ڈاکٹرستیہ پال آنند بنام مرزاغالبؔ (۱۸)

میں عدم سے بھی پرے ہوں ورنہ غافل بارہا
میری  آہ ِ آتشیں سے بالِ  عنقا  جل  گیا

  غالبؔ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ستیہ پال آنند
بندہ پرور، مجھ سے گر شاکی نہ ہو ں تو یہ کہوں
کیا ضر ورت تھی غلو کی مصرعِ  ثانی میں یاں
جب غلو اغراق کی حد تک پہنچ جائے تو پھر
کیوں نہ اس سے بچ بچا کر آگے بڑھ جائیں، حضور؟

مرزا غالبؔ
کچھ ذرا تفصیل سے اس بات کو واضح کرو
کیا بعید از عقل ہے یہ استعارہ ستیہ پال؟

ستیہ پال آنند
ٓشعر خواں کا خود عدم سے بھی پر ے ہونا، غلط

آہ سے عنقا کے بال و پر کا جلنا بھی غلط
یہ نقیضینِ غلو منطق سے عاری ہیں ، جناب
اور یہ قصہ محال عادی و عقلی بھی ہے

مرزا غالبؔ
پھر کہو، تفصیل سےکیا کچھ ہے اغراق و غلو
اور کیا خوبی نہیں یہ شعریت کے باب میں؟

ستیہ پال آنندؔ
کوئی مسلک جو خلاف ِ منطق و تفہیم ہو
شعر جس میں باہمی تنسیخ یا تردید ہو
کیسے ہم خوبی سمجھ سکتے ہیں، قبلہ، سوچئے
’’میں عدم سے بھی پرے ہوں‘‘ یعنی ’’میں حاضر نہیں‘‘
یعنی ’’میں معدوم ہوں‘‘ ۔۔اک غیر حاضر جسمیت
پھر بھلا عنقا کے بال و پر کا جلنا کس طرح؟

مرز ا غالبؔ
پر، عزیزی، شاعری کا حسن ہے اغراق تو
کیا ضروری ہے کہ منطق ہو یہاں معیارِ حسن؟
یہ ریاضی کا تو کوئی مسئلہ ایسا نہیں
جس میں دو اور دو ہمیشہ چار بنتے ہیں، میاں

ستیہ پال آنند
جی نہیں، لیکن ضروری ہے کہ ہم مہمل نہ ہوں
ماحصل، مفہوم میں روشن رہیں، واضح رہیں
یہ نقیضینِ خیالی، اجتماع و ارتفاع
ایسی بے پر کی اڑاتے ہیں زمیں تا آسماں
جس سے اخفا یا ادق عقدہ ہی بن جاتا ہے شعر
(یوں عدم سے بھی پرے ہونا ہے اک تازہ مثال)
آپ سے کچھ اک مثالیں اخذ کر سکتا ہوں میں
کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیاـ
(اور بھی کچھ ہیں مگر کچھ خشمگیں لگتے ہیں آپ)

مرز ا غالبؔ
بس یہیں رہنے دو ستیہ پال،کافی ہو چکا
کیا اسے میں خود سے در پردہ خصومت ہی کہوں؟

ستیہ پال آنند
جی نہیں! مجھ سے توقع ایسی گستاخی کی؟ کیوں؟
میں تو ، استاذی ، ہوں زانو تہہ کیے اک تابعدار
ہے عقیدت اور ارادت میرا فرضِ اوّلیں
میں مقلد ہوں، مطاع و فدوی و خادم، حضور
بخش دیں مجھ کو اگر یہ سرکشی سمجھیں، جناب
۔۔۔۔۔۔۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post