگرچہ خیرمقدم کیاہے مگردرحقیقت ان کے جذبات کایہ ایک آئینہ ہے۔اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہیںترکوںسے کس درجہ محبت تھی اوروہ ان کے بارے میںکیسے کیسے جذبات رکھتے تھے۔ اوریہ بھی کہ طبی وفدکے وہ کس درجہ مداح تھے۔
کلیات شبلی اردوص:- ۱۲۲

منصورعباسی
ابوجعفرمنصورعباسی [۷۱۴-۷۷۵ء] حضرت عباسؓ کاپوتااورصاحب علم وفضل تھا۔ مگر سادات کو اپنادشمن خیال کرتاتھا۔چنانچہ وہ جب تخت نشیںہواتو اس نے سادات کوجمع کرکے قید کرادیااوربڑی اذیتیں دیں۔علامہ شبلی نے ایک نظم ’’جرات صداقت ‘‘میں تاریخ کے اس اذیت ناک واقعہ کاذکر کیا ہے۔ ظاہرہے اس میں ابوجعفرمنصور عباسی کی سفاکی کاذکرآناتھا اورآیا۔
کلیات شبلی اردوص:- ۹۹- ۱۰۰

موسیٰ علیہ السلام۔حضرت
مشہورپیغمبرحضرت موسیٰ علیہ السلام [۱۵۷۱-۱۴۵۱ق م ]مصرمیںپیداہوئے ۔فرعون کے گھرمیںپرورش پائی۔ حضرت شعیب علیہ السلام کی صاحبزادی سے شادی ہوئی۔ مدین سے مصر آتے ہوئے راستہ میں کوہ طورپر اللہ تعالی سے ہم کلام ہوئے۔اسی لئے آپ کوکلیم اللہ کہا جاتا ہے۔آپ نے جب دین کی دعوت دی توفرعون آپ کادشمن ہوگیا۔آپ جب بنی اسرائیل کولے کر مصرسے نکلے توراہ میں دریائے نیل حائل ہوا۔اللہ کے حکم سے آپ نے دریائے نیل میں عصاماراجس سے راستہ بن گیااورپاراترگئے ،جبکہ اسی نیل میںفرعون غرق ہوگیا۔ پوری تفصیل قرآن مجیدمیں موجودہے۔ایک نظم ’’ہجرت نبویؐ ‘‘ میںتمثیلاً پہاڑطوراور حضرت موسی علیہ السلام کاذکرآیاہے۔
کلیات شبلی اردوص:- ۸۱

مہدی حسن ۔بیرسٹر
محمدمہدی حسن [م:۲۹؍جون ۱۸۹۷ء]بی اے۔ آکسن، بیرسٹر،علامہ شبلی کے منجھلے بھائی۔ابتدائی تعلیم کے بعدقرآن مجیدحفظ کیا۔عربی فارسی کی تعلیم کے بعدانگریزی تعلیم حاصل کی۔۱۸۷۹ء میں وکالت کاامتحان پاس کیا۔پھر اعلی تعلیم کے لئے علی گڑھ گئے ۔ ۱۸۸۴ء میں علی گڑھ سے ایف اے پاس کیا۔ اکتوبر ۱۸۸۵ء میںبیرسٹری کے لئے لندن گئے اورپھر۸؍اکتوبر ۱۸۸۸ء کو بی، اے۔ آکسن اوربارایٹ لا ہوکر واپس آئے ۔ان کی واپسی پراعظم گڑھ میں یادگار جشن منعقد ہوا۔لندن میںان کی صحت خراب ہوگئی تھی۔ اس کی وجہ سے انہوںنے اپنے مرتبہ سے اترکر منصفی قبول کرلی، تاہم وہ بھی راس نہیںآئی اور تمام ترعلاج ومعالجہ کے باوجود جاںبر نہ ہوسکے اور ۲۹؍جون۱۸۹۷ء کوداعی اجل کولبیک کہا۔
وہ بڑے ذہین اورباصلاحیت تھے۔اردوزبان پربھی عبور حاصل تھااوربڑی شگفتہ نثر لکھتے تھے۔ انہوںنے اپنے والدشیخ حبیب اللہ اور بھائی علامہ شبلی کولندن سے جوخطوط لکھے ہیںوہ خاص طورقابل ذکر ہیں۔ ڈاکٹرابن فرید[۱۹۲۵-۲۰۰۷ء]اور ڈاکٹر سید عبدالباری شبنم سبحانی[۱۹۳۷-۲۰۱۳ء] نے ان خطوط پر مضامین لکھے ہیںاوراسے ادب کاقابل قدر سرمایہ بتایا ہے۔راقم نے ان خطوط کواپنی کتاب ’’علامہ شبلی کے نام اہل علم کے خطوط‘‘میںبطورضمیمہ شائع کردیاہے۔علامہ شبلی مکاتیب وغیرہ میں ان کااکثر ذکر کرتے ہیں۔مرثیہ اسحاق میں بھی ان کا ذکر آیا ہے۔ جواوپر نقل ہوچکا ہے۔
کلیات شبلی اردوص:- ۲۰۱

نظیری
فارسی کے ناموراورباکمال شاعرنظیری نیشاپوری [م: ۱۰۲۱ھ] کادیوان بے حدمقبول ہوا۔ وہ نیشاپور میںپیداہوئے اورہجرت کرکے ہندوستان آگئے اورپھراسی کی خاک کاپیوند ہوئے۔احمدآبادگجرات کی ایک مسجد میںان کامزارواقع ہے۔
علامہ شبلی نے اپنی مثنوی’’ صبح امید‘‘کے مقطع میںنظیری کاشعر نقل کیاہے اور اس کے کی جگہ اپناتخلص شامل کردیاہے۔ یہ نہ صرف نظیری کابلکہ فارسی کابہت مشہورشعر ہے۔
کلیات شبلی اردوص:-۶۰

نورجہاں
نورجہاں [ ۱۵۷۷-۱۶۴۵ء] مغل حکمراں جہاں گیرکی ملکہ تھی۔قندھاافغانستان میں پیداہوئی اورلاہور میںوفات پائی اور وہیںجہاںگیرکے مقبرہ شاہدرہ لاہورمیںمدفون ہے۔یہ جہاںگیرکی بیسویںبیوی تھی تاہم جہاںگیرکواس سے بے حدانس تھا۔بعض مورخین کاخیال ہے کہبادشاہ جہاں گیرکے درپردہ اصلاًیہی حکومت کرتی تھی۔علامہ شبلی نے بھی ایک شعرمیںاس کی طرف اشارہ کیا ہے۔

یہ وہی نور جہاں ہے کہ حقیقت میں یہی

تھی جہاں گیر کے پردہ میں شہنشاہ زمن

علامہ شبلی کی بہت مشہوراوربہت خوب صورت نظم ’’عدل جہاںگیری‘‘ہے ۔ جس میں نورجہاںکے ایک راہ گیرکے قتل اورپھرعدالت میںاس کی پیشی ،شرعی نقطہ نظرسے اس کی سزا اور ترکنوںکا اسے گرفتار کرنا،عدالت میںپیش کرنااورپھر خوںبہادے کرعدالت سے بری ہونااور جہاںگیرکا اس میں کسی طرح کادخل نہ دینا ، سلسلہ وار منظوم کیاگیاہے اوردکھایاگیاہے کہ جہاںگیرکایہ عدل وانصاف تھا کہ خطاپر اپنی چہیتی ملکہ کوبھی نہیں بخشا۔جب یہ سب کچھ ہوچکا تو جہاںگیرحرم میںآیا۔لیکن کس طرح شبلی کی زبانی :

ہوچکا جب کہ شہنشاہ کو پورا یہ یقیں

کہ نہیں اس میں کوئی شائبہ حیلہ و فن

اٹھ کے دربار سے آہستہ چلا سوئے حرم

تھی جہاں نور جہاں معتکف بیت حزن

دفعتاً پائوں پہ بیگم کے گرا اور یہ کہا

تو اگر کشتہ شدی آہ چہ می کردم من؟

ظاہرہے یہ پوری نظم ہی نورجہاںاورجہاںگیرکے واقعہ کے حوالہ سے اس کے عدل وانصاف پرمبنی ہے ،اس لئے متعدداندازمیں ان کا ذکر آیاہے۔
کلیات شبلی اردوص:- ۱۰۳- ۱۰۴- ۱۰۵

نیوٹن
سرآئزک نیوٹن [ ۱۶۴۳-۱۷۲۷ء]دنیاکے عظیم اورنامورسائنس داںہیں۔ انہیں فلسفہ،ریاضی،کیمیا، طبیعات،فلکیات، وغیرہ علوم میںزبردست مہارت تھی۔ علامہ شبلی نے اپنی مثنوی،، صبح امید‘‘میںان کابھی ذکرکیاہے۔

وہ گنج گران دانش و فن

وہ فلسفہ جدید بیکن

کپلر کی وہ نکتہ آرفینی

نیوٹن کے مسائل یقینی

اس فیض سے ہم بھی بہرہ ور ہوں

ہم بھی اسی کان کے گہر ہوں

یہ اس بات کی دلیل تونہیں کہ علامہ شبلی سائنس سے واقف تھے۔البتہ یہ ضرور ہے کہ وہ سائنس دانوںسے کسی قدر ضرورواقف تھے۔بالخصوص ابتدائی دورکے مسلمان سائنس دانوں پر ان کی بھرپورنگاہ تھی۔ مثنوی’’ صبح امید‘‘۱۸۸۵ء میںلکھی گئی ۔یہ علی گڑھ کاان کاابتدائی زمانہ تھا۔اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ واقفیت علی گڑھ ہی کی فضائوں کی دین ہے۔
کلیات شبلی اردوص: -۴۵

وقارالملک۔نواب
مولوی مشتاق حسین نواب وقارالملک[۱۸۴۱-۱۹۱۷ء] علی گڑھ تحریک کے ایک اہم ستون تھے۔ جس زمانہ میںسرسید احمدخاں[۱۸۱۷-۱۸۹۸ء] مرادآبادمیںمنصف تھے ،اس وقت وقارالملک وہاںمحررتھے۔ سرسیدنے قحط کے زمانہ میں انہیںراحت رسانی کے کاموں کا ذمہ دار مقررکیا۔چنانچہ انہوںنے اپناکام بڑی خوبی سے انجام دیا،جس سے سرسیدان سے بہت متاثر ہوئے۔یہیںسے دونوںمیںتعلقات قائم ہوئے، جو مدۃالعمرقائم رہے۔پھر وقارالملک ریاست حیدرآبادسے وابستہ ہوگئے۔سبکدوشی کے بعدسرسیدکی معاونت کے لئے علی گڑھ آئے اورسرسیدکے کاموںمیں ہاتھ بٹایا۔نواب محسن الملک کی وفات کے بعدوہ علی گڑھ میں بورڈآف ٹرسٹی کے آنریری سکریٹری نامزد ہوئے۔کالج کویونیورسٹی بنانے میںبھی انہوںنے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ کالج کی ترقی میں ان کا بڑانمایاںحصہ ہے۔سرسیدکی شان میںعلامہ شبلی نے جو مثنوی لکھی ہے، اس میں نواب محسن الملک کے ساتھ ان کابھی ذکرکیاہے ۔ علامہ شبلی سے بھی ان کے گہرے مراسم تھے۔ مکاتیب شبلی میں ان کامتعددمقامات پر بڑے احترام سے ذکرآیاہے۔ دونوںمیںخط وکتابت بھی تھی۔ ’’مکاتیب شبلی ‘‘اور ’’مکتوبات شبلی‘‘ میںان کے نام علامہ شبلی کے کئی خطوط درج ہیں۔
کلیات شبلی اردوص: -۴۳

ہند
ہندیاہندہ حضرت ابوسفیان کی بیوی جوبعدمیںاسلام میں داخل ہوئیں۔یہی وہ خاتون ہیں جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچاحضرت حمزہ ؓ کا کلیجہ کچاچبایاتھااور جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سامنے آنے سے احتراز کرنے کوکہاتھا۔ان سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک گفتگو کو علامہ شبلی نے منظوم کیاہے اوران کی آزادانہ گستاخی کو آزادی افکارسے تعبیر کیا ہے۔ اس کا آخری شعریہ ہے:

لیکن آزادی افکار تھی از بس کہ پسند

آپ ؐ نے فرط کرم سے اسے رکھا معذور

کلیات شبلی اردوص:-۸۴

یزید
یزیدبن معاویہؓ [۶۴۷-۶۸۳ء] ان سے کون واقف نہیں۔ علامہ شبلی نے ایک نظم ’’نظام حکومت اسلام‘‘ کہی ہے اورواقعہ یہ کہ یہ ان کی انتہائی شاندارنظموںمیںسے ایک ہے اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ اس نظم سے پورے طورپر یہ واضح ہوجاتاہے کہ اسلامی نظام حکومت کس بنیادپرقائم ہوتاہے۔علامہ شبلی نے اس نظم میں توارث کونظام اسلام سے علاحدہ کفار کا طریقہ اوراسے قیصروکسری ٰ کی سنت بتایاہے۔اورواضح طوراسلام کاطریقہ مجلس شوری کے نظام کو بتایاہے۔
کلیات شبلی اردوص:- ۱۰۱

یوسف ثوبانی
حاجی یوسف ثوبانی بمبئی کے ایک ممتازتاجرحاجی عمرثوبانی کے صاحبزادے تھے۔ تعلیم سے بہت دلچسپی تھی ۔تعلیمی کاموںمیںآگے بڑھ کرحصہ لیتے تھے۔ انجمن اسلام بمبئی کے صدر بھی رہے۔ ’’کلیات شبلی‘‘ کی ایک نظم کاعنوان ہے ’’بمبئی کی وفادار انجمن‘‘اس میںیوسف ثوبانی کا ذکر آیا ہے۔ مولاناسیدسلیمان ندوی نے اس پرایک مختصرسانوٹ لکھا ہے کہ
’’جنگ بلقان کے زمانہ میں جب تمام ہندوستان میں وزرائے برطانیہ کی طرز سیاست کے خلاف جوش وغصے کی لہر دوڑرہی تھی بمبئی میںایک گمنام وفادار ’’اسلامی انجمن بمبئی کے نام‘‘ سے اخبارات میں مسلمانوںکے عام خیالات کی مخالفت میں اس کی تجویزیں شائع ہوتی تھیں۔ مولانانے اس نظم میں اس کی پردہ دری کی ہے۔‘‘ ( کلیات شبلی ص۱۳۰، اعظم گڑھ ،طبع جدید۲۰۱۲ء)
مختصرسی یہ نظم اپنے اندربے پناہ معنی ومفہوم رکھتی ہے اورسیاسی نظم نگاری کی تاریخ میں توسنگ میل کادرجہ رکھتی ہے۔اس کی معنویت میںاس قدر تنوع ہے کہ کم ہی نظموںمیںملے گا۔

ایک دن تھا کہ وفاداری مسلم کی متاع

ہر جگہ عام تھی اور نرخ میں ارزانی بھی

دفعتاً ہوگئی ہنگامہ بلقان میں گم

قوم کو سخت مصیبت تھی پریشانی بھی

ہاتھ آنے کا تو ذکر پتہ تک بھی نہ تھا

ڈھونڈنے والوں نے گو خاک بہت چھانی بھی

ہو مبارک تجھے اے بمبئی اے ناز دکن

کہ ترے تاج میں ہے طرہ سلطانی بھی

تیرے بازار میں وہ یوسف گم گشتہ

جس کا مشتاق خود یوسف کنعانی بھی

یہ الگ بات ہے اندھوں کو وہ آئے نہ نظر

گو اسی زمرہ میں ہے یوسف ثوبانی بھی

کلیات شبلی اردوص: -۱۳۰

ماخذ ومصادر
(۱) آثار شبلی۔ڈاکٹرمحمدالیاس الاعظمی،دارالمصنّفین اعظم گڑھ،۲۰۰۴ء
(۲) اورنگزیب عالم گیرپرایک نظر۔علامہ شبلی نعمانی،دارالمصنّفین اعظم گڑھ،۲۰۰۴ء
(۳) بزم تیموریہ۔اول تاسوم،سیدصباح الدین عبدالرحمن،دارالمصنّفین اعظم گڑھ
(۴) تاریخ اسلام۔اول تاچہارم،شاہ معین الدین احمدندوی،دارالمصنّفین اعظم گڑھ
(۵) حکمائے اسلام۔اول ودوم،مولاناعبدالسلام ندوی،دارالمصنّفین اعظم گڑھ
(۶) حیات شبلی،مولاناسیدسلیمان ندوی،دارالمصنّفین اعظم گڑھ
(۷) سیرالصحابہ۔شاہ معین الدین احمدندوی،دارالمصنّفین اعظم گڑھ
(۸) سیرۃ النبیؐ۔اول ودوم،علامہ شبلی نعمانی،دارالمصنّفین اعظم گڑھ
(۹) شعرالعجم۔اول تاچہارم،علامہ شبلی نعمانی،دارالمصنّفین اعظم گڑھ
(۱۰) علامہ شبلی کے نام اہل علم کے خطوط،ڈاکٹرمحمدالیاس الاعظمی۔ادبی دائرہ اعظم گڑھ،۲۰۱۳ء
(۱۱) کلیات شبلی اردو۔علامہ شبلی نعمانی،دارالمصنّفین اعظم گڑھ،۲۰۱۲ء
(۱۲) مکتوبات شبلی۔ڈاکٹرمحمدالیاس الاعظمی،ادبی دائرہ اعظم گڑھ،۲۰۱۲ء
(۱۳) نقوش شخصیات نمبر۔محمدطفیل،ادارہ فروغ اردولاہور

 

تعارف:
ڈاکٹرمحمدالیاس الاعظمی (پ:۲۳؍ستمبر۱۹۶۶ء)کاتعلق سرزمین اعظم گڑھ سے ہے۔ وہ دارالمصنّفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ کے اعزازی رفیق ہیں۔گذشت ۳۲؍برسوںسے تحقیق وتصنیف کے میدان میںسرگرم ہیں۔مختلف موضوعات پرسوسے زایدمقالات موقرادبی رسائل وجراید میںشائع ہوچکے ہیں۔ ان کی تصنیفات وتالیفات ،تراجم اورکتابیات پرمشتمل ۴۲؍ کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ ان میں دارالمصنّفین کی تاریخی خدمات،عظمت کے نشاں،مطالعات و مشاہدات اورعکس واثر خاص طورپرقابل ذکرہیں۔ ان کابنیادی موضوع مطالعہ وتحقیق علامہ شبلی نعمانی کی شخصیت اورفکروفن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں ماہرشبلیات قراردیا جاتاہے۔ علامہ شبلی سے متعلق ابتک ان کی پندرہ کتابیں شائع ہوکراہل علم سے دادتحسین حاصل کرچکی ہیں۔ان میں آثارشبلی، نوادرات شبلی،مراسلات شبلی،شذرات شبلی، شبلی اور جہان شبلی، اقبال اوردبستان شبلی اور علامہ شبلی کے نام اہل علم کے خطوط خاص طورلائق ذکرہیں۔ ان میںمتعددکتب کواترپردیش اردو اکامی لکھنواور بہاراردواکیڈمی پٹنہ سے انعامات مل چکے ہیں۔شبلی نیشنل کالج اعظم گڑھ نے امتیازشبلی اور شبلی انٹر نیشنل ایجوکیشنل ٹرسٹ حیدرآبادنے افتخار شبلی اور مجموعی ادبی خدمات کے لئے اترپردیش اردواکادمی لکھنو سے مسعودحسن رضوی انعامات سے نوازے جاچکے ہے۔ وہ متعدد نیشنل اورانٹرنیشنل سمیناروںمیں شریک ہوکرمقالات پیش کرچکے ہیں۔اورملک وبیرون ملک متعدد رسائل کی مجلس ادارت ومشاورت کے رکن بھی ہیں۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post