وبا کے دنوں میں دبستان پشاور کا تخلیقی بیانیہ۔.۔ایک تاثر : ڈاکٹر اسحاق وردگ

 

 

عالمگیر انسانی المیہ کرونا عالمی تاریخ کے ساتھ ساتھ تاریخ ادب میں بھی بیسویں صدی کے ایک تخلیقی رجحان کے روپ میں زندہ رہے گا۔اسے ادب کا اعجاز کہیے کہ وبائے عام کے خوف سے زندگی کا پہیہ رک چکا ہے لیکن آگہی کے تخلیقی اظہاریے رواں دواں ہیں۔جس خوف کے ہاتھوں سماجی زندگی نے ویرانی کی چادر اوڑھ رکھی ہے۔۔۔انسان گھروں میں محصور ہیں۔اہل ادب اسی خوف کے رنگوں سے فکر و آگہی اور نفسیاتی کیفیات کے منظرنامے تخلیق کر رہے ہیں۔یہ تخلیقی عمل سے زیادہ تہذیبی عمل ہے کہ ایک اجنبی اور بے یقین ساعتوں میں تخلیق کار اپنائیت اور تیقن کی جذباتی توانائی متاثرین وبا کو فراہم کر رہے ہیں۔
دبستان پشاور بھی اس تہذیبی عمل میں اپنی تخلیقی بصیرت سے روشنی بنا رہا ہے۔دنیا “کروناگردی” کے حصار میں تبدیلی سے گزر رہی ہے۔مشرق و مغرب کے زمین زاد بے یقینی سے گزرتے ہوئے ایک جیسا سوچ رہے ہیں۔
یہ عصری حسیات دبستان پشاور کی تازہ تخلیقات میں ظاہر ہورہی ہیں۔ شہر ہفت زبان پشاور کے اردو،پشتو،ہندکو اور کھوار ادیب اپنی تحریروں میں اس بے دلی کو زندہ دلی اور یاسیت کو رجائیت میں بدلتے ہوئے “عالمی گاوءں “کے انسانوں کو ایک خاندان سمجھ رہے ہیں۔اور انھیں ایک پیج پر لا رہے ہیں۔تاکہ کرونا کے بعد کی دنیا نئی صف بندی اور پیش قدمی میں مثبت اہداف اور روشن ترجیحات کو سامنے رکھتے ہوئے انسان دوستی کے عالمی ضمیر کو وینٹیلٹر سے تازہ ہواوءں میں لے آئے۔اور عالمی طاقتیں اپنی قوت انسان کی خوشی اور خوشحالی کی بازیابی کے لیے وقف کریں۔جو کرونا ،بھوک،جہالت اور بیماریوں کے ہاتھوں اغوا ہو چکی ہے۔
تازہ ادبی منظرنامے میں پشاور کا شعروادب بھی وبائے عام میں نئی کروٹیں لے رہا ہے۔جوش آئند امر یہ ہے کہ تخلیق ادب کے ساتھ ساتھ تدریس اردو ادب کے اعلا تعلیمی ادارے بھی طلبائے ادب کے لیے آن لائن تدریسی سرگرمیاں شروع کر رہے ہیں۔یہ فعالیت زندگی اور امید کے رشتے کی بحالی ہے۔شعبہءاردو جامعہ پشاور کی چیرپرسن ڈاکٹر روبینہ شاہین نے آن لائن ویڈیو کلاسز کا اعلان کر دیا ہے۔اسی سلسلے میں شعبہءاردو اسلامیہ کالج یونی ورسٹی کے ڈاکٹر اظہار اللہ اظہار،شعبہءاردو صوابی یونی ورسٹی کے سربراہ ڈاکٹر واجد علی شاہ،شعبہءاردو سرحد یونی ورسٹی کے ڈاکٹر امتیاز بھی طلبائے ادب سے رابطے میں ہیں۔اورپختنونخوا کی جامعات ان مشکل حالات میں فروغ اردو ادب کی تدرییسی سرگرمیاں جاری رکھ رہی ہیں۔
روایت ہے کہ سماج جب ٹوٹ پھوٹ سے گزر رہا ہو تو معیاری ادب تخلیق ہوتا ہے۔فی زمانہ دیکھا جائے تو اردو شعر و ادب پر وبائے عام کے فوری اثرات دیکھے جا سکتے ہیں۔۔دبستان پشاور بھی سوشل میڈیا کے مختلف فورمز پر اپنے تخلیقی اظہار کو کامیابی سے سامنے لا رہا ہے۔اس تناظر میں حتمی فیصلہ تو وقت نے کرنا ہے کہ وبائے عام پر لکھے گئے شعروادب میں معیاری ادب کے محاسن کیا ہیں اور ہنگامی نوعیت کے ادب کے معائب کون سے ہیں۔تاہم مجموعی طور پر کوئٹہ سے کولکتہ تک وبائے عام کے ادب کا افادی پہلو یہ ہے کہ اسے محقیقین اور ناقدین کی توجہ مل رہی ہے۔اور تنقیدی جائزے بھی مرتب ہو رہے ہیں۔
اسی تناظر میں پشاور کے اردو ادیبوں کی تخلیقات کے جائزے کا مقصد بھی یہی ہے کہ اس بکھرے مواد کو کسی مضمون میں مستقبل کے محقیقین کے لیے محفوظ کیا جا سکے۔
پشاور کی حد تک اصناف ادب کے تناظر میں تازہ ادبی رجحان کو پرکھا جائے تو اب تک نظم،غزل،رباعی،قطعہ نگاری،ادبی کالم اور مائیکروفکشن کے اسالیب میں پشاور کے اہل قلم اپنا تخلیقی بیانیہ سامنے لا چکے ہیں۔
اس سلسلے میں پشاور کے اہل ادب کی تخلیقات کی یکجائی کا مظہر روزنامہ “آج” پشاور کا ہفتہ وار ادبی صفحہ ہے۔ممتاز ادیب و کالم نگار ناصر علی سید کی ادارت میں تازہ ادبی پرچے میں معروف نقاد ڈاکٹر طارق ہاشمی کا مضمون اور ناصر علی سید کا ادبی کالم “بات کرکے دیکھتے ہیں” پڑھنے لائق ہے۔ “ادب سرائے” کی مذکورہ اشاعت کو کرونا کے تناظر میں پہلا تحقیقی و تنقیدی جائزہ بھی کہا جاسکتا ہے۔
ڈاکٹر طارق ہاشمی نےاپنے جائزے کے آغاز میں اردو ادب میں وبا پر شعری و نثری تخلیقات کا مختصرا” احوال قلم بند کرتےہوئے اردو شاعری اور فکشن پر مختلف ادوار میں وبا کے اثرات کا تذکرہ کیا ہے۔
ڈاکٹر ہاشمی لکھتے ہیں:
“اردو شعروادب میں وبائی صورتحال پر یہ تخلیقی اظہاریے اس دردمندی کا مظہر ہیں جو ہر عہد کے ادیب نے اپنے ماحول اور اس میں جیتے جاگتے انسان سے محبت کے حوالے سے اپنے باطن میں روشن کی”
اس مضمون میں مرزا غالب کی پیشن گوئی اور وبائے عام میں بچ جانے کے دلچسپ واقعے،ڈپٹی نذیر احمد کے ناول “توبتہ النصوح” میں ہیضے کی وبا پھوٹ پڑھنے پر اور طاعون کی وبا پر راجندر سنگھ بیدی کے مشہور افسانے پر بھی ایک نظر ڈالی ہے۔
شاعری پر نظر ڈالیں تو استاد نشاط سرحدی،مشتاق شباب،حماد حسن،اختر سیماب،عتیق الرحمان،میاں لطیف شاہ کاکا خیل ڈاکٹر اظہار اللہ اظہار اور ڈاکٹر سید زبیر شاہ کی شعری صدائیں عالم گیر وبا کے سماجی،معاشی اور جذباتی سانحات پر درد میں ڈوبی ہیں۔ان شعری آوازوں میں فرد کی تنہائی کا احساس بھی ہے اور سماج کے خود غرض طبقے کی بے حسی کا ادراک بھی۔
اس سلسلے میں استاد نشاط سرحدی نے نظم،رباعی،قطعہ نگاری اور فردیات کے اسالیب میں وبائے عام کے اثرات کو شعر کیا ہے۔
استاد نشاط سرحدی کی رباعی ملاحظہ کیجیے۔
کورونا وبا سے خوف کھانے والے
نادیدہ بلا سے خوف کھانے والے۔
کچھ اور نہ ہوتے عمر بھر ہوتے جاں
ہم ایک خدا سے خوف کھانے والے
نشاط سرحدی کی قادرالکلامی نے وبا کے ظاہری و باطنی منظروں کا احاطہ کیا ہے۔ان کے شعری اظہاریوں میں عالمی سماج کے مختلف رخ نظر آتے ہیں۔
دنیا میں کلین اپ آپریشن کرنے لگا ھے
کورونا نے اپنا فرض نبھا رکھا ھے۔

خال وخد دنیا کے پرانے بدل ڈالے ہیں
کورونا نے سارے جہاں کو نیا کیا ہے۔

اب کھینچ لیا ہاتھ بھی منہ پھیر چکا ہے
لگتا ہے کہ بندوں سے خدا روٹھ گیا ہے

دہشت سے بھرے ہوئے ہیں بازار
وحشت سے بھری ہوئی ہیں گلیاں

خلقت سے ہوا ہے شہر خالی
حسرت سے بھری ہوئی ہیں گلیاں
نشاط سرحدی
خیبر پختونخوا کے کثیرالاشاعت روزنامے سے وابستہ سینئر ادیب،ادبی کالم نگار و تجزیہ نگار جناب مشتاق شباب نے جہاں اپنے کالموں اور تجزیوں میں تسلسل کے ساتھ مدلل و منطقی پیرائے میں کرونا سے پیدا ہونے والے بحرانوں پر بروقت قابو پانے کے لیے عمدہ تجاویز دیں۔وہیں اپنے قطعات میں بھی وبا انسانی المیے کے طور پر پیش کیا۔
ماسک کا نرخ بھی پرواز پہ مائل ہے حضور
ایسی مہنگائی سے اب کون نمٹ پائے گا
اے کرونا!ترا ہو ستیاناس
تو نے روزی سے کر دیا ہے خلاص
گھر میں آٹا نہ دال نے سبزی
ہائے مزدور تیری حسرت و یاس
آ مل کے کرونا سے کریں اب تو گزارش
تو حضرت انساں کو نہ کر اور دل آزار
مشتاق شباب
شعری اظہاریوں میں تاحال جن شعرا کا کلام سامنے آچکا ہے۔ ان میں امجد بہزاد، پروفیسر حسام حر میاں لطیف شاہ کاکاخیل، ڈاکٹر اظہار اللہ اظہار،حماد حسن،ڈاکٹر سید زبیر شاہ،پروفیسر عبدالحمید آفریدی ،عتیق الرحمن، اختر سیماب،ضیاء اللہ خان ضیاء نے دبستان پشاور کی نمائندگی کرتے ہوئے وبا کے زیراثر فضاوءں میں پھیلے ہوئے خوف،اذیت اور بیچادگی کے احساسات کو شعری پیراہن پہنایا۔ان شعری تخلیقات میں کہیں یاسیت کا رنگ غالب ہے تو کہیں رجائیت اپنے اثبات پر مصر ہے۔
خوب صورت لہجے کے شاعر امجد بہزاد کے قلندرانہ مزاج کے شعر دیکھیے۔جن میں دعائیہ رنگ بھی محسوس ہوتا ہے:

کون کسی کا ہے بابا۔۔!
سب کا اللہ ہے بابا۔۔۔!
امجد بہزاد

وبائے عام میں اصلاحی رجحان پر مبنی شعر بھی قارئین کو احتیاط کا پیغام دے رہے ہیں۔اس سلسلے میں پروفیسر حسام حر کے اشعار ملاحظہ کیجیے:

کسے خبر تھی کہ یہ وائرس بلا ہوگا
قضا کے ساتھ شکاری نکل پڑا ہوگا

اسیر بھی نہیں آزاد بھی نہیں ہیں ہم
لگا ہے ڈر کہ وہ ہر گام پر کھڑا ہوگا

تمام شہر اداسی کی گرد میں ہے گم
ہر اک مکان پہ آسیب پھر گیا ہوگا

ہر احتیاط ہے لازم کہ جان پیاری ہے
وفا کا خوف ہے بہتر یہی دوا ہوگا

قریب ہوکے بھی اب دور دور رہنا ہے
سو اس سے بڑھ کے بھلا اور کیا برا ہوگا

بس ایک ھو کا ہے عالم کہ سب پہ ہے طاری
ہر ایک شخص پریشاں ہے کیا بھلا ہوگا

تو کیا کسی سے بھی ہم نہیں ملیں گے حر
ملاپ کیسے کریں وصال کیا ہوگا
پروفیسر حسام حر

رومانوی شعر کے لیے مشہور ڈاکٹر اظہار نے اپنے خاص رنگ کو برقرار رکھتے ہوئے اردو لفظ “کرونا” کو بطور ردیف یوں نبھایا ہے۔ کہ اس میں رومان کے ذائقے بھی شامل ہوگئے ہیں۔

کچھ نظر کرم ہم پہ بھی دلدار کرونا
نفرت تو بہت ہو چکی اب پیار کرونا
ہاتھوں کے ملانے سے گریزاں ہو اگر تم
آنکھوں کے اشاروں سے ہی سرشار کرونا
ملنے میں خسارہ ہے تو بس ہاتھ ہلانا
رستہ تو ملاقات کا ہموار کرونا
ڈر کر ہمیں حالات سے پتھر نہیں بننا
سوئے ہوئے جذبات کو بیدار کرونا
ہوجاوء بغلگیر اشاروں کی زباں میں
ہے پیار تو کچھ پیار کا اظہار کرونا
ڈاکٹر اظہار اللہ اظہار

پشاور کی نظمیہ شاعری میں حماد حسن دلآویز قرینے کے تخلیق کار ہیں۔ان کی نظم”انسان زندہ رہے گا” اپنے بلند آہنگ لہجے میں گھروں میں قید،خوف زدہ خلق خدا کی منتشر ذہنی کیفیات کو جوڑتی ہوئی انھیں منظم کرتی ہے۔

انسان زندہ رہے گا
مرا بے چہرہ و بے جسم دشمن
مجھ پہ غالب آچکا ہے
اور میں اپنی بقاء کے مسئلے سے
اس طرح دوچار ہوں کہ اب
مجھے غاروں کی جانب پھر پلٹنا ہے
سمٹنا ہے فنا سے پھر نپٹنا ہے
مری بد بختیوں کا سلسلہ رُکتا نہیں
اور میں تھکن سے چُور
گمنامی کی جانب پھر پلٹ آیا
مری نادانیوں کے سلسلے
بھی ساتھ اور مزدور فطرت بھی
میں اپنی خوف وخلوت کی رتوں میں
عھد رفتہ کا وہ سارا گوشوارہ
اور وہ سود وزیاں سوچوں
جو میری وحشتوں اور
میری مزدوری کا پھل ہیں
تاکہ اپنی نسلِ نو اور عھدِ آئندہ
کو روشن خواب اور محفوظ رُت
میراث میں دے دوں !

مگر تب تک پرندوں
آب و دانہ کے شریکوں اے پرندوں
یہ مرا چھوٹا سا گھر
یعنی زمیں تیرے حوالے ہے
تمھیں معلوم ہے کہ
میں بہت مشکل میں ہوں
اپنی بقاء کی جنگ میں
اگلی صفوں سے ھاتھ دھو بیٹھا
مری ترکش میں کوئی تیر بھی
باقی نہیں لیکن
مرا ذھن رسامیرا سھارا ہے
بھلا کا سخت جاں ہوں
اب کے بھی اپنی بقاء کا
جنگ جیتوں گا
مگر تب تک پرندوں تم نے
یہ چھوٹا سا گھر یعنی زمیں
اور اس کے آنگن میں
ہمیں فطرت سے تحفے میں ملے
یہ مشترک نایاب سرمائے
ہوائیں سبزہ و اشجار
پربت دشت اور جھرنے
(کہ بس یہ کل اثاثہ ہے)
اسی کو اپنی رکھوالی میں رکھ کر
عمر بھر کا مان رکھنا ھے
تمھیں ہر عھد
کے رشتے کی سوگند
اس کڑے وقت میں
یہی احسان کرنا ہے
مری سونپی امانت کو
بہت سنبھال کر رکھنا
مری تاریخ کہتی ہے
کہ میں پھر لوٹ آؤں گا
بلا کا سخت جاں ہوں
مٹ نہیں سکتا۔
انجمن جدت پسند مصنفین نوشہرہ سے وابستہ میاں لطیف شاہد کاکاخیل کی تخلیقات کا فکری رویہ وبا کے خوف پر غالب آنے کی تخلیقی سعی ہے۔ان کے شعر میں حفظ ماتقدم کے طور پر احتیاط کا مطلب زندگی کے جمال کو دوام دینا ہے۔
چلو اسم محمد ص کا اسے پھر واسطہ دے کر
خدا کی خاص رحمت کا وظیفہ آزماتے ہیں

پڑی ہے زندگی زندہ رہے تو عشق کر لیں گے
ابھی اک دوسرے سے فاصله رکھنے کا موسم ہے

پرندو، گھونسلوں سے مت نکلنا
فضا مسموم ہے سارے چمن کی
میاں لطیف شاہد
ان شعری اظہاریوں میں اگر ڈاکٹر سید زبیر شاہ نے وبا کی بڑھتی پیش قدمی اور ہولناکیوں کو اپنی نظم “سکوت مرگ” میں خوف کے منظر ابھارے ہیں۔تو مزاحیہ لہجے کے شاعر اختر سیماب نے ہلکی پھلکی شگفتگی کشید کی ہے۔دونوں لہجے ملاحظہ کیجیے۔
سکوتِ مرگ

موت کی پرچھائیاں
رقصاں سرِ بازار و کُو
اک ساعتِ آزار بام ودر پہ لرزاں
وحشتوں کے قہقہوں سے
وہم کی تاریکی پھیلاتا ہوا
خوف کے ہنگام برساتا ہوا
یا امتحاں کی بات ہے یا پھر سزا کا تذکرہ
یا بس فنا کا تذکرہ
یوں تو نہیں کہ بے سبب
یہ کھلکھلاتی، گنگناتی زندگی
بس صورتِ شہرِ وبا خاموش ہے
اب کے زمینِ دل پہ اترے ہیں فلک سے
ایسے سناٹے کہ بس بس “الامان و الحفیظ”
اک طرف یارانِ شب کی محفلوں میں کاٹتی تنہائیاں
اوراک طرف دن بھر کے ہنگاموں سے کچھ بےانت سی ویرانیاں لپٹی ہوئیں
ہے بے صدا سارا نظامِ کائنات
بس ہر طرف ہے اک سکوتِ مرگ کی سہمی ہوئی سرگوشیاں
سید زبیر شاہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حشرتک یاد رہےگاہمیں ہونا تیرا
ارےککھ بھی نہ رہےجارے کروناتیرا
اخترسیماب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پروفیسر عبد الحمید آفریدی نے اپنی طویل نثری نظم”وبا کے موسم میں انتظار۔۔” میں عالگیر تنہائی میں انسان کو اپنی اصل کی سمت قدم اٹھانے کا خواب دکھایا ہے۔
پروفیسر آفریدی کی نظم کا یہ ٹکڑا دیکھیے
۔
صحراوُں میں رات کا پڑاوُ ڈالے قافلے انتظار میں ہیں کہ کب دیکھیں گےوہ۔
۔۔۔۔رب کعبہ کے مقدس گھر کو۔ ۔۔۔
یہاں وہ ماتھے رگڑیں گے۔ ۔
کردہ و نا کردہ گناہوں کی بخشش طلب کریں گے۔
۔وبا کے دنوں میں عبادت گاہیں آباد ہو گئی ہیں۔کلیساوُں میں گھنٹیاں بجنے لگی ہیں
مندروں میں بھجن گائے جا رہے ہیں
آتش کدوں میں آگ مزید تیز کر دی گئ ہے۔
تا کہ انسان سلامت رہے۔ ۔
اسے کچھ مہلت مزید مل جائے
انسان! خداوند کبیر کی عظیم تخلیق
ہر وبا سے سرخرو نکلی
اب بھی سرخرو ہو گی
بس وہ ایک شخص جو وبا کے دنوں میں بھی پیار کرتا ہے
انتظار کرتا ہے
سوچ رہا ہے
انسان کب انسان بنے گا؟
کب حرص کی وبا سے چھوٹے گا؟
حریِص زر۔ ۔۔۔
حریِص زن۔ ۔۔۔۔
حریص زمین۔۔
عبدالحمید آفریدی

فی البدہیہ شاعری کے لیے مشہور عتیق الرحمن اصلاحی پیغام کو شعر میں ہوں بیان کرتے ہیں:

خواہشوں کی دلدل سے کس طرح نکلنا ہے
گُر ہمیں سکھایا ہے آج یہ کرونا نے
عتیق الرحمان
وبا پر جواں سال و جواں فکر ضیاء اللہ خان ضیاء اور نظیر ساگر کے اشعار دیکھیے

افسوس کہ ہر شہر ہے اب شہرِ خموشاں
ہیبت کا وہ عالم ہے کہ ماتم بھی نہیں ہے
ضیاء اللہ خان ضیاء

گھر میں بھی کہاں بھوک کے اژدر سے اماں ہے
باہر بھی کرونا کی وبا درپئے جاں ہے
نظیرساگر

یہ ہے دبستان پشاور کے تازہ منظر نامے کی ایک جھلک۔۔یقینا” یہ تذکرہ وبائے عام کے تازہ شعری رجحان پر تب تک مکمل نہیں ہو سکتا جب تک ان تخلیقی آوازوں میں ڈاکٹر نذیر تبسم،ناصر علی سید،عزیز اعجاز ،ذاکٹر فقیرا خان فقری،یوسف عزیز زاہد،فاروق جان بابر آزاد،بشری فرخ،نیر سرحدی،ڈاکٹر عبدالقدوس عاصم،سید شوق جعفری،ڈاکٹر تاج الدین تاجور،انجینئر ڈاکٹر ذکاءاللہ خان،ڈاکٹر فصیح الدین،ضیغم حسن،پروفیسر گوہر رحمان نوید،ڈاکٹر رئیس مغل،کلیم خارجی،ڈاکٹر اویس قرنی،اکبر مروت کی تخلیقات کا اعتبار شامل نہ ہو۔
یہاں ادب کی آفاقی صفت کا ذکر کرتے ہوئے ناصر علی سید،ڈاکٹر نذیر تبسم اور عزیز اعجاز کے ان اشعار کا حوالہ ضروری ہے۔جو وبائے عام میں نئی معنویت لے کر سامنے آئے ہیں۔
یہ اور بات کہ موجود اپنے گھر میں ہوں
میں تیری سمت مگر مستقل سفر میں ہوں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک انہونی کا ڈر ہے اور میں
دشت کا اندھا سفر ہے اور میں

حسرت تعمیر پوری یوں ہوئی
حسرتوں کا اک نگر ہے اور میں

بام و در کو نور سے نہلا گیا
ایک اڑتی سی خبر ہے اور میں

مشغلہ ٹھہرا ہے چہرے دیکھنا
اس کے گھر کی رہ گزر ہے اور میں

جب سے آنگن میں اٹھی دیوار ہے
اس حویلی کا کھنڈر ہے اور میں

وقت کے پردے پہ اب تو روز و شب
اک تماشائے دگر ہے اور میں

جانے کیا انجام ہو ناصرؔ مرا
ایک یار بے خبر ہے اور میں
ناصر علی سید

کہانی کیا سناوءں اپنے گھر کی
تمھارے سامنے ملبہ پڑا ہے
ڈاکٹر نذیر تبسم

منسوخ ہو گئی ہے ملاقات شام کی
پیغام اس نے بھیج دیا مختصر مجھے
عزیز اعجاز

شاعری کے پہلو بہ پہلو جب پشاور کے اردو فکشن نگاری کی جدید روایت پر نظر جاتی ہے۔تو خالد سہیل ملک کی قدآور شخصیت پر نظر ٹھہرتی ہے۔شنید ہے کہ ان کا اردو افسانوی مجموعہ طباعت کے مراحل میں ہے۔ خالد سہیل ملک کی زیر طبع کتاب میں اردو افسانے اور تنقید کی معتبر شخصیات محمد حمید شاہد،ڈاکٹر رشید امجد،ڈاکٹر ناصر عباس نیر اور علی اکبر ناطق کے جائزے بھی شامل ہیں۔
وبائے عام پر خالد سہیل ملک کے قلم سے تادم تحریر مائیکروفکشن کے عمدہ نمونے سامنے آچکے ہیں۔جن میں تازہ صورت حال کو افسانویت کے ساتھ عمیق زاویہء نظر سے دیکھا گیا ہے۔
لاک ڈاؤن
شب و روزجیسے ڈراؤنا خواب بن گئے تھے
چہارسو ”کرونا“ہی کی چیخ و پکار چھائی تھی
اجل کے خوف سے کانپتی پوری دنیا،
زندگی جیسے موت کا استعارہ بن گئی تھی
لاک ڈاؤن سے زیادہ چارپائی پر بے سدھ پڑی شگفتہ
کی حالت اسے پریشان کردیتی تھی
چہارسو پھیلی کرنا کی خوشبو بھی اس کی گھٹن کو کم نہ کرسکتی تھی
لیبر روم کے باہر گزری وہ رات بہت بھیانک تھی
انسان انسان سے خوف زدہ تھا۔۔۔۔
صبح شگفتہ کی آغوش سے نومولود کو اٹھاکر
اس کے کان میں اذان دینے کے بعد
جب اس نے کھڑکی کھولی تو
کرناکی خوشبو اس کے اندر اترسی گئی تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوارنٹین
درد کی شدت ایک لامتناہی سلسلہ تھا کہ تھمتے نہ تھمتا
وینٹی لیٹراس کی اُکھڑی ہوئی سانسوں کو مرتب کرتورہاتھا
مگر ہر سانس آری کی طرح پھنس پھنس کر
سینے میں اندر اترتی اورپھر باہر نکلتی
بخار کی بھٹی اس کے بدن کو جھلسا رہی تھی
کوارنٹین میں کوئی بھی اس کا ہم وطن اور ہم مذہب نہیں تھا
ڈاکٹرسنگھ اور نرس ٹریسا نے اس بہت خدمت کی تھی
میل نرس مہندرتواس کی تکلیف کو دیکھ کر رودیتا تھا
آج ڈاکٹرسنگھ،نرس ٹریسااور مہندر نے ”کرونا“سے
اس کی صحتیابی کے لیے صدق دل سے دعائیں کی تھیں
”یااللہ ان سب کی دعائیں قبول فرمادے“
یہ کہہ کر وہ پھوٹ پھوٹ کررونے لگاتھا
خالد سہیل ملک
شاعری،فکشن کے بعد پشاور کی ادبی کالم نگاری کو دیکھیں تو سعد اللہ جان برق،مشتاق شباب،ناصر علی سید،ڈاکٹر ہمایوں ہما،نیر سرحدی،خالد سہیل ملک،پروفیسر تنویر احمد،پروفیسر صبیح احمد ،حماد حسن ،روخان یوسف زئے اور شین شوکت نے ادبی اسلوب میں وبا کے بعد کا منظر نامہ مرتب کیا ہے۔سعد اللہ جان برق نے طنزومزاح کے رنگ میں تو مشتاق شباب وبا پر لکھے گئے اشعار کے اجالے میں تجزیہ کاری کر رہے ہیں۔پروفیسر تنویر احمد سنجیدہ پیرائے میں آگہی کے چراغ روشن کیے ہیں تو صبیح احمد نے اشعار کے برمحل استعمال سے شگفتگی تخلیق کی ہے۔قلم اور کالم کے اس فیض میں خالد سہیل ملک نے وبا کے بعد نئے عالمی بیانیے کے خدوخال اجاگر کرتے ہوئے خیر کے پہلو تراشے ہیں۔نیر سرحدی کی کالم نگاری بھی اشعار سے مزین ہوکر وبا کے ہاتھوں قومی بحران سے نکلنے کی راہیں سجھائی ہے۔اسی محاذ پر شاعر و نقاد روخان یوسف زئے کی کالم نگاری بھی حالات کو گہری نظر سے پرکھ رہی ہے۔
یہ ہے وبا کے دنوں میں دبستان پشاور کے تخلیقی بیانیے کا منظر نامہ۔۔۔۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پشاور کے اہل قلم نے انسان دوستی کی آفاقی اقدار کو ذہن میں رکھ کر لفظ و معنی کے رشتے میں امن،محبت،خیر کے رنگ ملائے ہیں۔ اور عالمی گاوءں کے تصور میں زندگی کے صحت مند رویوں کا احساس دلایا ہے۔دبستان پشاور کا تخلیقی بیانیہ کسی پروپیگنڈے کا شکار نہیں۔نا ہی اس پر جذباتیت کے مہیب سائے چھائے ہیں۔ یہ ادب میں جمہوری مزاج کا عکاس بیانیہ ہے۔وبا کے سانحات پر دبستان پشاور کے ابتدائی تخلیقی رویے بتاتے ہیں کہ پشاور کے ادیب وقت کے ساتھ ساتھ کرونا کے المیے پر مزید طبع آزمائی کریں گے۔اور اپنی تخلیقی آواز کو اردو کی مرکزی آواز سے ملاتے ہوئے ہوئے دبستان پشاور کی اس عظیم ادبی روایت کی لاج رکھیں گے۔جس کی بنیادوں میں سید ضیاءجعفری،احمد فراز،فارغ بخاری،رضا ہمدانی،خاطر غزنوی،استاد محترم پروفیسر محمد طہ خان ،تاج سعید،یوسف رجا چشتی،سجاد بابر،غلام محمد قاصر،ڈاکٹر صابر کلوروی،ڈاکٹر ظہور احمد اعوان کی تخلیقی بصیرت کی روشنی جذب ہے۔اور جس کے بغیر اردو ادب کی تاریخ نامکمل ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post