ڈاکٹر سعادت سعید کی نو سخنی شاعری : تابندہ سراج

زندہ زبانیں پانی کے بہاؤ کی طرح تازہ دم اور رواں دواں ہوتی ہیں۔ زبانوں کی زندگی، تیز بہاؤ کی صورت، نئے راستے بنانے میں مضمر ہے۔ منجمند زبانوں کو بہاؤ کے لیے سوزِ جگر درکار رہتا ہے۔ ایک بڑا تخلیق کار زبان کو زندگی اور الفاظ کو توقیر عطا کرتا ہے۔ بلاشبہ اُردو ایک زندہ زبان ہے، جس کی تازگی اس کے ادب میں نمایاں ہے۔ یہ زبان، دورِ جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ زبان کو نئے آہنگ سے روشناس کروانا، گویا اس کی عمر درازی کا تیقن ہوتا ہے۔
اُردو شعر و نثر کا انتہائی معتبر حوالہ، جناب سعادت سعید صاحب ایک ایسا نام ہیں، جنھوں نے اُردو زبان و ادب کو سرفرازی و رفعت عطا کی۔ آپ کا شمار جدید اُردو شاعری کے معماروں میں ہوتا ہے۔ جدید شعری نظریات اور حوالوں سے آپ کا کام ہی آپ کا بہترین تعارف ہے۔ آپ کی شاعری ہمیشہ، ذاتی جذبات و احساسات لیے معاشرے کی نبض سے منسلک رہی۔ آپ کبھی بھی نئے تجربات کرنے سے گریزاں نہ ہوئے اور یہی تجربات اُردو شعری مزاج کو اوج پر لے گئے۔ دورِ حاضر کی گہما گہمی میں، آپ نے شاعری کو ایک نئے انداز سے برتا ہے۔ جہاں آپ نے آوازوں کو نئے الفاظ کی صورت تشکیل کر دیا، وہیں نئے انداز کی قافیہ بندی کی اور نئی ردیفیں اختراع کیں۔ اسم سے فعل بناتے ہوئے شعری زبان کو نیا نظام اور ضابطے مہیا کیے ہیں۔ آپ کی شاعری کے غالب موضوعات میں، معاشرتی ابتذال، استعماری قوتوں کے خلاف بیانیہ اور عالم گیریت کے مضمرات وغیرہ نمایاں ہیں۔ یہاں میں اپنے محدود فہم کے مطابق طالب علمانہ سطح پر، جناب سعادت سعید صاحب کی نو سخنیوں کے چند اہم پہلو اُجاگر کرنا چاہوں گی۔ اس شاعری کے بارے میں خود سعادت سعید صاحب فرماتے ہیں:

اُردوئے نو کا اک نقیب ہوا
اپنے قاری کے دل قریب ہوا
پڑھتے رہتے ہیں میری نو سخنی
حرفِ امکاں کا میں نصیب ہوا
مزید دیکھیے:
ریشمی نرمگوں سخن مستی
شربتی جامتی لحن مستی
سیمیائی شعور میں جھلکی
مور کی پیلیاتی بن مستی

           رونقِ نظم عصر میری نظم
عہدِ حاضر کا قصر میری نظم
اس میں اعماقِ فکر کے پارے
ان کا امکانی حصر میری نظم

وزن اندر ہے ہائے یائے مری
فکر کی تھاہ کوئی پائے مری
دب رہے ہوں اگر مگر حرفاں
آنکھ معنی شناسیائے مری
گویا انھوں نے معنی کو الفاظ پر فوقیت دے کر شاعری کے ذریعے زبان کو نئی وسعت عطا کی۔ اس بابت چند نئی تراکیب دیکھیے: ’’سانستا عصر‘‘، ’’ڈی کو ڈتی دانش‘‘، ’’شیشی مُنجی‘‘، ’’غزالا نہ پاپ‘‘، ’’خلقی تنہائی‘‘، ’’نو سری شاعری‘‘، ’’اُردو ماری‘‘، ’’دل تنگیوں‘‘ اور ’’اندھیر مچانی‘‘ وغیرہ۔
جناب سعادت سعید صاحب کو اُردو اور اس سے متصل زبانوں پر مکمل گرفت اور عبور حاصل ہے۔ ان کی نئی شاعری میں صوتی تاثرات سے قافیہ سازی کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
مے نوشکی، خاموشکی، خوابگی، کارخر گوشگی
پازیبنا، آسیبنا، نازیبنا
مہائیکی، کرائیکی، پرائیکی
عروجتی، بروجتی، خروجتی
عندلیبیاں، عنقریبیاں، لبیبیاں
بازنا، نازنا، سازنا
قتالاں، جلالاں، دلالاں وغیرہ
اسم سے فعل بنانے کی چند مثالیں ہیں:
’’شاعری دادی‘‘، ’’جدیدنا‘‘، ’’قصوراہے‘‘، ’’تلاشنا‘‘، ’’برملائی کرنا‘‘، ’’نظمانو‘‘، ’’استعمال پھینکی‘‘ اور ’’ضرورتی‘‘ وغیرہ۔
صارفیت زدہ معاشرے کی بے حسی کا نوحہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
مارئیے لا دوا مریضوں کو
مارئیے بے غذا بے چاروں کو
مہنگی کرکے ضرورتی چیزیں
مارئیے قوم کے سپوتوں کو
عالم گیریت سے اُٹھتے ہوئے مسائل کی نشان دہی کچھ یوں کرتے ہیں:
علم نے کی اگر ہے بگ بینگی
ذہن تحقیق کو ہوا ڈینگی
بند ہیں سوچ کے کھلے رستے
نئے مکتب کی بیل نہیں رینگی
بھاتا ہے دل کو مرے اکثر
آلِ برقات کا دلکش منظر
سانس لیتی ہوئی بجلی خلقت
نیا انسان ہے بیا کل در در

آپ کی بھینس آپ کی لاٹھی

آپ کی گھوڑی آپ کی کاٹھی

بھینس کب میری بین سنتی ہے
باؤلی، بہری سست اور ماٹھی
اسی طرح سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف آواز اُٹھاتے ہوئے آپ کے احساسات ذاتی نہیں، اجتماعی حیثیت رکھتے ہیں:
آپ کے قصر ہم بناتے ہیں
اپنے حصے کی دال کھاتے ہیں
آپ نے بخشا موت کا گولہ
آپ کی پھٹپھٹی چلاتے ہیں

بھیک مانگو یا مال لوٹو حضور
قوم کی پشت خوب کوٹو حضور
چندے کھاؤ کھلی کمیشن لو
مالی دو شیزگی پہ ٹوٹو حضور

کسی سسٹم کو بچانے کے لیے بیٹھے ہیں
خلق کا بینڈ بجانے کے لیے بیٹھے ہیں
اونچے قصروں کے تخاتیت نشیں
دارِ فانی سے نہ جانے کے لیے بیٹھے ہیں

جتنے باغی تھے تھکا تھک کے گرے
ان پہ دشمن بھی ٹھکا ٹھک کے گرے

دیکھیے اب نئی سرمایہ کرین
بھاری انجن بھی چھکا چھک کے گرے
آپ کی شاعری میں ایک واضح آواز، اس معاشرتی نا انصافی کے خلاف بھی ابھرتی ہے کہ جو شعر و ادب کے میدان میں در آئی ہے۔ سطحی شاعری، شعبدہ بازی اور شاعروں کی بابت غیر متوازن رویوں کی نشان دہی آپ نے اشعار کے ذریعے کی ہے:
موج سے اوجے تو پتاں شاعر
بوڑھے ہو کر رہے جواں شاعر
بانس پر روز تم چڑھاتے ہو
رنگ بازی کے رنگباں شاعر

سو بسو ہے منافقی کن من
دوستوں کی توافقی کن من
سر تا سر چاپلوسیاں جاری
کو بکو ہے لفافقی کن من

عظمتِ شعر کے دھنی آئے
پھنپھناتے ہوئے پھنی آئے
میر و غالب سے ہیں بڑے شاعر
مئے اوہام کے جھنی آئے

سر فہرست اپنا نام رکھا
اپنے مطلب سے خوب کام رکھا
آپ ہیں فکر باز سرخیلی
ایک جلوے کو سرِ بام رکھا
لو فری شاعری سے باز آؤ
نو سری شاعری سے باز آؤ
اے مرے مردہ خور نظما نو
کر گسی شاعری سے باز آؤ

کتنے دل تنگ ہیں نقاد جناب عالی
بے طرح بن گئے حساد جناب عالی
آپ کے کام کی وہ قدر کریں گے کیوں کر
اپنی شہرت کے ہیں مناد جناب عالی

پڑھتے ہیں معترف نہیں ہوں گے
لکھتے ہیں منکشف نہیں ہوں گے
اپنے یہ شاعران نقل روی
فہم سے متصف نہیں ہوں گے

عہدے والوں کو سلامے ہیں ادیب
نئے رتنوں پہ کلامے ہیں ادیب
دفن ہیں ان کے ضمیروں کے علم
شاذ ہی خود کو ملامے ہیں ادیب
زبان اُردو کی تحقیر اور اس سے بے اعتنائی برتنے پر سخت نالاں ہیں:
ملکی انگریزوں کی ہے پو بارہ
ان سے آباد اونچا چوبارہ

دورِ تدفین اُردو آ پہنچا
اس کا مت نام لینا دوبارہ

اُردو مادی پہ چپ ادارے ہیں
دوستو مصلحت کے مارے ہیں
بے زباں قوم کو کریں گے وہ
دیسی بنجاروں کے سہارے ہیں
صوتی تاثرات سے الفاظ اخذ کرنے کی چند شعری مثالیں ملاحظہ ہوں:
بم بما بم بنا رہے ہیں بم
ہم ہما ہم چلا رہے ہیں بم
اپنے طبلوں کو ’’دہر طبلیئے‘‘
سم سما سم بجا رہے ہیں بم

ناو کو ناؤ کیوں نہ لکھیں ہم
پاو کو پاؤ کیوں نہ لکھیں ہم
آپ کی وزن کہنگی کو سلام
چاو کو چاؤ کیوں نہ لکھیں ہم
اسی نئی شاعری میں، نئے افعال محض اُردو ہی نہیں بلکہ انگریزی زبان کے الفاظ سے بھی اخذ کیے ہیں:
ریڈیئے آپ اعلیٰ ریڈر ہیں
فکر نو کے بڑے پلیڈر ہیں
آپ دیتے ہیں غچے قاری کو
علم کے کھیل کے غچیڈر ہیں

میری آواز لوٹ آتی ہے
میرے ماتھے پہ چوٹ آتی ہے
میرے یہ آن لائینی لیکچر
آبِ ایکو میں بوٹ آتی ہے

کبھی مسیج کبھی رنگنگ کرنا
تبصرہ بازوں سے لابنگ کرنا
آپ کی بانس چڑھائی ہو گی
ان کے کانوں کی سرنجنگ ہو گی

روتے رہئے ڈریڈا فکری کو
اپنی نقلی بریڈا فکری کو
آپ کے مانگے تانگے علما نے
باور آئے گریڈا فکری کو

کشتی سے لے کے خلا بازی تک
ڈمرو سے لے کے مہا جازی تک
آپ ہر فن پہ سپیکے ہیں جناب
زنِ نازی سے نِر تازی تک
مضمون میں شامل اشعار فی الحال فیس بک (Facebook) پر جاری کیے گئے ہیں، کتابی صورت میں میسر نہیں۔ سوشل میڈیا، خاص طور پر فیس بک کے حوالے سے اشعار ملاحظہ ہوں:
کام کر جاؤں کوئی بسینے کا
وقت آیا ہے سخت ریسنے کا
آپ کے دل پہ نقش ہو پاؤں
یہی کارن ہے میرے فیسنے کا
المختصر! ڈاکٹر سعادت سعید کی شاعری میں شعری زبان اور فکر متوازی و معتدل دکھائی دیتی ہے۔ دراصل آپ کی شاعری عہد جدید کی توانا آواز ہے۔ زبان کی نمو کے حوالے سے آپ کا کام امتیازی اہمیت کا حامل ہے۔
حرف تولید کریں گے شاعر
مری تائید کریں گے شاعر
یہ زباں ساز طلسمی جذبے
مری تقلید کریں گے شاعر
یقیناً یہ محدود تجزیاتی جائزہ سعادت سعید صاحب کی علمی و ادبی کاوشوں کااحاطہ کرنے سے قاصر ہے۔ اوزان، فکر اور معانی کے درمیان ہچکولے کھانے والی نئی شاعری کے لیے، پتوار کا کام کرنے والے یہ اشعار، نہ صرف موجودہ دور بلکہ آنے والے زمانوں کے لیے بھی نشانِ راہ ہیں۔

 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post