ڈاکٹرانعام الحق جاوید ۔۔۔خوابوں کوحقیقت بنانے والاشاعر :ڈاکٹراسدمصطفیٰ

مزاح تخلیق کرنا دنیا کا مشکل کام ہے،اس کے لیے آدمی کو بہت زیادہ سنجیدہ ہونا پڑتا ہے۔اس کے لیے بہت پڑھا لکھا ہونا بھی ضروری ہے۔کم از کم اتنا تو ضروری ہے جتنے پڑھے لکھے،ہمارے پطرس بخاری یا شفیق الرحمن تھے۔ڈاکٹر انعام الحق جاوید بھی بہت پڑھے لکھے انسان ہیں۔وہ صرف اعلیٰ پائے کے مزاح نگار ہی نہیں،ایک بڑے محقق،مدبر اور دانش وربھی ہیں۔لیکن ان کے اندر اس سے بڑی خوبی پائی جاتی ہے اور وہ خوبی ہے،کام کی۔وہ ایک کامی آدمی ہیں عمر بھر خود کو بھی مصروف رکھا ہے اور اپنے ارد گرد کے لوگوں کو۔ان کے پاس ہر کام والے کے لیے وقت ہوتا ہے لیکن نکمے اور کاہل کے لیے نہیں۔وہ اعلی درجے کے منتظم بھی ہیں۔تقریب چاہے چھوٹی ہو یا بڑی،جشن ہو جلسہ یا پورا میلہ ہو ان سے بڑا منتظم اور مہتمم اسلام آباد نے پیدا نہیں کیا۔تقریبات کے انتظام وانصرام کا انہیں سلیقہ بھی ہے اور طریقہ بھی۔وہ وقت کی کفایت بھی کرتے ہیں اور روپے پیسے کی بچت بھی۔نیشنل بک فاؤنڈیشن کا کتاب میلہ لگاتے رہے تو بھی حکومت کے کم سے کم پیسے خرچ کئے اور اکادمی ادبیات میں میلہ لگایا تو بھی اپنے حسن انتظام سے راہ پیدا کرلی ۔وہ ایک طویل عرصے سے اسلام آباد میں مقیم ہیں۔مقتدرہ قومی زبان میں ملازمت کے زمانے بھی سب سے زیادہ تقاریب وہی منعقد کیا کرتے تھے اور علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی کے شعبہ پاکستانی زبانوں کے چئر مین کی حیثیت بھی انہوں نے اپنی انتظام وانصرام کی صلاحیت کا لوہا منوایا۔یہ مہارت اور صلاحیت انہوں نے چند روز میں حاصل نہیں کی بلکہ اس کے پیچھے برسوں کی ریاضت اور مشقت شامل ہے۔ان کا ایک اور اہم کارنامہ مزاحیہ شاعری کا فروغ ہے۔اردو میں ملے جلے مشاعرے کی روایت تو بڑی دیر سے تھی مگر خالص مزاحیہ مشاعرے کا آغاز انعام الحق جاوید اور ضیاالحق قاسمی مرحوم کی کاوشوں سے ہوا۔1985 میں منور ہاشمی نے انعام صاحب کا مشورہ مان کر ریڈیو پاکستان راولپنڈی سے پہلا مزاحیہ مشاعرہ شروع کیا۔اس کے ساتھ ہی پروڈیوسر ستار سید نے کنٹرولر ریڈیو نسیم الدین سے مل کر اسلام آباد اسٹیشن سے بھی مزاحیہ مشاعرے کی طرح ڈال دی۔اس کے فوراً بعد ضیاالحق قاسمی نے حیدرآباد میں پہلا کل پاکستان مزاحیہ مشاعرہ منعقد کرایا۔یوں ایک نئی طرز کے مشاعرے کی روایت نے جنم لیا۔اس روایت کو مزاحیہ شاعری کے دلدادہ افراد نے خوب مہمیز دی اور یہ سلسلہ چل نکلا۔اسی دوران دوبئی میں ڈاکٹر اظہر زیدی نے زندہ شعرا کا جشن منانے کی روایت ڈالی۔سب سے پہلے سید ضمیر جعفری کا جشن منایا گیا،اس کے دلاورفگار اور ہندوستان کے شعرا کے جشن منائے گئے۔ بین الاقوامی مشاعرہ اس جشن کا حصہ ہوتا تھا،جس کے ساتھ ہی مشاعرے کے ساتھ دوبئی کا ٹکٹ بھی منسلک ہوگیا۔یہ وہ دور ہے جس میں مزاحیہ شعراء کی گلیکسی نظر آتی ہے۔سید ضمیر جعفری،انور مسعود،دلاور فگار،عبیر ابوزری،سرفرازشاہد،نیاز سواتی،ضیاالحق قاسمی اور انعام الحق جاوید۔ریڈیو پاکستان پر مزاحیہ مشاعرہ منعقد کرانے میں کامیابی کے بعد انعام الحق جاوید،سید ضمیر جعفری مرحوم اور سرفراز شاہد کے ساتھ مل کر پی ٹی وی پر مزاحیہ مشاعرہ منعقد کرانے کی کوشش کرتے رہے۔اس دور میں پی ٹی وی چکلالہ میں تھا۔انعام صاحب نے وہاں پنجابی کے مزاحیہ مشاعرے کا آ ئیڈیا دیا۔جب یہ پروگرام،پروڈیوسر بشری رفیق کو ملا تو اس نے ڈاکٹر صاحب کے اس آئیڈیا کوعملی شکل دینے کی کوشش کی اور سانجھاں پروگرام میں پہلا پنجابی مزاحیہ مشاعرہ منعقد کیا۔یہ مشاعرہ عوام نے بہت پسند کیا اور مقبولیت کی بنا پر اسے پی ٹی وی پر دوبارہ نشر کیا گیا۔اس کے بعدانعام صاحب ٹی وی پر اردو مشاعرے کے انعقاد کے لیے سرگرم ہوگئے چنانچہ پی ٹی وی پر پہلا اردو مزاحیہ مشاعرہ کشت زعفران انہی کی کوششوں سے منعقد ہوا۔اس مشاعرے کی نظامت کے فرائض مرحوم ضیاء الحق قاسمی نے انجام دیے تھے۔یہ پہلا اردو مشاعرہ تھا جو پی ٹی وی پر الیکشن 1986 کے الیکشن کے موقع پر نشر ہوا۔اس وقت آغا ناصر ایم ڈی پی ٹی وی تھے،اور عوام کو الیکشن کے بروقت نتائج سے آگاہ کرنے کے لیے ایک پروگرام تشکیل دیا گیا تھا جس میں ایک مزاحیہ مشاعرے کی جگہ بن گئی ۔اس مشاعرے کے پروڈیوسر نزیر عامر تھے۔یہ مشاعرہ پی ٹی وی پر بار بار نشر ہوا اور اتنا مقبول ہوا کہ مزاحیہ مشاعروں کے لیے ایک سنگ میل قرار پایا۔اس کے بعد عید کا موقع یا یوم آزادی کا ہر اہم موقعے پر مزاحیہ مشاعرہ لازم و ملزوم ہو گیا۔
انعام الحق جاوید سنجیدہ بھی بہت اچھا کہتے ہیں مگر انہیں جو مہارت اور شہرت مزاح میں حاصل ہے ،اس سے کسی کو کلام نہیں ہے۔زندہ دلی اور رجائی لب ولہجہ ان کی شاعری کی پہچان ہے۔وہ سماجی مسائل،معاشرتی ناہمواریوں اور طبقاتی تضادات کو موضوع بناتے ہوئے طنزو تفکر کے امتزاج سے ایسی گہری بات کہہ جاتے ہیں جو مسکراتے ہوئے لبوں کو بہت کچھ سوچنے سمجھنے پر مجبور کر دیتی ہے۔
انعام الحق جاوید پنجابی زبان کے ڈاکٹر ہیں مگر معاشرے کی رگوں کو ٹٹولتے ہیں اور اس کے مرض سے آشنا ہیں۔اس لیے ان کا طنز اکثر اوقات جراح کا نشتر بن جاتا ہے،جس سے وہ معاشرتی ناسوروں کی خوب صفائی،ستھرائی کا کام لیتے ہیں،لیکن وہ کسی بھی حالت میں شائستگی کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔انعام الحق جاوید کی زبان صاف اور شستہ ہے اور وہ سادگی وسلاست کے ساتھ روزمرہ ومحاورہ کا بہتر اور خوبصورت استعمال کرتے ہیں۔
ان کی شاعری،تنقید،تحقیق اور تراجم کی کئی کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ان کے کام پر ایم اے اور ایم فل کے تھیسز بھی لکھے جا چکے ہیں اور انہیں حکومت پاکستان کی طرف سے پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ان کی مزاحیہ شاعری کی پہلی کتاب خوش کلامیاں کو 1992ء میں ایشین آرٹ کونسل ناروے کی جانب سے عالمی ایوارڈ برائے طنزو مزاح دیا گیا تھا۔جبکہ اسی کتاب کے دوسرے ایڈیشن کو بولان لٹریری ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔انعام الحق جاوید علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میں شعبہ اردو اور پاکستانی زبانوں کے سربراہ کے علاوہ اسی ادارے میں سوشل سائنسز کی شعبہ کے ڈین بھی رہ چکے ہیں۔وہ الخیر یونیورسٹی کے پرووائس چانسلر اور پھر چھ سال سے تک نیشنل بک فاونڈیشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر کے عہدہ پر بھی فائز رہے ہیں۔انہوں اکادمی ادبیات کے چئرمین کی حیثیت سے بھی کچھ عرصہ کام کیا ہے۔ڈاکٹرانعام الحق جاوید میرے استاد ہیں اور میں نے انہیں نہ صرف بہت قریب سے دیکھا ہے بلکہ ان سے بہت کچھ سیکھا بھی ہے۔جب انہوں نے 2001 میں اسلام آباد سے ادبی اخبارماہنامہ روداد شائع کرنا شروع کیا تو مجھے اس کا معاون اعزازی مقرر کیا۔وہ میری جوانی اور ان تھک جذبوں کا دور تھا جب تقریبا ہر دوسرے تیسرے روز چکلالہ سکیم 111 سے ڈاکٹر انعام کے گھر واقع جی ایٹ میں پہنچا ہوتا تھا۔روداد کی تیاری کے دنوں میں تو روز ہی جانا ہوتا تھا۔اخبار کی کمپوزنگ زیادہ تر اختر شیخ مرحوم کرتا تھا۔میرا کام اختر شیخ سے کمپوزنگ حاصل کرنا اور پھر اس کا پروف پڑھنا ہوتا تھا۔ڈاکٹر صاحب مجھے پروف پڑھتے ہوئے ایک چیز کا خاص خیال رکھنے کو کہتے تھے ،اور وہ یہ کہ کہیں غلطی نکالنے کے بجائے غلطی ڈال نہ دینا،اور میری خوبی یہ تھی کہ میں ڈاکٹر انعام کی بات کو نہ صرف غور سے سنتا تھا بلکہ اس پر عمل بھی کرتا تھا۔ڈاکٹر صاحب مشفق بھی تھے اور مخلص بھی۔جس دن کام کے لیے جانا نہ ہوتا تو بھی فون پر بات ہو جاتی تھی۔وہ مجھے فون کر کے کام کے لیے بلاتے تو میرا انتظار کرتے اوراس کے لیے وہ اپنے تمام دیگر معاملات کو کسی اور وقت پر اٹھا رکھتے تھے۔یہی وجہ تھی کہ میں زیادہ ذوق وشوق سے کام کرتا تھا۔اخبار کا ٹائیٹل موتی محل پلازہ میں ایک ڈیزائنر کے پاس تیار ہوتا تھا۔یہ سارا کامیرے سپرد تھا۔پروف پڑھنے سے لے کر پرنٹنگ پریس تک جانے کے اس کام میرے ساتھ اصغر عابد اور مظہر شہزاد شامل تھے۔
روداد ایک ادبی اخبار ہی نہیں ایک ادارہ بھی تھا۔اس ادارے کے زیر اہتمام ہم نے اسلام آباد میں بہت سی تقاریب منعقد کروائیں۔ایک یادگار تقریب ہالی ڈے ان میں منعقد ہوئی جس میں روداد میں شائع ہونے والی ایک بہترین غزل پرکوئٹہ کے شاعر محسن چنگیزی کو ایک لاکھ روپے کا انعام دیا گیا تھا۔اور اس انعام کا اعلان برطانیہ کی معروف ادب دوست شخصیت ڈاکٹر جاوید شیخ نے کیا تھا جواس تقریب میں شرکت کی غرض سے برطانیہ سے آئے تھے۔ڈاکٹر انعام ان تمام تقاریب کے روح رواں تھے۔ان کے جذبے آج بھی جواں ہیں اور وہ زندگی کے تحرک سے نہ صرف آشنا ہیں بلکہ حرکت وعمل کی مے ان کے رگ وپے دوڑتی ہے۔بطورشاعر اور ادیب ان کا ذکر بڑے بڑے ادبا وشعرا نے بہت احسن انداز میں کیاہے۔مشتاق یوسفی لکھتے ہیں۔وہ عصری رجحانات،مزاحیہ شاعری کے رجحانات اور مزاحیہ شاعری کے مزاج اور روایت سے آشنا ہی نہیں،متاثر اور مستفید بھی ہوئے ہیں۔معاشرے کے مصائب وتضادات پر ان کی نظر گہری اور گرفت مضبوط ہے۔
شفیق الرحمن لکھتے ہیں۔”انعام الحق جاوید کی شاعری سے عصر ی ادب ہی نہیں معاشرتی صورتحال میں خوش گوار تبدیلی کا احساس دیکھاجا سکتا ہے ”
عطاء الحق قاسمی لکھتے ہیں۔”اس نے مزاح میں زبان کا بھی خیال رکھا ہے اور اس امر کابھی کہ مزاح نگار کے منہ میں بتیس دانت ہوتے ہیں۔

 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post