ڈاکٹرستیہ پال آنند بنام مرزاغالبؔ (۲۲)

یہ  کہہ  سکتے  ہو  ہم  دل میں نہیں  ہیں  پر  یہ  بتلاؤ
کہ جب دل میں تمھیں تم ہوتوآنکھوں سےنہاں کیوں ہو

  غالبؔ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ستیہ پال آنند
یقیناً صنعتِ ترسیع وہ تسبیع ہے جس سے
سبھی ارکان یعنی آٹھ کے آٹھوں (مفاعیلن)
بہم منکوں سے اک اک کر کے جیسے جُڑتے جاتے ہیں
یہ کہہ سکتے(مفاعیلن) ہو ہم دل میں (مفاعیلن)
نہیں ہیں پر(مفاعیلن)یہ بتلاوٗ (مفاعیلن)
یہ استادی ہے استاذی ، اسے ہم بھی سمجھتے ہیں

مرزا غالب
سمجھنے میں، عزیزی، تم بہت ہشیار ہو، لیکن
اسے الفاظ میں ملبوس کر نا کارے دارد ہے

ستیہ پال آنند
نہیں، قبلہ، ذرا دیکھیں یہ استفسار کیسا ہے

مرزا غالب
کہو، جو کچھ بھی کہنا ہے، کہو، اے ستیہ پال آنند

ستیہ پال آنند
ذرا ـ’’دل ‘‘ اور ’’آنکھوں‘‘ پر تو، قبلہ، غور فرمائیں
ہے ان میں یہ نزاع و چپقلش کیسی، جنابِ من
مجھے اتنا تو سمجھائیں کہ اس جھگڑے میں کیا کچھ ہے ؟
کہاں دل؟ گوشت کی اِک ’’ڈگڈگی ‘‘ بجتی ہوئی، یعنی
کہیں سینے میں حیث و بحث میں ڈوبا ہوا ڈمرو
کہاں عین الیقیں، بینائی کی محرم یہ دو آنکھیں ؟
بہر جا، مطلق و مثبت ۔۔۔ سبھی کچھ دیکھنے والی

مرزا غالب
عزیزی، چشمِ بینا اور دل میں فاصلہ کیا ہے
بس اک لمحے کا، لیکن دل تو خود میں بے بصر ٹھہرا

ستیہ پال آنند
ہمارےبے بصر د ل اور ان بیدار آنکھوں میں
بھلا کیا ہے توافق ؟ آپ فرمائیں گے کیا ، استاد؟
جہاں دل راست گفتاری سے ڈرتا ہے، وہاں آنکھیں
صداقت کی ہمہ بیں ناظر و موجود شاہد ہیں

مرزا غالب
وہ جو وہم و گماں ہے دل کی دنیا میں دھندلکے سا
مجازاً بھی نہیں آئے گا آنکھوں کے اجالے میں!
مگر معنی تو سیدھے، صاف ہیں اس شعر کے آنندؔ
اگر دل میں بسیرا ہے مرے معشوق کا ، تو پھر
مجھے دیدار ملنے میں ہے کیوں آزر دگی، صاحب؟

ستیہ پال آنند
تو گویا آپ بھی تسلیم کرتے ہیں، جنابِ من
ـ’’پئے نظرِکرم تحفہ ہے شرمِ نا رسائی کا‘‘
تو پھر اس ’’نا رسا ‘‘ کو دل میں ہی محبوس رہنے دیں

 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post