’’نظر نامہ‘‘ پر ایک نظر :ڈاکٹر عبدالعزیز ملک

مرزا محمود بیگ جو محمود نظامی کے نام سے معروف ہوئے ریڈیو پاکستان سے آخری وقت تک منسلک رہے۔جب ان کی وفات ہوئی تو اس وقت وہ ریڈیو پاکستان کراچی میںڈائریکٹر جنرل کے فرائض انجام دے رہے تھے ۔حرکتِ قلب کے بند ہوجانے سے تقریباًاڑتالیس سال کی عمر میں وفات پاگئے ،یوں اردو کی ادبی دنیا فطین،محنتی اورقلم و قرطاس سے وابستہ شخص سے محروم ہوگئی۔پندرہ برس کی عمر میں اُنھوں نے تخلیقی سفرکا آغازشعر گوئی اور افسانہ نگاری سے کیالیکن آگے چل کر وہ شاعری کو زیادہ وقت نہ دے سکے اور ان کی توجہ نثر کی طرف مبذول ہو گئی۔ اسلامیہ کالج لاہورمیں داخلہ لیتے ہی ان کی علمی و ادبی سر گرمیوں کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا ۔ ان کے ادبی ذوق کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اُنھوں نے وہاں’’ انجمنِ فروغ اردو‘‘ قائم کر لی۔ان کی ادبی و فکری دلچسپیوں کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کالج انتظامیہ نے انھیںرسالہ ’’ کریسنٹ‘‘ کا مدیر بنا دیا جسے انھوں نے اپنی فطانت اورمحنت سے معیاری رسالہ بنانے میںکوئی کسر نہ چھوڑی۔انھوں نے مذکورہ میگزین کے لیے ڈرامے اور تاثراتی مضامین قلم بند کیے اور پھر صحافت سے وابستہ ہوئے ۔محنت اور ذہانت ان کی گھٹی میں شامل تھی۔بعد ازاں جب وہ ریڈیو پاکستان سے منسلک ہوئے تو ریڈیائی نشریات کو ترفع دینے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہے۔ وہ بہترین سے بہترین سکرپٹ رائٹرزاور صدا کاروں کوریڈیوسے وابستہ کرنے کی کوشش کرتے رہے تا کہ نشریات کے معیار کو بہتر سے بہتر بنایا جا سکے۔
محمود نظامی کا ادبی سر مایہ اتنا وسیع نہیں ،لیکن جتنا لکھا، معیاری اورجان دار لکھا۔خطوط نگاری ،تدوین ،تراجم ، شعر گوئی ،ڈراما نگاری،خاکہ نگاری اور افسانہ نگاری ایسی اصناف میں طبع آزمائی کی ،جن کا ثبوت ’’عزیزم کے نام :محمود نظامی‘‘،’’ملفوظاتِ اقبال‘‘،’’نئی بستیاں‘‘،’’ باید زیستن‘‘ اور’’نظر نامہ‘‘ سے دیا جا سکتا ہے۔’’نظر نامہ‘‘ ان کی ایسی تصنیف ہے جسے اُردو سفر نامے کا ایک سنگِ میل خیال کیا جاتا ہے۔بیسویں صدی عیسوی کے نصف کے بعد جو سفرنامے لکھے گئے ان میں جدید سفرنامہ نگاری کے تقاضوں پر پورا اترنے والا سفر نامہ محمود نظامی کا ’’ نظر نامہ‘‘ ہے جو ۱۹۵۸ء میںپہلی بارگوشۂ ادب لاہور سے شائع ہوا۔اس سے پہلے اس سفر نامے کے دو ابواب حلقہ ارباب ذوق کے کتابی سلسلے ’’نئی تحریریں‘‘میں اشاعت پذیر ہو چکے تھے ۔
محمود نظامی کو۱۹۵۲ء میں یونیسکو نے گیارہ ملکوںکی نشر گاہوں کا مشاہدہ کرنے کے لیے، شش ماہی پروگرام پر مصر ،لبنان،اٹلی ، سویٹزر لینڈ ،فرانس ،برطانیہ،،امریکا، کینیڈا،بہاما،کیوبا اور میکسیکو بھیجا۔ آپ اکتوبر ۱۹۵۲ء سے لے کر اپریل ۱۹۵۳ء تک مذکورہ ممالک میں محوِ سفر رہے جس کا نتیجہ تخلیقی صورت میں ’’ نظر نامہ‘‘ ہے ۔اِس کے اوراق ا س بات کے شاہد ہیں کہ انھوں نے جن ممالک کی سیر کا حال بیان کیا ہے وہ ان کی تاریخ ،تہذیب ،تمدن ،روایات ،ادب اور فنونِ لطیفہ سے بخوبی آگاہ تھے ۔یہ ان کا دساور میں پہلا سفر نہیں تھا۔اس سے قبل وہ ہندوستان سے برما ،اورپھرتعلیم کے سلسلے میں انگلستان جا چکے تھے ۔ اب تیسری بار وہ ملک سے باہر محوِ سفر ہیں ۔گہرے مشاہدے، مطالعے ، تجربے، تخیل ،تمثال کاری اور جانداراسلوب نے ان کے سفر نامے کو منفرد رنگ عطا کر دیا ہے۔ ’’نظر نامہ‘‘ کے آغاز ہی میں وہ قاری کو موت کے خوف کے تجربے سے گزارتے ہوئے اپنے طلسم میں جکڑ لیتے ہیں۔ہوائی سفر میں ویسے تو تمام مسافر امکانی موت کے لاشعوری خوف میں مبتلا ہوتے ہیں لیکن محمود نظامی نے جس طرح اپنے خوف کو بیان کرتے ہوئے جنگِ شاہی کے واقعے سے جا ملایا ہے ،اس پر ان کے تخیل کی داددیے بغیر نہیں رہا جا سکتا۔وہ آپ بیتی کو جگ بیتی میں تبدیل کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں۔وہ جغرافیائی بیان ، اعداد و شمار کے گورکھ دھندے،علاقائی سیاسی حالات اور تمدنی تبصروںکے حق میں نہیں ہیں وہ ان کے خیال میں گائیڈ بک کی خصوصیت ہیـ،سفر نامے کی نہیں،وہ ’’ نظر نامہ‘‘ کے دیباچے میں لکھتے ہیں:
’’بلکہ میں تو یہاں تک کہہ سکتا ہوں کہ شاید میں نے ان مختلف مقامات کے حالات پیش کرنے سے زیادہ ان مختلف آئینہ خانوں میں خود اپنے کو دیکھنے کی کوشش کی ہے کیوں کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ جہاںمیں اس سفر میں بہت سے شہروں سے گھوما ہوں وہاں کئی شہر ایسے بھی ہیں جو خود میرے دل سے گزرے ہیں ۔ اس مجموعے میں آپ کو انھی مقامات اورانھی شہروں کی باتیں ملیں گی جو میرے دل سے گزرے ہیں۔‘‘
وہ سفر کی روداد بیان کرتے ہوئے آزاد تلازمہ خیال کی تکنیک استعمال کرتے ہیں جس سے زمان و مکاںکی سر حدیں دھندلا جاتی ہیں اور وہ کبھی لاہور میں اور کبھی پیرس کی گلیوں میں قاری کی انگلی پکڑے ساتھ ساتھ لیے پھرتے ہیں۔اس طرح انھوں نے اردو سفر نامے کا رخ خارج سے داخل کی جانب موڑدیا اور سفر نامے کی صنف کو روایت سے جدت کا سفر کرنے میں معاونت کی۔سفر نامے میںڈرامائیت کی تکنیک کا سہارا لیتے ہوئے واقعات کو زندہ کرنے کا ملکہ اُن کے پاس بدرجہ اُتم موجود ہے یوں ان میں ایک اچھے سیاح اور عمدہ سفر نامہ نگار کی خصوصیات یکجا ہو گئی ہیں۔ جگہ جگہ وہ داستانوی واقعات اور اساطیر سے سفر کے واقعات کو شعوری طور پر دلچسپ بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور اس میں کامیاب بھی نظر آتے ہیں۔فلیش بیک تکنیک سے ماضی کے واقعات سے پردہ اٹھاتے ہوئے انھیں حال سے جوڑ لیتے ہیںیوں وہ ایک پختہ تاریخی شعور کے حامل سفر نامہ نگار کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ ملکوں ، شہروں اور معروف جگہوں کے تعارف میں اس علاقے کی تہذیب و ثقافت کا بیان یوں کرتے ہیں کہ وہاں کے لوگوں کی عمومی نفسیات نمایاں ہوجاتی ہے ،یہ خصوصیت اُن کے مشاہدے کی گہرائی اور تجربے کی دسعت پر دلالت کرتی ہے۔وہ صرف مخصوص ممالک کے لوگوں کی عادات اور مزاج کو بیان نہیں کرتے بلکہ ان کا موازنہ وطنِ عزیز کے باشندوں سے کرتے جاتے ہیں جس سے قاری کی دلچسپی ’’نظر نامہ’’کے اوراق سے برقرار رہتی ہے۔اس ضمن میں اقتباس ملاحظہ کریںجہاں ان کے موازنہ کرنے کی صلاحیت واضح ہو رہی ہے:
’’میں نے روم کے باشندوں کو دیکھا تو مجھے ان میں کچھ وہی بے کاروں کے ہجوم ،خوش فکروں کی فراوانی ،تن آسانوں کی خواہشیں، آرام طلبی کی آرزو،وہی فراخ دلی،وہی رواداری،وہی اصراف،وہی توکل نظر آیا جو میرے ہم وطنوں کی خصوصیت ہے۔‘‘
اسی طرح مغرب کی مذہبی اور ثقافتی روایات کو ہمارے ہاں کی روایات(یعنی ایشیائی روایات) سے موزانہ کرنے کا انداز دیکھیں :
’’ہم ایشیائی عام طور پر اپنے آپ کو مذہب کے بہت دلدادہ خیال کرتے ہیں۔ہم سمجھتے ہیں کہ مادہ پرست مغرب کومذہب سے کوئی سروکار نہیں اور وہاں کے لوگوں کے دلوں میںروحانی اطمینان کے لیے کوئی تڑپ پیدا نہیں ہوتی۔یہ خیال کس قدر بے معنی ہے،اس کا اندازہ مغرب میں جا کر ہی ہوتا ہے۔۔۔دینی کتب کا تقدس ہمارے ہاں کے صحائف کی نسبت وہاںکہیں زیادہ ہے۔ اوراوراد و وظائف،دعائیں اور مناجاتیں ،تعویذ اور گنڈے وہاں بھی اسی شدو مد سے چلتے ہیں جیسے ہمارے ہاں۔ وہاں بھی مذہبی پیشواوں کی کرامتوں اورمعجزوںکی حکایتیں ویسے ہی سننے میںآتی ہیں جیسے ہمارے ہاں۔۔۔‘‘
محمود نظامی کو جہاں مختلف ممالک کی تاریخ ، تہذیب، ثقافت، تمدن اوراساطیری روایات سے غیر معمولی حد تک دلچسپی ہے وہیں انھیںفنونِ لطیفہ سے بھی خاص شغف ہے۔ وہ ادبی روایات،عجائبات،مصوری، سنگ تراشی ،فن تعمیر،تھیٹر اورموسیقی کی محفلوں کا ذکر بڑے شوق و ذوق سے کرتے ہیں۔لندن کے قیام کے دوران میں انھوں نے تھیٹروں کی جو تفصیلات رقم کی ہیں وہ قابلِ داد ہیں۔ لیسٹر سکوئر کا آرٹس تھیٹر کلب اور لندن کا رائل اوپرا ہاؤس کی تفصیلات بطورِ خاص پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔اسی طرح انھوں نے لندن کے تاریخی مقامات، پارک ،سڑکوں ، چوراہوں ،گلی کوچوں،گرجاؤں اورشاہراہوں کا دلکش اندا ز میں ذکر کیا ہے۔ فرانس کے ادبی ورثے کا بیان ان کے وسیع مطالعے اور بین الاقوامی ادب سے دلچسپی کا غماز ہے۔انھوں نے فرانس میں وجودیت پسندوںکی صورتِ حال کو لطافت اور باریکی سے بیان کیا ہے اور ایک ماہر نقاد اورفلسفہ شناس کے مانند ان پر رائے زنی بھی کی ہے جس سے ان کی فلسفے سے دلچسپی کا پتا چلتا ہے :
’’یوں ایگزسٹینشلزم کا فلسفہ کوئی نئی بات نہیں ۔افلاطون،سپینوزا اور ہیگل اپنی اپنی جگہ اس کے متعلق اظہارِ خیال کر چکے ہیں۔کانٹ اور پسکال نے بھی اس کے متعلق اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے لیکن ’’ایگزسٹنس‘‘ یعنی زیست کا لفظ اس فلسفیانہ مفہوم میں جو آج یورپ کے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، سب سے پہلے کرکگارڈ نے استعمال کیا تھا ۔۔۔اس لیے انسان کو اپنی انفرادیت کو محسوس کرنا چاہیے اور اسے اپنے مخفی امکانات کو بروئے کار لانا چاہیے مگر کرکیگارڈ کوئی فلسفی نہ تھا نہ اس کا کوئی معین نظریہ تھا۔‘‘
سفر نامہ نگار کی مختلف شہروں کی ادبی صورتِ حال اور فلسفیانہ نظریات پر نظر ، موسیقی کی محافل کے ساتھ ساتھ آرٹ گیلریز اور فن تعمیر کا بیان سفر نامے کو نہ صرف دلچسپ بلکہ معلومات افزا بنا دیتا ہے۔وہ جہاں مختلف ممالک کی علمی ،ادبی اور اقتصادی سر گرمیوں سے واقفیت رکھتے ہیں وہیں سیاسی اور انقلابی تحریکوں سے بھی انھیںآگاہی حاصل ہے۔میکسیکو میں تعلیمی انقلاب کا ذکر انھوں نے بڑے دلچسپ اور تفصیلی انداز میں کیا ہے اور تیسری دنیا کے ممالک کے لیے یہ احساس ابھارنے کی کوشش کی ہے کہ بغیر تعلیم کے آپ اپنے ملک میں مستحکم تبدیلی نہیں لا سکتے۔انھیں مجبور اور پسے ہوئے عوام کے ساتھ خاص ہمدردی ہے۔ انھیں جہاں بھی مفلوک الحال لوگ نظر آتے ہیں ان کے درد کو وہ دل کی گہرائی سے محسوس کرتے ہیں۔مثلاً قاہرہ کے مینارِ کبیر کی تعمیرپر مزدوروں کے ساتھ ان کی اظہارِ ہمدردی کا بیان ’’نظر نامہ‘‘ میں کچھ یوں موجود ہے۔
’’غربت و افلاس اور محنت ومشقت کے مارے ہوئے سیاہ فام ننگ دھڑنگ مزدوروں اور غلاموں کی بیسیوں لمبی لمبی قطاریں تھیں جو آگ برسانے والے سورج کی جھلستی ہوئی شعاعوں کے نیچے ،تپتی ہوئی ریت پر پسینے میںشرابور،تھکن سے چور،زخموں سے نڈھال،سنگِ خارا کے بڑے بڑے ٹکڑوں کورسوں اور زنجیروں کی مدد سے کچکچاتے دانتوں اور مشقت سے پھولی ہوئی رگوںکے ساتھ کنارۂ نیل سے جانبِ صحرا گھسیٹ رہے تھے۔‘‘
مندرجہ بالا اقتباس اس بات کی غمازی کر رہا ہے کہ محمود نظامی انسان دوست اور محروم طبقوں سے خصوصی ہمدردی رکھنے والے انسان ہیں۔بغیر کسی امتیاز کے انسانی معاشروں کو خوش گوار اور پُر امن دیکھنے کے خواہاں ہیں۔
محمود نظامی کا اسلوب’’نظر نامہ ‘‘ میں اتنا اثر انگیز ہے کہ قاری اس سے اپنا دامن نہیں بچا سکتا ۔بعض مقامات پر ان کی نثر شاعری کے قریب تر چلی جاتی ہے ۔ بر محل استعارے، تشبہات ، کنایے اور صنعتیں ان کی نثر کو نہ صرف ادبی لطافت عطا کرتی ہیں بلکہ قاری کی جمالیاتی احتیا جات کی تسکین کا باعث بھی بنتی ہیں۔وہ فطری مناظر ،دن اور رات کی کیفیات،سمندر، وادیاں ، جھیلیں اور بارش کے مناظر کو بیان کرتے ہوئے ،رنگ و بو اور صوت و آہنگ سے تحرک دینے کی کوشش کرتے ہیں،جس سے قاری حسن کے جلووں کی کیفیات میں ڈوب جاتا ہے۔مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ’’نظر نامہ‘‘تخیل کی رفعت،عمدہ اور ارفع اسلوب،کہانی پن سے مملو،دلکش اور منفرد تشبیہات و استعارات سے مزین،مختلف ممالک کی ثقافتوں ، تہذیبوں ،تاریخوں اور اجتماعی نفسیات کے بیان کا مرقع ہے جسے محنت ، جانفشانی اور خلوص سے رقم کیا گیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے بیسویں صدی کی سفر نامہ نگاری کی روایت میں اہم مقام حاصل ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post