ڈاکٹرستیہ پال آنند بنام مرزاغالبؔ (۱۵)

بہ طوفاں گاہِ جوشِ اضطرابِ شامِ تنہائی
شعاعِ آفتابِ صبحِ محشر  تارِ بستر  ہے

مرزاغالبؔ
۰۰ ۰۰ ۰۰
ستیہ پال آنند
اگر بد گو نہ سمجھیں، محترم، مجھ کو، تو یہ پوچھوں
کہ تنہائی ہے، ڈھلتی شام ہے اور آپ بیٹھے ہیں
تشنج میں تڑپتے، مضطرب، لرزاں ہیں ذہن و دل
یہاں تک ہے بری حالت کہ گویا صبح محشر ہے
چمکتے ہیں شعاوں کی طرح سب تار بستر کے
یہ حالت کیا فقط “تنہائی”کا ہی رونا دھونا ہے؟

مر زا غالبؔ
فقط تنہائی؟ کیا پوچھو ہو تم، اے ستیہ پال آنند؟
اور اس پر سوقیانہ “رونا دھونا” جیسےیہ الفاظ؟
تمہیں معلوم بھی ہے شعرکی تخلیقیت کیا ہے
کہ تنہائی تو گرد و پیش کی سطحی حقیقت ہے
سنو اب غور سے ترسیل کا یہ برملا قصـہ
مری یہ شام تنہائی ، اکیلے پن کا اک گوشہ
عجب خلوت نشینی کا کوئی حجلہ ہے ، تکیہ ہے
یہاں تک تو عزیزم ، صرف بیرونی حقیقت ہے
وہ رو ح الا صل جو اس شعر کےمطلب کی ضامن ہے
بہت کچھ اور بھی کہتی ہے جومکنونِ خاطر ہے

ستیہ پال آنند
عجب یہ تیاگ یا بیراگ یا بن باس ہے ، جس میں
نہ امن و چین ہے دل میں، نہ دم لینے کی فرصت ہے
مگرگوشہ تو گھر کا ہے ۔۔۔تو کوئی وجہ، استاذی؟

مر زا غالبؔ
نہیں سمجھو گے تم” تخلیقیت ” کی اس حقیقت کو
کہ جو ں مبد و ولادت ، کوکھ وا ہونے کی حالت ہو
عجب اعضا شکن ہے، اضطراب انگیز ہے یہ شام
کہ بے چینی سے ، بر افروختگی سے، جنجھلاہٹ سے
اک آتش زیر ِ پا سی کیفیت ، دیوانگی سی ہے

ستیہ پال آنند
ولادت کا اضافی استعارہ اس حوالے سے
وحید الدہر ہے قبلہ، کہ اس کو سب سمجھتے ہیں

مر زا غالب
یقیناً میر ی حالت تھی یہی اُس شام، ستیہ پال
اکیلے پن کاوہ گوشہ، خموشی کے قفس میں تھا
مگر تخلیق کے لمحے کا شور و غل، وہ بادِ تند
مجھے جکڑے ہوئے تھی نیم بے ہوشی کی حالت میں ا
طلوعِ مہر کی کرنیں مرے ہر تارِبستر میں
مجھے سوئیاں چبھو کر کہہ رہی تھیں، صبح ِ محشر ہے
اٹھو بستر سے اپنے ، یہ تمہاری شام تنہائی
تعطل میں نہیں ! تخلیق کے اس خاص لمحے کو
رگ و پے میں اُمڈکر شعرکو خود خلق ہونے دو

ستیہ پال آنند
جزاک اللہ ! کیا تفصیل ہے اس خاص لمحے کی
کہ جس میں شعر نے خود خلق ہونا ہے بہر صورت

مرزا غالبؔ
کہو، اس شعر کی زنبیل اب وا ہو گئی ہے کیا؟
کوئی نکتہ اگر باقی ہو تو پوچھو، میاں آنند

ستیہ پال آنند
گراں گذرے نہ گر یہ بات تو پوچھوں، جنابِ من
(فقط میں ہی نہیں، یہ بات سب احباب پوچھیں گے)
اسد اللہ خاں غالبؔ ہے کیسا شاعرِ اردو
اگر یہ شعر ہی اس کی وراثت کی نشانی ہے
کہ چودہ میں سے تیرہ لفظ تو ہیں فارسی کے ہی
اکیلا ’’ہے‘‘ ہی اک بے چارہ اردو کا نمونہ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post