نوید ملک کی طویل نظم منقوش۔۔۔ایک تاثر : ڈاکٹر مظہر عباس رضوی

ذہنی حبس کے اس دور میں جب احتساب صر ف غریب ،کمزور ، نادار اور لاچار کا ہی ہو سکتا ہے،جب شرافت کو کمزوری اور خلوص و دیانت داری کو بے وقوفی سمجھا جاتا ہو، جب مذہبی، سماجی، اقتصادی، تعلیمی اور سیاسی گروہ بندیوں کو بنیاد بنا کر ترقی سے پیوستہ کیا جاتا ہو۔جب عدالت آمریت کی گود میں پل کر سیاسی فیصلوں پر نظر انداز ہوتی ہو اور سیاست ستر سال کی آزادی کے بعد بھی ذہنی نا پختگی کی آئنہ دار ہو تو نوید ملک جیسا شاعر خاموشی کو سب سے بڑا گناہ سمجھتے ہوئے قلم کی تلوار لے کر نکلتا ہے۔وہ اپنے معاشرے کے دانشوروں، ادیبوں ، شاعروں ، معلموں، طبیبوں ، وکیلوں اور بیو پاریوں سمیت ہر طبقہ ء فکر کے مسموم اذہان اور بونے قدو کاٹھ رکھنے والوں سے نالاں اور ناراض دکھائی دیتا ہے۔ عدل و انصاف جو کسی بھی معاشرے کی اساس ہے۔جب وہ ہی میسر نہ ہو تو اور کہنے کو کیا باقی رہ جاتا ہے۔بقول نوید ملک:-
سزا کے مرتکب کوّے
قصائی کی دکاں پر بیٹھ جاتے ہیں
بدن کے ساتھ کچھ بے چین روحوں کی خراشیں پھینکی جاتی ہیں
معلم” در گُزر” کا درس دیتا ہے
اور اُس کو ایسا کرنے پر
بہت سی فیس ملتی ہے
نوید ملک کی نظم پچھلے زمانوں کے بے خواب منزلوں کی جانب تھکا دینے والے سفر سے لے کر عصر حاضر کے بے کیف لمحوں کی محرومیت کا احاطہ کرتی ہے۔اس کی طویل نظم کی خواندگی ہر صاحبِ دل اور صاحبِ بصیرت قاری کو یکبار جھنجوڑ کر رکھ دیتی ہے۔قرطاس ابیض پہ پھیلا اس کا نوحہ ہمارے لیے “وائٹ پیپر” کی حیثیت رکھتا ہے۔نوید ملک کی نظم کا ایک ایک مصرع روح میں نشتر بن کر اترتا ہے اور ہمارے ارد گرد پھیلی اخلاقی ابتری، معاشرتی زبوں حالی اور علمی بد دیانتی کو طشت ازبام کرتا چلا جاتا ہے۔وہ ایک سچ بیان کر رہا ہے جسے سب جانتے ہیں ، سب پہچانتے ہیں ، سب سمجھتے ہیں۔ مگر اپنی مصلحتوں کے جزیروں میں قید صرف نوحہ گری پہ اکتفا کرتے ہیں۔
نوید ملک فن کی باریکیوں سے بخوبی آگاہ ہے۔اس کی لفظیات اور تراکیب نئی ہیں مگر اجنبی نہیں۔تشبیہات و استعارات کا ایک بحرِ بیکراں ہے جو موجیں ما ر رہا ہے۔لہجہ کٹیلا بھی ہے ، پرسوز بھی، کبھی ندی کی طرح مترنم تو کبھی آبشار کی طرح گرجدار، کبھی بادِ صبا کی مانند سبک رفتار،کبھی اسپ تازی کی طرح طرح دار ،کبھی کسی معصوم بچے کی طرح حیرتوں کا سمندر لیے تو کبھی کسی زیرک بوڑھے کی طرح عقل و فکر کے چراغوں کی روشنی میں دھیرے دھیرے سفر کرتے ہوئے وہ اپنی نظم ٹھوس شواہد کو بنیاد بنا کر پیش کرتا ہے ۔مگر اس کے تخلیقی عنصر کو ہر گز گزند نہیں پہنچاتا ۔نظم کی ڈیڑھ سو سالہ تاریخ سے واقفیت رکھتے ہوئے وہ اپنی راہیں بالکل جدا رکھتا ہے ۔اس کے اشعار کسی کا تتبع نہیں بلکہ ہر مصرع اس کی اپنی شناخت سے مرصع ہے ۔
کسی بیوہ کی روٹی دیکھ کر چولھا بھی اپنی ساری حدت بھول جاتا ہے
غریبی خوف کی زنبیل میں بے چارگی کا زہر پیتی ہے
مقدس رات کے تارے بھی جب محروم طبقوں کے
دکھوں پر ٹمٹماتے ہیں
دھواں پھیلایا جاتا ہے
نوید ملک کی اس نظم کا ایک کمال یہ ہے کہ اس کی ایک بار کی خواندگی ہی قاری کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں لے لیتی ہے مگر حجلہ عروسی کی دلہن کی طرح پہلی ملاقات میں مکمل نہیں کھلتی۔ ہر بار پڑھنے کے بعد اس کی تہہ داری اذہان پر نئے اسرار منکشف کرتی ہے ۔
نوید ملک نے اپنی نظم کو تیرہ ا بواب میں تقسیم کیا ہے۔پہلے بارہ بند ان محرومیوں اور نانصافیوں کو لطیف اشاروں اور کنایوں میں بیان کرتے ہیں ۔جب کہ تیرہویں بند میں گریز کرتے ہوئے وہ کسی نتیجے پہ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں چودہ سو برس پہلے غار حرا میں اترا نور اپنی بانہوں میں لے لیتا ہے اور وہ اس کی چکا کوند روشنی میں گم ہوجاتے ہیں ۔
چلو غار حرا کو لوٹ جائیں
وہی غارِحرا جس نے
بچااے نسل آدم کو ہوائوں سے
تھرکتی انتہائوں سے
میں نوید ملک کو اتنی خوبصورت تخلیق پر دلی مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post