منطق الطیر جدید میں تاریخی پہلو : اقصیٰ رانا

اس ناول میں تاریخی شعور کا جابجا اظہار موجود ہے۔ مستنصر حسین تارڑکا تاریخی مطالعہ ان کی تخلیقی کارگزاریوں کو جلا بخشتا ہے۔ تاریخ کی صورت میں یہ ناول معلومات کا ذخیرہ ہے۔ تاریخ میں بادشاہوں اور مشہور آدمیوں کے حالات زندگی اور ملک یا قوم کے ماضی و حال کا سچا تذکرہ، ماضی کی حسین یادوں اور دلکش باتوں کے ساتھ ساتھ تخریبی و تعمیری واقعات کو قلم بند کر کے قارئین کو گزرے زمانے سے آگاہ کرنا ہوتا ہے۔ ادیب ماضی کے گمشدہ زمانے کو حقیقت سے تھوڑا مختلف طور پر بیان کرتا ہے۔
مستضر حسین تارڑ ایسا ادیب ہے جو کبھی ہمیں شمال کے پہاڑوں پر کسی جپسی کی مانند قدرت کے نظاروں سے لطف اندوز ہوتا ہوا اور اٹھکیلیاں کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے تو کبھی اپنا منہ کعبے شریف کر کے روحانیت سے بھرپور ایک ایسے عاشق کی مانند چلتا دکھائی دے گا جو دیدار یار کی خاطر چلے تو جان سے بھی گزر جانے کو تیارہوتاہے۔ یہ وہ مورت ہے جوکبھی ماسکو کی سفید راتوں میں کہر اور جاڑے کو محسوس کرتی دکھائی دیتی ہے اور کبھی خانہ بدوش بن جاتی ہے۔ مستضر گزرے وقتوں کی داستانیں سنانے کو اپنے گرد ایک جمگھٹا اکٹھا کیے ایسا ساحرانہ انداز اختیار کرتا ہے کہ اس کا سحر کو بہ کو پھیلتا دکھائی دینے لگتا ہے۔ یہ اندلس میں اجنبی بنتا ہے تو غار حرا میں ایسا آشنا کہ رات گزارے بنا رہ نہیں سکتا اور پھر اچانک وہاں سے اڑ کر پورن کے کنویں سے ہوتا ہوا نیشا پور کے عطار کے پرندوں سے متاثر ہوتا ہے اور ٹلہ جوگیاں جانے والے پرندوں سا ایک پرندہ بن کر جستجو، بے نیازی اور خود شناسی کی منازل طے کرتے ہوئے اپنے قارئین کو بھی مائل پرواز کر دیتا ہے۔
ٹلہ جوگیاں ایسا ٹلہ ہے جس کے ساتھ کئی تاریخی پہلو موجود ہیں۔ مصنف نے مختلف کتابوں کے مطالعے سے ٹلہ جوگیاں کی تاریخ بیان کی ہے۔ ٹلہ جوگیاں شمالی ہندوستان میں قدیم ترین مذہبی ادارہ ہے۔ اس ٹلے کو کئی ناموں سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس میں جوگی ٹلہ، ٹلہ بالناتھ، گورکھ ناتھ یا صرف ٹلہ شامل ہیں۔
”ہندوستان کا قدیم جغرافیہ” میں بھی اس حوالے سے ایک داستان موجود ہے۔ اسے پلو ٹارچ نے بھی تاریخ میں رقم کیا ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ راجا پورس مقدونیہ کے سکندر کے مقابلے کے لیے جنگی تیاریاں کررہا تھا اس کا شاہی ہاتھی سُوج کی مقدس پہاڑی پر چڑھ گیا اور انسان کی آواز میں پورس سے درخواست کی تھی کہ وہ سکندر کا مقابلہ نہ کرے اس لیے اس پہاڑی کو” ہاتھی کی پہاڑی” کے نام سے پکارا جانے لگا۔ سکندر اعظم کے زمانے میں بھی یہ ٹلہ موجود تھا۔ ”آئین اکبری” میں بھی اس کا ذکر موجود ہے۔ ہندوستان کے درویش اسے بے حد قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں:
’’بے شک ٹلہ جوگیاں کے جوگیوں کے احترام میں بہت سے شہنشاہ اور بادشاہ اپنی اپنی غرض سے اس کی بلندی پر پہنچے۔ سکندر اعظم سے لے کر اکبر اعظم تک جس نے جوگیوں کی فرمائش پر وہاں ایک عظیم تالاب تعمیر کیا‘‘۔[۱]
سب سے پہلے کو ہستانی مقصد معبد گروگورکھ ناتھ نے آباد کیا تھا۔ اس کو کن پھٹے جوگیوں کے فرقے کا بانی سمجھا جاتا تھا۔ مغل بادشاہ اکبر نے سولہویں صدی عیسوی میں دوبار اس مقدس پہاڑ کا رخ کیا ور اس کے لیے جاگیر بھی وقف کی۔ الیگزینڈر کنینگھم کو تاریخ کھوجنے کی بڑی جستجو تھی خاص کر قدیم تاریخ اور آثار قدیمہ سے لگاؤ تھا۔ اس کا خیال ہے کہ یہ مقدس پہاڑی سب سے پہلے سورج دیوتا بالناتھ سے منسوب کی گئی تھی۔ تب سے اسے ٹلہ بالناتھ کہتے ہیں۔
ٹلہ کا گرو گورکھ ناتھ کا ذکر اجین کے راجہ بھرتری اور سیالکوٹ کے راجہ سلواہن کے ادوار اور ان کے حوالے سے ملتا ہے اور دونوں کا زمانہ پہلی صدی قبل مسیح کا ہے۔ راجہ بھرتری تو خود راج پاٹ چھوڑ کر اپنے بھائی وکرم جیت کو تاج و تخت سونپ کر واردِ ٹلہ ہوا جبکہ راجہ سلواہن کا بیٹا پورن، گرو گورکھ ناتھ کا بھگت بنا تھا۔ راجہ بھرتری ہری اپنی سلطنت اپنے بھائی وکرم جیت کے حوالے کرکے خود جوگیوں کے راستے پر نکل پڑا اور ٹلہ جوگیاں پہنچا۔ سنسکرت کا عظیم شاعر، نجومی اور گرائمر کاماہر بنا۔ ہری بھرتری کامقام بلند ہے جس کے ایک شعر کے ترجمے سے علامہ اقبال نے بال جبریل کا آغاز کیا تھا۔ عالامہ اقبال ہری بھرتری کی تعظیم کرتے تھے۔
پورن جسے سوتیلی ماں کی طرف سے لگائے ہوئے بدکاری کے جھوٹے الزام کی پاداش میں ہاتھ پاؤں کٹوا کر شہر سے دور کنویں میں ڈال دیا گیا اور جب گرو گورکھ ناتھ یہاں سے گزراتو اس نے پورن کو کنویں سے باہر نکالا اور پورن گرو کے ساتھ ٹلہ جوگیاں پہنچا اور کن پٹا جوگی بنا یعنی ایسا جوگی جو کان چھیدوا کر ان میں بڑی بڑی بالیاں پہنتا ہے۔ گروگورکھ ناتھ کو ہی ’’کن پٹے‘‘ جوگی فرقہ کا بانی مانا جاتا ہے اور کن پھٹے جوگیوں کا سلسلہ ٹلہ جوگیاں سے جاملتا ہے۔آج بھی سیالکوٹ کی تاریخی کہانی تب تک مکمل نہیں ہوتی جب تک پورن بھگت کا قصہ سماعتوں کی گلیوں سے ہوکر نہ گزرے۔ کوئی بھی تاریخی بیان لوک روایت کے بغیر مکمل نہیں ہوتا لوک روایت میں مخصوص سماج کی مشترکہ یاداشت ہوتی ہے۔جو نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے۔ یہ مقدس پہاڑ ٹلہ گورکھ ناتھ سے ٹلہ بالناتھ بنا اور پھر عالم میں ٹلہ جوگیاں کے نام سے مشہور ہوا۔
شیر شاہ سوری نے سولہویں صدی کے وسط میں جرنیلی سڑک سے منسلک دینہ میں قلعہ روہتاس بنوارکھا تھا اس کے بعد جب مغل شاہان یہاں سے گزرتے تو یہاں قیام کرتے تھے اور کچھ ٹلے کی زیارت بھی کرتے تھے۔ تاریخ میں نور الدین جہانگیر کا ذکر ملتا ہے۔ یہ ایک بار جوگیوں کے مقدس پہاڑ پر آیا تھا۔
ٹلہ تاریخ کے مختلف اوراق کے ایک مجموعے کا نام ہے اس میں مختلف ادوار کی یادگاریں ہیں۔ مندر بھی ہیں، سمادھیاں، جوگیوں کی غاریں بھی ہیں، ایک عظیم تالاب اور گرونانک کی بیٹھک بھی ہے۔ تاریخی روایات کے مطابق گرو نانک ناتھ نے یہاں چلہ کیا تھا اس کی یاد میں ایک یاد گار بنائی گئی۔ ٹلہ جوگیاں ہزاروں برسوں کی تاریخ کا نادر نمونہ ہے۔ گروگورکھ ناتھ سے لے کر بابا گرو نانک تک، رانجھے سے لے کر وارث شاہ تک، حتیٰ کہ بھرتری ہری کی وجہ سے علامہ اقبال تک، احمد شاہ ابدالی کے قتل عام سے لے کر تقسیم ہند پر اجڑنے تک بہت سی کڑیاں اور سلسلے ٹلہ جوگیاں سے ملتے ہیں۔
عظیم صوفی شاعر وارث شاہ نے ہیر وارث شاہ میں ٹلہ جوگیاں کا خصوصی ذکر کیا ہے ان کے مطابق رانجھا ٹلہ جوگیاں گیا تھا۔ ٹلے پر ہی رانجھے نے جوگیوں کی تعلیمات حاصل کیں۔ کان چھیدوائے، بالے پہنے اور جوگی بنا۔ ٹلہ جوگیاں میں صدیوں کی تاریخ محفوظ ہے۔
تاریخ کے حوالے سے ناول میں مصنف نے اپنا نقطہ نظر پیش کیا ہے:
”تاریخ، نصابوں، کتابوں، مخطوطوں اور صحیفوں میں جتنی بھی درج ہیں وہ دراصل تاریخ کا سب سے بڑا جھوٹ ہے اس کے سپنولے نصابوں میں سر سراتے ہر نسل کو گمراہ کرتے ہیں مخطوطوں میں رینگتے ہیں اور صحیفوں میں زہر بھرتے ہیں اور یوں ہر نسل بخوشی گمراہ ہوتی چلی جاتی ہے اور صرف اپنی تاریخ کو ہی آخری سچ جان کر اس کے دفاع کے لیے اپنی زندگیاں اجاڑتی اور قربان کرتی چلی جاتی ہے اور ہر نسل اپنی برتری ثابت کرنے کی خاطر اپنے ا ٓپ کو دلاواری اور ناقابل شکستگی کے اونچے سنگھاسن پر بٹھا کر اپنے عقیدے کو ہی آخری اور تنہا سچ ثابت کرنے کے لیے اسے اپنے تاریخی سانچے میں ڈھال کر مسخ کرتی چلی جاتی ہے”۔[۲]
تاریخ میں ماضی میں پیش آنے والے لو گو ں اور واقعات کے بارے میں معلومات ہوتی ہیں۔ ناول میں منصور بن حلاج کا ذکر ہے یہ تاریخ اسلام کا عظیم کردار ہے ۔ جس نے انا الحق کا نعرہ بلند کیا تھا۔ یہ وہ شخصیت ہے جسے معلوم تھا کہ خدا شناسی کی منزل خود شناسی کے راستے سے ہی ممکن ہے۔ حلاج تلاش حق میں بے چین تھا۔ یہ ایسے آئینے کی تلاش میں تھا جس میں اپنا عکس صاف و شفاف دیکھ سکے۔ اس کی ذات کا سفرا نوکھا اور کٹھن تھا۔ حلاج ممکنات کی حدود سے نکل کر خالق کائنات کی جستجو پر یقین رکھتا تھا۔ حلاج کے نزدیک خدا کو راضی کرنا بہت ضروری ہے زمانہ بھلے مخالف ہو مگر اللہ تعالیٰ کی خوشی کو سامنے رکھ کر حق و سچ کے علم کی بلندی کے لیے مخالف قوتو ں سے ٹکراجانا اور نتائج کی پرواہ کیئے بغیر ڈٹے رہنا مومن کی نشانی ہے۔ حلاج کے اندر عشق اور جذبہ تھا۔ اس کو جب سولی پر چڑھایا گیا تو اس نے اپنے لہو سے وضو کر کے نماز عشق ادا کی تھی۔
تاریخ کی مثال ایک طوائف جیسی ہے جو زمینی خداؤں کے آنگن میں رقص کرتی ہے آسمانی خداؤں کی خواہش کے مطابق ترتیب دی جاتی ہے۔ تاریخ دروغ گوئی، تعصب، تنگ نظری اور بے ایمانی سے گوندی ہوئی مٹی ہے جسے تکبر، عروج اور تخت شاہی کے زیر اثر ہر نسل ہر عقیدہ اپنی مرضی کے مطابق تخلیق کرتا ہے اور تخلیق کردہ تاریخ کو سینے سے لگانے والے اس میں گنگاجل اور نہ ٹھہرنے والے پانیوں کی نمی محسوس کرتے ہیں اور خود کو دنیا سے افضل سمجھتے ہیں اس تاریخ کی بنیاد اتنی کمزور ہوتی ہے کہ منطق اور دلیل کی آنچ سے گر جاتی ہے لیکن وہ احتیاط کرتے ہیں۔ منطق اور دلیل کا سایہ بھی اپنی بنائی ہوئی تاریخ پر پڑنے نہیں دیتے ہیں مصنف نے تاریخ کے حوالے سے دوسرا نقطہ نظر بھی سامنے رکھا ہے:
”تاریخ گھڑی جاتی ہے یہ خوابو ں، سرابو ں اور نسلی امتیاز اور عقیدوں کے تنکوں سے تعمیر کردہ ایک ایسا گھونسلا ہے جس کی تعمیر میں خرابی مضمر ہے اور تم سب ان گھونسلوں میں روپوش اپنے آپ کو محفوظ سمجھنے والے پرندے ہو،نہیں جانتے کہ تم سے پہلے بھی ایسے گھونسلے اقوام اور مذاہب نے تعمیر کیے جو زمانو ں نے خس و خاشاک کر دیئے۔ گہرے سمندروں کی عمیق گہرائیوں کی تہہ میں تاریخ ایک ایسا کھلا ہوا آبی پھول ہے جسے اگر سطح آب پر لے آئیں تو وہ حقائق اور منطق کی کڑی دھوپ کی تاب نہ لا کر ایک کچے کوزے کی ماند ڈھے جائے گا، تحلیل ہو کر پانی ہو جائے گا آپ خالی ہاتھ رہ جائیں گے تاریخ تاریخ کا سب سے بڑا فریب ہے”[۳]
مصنف نے تاریخ کے حوالے سے دو نقطہ نظر پیش کیئے ہیں کہ جو تاریخ نصابو ں، کتابو ں یا صیغو ں میں موجود ہے یہ سب سچ نہیں ہے یہ تاریخ جھوٹ ہے اس تاریخ سے لو گ گمراہ ہوتے ہیں۔ دوسری تاریخ خوابو ں، نسلی امتیاز اور عقیدوں کی بنیاد پر بنائی جاتی ہے اس میں بھی خرابی ہے یہ بھی پورا سچ نہیں ہے۔ ناول میں تاریخ کو ایک لڑی میں پرونے کی کوشش کی گئی ہے چاہے وہ تاریخ عشق کے قصے ہو ں، مذہبی عقیدے ہو ں یا کسی عظیم شخص کی داستان ناول میں جگہ جگہ ان کی مثالیں موجود ہیں۔
حوالہ جات
۱۔مستنصر حسین تارڑ،منطق الطیر جدید(لاہور: سنگ میل پبلیکیشنز، ۲۰۱۸ء)، ص۱۳
۲۔ایضاً، ص ۷۱
۳۔ایضاً، ص ۱۷

You might also like
Loading...