ڈاکٹرستیہ پال آنند بنام مرزاغالبؔ (۲)

(مرزا غالب کے ایک شعرکی منظوم عقدہ کشائی اور کچھ اعتراضات )

اسدؔ کو بت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے
نہاں ہیں نالۂ ناقوس میں، در پردہ ’یا رب‘ ہا )
۰۰۰۰۰۰۰

“قوافی ’رّب‘ و ’تب‘، ’مطلب‘، ردیف اک صوت، یعنی “ہا‘
ؑعجب حلیہ ہے اس حلقوم مقطع کا
کہ ’یا رب‘ اِسم ِواحد ۔۔۔اور ’ہا‘ اس پر
برائے ’جمع‘ کردن ریزہ ہائے عنفی و عطفی۰
چلیں ، اک عام قاری سا سمجھ کر خود سے ہی پوچھیں
کہ کیا ’’ربّ ہا ‘‘ غلط ہو گا کہ ’’یا ربّ ہا”۔۔ کہ دونوں ہی ‘‘؟
اگر غالبؔ نے اس کو بھی نہیں سمجھا تو حیرت ہے
بھلا اک عام قاری کیسےاس عقدے کو کھولے گا؟

چلیں چھوڑیں کہ ہم سب جانتے ہیں ……
اُس زمانے میں روایت ہی نہیں تھی ……
دونوں جانب ’واؤ‘ کے دو حرف یا ’’واوَین ‘‘لکھ کر
! لفظ یا ترکیب یا جملے کو قلعہ بند کرنے کی
چلیں چھوڑیں یہ جھگڑا اور یہ سمجھیں کہ “یا رب ” کو
فقط ’یک صوت ‘ ہی سمجھا گیا ہے ، یعنی اک نعرہ
تو ’’یا ربّ ہا‘‘ کو بالّسان ہی سمجھیں

چلیں پیچھے؟

’’اسدؔ کوبت پرستی سے غرض درد آشنائی ہے‘‘
یقینا ہے
مگر اک ’آشنائی‘ تک ہی رہتا یہ تعلق تو ۔۔۔
یقینا مان جاتے ہم
مگر اس پر اضافہ۔۔۔ ’درد‘ کا؟
’درد آشنائی‘ ؟ اور بتوں سے؟
کون بہتر جانتا ہے ایک قاری سے
کہ سچ کیا ہے، دروغ ِ نا روا کیا ہے

غرض‘‘ کو بھی ذرا دیکھیں
غرض ۔۔۔۔تخفیف ۔۔۔ ’’غرضیکہ‘‘ کے لیے، شاید؟
چلیں، تسلیم۔۔۔
پر یہ لفظ در آیا ہے گویا بے سبب،بے معنی و مطلب
کہ اس سے پیشتر اک شائبہ تک بھی نہیں ملتا
کہ کوئی بحث جاری تھی اسدؔ کے بت پرستی سے تعلق کی
!کہ ’غرضیکہ‘ بٹھانے کے لیے تکیے کی حاجت تھی

’’غرض‘‘ کی کیا غرض تھی یاں؟
کہو، ’بھرتی‘ کہیں اس کو؟
کہ یہ فاضل تو لگتا ہے کسی آگاہ قاری کو

غلط ہے ’’نالہ ٔ ناقوس‘‘ ۔۔۔ شاعر کو کوئی کیسے یہ سمجھائے
کہ اک ناقوس(یا اک شنکھ) کی آواز ہوتی تھی
بلانے کے لیے بھگتوں کو مندر میں
خوشی تھی اس میں۔۔
کوئی رونا دھونا، نالہ کش ہونا نہیں مطلوب تھا
ناقوس کی آواز سے ۔۔۔ یعنی
لڑائی میں سپاہی اک اسی آواز کو سن کر
ہی دھاوا بولتے تھے اپنے دشمن پر
پجاری بت کدے کابھی وہی پیغام دیتا ہے
(پرستش کرنے والوں کو)
کہ آؤ، وقت ہے اب آرتی کا اِس شوالے میں
یہی مُلّا کا فرض ِ اوّلیں ہے اُس کی مسجد میں ۔۔۔۔
نماز ِ با جماعت کا بلاوا ، یا اذاں آہنگ ِ شیریں میں
”تو گویا ’نالۂ ناقوس‘ میں’’ نالہ‘
فقط اک غیر طلبیدہ اضافہ ہے

نہاں ہیں نالہ ٔ ناقوس میں در پردہ ’ یا ربّ ہا‘
چلیں، ’یا ربّ‘ سے ’ہا‘ کو تسمہ پا کرنے پہ لے دے ہو چکی۔۔۔۔
اب مدعا اس شعر کا دیکھیں

بہت ہیں بت پرستی کے حوالے غالب دیندار میں، لیکن
بلاغت اور طلاقت کا یہ اک نادر نمونہ ،بے بدل مصرع
یقیناً سب پہ حاوی ہے

’’نہاں ہیں نالہ ٔ ناقوس میں در پردہ ۔۔۔۔‘‘
کیا؟ دیکھیں ، ذرا سمجھیں

وہی آواز، لا اللہ ال اللہ ۔۔ یقینا جو اذانوں کی صدا بھی ہے
ہزاروں پردہ ٔ ہائے صوت میں مخفی، مگر ظاہر
(وہی آواز ’’اللہ ایک ہے‘‘، (دُوجا نہیں کوئی)

تو یہ ناقوس ہو ۔۔۔ آواز بھگتوں کو بلانے کی
نماز ِ با جماعت کے لیے میٹھی اذاں ہو ۔۔۔
ایک ہی آہنگ ہے
اللہ کی توحید کا ، لوگو
………………………………………………
۰۰ ۰۰ ۰۰غالب کی فارسی غزل سے ماخوذ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۔ نوٹ۔ جو با دلِ نخواستہ لکھا گیا
اگر ناقوس مندر میں پوجا کے لیے بھگتوں کو بلانے کا ایک وسیلہ ہے۔(دوہا۔ شنکھ پھونکے، بھگت بلائے۔۔۔کرے آرتی گِر دھر کی، ) تو اسے اردو شعرا “نالہ” (رونے دھونے کی ۔ بلند آواز) کیوں کہیں؟؟؟؟۔ کل کلاں اگر کوئی شاعر اذان کی شیرییں آواز کو نالہ کہہ دے تو ہم سب پر کیا اثر ہو گا، سوچنا ضروری ہے ۔

 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post