ڈاکٹرستیہ پال آنند بنام مرزاغالبؔ (۱۹)

مرگیا صدمہ یک جنبش لب سے غالبؔ
ناتوانی سے حر یفِ دمِ عیسیٰ نہ ہوا
۔۔۔۔۔۔۔۔
ستیہ پال آنند
ذہن میں میرے ہے بیتاب اک عجبک سا سوال
ہو اجازت تو میں پوچھ ہی لوں ، بندہ نواز

مر زا غالب
میں اگر ’’نہ‘‘ بھی کہوں، تم کہاں رکتے ہو، میاں
اس لیے پوچھو تو، کیسا ہے یہ عجبک سا سوال

ستیہ پال آنند
’’دہر میں نقش ، وفا وجہِ تسّلی نہ ہوا
ہے یہ وہ لفظ کہ شرمندہء معنی نہ ہوا‘‘
اس غز ل کا یہی مطلع ہے،ذرا غور کریں
اور پھر دیکھیں یہ حجت کہاں لے جائے گی
یائے معروف ہی ہے سارے قوافی کی اساس
لیکن اس شعر میں کچھ فرق نمایاں ہے ضرور
یوں تو لکھتے ہوئے ’’ عیسیٰ ‘‘ میں ہے یائے معروف
پر تلفظ میں ہی یہ اسم مذکر ٹھہرا
اہلِ فار س کے لئے قافیہ ’’ تقوی‘‘ہے یہاں
ریختہ میں نہیں کوئی بھی مگر اس کی مثال
آپ فرمائیں تو کیا کہتے ہیں اس سلسلے میں

مر زا غالبؔ
تم نے تو خود ہی، میاں، ڈھونڈھ لیا اس کا جواب
ویسے ’’تقویٰ‘‘ بھی ہے اک قافیہ اس شذرہ میں
کیا ہم اس کے لیے لائیں گے الف مقصورہ؟

ستیہ پال آنند
اہل فارس کا ہی اتباع اگر ہو تو، یہاں
سارے الفاظ ہی عربی کےبدل جائیں گے
یائے معروف سے بُرّاں ہے الف مقصورہ
ان میں جاٗئزہی رہے گی ہمہ ادلیٰ بدلی
پھر تلفظ میں بھی، املا میں بھی سب ہو گا روا
قافیہ بندی پری یہ ظلم عجب ہے، استاد

مر زا غالبؔ
اب بھلا اور کیا سننا ہے تمہیں مجھ سے، میاں
تم تو خود مجھ سے بھی دو ہاتھ بڑھے جاتے ہو
ہاں بضد ہو اگر سننے پہ تو یہ سن لو، عزیز
عہدِ طفلی میں ہے ، جب اس پہ شباب آئے گا
ریختہ لاکھوں کروڑوں کی زباں ہو گی یہاں

۔۔۔۔۔۔۔۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post