ڈاکٹرستیہ پال آنند بنام مرزاغالبؔ (۲۰)

بندگی میں بھی وہ آزادہ و خود بیں ہیں،کہ ہم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔  اُلٹے  پھر  آئے ، درِ کعبہ اگر وا  نہ ہوا

غالبؔ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ستیہ پال آنند
آپ اگر کہتے , بصد نخوت و طرہ بازی
الٹے پھر آئے، در میکدہ گر وا نہ ہوا
یا کہ بتخانہ کا ہی ذکر کیا ہوتا اگر
پھر تو یہ شعر یقیناً ہی تھا اک شہ پارہ
پر ’’درِکعبہ‘‘ کا مذکور تو بے ادبی ہے
ایسی تضحیک تو ہم نے کبھی دیکھی نہ سنی
چشمِ کم سے اگر دیکھے گا کوئی کعبہ کو
عفو و غفران کا وہ اہل نہیں ہو سکتا۔
اس لیے میں ا گربے دین کہوں، استاذی
آپ کے واسطے یہ را ئے غلط ہوگی کیاَ؟

مرزا غالب
کوئی کچھ بھی کہے، یہ بات پر کہنے کی نہیں
تم تو یہ شعر سمجھ ہی نہیں پائے آنند
اور پہنچے بھی تو اس طے شدہ مفروضہ تک
یہ تو ادعائے فضیلت ہے تمہاری ، سمجھو
تنگ نظری ہے ، تعصب ہے، سخن سازی ہے
اک کنایہ ہے یہاں کعبہ کا مذکور، میاں
استعارہ ہے یہ، تلمیح ہے، اک صنعت ہے
اس کی تشریح ہے وہ جگہ جو افضل ہو بہت
اکملیت میں نہ ہو جس کا کوئی بھی ثانی
بات اتنی سی تھی جو میں نے کہی تھی آنند
اور تم اس کو الٹ پھیر میں کیا کیا سمجھے

ستیہ پال آنند
ہو سکے تو ذرا اور بھی تشریح کر یں

مرزا غالب
بندگی ایک فریضہ ہے ،یہ سب جانتے ہیں
پر ضروری تو نہیں اس میں انا کی تدفین
اہم ہے اپنے تکبر سے رہائی، لیکن
منہ چھپائے ہوئے رہنا تو ہےذلت ، آنند

ستیہ پال آنند
بہمہ پاسِ ادب ، عجز و کرم فرمائی
ہر مسلماں کا فریضہ ہے یہ کعبہ کے لیے
اس کی عزت پہ کوئی حرف نہ آنے دے کبھی
آپ کے شعر کی تصویر تکبر سے ، مگر
پیش کرتی ہے فقط آپ کی مرزائی، حضور
یہ تعلی ہے کہ جو موزوں نہیں کعبہ کے لیے

مرزا غالب
تم غلط ماپ رہے ہو مجھے، اے ستیہ پال

ستیہ پال آنند
آپ ذی شان ہیں میرے لیے، مہتم، بالشان
میں تو اک صاف گو انسان ہوں ، روکھا پھیکا
غیر مسلم ہوں مگر پست، بد تہذیب نہیں
مجھ کو اس عظمت و حشمت کا ہے اندازہ
جو کبیرہ ہے، اتم، بیش بہا، اعلیٰ ترین
آپ کا اس کے لیے ایسا اشارہ، استاد
ہے تو، لاحول ولا قوۃ الا باللہ!

 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post