کرونا کے بعد اردو کے تازہ شعری رجحان پر ایک نظر : ڈاکٹر اسحاق وردگ

 

وبائے عام کرونا کے بعد پوری دنیا ایک نئی نفسیاتی کیفیت اور خوف کے اذیت ناک احساس سے گزر رہی ہے۔شاید ہی اکیسویں صدی کے انسان نے کبھی سوچا ہو کہ ترقی کی شاہراہ پر گامزن انسانی قافلے کا سفر ایک وائرس کے آگے رک جائے گا۔
جنوری میں جب معاشی طاقت چین پر کرونا کا حملہ ہوا تو پوری دنیا تماشائی تھی۔آج سب تماشا بنے ہوئے ہیں۔چین کے بے بسی کے ابتدائی دنوں میں یہ شعر کہتے وقت میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ مجھ سمیت دنیا کی بڑی آبادی کرونا کے خوف سے گھروں تک محدود ہو جائے گی۔
ایسی ترقی پر تو رونا بنتا ہے
جس میں دہشت گرد کرونا بنتا ہے
چین سے اٹھنے والی یہ وبا اب “عالمی دہشت گرد” کا روپ اختیار کر چکی ہے۔زندگی کا کوئی ایسا شعبہ نہیں جو کرونا کے اثرات سے محفوظ ہو۔
اردو شاعری بھی ان اثرات کو ایک نئے رجحان کے طور پر جذب کر چکی ہے۔وبا کے دنوں کی شاعری تیزی سے سوشل میڈیا سے ہوتی ہوئی عام آدمی کے ذہنوں میں جگہ بنا چکی ہے۔ادب سے صحافت تک اظہار کے سبھی اسالیب اخباری کالم،فیچرز اور الیکٹرانک میڈیا کے ادارے بھی کرونا کی صورت حال کی عکاسی کے لیے اس نئے شعری رجحان کی زبان میں اپنا مافی الضمیر بیان کر رہے ہیں۔وبائے عام سے پیدا ہونے والے خوف و خدشات اور رجائیت کے احساسات شعر و ادب کا حصہ بن رہے ہیں۔سماج کی اکائیاں گھروں میں محصور ہیں۔تاہم سماجی رابطوں کے وسیلوں سے فرد اب فرد سے لاتعلق سہی بے خبر نہیں ہے۔
سوال یہ ہے کہ ان اذیت ناک مرحلے پر ادیبوں کا تخلیقی ردعمل کیا ہے۔اس اہم سوال پر ممتاز شاعر و محقق ڈاکٹر یونس خیال کی ادارت میں ایک تحقیقی مقالے کی پہلی قسط ادبی و سماجی ویب گاہ “خیال نامہ” پر بحث کا دروازہ کھول چکی ہے۔اسی سلسلے میں ممتاز ادیب جناب ناصر علی سید کے زیر ادارت ادبی صفحے “ادب سرائے” کی تازہ اشاعت میں ممتاز نقاد ڈاکٹر طارق ہاشمی کا مضمون پڑھنے لائق ہے۔جس میں ماضی سے حال تک وبائے عام کے ادب اور ادیبوں پر اثرات کا اجمالی خاکہ پیش کیا گیا ہے۔
ادبی صفحات کے ضمن ہی میں معروف شاعر سجاد بلوچ کی ادارت میں چھپنے والے روزنامہ”92 نیوز” کے ادبی صفحے “ادب رنگ” نے بھی وبائے عام کے بعد کے تخلیقی رویوں کو سمیٹا ہے۔پروفیسر وحید قریشی مدیر ادبی صفحہ روزنامہ”جیو ہزارہ” کا ذکر بھی ضروری ہے۔اس صفحے پر پروفیسر وحید قریشی کا مضمون ” وبا کے دنوں میں ادب اور ادیب کی اہمیت” فکرکے نئے در وا کرتا ہے۔
ان دنوں ویب گاہوں پر بھی شعری تخلیقات نئے منظرنامے کو پینٹ کر رہی ہیں۔ “ہم سب” ،”آوازہ” ،”کاروان” اور دیگر ویب سائٹس ادبی کاوشیں قابل تعریف ہیں کہ ان کے توسط سے عصری حسیات کے شاعرانہ اظہاریے قارئین اور قلم قبیلے کو میسر ہیں۔
یو ٹیوب کے ادبی چینلز بھی اس نئے رجحان کو آگے بڑھا رہے ہیں۔جواں فکر شاعر وقاص عزیز کی آواز میں “سخن ٹی وی” پر علی زریون کی دعائیہ نظم سامعین کی توجہ حاصل کر رہی ہے۔
تازہ خبر یہ ہے کہ اردو کی معروف ادبی ویب سائٹ ریختہ نے پہل کرتے ہوئے مذکورہ شعری رجحان کے ایک معتبر شعری انتخاب کو “سوشل ڈسٹینسینگ شاعری” سے موسوم کرتے ہوئے اپنی ویب سائٹ پر مطالعے کے لیے پیش کر دیا ہے۔ریختہ پر دستیاب شاعری کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اس میں کرونا سے حفاظت کی ترغیب بھی ملتی ہے۔اور گھر کی چاردیواری کے اندر کی انسانی بے بسی کا احساس بھی۔اس انتخاب میں سماج سے علاحدگی کے بعد فرد کے داخلی رویوں کی ترجمانی بھی موثر پیرائے میں پینٹ کی گئی ہے۔
وبائے عام پر شاعری کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔اور فکروخیال سے اسلوب تک فرد و سماج کے کمزور پڑتے رشتے کو تخلیقی اظہاریوں میں پیش کیا جا رہا ہے۔غزل کی بہ نسبت نظم کی صنف اپنے مزاج کے سبب نئی صورت حال میں زیادہ مقبول ہورہی ہے۔ کئی غزل گو شعرا نے بھی غزل کے ساتھ نظم میں بھی عصری حسیات کو شعر کیا ہے۔
کرونا کے بعد کی تیزی سے بدلتی دنیا میں اردو شعر و ادب کے توانا کردار سے اردو زبان کی اہمیت بھی سامنے آرہی ہے۔اور عام آدمی کی شعر و ادب سے مٹتے فاصلوں کی ادب دوست فضا بن رہی ہے۔
ادبی صفحات ادب سرائے،ادب رنگ،جیو ادب اور ویب سائٹس ریختہ،خیال نامہ،کاروان،آوازہ،سخن یو ٹیوب ادبی چینل سمیت فیس بک اور وٹس اپ کے سنجیدہ ادبی گروپس نے نہ صرف نئے شعری رجحان کے تازہ نمونے یکجا کیے ہیں۔ بلکہ قدیم اور کرونا سے قبل کی ایسی شاعری بھی اس انتخاب میں تازہ کر دی ہے۔جس میں وبائے عام کی حسیات جھلکتی ہیں۔اور یوں قدیم شاعری میں عصری حسیت کے امکانات بھی دریافت ہو رہے ہیں۔
ریختہ ویب سائٹ کے “سوشل ڈسٹینسنگ شاعری” اور سوشل میڈیا کے دیگر فورمز نے قدیم و جدید شعرا کی غزلیہ و نظمیہ شعری انتخاب میں شامل ہے۔ان میں مرزا رفیع سودا،ظفر اقبال،احمد فراز،جون ایلیا،ناصر کاظمی،بشیر بدر،جلیل عالی،نصیر ترابی ،مقصود وفا،افتخار بخاری،شارق کیفی،سجاد بلوچ،سعود عثمانی،رضی اختر شوق،اعتبار ساجد،عشرت آفریں,نشاط سرحدی، طارق ہاشمی،رحمان حفیظ،لیاقت جعفری،شبیر نازش،اور دیگر شعرا شامل ہیں۔
اس مقالے میں نمونے کے طور پر غزلیہ شاعری سے ایک انتخاب آپ کے ذوق کی نظر ہے۔اس انتخاب میں شامل اشعار قارئین کی توجہ اپنی سمت کھینچ رہے ہیں اور یوں شاعری نئی صورت حال سے ہم آہنگ ہو کر عام فرد کی حسیات کی ترجمان بن رہی ہے۔یہ امید افزا خبر ہے کہ معاصر صورت حال میں اردو شاعری سماج سے کتنے گہری جڑت رکھتی ہے۔
آپ چاہیں تو اس نئے رجحان سے متعلق اشعار اور نظمیں ریختہ،اردو پوائنٹ،خیال نامہ اور دیگر ویب سائٹس پر پڑھ سکتے ہیں۔
اکیلا ہو رہ دنیا میں گر چاہے بہت جینا
ہوئی ہے فیض تنہائی سے عمر خضر طولانی
مرزا رفیع سودا

تھکنا بھی لازمی تھا کچھ کام کرتے کرتے
کچھ اور تھک گیا ہوں آرام کرتے کرتے
ظفر اقبال

راستے ہیں کھلے ہوئے سارے
پھر بھی یہ زندگی رکی ہوئی ہے
ظفر اقبال

کپڑے بدل کر بال بنا کر کہاں چلے ہو کس کے لیے
رات بہت کالی ہے ناصرؔ گھر میں رہو تو بہتر ہے
ناصر کاظمی

کوئی ہاتھ بھی نہ ملائے گا جو گلے ملو گے تپاک سے
یہ نئے مزاج کا شہر ہے ذرا فاصلے سے ملا کرو
بشیر بدر

اب نہیں کوئی بات خطرے کی
اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے
جون ایلیا

قربتیں لاکھ خوبصورت ہوں
دوریوں میں بھی دل کشی ہے ابھی
احمد فراز

شام ہوتے ہی کھلی سڑکوں کی یاد آتی ہے
سوچتا روز ہوں میں گھر سے نہیں نکلوں گا
شہریار احمد

کچھ روز نصیر آؤ چلو گھر میں رہا جائے
لوگوں کو ی شکوہ ہے کہ گھر پر نہیں ملتا
نصیرترابی

زمیں پر ہم نے پھیلایا ہے شر کا وائرس کیا کیا
کہیں شکلِ انا کیا کیا کہیں رنگِ ہوس کیا کیا
جلیل عالی
آپ ہی آپ دیے بجھتے چلے جاتے ہیں
اور آسیب دکھائی بھی نہیں دیتا ہے
رضی اختر شوق

گھر رہیے کہ باہر ہے اک رقص بلاؤں کا
اس موسم وحشت میں نادان نکلتے ہیں
فراست رضوی

جان ہے تو جہان ہے دل ہے تو آرزو بھی ہے
عشق بھی ہو رہے گا پھر جان ابھی بچایئے
سعود عثمانی

افسوس یہ وبا کے دنوں کی محبتیں
اک دوسرے سے ہاتھ ملانے سے بھی گئے
سجاد بلوچ

گھر میں خود کو قید تو میں نے آج کیا ہے
تب بھی تنہا تھا جب محفل محفل تھا میں
شارق کیفی

حال پوچھا نہ کرے ہاتھ ملایا نہ کرے
میں اسی دھوپ میں خوش ہوں کوئی سایہ نہ کرے
کاشف غائر

درگزر کرتی نہیں زیست کسی قیمت پر
ایک لمحے سے اگر پاؤں پھسل جائے تو بس !
رحمان حفیظ

آپ آمد و رفت اپنی بھی کچھ تو کریں محدود۔
ممکن ھو جہاں تک تو گھروں تک رہیں محدود۔
نشاط سرحدی

جہاں جو تھا وہیں رہنا تھا اس کو
مگر یہ لوگ ہجرت کر رہے ہیں
لیاقت جعفری

یہ جو ملاتے پھرتے ہو تم ہر کسی سے ہاتھ
ایسا نہ ہو کہ دھونا پڑے زندگی سے ہاتھ
جاوید صبا

ایسی ترقی پر تو رونا بنتا ہے
جس میں دہشت گرد کرونا بنتا ہے
اسحاق وردگ

بازار ہیں خاموش تو گلیوں پہ ہے سکتہ
اب شہر میں تنہائی کا ڈر بول رہا ہے
اسحاق وردگ

بھوک سے یا وبا سے مرنا ہے
فیصلہ آدمی کو کرنا ہے
عشرت آفریں

شہر جاں میں وباؤں کا اک دور تھا
میں ادائے تنفس میں کمزور تھا
پلومشرا

آپ ہی آپ دیے بجھتے چلے جاتے ہیں
اور آسیب دکھائی بھی نہیں دیتا ہے
رضی اختر شوق

اب یہاں رند ہیں نہ سجدہ گزار
مسجدیں اور میکدے تنہا !
انجم عثمان

گھوم پھر کر نہ قتل عام کرے
جو جہاں ہے وہیں قیام کرے
شبیر نازش

میں وہ محروم عنایت ہوں کہ جس نے تجھ سے
ملنا چاہا تو بچھڑنے کی وبا پھوٹ پڑی
نعیم ضرار

ایک ہی شہر میں رہنا ہے مگر ملنا نہیں
دیکھتے ہیں یہ اذیت بھی گوارہ کر کے
اعتبار ساجد

تو نے دیکھا ہی نہیں شہر میں پھیلی تھی وبا
مرنے والوں میں ترے حسن کے بیمار بھی تھے
زبیر قیصر

کچھ اپنے اشک بھی شامل کرودعاؤں میں
سنا ہے’ اس سے وبا کے اثر بدلتے ہیں
صـائمـہ نورین بخــاری

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post