کروچے ۔۔۔ ایک مختصر تعارف : ڈاکٹرستیہ پال آنند

 

(Benedetto Croce (Italian: [bene’detto ‘kro?t?e]; (25-2-1866 – 20-11-1952)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

صرف ایک سو صفحات پر مشتمل اپنے رسالہ میں کروچےؔ نے علم و عمل کی ذو جہتی یونانی تھیوری کے مطابق یہ درس دیا کہ

علم و عمل دونوں جہاں ایک طرف نفس ِ امارہ، نفس ِ مطمئنہ اور نفس لوامہ کے لیے وجدان کا سامان مہیّا کر سکتے ہیں وہاں منطق و ادراک، شعور و عقل کو بھی نشو و نما دیتے ہیں۔موخر الذکر کے لیے تعقل یہ کام کرتا ہے اور اول الذکر کے لیے تخیل اپنا سب سر و سامان بروئے کار لاتا ہے۔ وجدان اپنے آپ میں صرف ایک حسی اور حسیاتی جذبہ ہے اور اس کی تکمیل تبھی ہوتی ہے، جب یہ اظہار کا راستہ تلاش کر لے ۔ اظہار کی تجسیم ہی اس کا فرض ہے اور اگر یہ ممکن نہیں ہے تو یہ کسی جانور کا خوشی میں چھلانگیں لگانے کا عمل تو ہو سکتا ہے، انسان کا وجدان نہیں۔ دیکھیں :
La Critica. Rivista di Letteratura, Storia e Filosofia diretta da B. Croce, 1, 1903 p.372

جس بات نے مجھے ہمیشہ کے لیے کروچےؔ کا مرہون ِ منت کر لیا وہ اس کا یہ فرمان ہے کہ جمالی فعل صرف اس وقت منصہ شہود پر آتا ہے جب انسانی ذہن میں کوئی واضح یا نیم واضح خیالی خاکہ ایک شکل میں ڈھل جائے۔ گویا ایک بصری منظر نامہ معرض ِ وجود میں آ جائے۔

مثال کے طور پر حب الوطنیـت ایک ’کانسیپٹ‘ ہے ، جس کی کوئی واضح شکل انسانی ذہن میں موجود نہیں ہے۔ اس کانسیپٹ کو تخلیقی عمل میں سے گذرنے کی غٖرض سے اپنے لیے ایک سہارا ڈھونڈنا پڑتا ہے اور وہ ایک ایسا منظر نامہ ہے، جس سے اس کی غرض و غایت اگر ثابت نہ بھی ہو تو اس کا عمل ثابت ہو۔ اس دورانیے میں تخلیقی ذہن اپنے لیے وہ جیومیٹری کی اشکال تراشتا ہے، جو زبان میں ڈھلنے کے بعد ا س کا نقشہ قاری کو یا سامع کو سمجھا سکیں۔

یہاں یہ بات ضروری ہے، کہ اظہار کا یہ خارجی طریقہ شاعر کے لیے زباندانی، مصور کے لیے برش اور رنگوں کے استعمال کا ہنر، یامورتی کلا کے لیے ، خام سامان یعنی پتھراور اوزار یعنی ہتھوڑا ، چھینی وغیرہ کا ماہرانہ عمل، یہ سب خارجی اوزار اس کے اصلی اور اندرونی لائحہ عمل سے کوئی سروکار نہیں رکھتے، اس کے لیے تو اسے فنکارانہ ہنر کی ضرورت ہے۔ فن اور ہنر کا یہی امتزاج کسی کو اچھا یا برا فنکار بنا سکتا ہے۔

جس بات کی تربیت مجھے ملی وہ یہ تھی کہ جو کچھ ’باہر‘ معرض ِ وجود میں آیا ہے، وہ ’اندر’ کی کاربن کاپی تو نہیں ہو سکتا۔ ’اندر‘ کے تصویری مونتاژ کی لا تعداد جہتیں، بے شمار رنگ، بے حد و نہایت زمان و مکان کے استمراری اور غیر استمراری آباد ہیں۔ اور ان سب کی دم بدم بدلتی ہوئی کیفیات کی کوئی ’’نقل برابر اصل‘‘ تصویر الفاظ میں یا رنگوں میں یا ایک مورتی کی شکل میں ڈھالی نہیں جا سکتی،

تو پھر آرٹ کیسے اصل یعنی اندرونی ’سچ‘ کو دکھا سکتا ہے؟ اس کا کوئی جواب دینا کسی کے بس کی بات نہیں تھی، لیکن چنڈی گڑھ میں قیام کے دوران جب میں نے اورو بندو گھوشٌؔ کی انگریزی تصنیفا ت کو پڑھا تو مجھے یہ مسئلہ کچھ کچھ حل ہوتا ہوا دکھائی دیا۔ اس کا ذکر میں کسی اگلے نوشتہ میں کروں گا۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post