ڈاکٹرستیہ پال آنند بنام مرزاغالبؔ (۸)

اِک شرردل میں ہے،اس سےکوئی گھبرائے گاکیا
آگ مطلوب  ہے ہم  کو  جو  ہوا  کہتے  ہیں

                                                 مرزاغالبؔ
—————————————-

ستیہ پال آنند
ٓآتش و باد میں مطلوب فقط آتش تھی
اور وہ دل میں ہے موجود شرر کی صورت
اس سے گھبرانا بھلا کیا تھا ضروری ، صاحب ۔۔۔۔

مرزا غالب
اے عزیزی، جو مری قطع کلامی ہو معاف
میں نے بس اتنا کہا ہے کہ یہ ہے صرفہ ٗ جسم۔۔۔

ستیہ پال آنند
میری بھی قطع کلامی ہو معاف، اے استاد
اتنا کچھ کہنا بھی یاں وجہ ِ تسلی نہ ہوا
سانس کی آمد و شُد ہی تو ہے آتش کا سبب
یہ حرارت وہ غریزی ہے کہ ہے باد نما
باد ہی باد ہے اور آگ ہی آگ ، اے آقا

مرزا غالب
ایک شعریہ قضیہ ہی تھا جو نظم کیا
سانس؟ ہاں، آگ کا اور باد کا اجماع ، جسے
جسم میں دوڑتے پھرنے کا سبب کہتے ہیں
نا روا کیا تھا بھلا اس میں، اے نا اہل عزیز؟

ستیہ پال آنند
ایک ’’شعریہ قضیہ ‘‘ ہے، فقط شعر نہیں
(قضیہ ٗ شعریہ۔ ایک اصطلاح)
رائے قاطع کی طرح اپنا گلا کاٹتا ہے

مرزا غالب
پھر سے کہنا تو ذرا، اے میاں کوتاہ نظر
’’رائے قاطع کی طرح اپنا گلا کاٹتا ہے‘‘
یہ نہیں سمجھا کہ ہے اہم بقا کی خاطر
اشتعال اور ہوا میں کمی بیشی کا اصول
یہ نہیں سمجھا کہ یہی ضابطہ ہے جس کے طفیل
جان کی جسم سے تحصیل پر ہے زیست مقیم
رائے قاطع ہے کہاں؟ رائے کا ایجاب ہے یہ

ستیہ پال آنند
آپ کے فضل کا، الطاف کا قائل ہوں، جناب
یہ کرم پیشگی میرے لیے تا عمر رہے
ملتجی ہوں میں تحمل کا، روا داری کا
ہلکی سی خندہ زنی پر تو میں ہنس سکتا ہوں
ڈانٹ برداشت نہیں ہوتی کہ ہوں نیک نہاد
مجھ کو ڈانٹا نہ کریں، میرے مرّبی، محسن

مرزا غالب
اب کہو اور کیا کہنا ہے تمہیں ، ستیہ پال

ستیہ پال آنند
غیر مر بوط سے لگتے ہیں مجھے یہ مصرعے
اک شرر دل میں ہے تو آگ کا اعلانیہ ہے
اور پھر “آگ مطلوب ہے” تو حشو ہی ٹھہرے گا یہاں
آگ سے ڈرتے نہیں اور ہوا مانگتے ہیں
یہ عجب علت و معلول ہے ، کٹ حجتی ہے

مرزا غالب
تم بھی توحجتی ہو، ستیہ پال آنند، میاں
سانس کی آمد و شد کو نہیں دیکھا تم نے
آگ تو ہے مگر اک حبس سا دل پر ہے محیط
آگ بھڑکے گی تو یہ حبس بھی مٹ جائے گا
سانس کی تیز روی کی ہے یہ خواہش، سمجھو

ستیہ پال آنند
ایک الجھاؤ سا ہے، معنو ی بے ترتیبی
اس کی تدوین تو خود آپ ہی کر سکتے ہیں
شکریہ آپ کا اس بست کشائی کے لیے
——————

You might also like
Loading...