”مولانا صلاح الدین احمد:شخصیت اور فن“ … ایک تعارف :ڈاکٹر عبدالعزیز ملک

ڈاکٹر طارق محمود ہاشمی کا شمار عصرِ حاضر کے ان ناقدین میں ہوتا ہے جو معیار ی انتقاد تحریر کرنے میں منہمک ہیں۔انھوں نے ”اردو غزل:نئی تشکیل“،”اردو نظم کی تیسری جہت“،”شعریاتِ خیبر:عصری تناظر“،”فارغ بخاری:شخصیت اور فن“،”جدیدغزل کا بابِ ظفر“اور ”اردو نظم اور معاصر انسان“جیسی اہم کتب تحریر کر کے مذکورہ بالا دعوے کی تصدیق کی ہے۔ان کا انتقاد جہاں دلکش اور ارفع اسلوب کا حامل ہے وہیں فکر و نظر کی سنجیدگی بھی تما م تر توانائی کے ساتھ موجود ہے۔وہ نہ صرف اچھے ناقد ہیں بلکہ اعلا درجے کے تخلیق کاربھی ہیں جن کی تخلیقات سے میتھیو آرنلڈ کی اصطلاح میں ”حلاوت اور شیرینی“(Sweetness and Lightness)جھلکتی ہے۔اس کے ثبوت کے لیے ”دستک دیا دل“ اور ”دل دسواں سیارہ ہے“کا مطالعہ لازم ہے۔ڈاکٹر طارق ہاشمی تفہیم ِادب کے لیے دیگر علوم وفنون سے بھی پورا استفادہ کرتے ہیں لیکن ان کا ماسکہ ئ فکر ادب پر مرکوز رہتا ہے جس سے ان کی تحریر خاص و عام کے لیے یکساں طور پر قابلِ تفہیم بن جاتی ہے،یہ بات انھیں اُن ناقدین سے انفردیت بخشتی ہے جو انتقادِ ادب میں جناتی زبان استعمال کرکے دعا کرتے ہیں کہ”کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی“
”مولاناصلاح الدین احمد:شخصیت اور فن“مقتدرہ قومی زبان کے مشاہیرِاردو کے اس سلسلے کی کڑی ہے جس میں ادارے نے یہ ضرورت محسوس کی کہ اردو کے ان محسنوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جائے جنھوں نے اپنے خون پسینے سے باغِ اردو کی آبیاری کی۔یہ وہ سلسلہ ہے جس میں متعدد شخصیات پرتحقیقی و تنقیدی کتب اشاعت پذیر ہوئیں۔چوں کہ مولانا صلاح الدین احمد کی خدمات اردو زبان وادب کے حوالے سے ناقابلِ فراموش ہیں،اس لیے ان کے کام کو متعارف کرانے کے لیے ان کے احوال و آثار پر کتاب تحریر کرنے کی ذمہ داری، ڈاکٹر طارق ہاشمی کے سپرد کی گئی، جسے انھوں نے محنت اور لگن نبھایا ہے۔یہ کتاب ۱۱۰۲ء میں مقتدرہ قومی زبان،اسلام آباد سے شائع ہوئی ہے۔مذکورہ کتاب تین ابواب پر مشتمل ہے۔پہلا باب”مولانا صلاح الدین احمد:سوانحی کوائف“کے عنوان سے کتاب میں شامل ہے جس میں ان کے خاندانی پس منظر،ولادت،تعلیم،شادی، روزگار،بیرون ملک سفر،ادبی سفر کی ابتدا،اعزازات اور وفات کو زیرِ بحث لایا گیا ہے۔اس باب میں ان اداروں کاذکر بھی موجود ہے جن سے انھوں نے اردو کی خدمت کے لیے رزق کشید کیا۔ان اداروں میں اسلامک لٹریچر کمپنی،اکادمی پنجاب اور رسالہ ادبی دنیا نمایاں ہیں۔ادبی دنیا مولانا صلاح الدین احمدکاخاص حوالہ ہے۔یہ رسالہ تاجور نجیب آبادی نے ۹۲۹۱ء میں لاہور سے جاری کیا۔مولانا نے ۳۳۹۱ء میں اسے خریدااور اس کی ادارت منصور احمدکے سپرد کر دی،بعد ازاں عاشق حسین بٹالوی،حفیظ ہوشیار پوری،میرا جی،صلاح الدین احمد اور وزیر آغا اس کے مدیر رہے۔اس باب کے آخر میں مولانا کی شخصیت کی جہات کو اِن پر لکھے گئے مضامین کی روشنی میں اجاگر کرنے کی کو شش کی گئی ہے جس سے اُن کے خدوخال،لباس،مذہب،اخلاق،پرندوں سے محبت،ہمدردی،صلہ رحمی،استغنا،بے باکی اوراردو سے محبت جیسے اوصاف نمایاں ہوئے ہیں۔
کتاب کا دوسرا باب”مولانا صلاح الدین احمدکے قلمی آثار“کے عنوان سے کتاب میں شامل ہے جس میں ان کے قلمی آثار کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ان میں،۱۔تنقیدی کتب اور مقالات،۲۔تراجم،۳۔ادبی دنیا کے اداریے،تنقیدی شذرات اور تلخیصات،۴۔مختلف کتب کے دیباچے،شامل ہیں۔ان کے علمی مقالات ادبی دنیا کے صفحات کے علاوہ متعدد دیگراُردو جرائد کے صفحات کی زینت بنتے رہے۔ان کی وفات کے بعد ان کے تنقیدی مقالات کا مجموعہ”صریرِ خامہ“ کے عنوان سے تین جلدوں میں شائع ہوا ہے۔یہ تقسیم موضوعات کی حد بندی پر قائم کی گئی ہے۔صریرِ خامہ (جلد اوّل)”تصوراتِ اقبال“ کا عنوان لیے ہوئے ہے۔یہ مجموعہئ مقالات اُن کے فرزند معز الد ین احمد نے مرتب کیا ہے۔اس کا مقدمہ ڈاکٹر سید عبدااللہ نے تحریرکیا ہے۔اس مجموعے میں ان مقالات کویکجاکیا گیا ہے جو علامہ اقبال کے فکری سفر کی مختلف جہات کااحاطہ کرتے ہیں۔صریرِ خامہ (جلد دُوّم) ”اردو میں افسانوی ادب“کا عنوان لیے ہوئے ہے۔اس کے مرتب بھی معز الدین احمد ہیں جب کہ مقد مہ سید وقارعظیم نے تحریرکیا ہے۔مندرجات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اِن میں افسانوی ادب کے تکنیکی اور اسلوبیاتی پہلوؤں کو اجاگر کیاگیا ہے۔ صریرِ خامہ(جلدسوم)”محمد حسین آزاد“ کا عنوان لیے ہوئے ہے جس میں اردو کے معروف انشا پردازمحمد حسین آزادسے متعلق مقالات اورمضامین کو شامل کیاگیا ہے۔اس جلد کو بھی معزالدین احمد نے مرتب کیا ہے جب کہ اس کا مقدمہ نامورمحقق ڈاکٹر وحیدقریشی نے لکھا ہے۔مولاناصلاح الدین احمد کے قلمی آثار کی دوسری جہت ان کے تراجم ہیں۔انھوں نے سائنسی،سیاسی،معاشرتی اور مذہبی موضوعات کے تراجم کیے۔ان کے تراجم کی خاص بات یہ ہے کہ وہ الفاظ کا ترجمہ نہیں کرتے بلکہ وہ اس فضا کو بھی اردو میں منتقل کرتے ہیں جس میں وہ تحریر رچی بسی ہوتی ہے۔ان کی یہ خصوصیت ترجمہ میں اجنبیت کو داخل نہیں ہونے دیتی یوں ان کا ترجمہ مانوس اور سہل محسوس ہوتا ہے۔ان کے قلمی آثار کی چوتھی جہت ادبی دنیا کے اداریے،تنقیدی شذرات،تبصروں اور تلخیصات پر مبنی ہے۔مولانا صلاح الدین احمد ادبی دنیاکا اداریہ”بزم ادب“ کے نام سے تحریرکیاکرتے تھے۔ہر اداریے کے موضوع کے پیشِ نظر اس کا عنوان بھی درج کیا کرتے تھے۔ ان اداریوں میں انھوں نے اردو زبان کے مسائل،ادیبوں کے مسائل،ادبی اصناف کے ہیئتی مسائل،نئے اہلِ قلم کے ذہنی رجحانات،اردو شاعری کے فکری و فنی مسائل اورادبی تحاریک کے رجحانات،جیسے اہم امور پر خامہ فرسائی کی ہے۔مولانا کوکتاب پر تبصرہ تحریر کرنے میں بھی خاص ملکہ حاصل تھا۔وہ مختصر الفاظ میں پوری کتاب کا نچوڑ پیش کر دیا کرتے تھے۔وہ جہاں اہم سمجھتے کتاب کی خامیاں بلاجھجک بیان کر دیا کرتے۔ان کے قلمی آثار کا اہم پہلو تلخیصات کاوہ سلسلہ ہے جو ان کے ادبی مجلے ”ادبی دنیا“ کے بعض شماروں میں موجود ہے۔اس سلسلے میں وہ اردو کے معاصر ادبی رسائل میں اشاعت پذیر ہونے والے مقالات،مضامین،تراجم اور افسانوں کا خلاصہ پیش کیا کرتے تھے۔تلخیصات کے علاوہ انھوں نے دیباچے بھی لکھے ہیں۔دیباچہ نگاری کے سلسلے میں وہ مصنف،موضوع اوراس کی اہمیت کو چند اقتباسات میں سمیٹ لیا کرتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے دیباچے طوالت کاشکار نہیں ہوا کرتے تھے۔
مولاناصلاح الدین احمدنے عمر بھر لکھا مگر کسی موضوع پرمبسوط کام ان سے یاد گار نہیں جوکتابی شکل اختیارکرتا۔ان کے مقالات میں موضوعاتی ربط کی موجودگی کی وجہ سے انھیں کتابی صورت دی گئی ہے۔مولانا صلاح الدین احمد کی ایک اور تنقیدی جہت نوجوان ادیبوں کی حوصلہ افزائی اور قومی مقاصد کا فروغ بھی رہی ہے۔وہ نظریاتی ادیب تھے مگر ان کی تنقیدی میں نظریے کی شدت کم دکھائی دیتی ہے۔ان زندگی کا بنیادی شعور اردو زبان وادب کافروغ تھا جس کے لیے انھوں نے اپنی عمر صرف کردی۔کتاب کا تیسرا باب”اردوکے لیے خدمات“ کے عنوان سے کتاب میں شامل ہے۔اس باب میں ان کی اردو کے فروغ،دفاع اور نفاذ کے لیے خدمات کا تعارف پیش کیا گیا ہے۔اردو بولوتحریک اوراکادمی پنجاب کی بنیاد درحقیقت اردو کے نفاذ اور فروغ کی کاوشیں تھیں۔مولوی عبدالحق کے بعد اردوکی ترقی اورترویج کے لیے جس شخصیت نے سب سے زیاد ہ کام کیا وہ مولاناصلاح الدین احمد ہیں۔
ڈاکٹر طارق ہاشمی نے مذکورہ کتاب میں ان کی شخصیت اور فن کو مختصر لیکن جامع انداز میں متعارف کرایا ہے جس سے نوجوان نسل ان کے علمی اور ادبی کارناموں سے نہ صرف واقفیت حاصل کرے گی بلکہ مولانا کی شخصیت، اردو زبان وادب کے فروغ میں محرک بھی ثابت ہوگی۔

You might also like
  1. yousaf khalid says

    ما شا اللہ ایک عمدہ ادبی خدمت کا تعارف ہے – مولٰنا صلاح الدین احمد کے کام کی نوعیت سے پہلی آگاہی ڈاکٹر وزیر آغا سے حاصل ہوئی اور ان کے کام کی تحسین جس طور ڈاکٹر صاحب کرتے تھے اس سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ ایک بڑی شخصیت تھے اب ڈاکٹر طارق ہاشمی کے کام کو جو طور آپ نے متعارف کروایا ہے کتاب پڑھنے کی طلب بڑھ گئی ہے – ڈاکٹر طارق ہاشمی بلا شبہ انتہائی زیرک ،سنجیدہ اور زرخیز تخلیقی ذہن کے مالک ہیں – ان کا یہ کام بہت قابلِ قدر ہے –
    بہت بہت مبارک ہو ڈاکٹر صاحب کو بھی اور بہت تحسین جناب ڈاکٹر عبدالعزیز ملک کے لیے سلامت رہیں

  2. ڈاکٹر عبدالعزیز ملک says

    شکریہ

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post