مشرق و مغرب کا تہذیبی مکالمہ اور فکر اقبال : محمد عامر سہیل

مشرق سے ہو بیزار نہ مغرب سے حذر کر
موجودہ عالمی منظر جس کے سیاق میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی فکری اور یورپی تہذیب کی غلبہ پسند فتوحات کارفرما ہیں،میں اقوام عالم کے درمیان تہذیبی،علمی،معاشی،تعلیمی اور سیاسی کشمکش کو سلجھانے، پُر امن بقائے باہمی کے قیام اور مساوی ترقی کےاقدامات کرنے کےلیے ایک ایسی صورت حال کی ضرورت ہے جو مکالمے کی فضا کو ہموار کرے۔مشرق و مغرب اور اسلام و غیر مسلم کی تقسیم دونوں کو ایک دوسرے کا مخالف ٹھہراتی ہے۔ان کی یہ مخالفت کشمکش اور تصادم کو جنم دیتی ہے۔سیاسی،معاشی اور تہذیبی مفادات کی خاطر مشرق و مغرب دونوں کے ہاں ایک دوسرے کو یک ر خے انداز میں دیکھنے کا رجحان پایا جاتا ہے۔یہیں سے دونوں میں فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔اخذ و قبول اور ترک و اجتناب میں توازن کی کمی مکالمے کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔مغرب کی طرف سے مشرق کے حوالے سے جو نظریات اور تصورات ابھارے گئے ہیں اور مشرق میں مغرب کی جو تصویر موجود ہے دونوں انتہا پسندی کا شکار ہیں۔عصر حاضر کا تقاضا یہ ہے کہ دونوں میں عالمی امن کے قیام اور اقوام عالم کی سیاسی،معاشی،تعلیمی اور تہذیبی ترقی کی راہ نکالی جائے۔یہ راہ ایک قوم ملک کی دوسری قوم ملک پر جبر،تشدد اور استعماریت سے پاک ہو گی ۔آج مشرق اور مغرب کے درمیان ہی نہیں بلکہ دنیا کی بڑی تہذیبوں کے درمیان تصادم اور کشمکش کا سلسلہ جاری ہے اس تصادم اور کشمکش کے خاتمے کےلیے فکرِ اقبال ہماری معاون ہے۔فکرِ اقبال سے روشنی لے کر ہم مغرب سے مکالمہ کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔
یہاں دو چیزوں کا بیان ضروری ہے،اول مغربی تہذیب کا موجودہ مشن ایک ایسی “عالمی تہذیب” کا قیام ہے،جو سراسر مغربی طرز پر ہو جس کی قیادت و سرپرستی مغرب کے پاس ہو۔دوم اقبال اسلامی تہذیب کو بین الاقوامی تہذیب بنانے کے داعی ہیں جو پُرامنی کے پیغام اور استحصال کی ہر صورت کے خلاف ہے۔اگر دونوں اپنے مشن کی تکمیل کےلیے سختی،جبر اور تشدد کی طرف جائیں تو تصادم اور کشمکش یقینی ہے۔ کیوں نہ ہو کہ ایسی تہذیب کو اختیار کیا جائے جو حقیقت میں ہر قوم اور ملک کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے۔اقبال کی نگاہ میں اس وقت پوری دنیا میں واحد اسلامی تہذیب ہے جو انصاف،امن،بھائی چارے اور قانون کی بالا دستی کے ساتھ ہر فرد چاہے وہ جس سماجی منصب پہ ہے کو تحفظ دینے،ترقی کے مواقعے پیدا کرنے اور استحصال سے بچانے کی اہلیت رکھتی ہے۔اقبال وہ مشرقی دانشور ہیں،جو مغربی تہذیب کے ہر پہلو سے واقف ہیں،وہ مغرب کو دیکھنے میں انتہا پسندی کا شکار کسی صورت نہیں ہوئے۔ان کے سامنے مغرب کا تاریک اور روشن چہرہ دونوں ہیں،جن کی بنیاد پر وہ فیصلہ کرتے ہیں۔اقبال مشرق کی کمزوریوں سے بھی واقف ہیں اور ان کا ذکر کرتے ہیں۔اقبال کی نگاہ میں “فسادِ قلب و نظر ہے فرنگ کی تہذیب”،جو اخلاقی اور روحانی اقدارسے یکسر خالی ہو چکی ہے۔مغربی تہذیب نے سائنس،ٹیکنالوجی،علمی ترقی تو کی ہے لیکن اقبال اس کے تاریک چہرے سے بھی آشنا ہیں:
؎ بیکاری و عریانی و مے خواری و افلاس
کیا کم ہیں فرنگی مدنیت کی فتوحات
مشرق و مغرب کا موازنہ کرتے ہوئے اقبال فرماتے ہیں:
؎ضمیرِ مغرب ہے تاجرانہ،ضمیرِ مشرق ہے راہبانہ
وہاں دگرگوں ہے لحظہ لحظہ،یہاں بدلتا نہیں زمانہ
مشرق اور مغرب میں تہذیبی مکالمہ اس وقت ممکن جب مغرب اپنی سرمایہ داریت سے اور مشرق اپنی راہبانیت سے باہر آئے گا۔مغربی تہذیب جس کی اساس مادیت ،سرمایہ داریت، جمہوریت،سامراجیت،عقلیت ،وطنیت،قومیت اور ظاہرہت پر ہے ،کو اقبال تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔یہ سب ذاتی مغربی مفادات کو ترجیح دیتے ہیں۔مغرب سے تہذیبی مکالمہ ممکن بنانے کےلیے،مسلم اتحاد،رہبانیت سے اجتناب،مسلم تہذیبی اقدار پر عمل پیرا اور عالمی مسلم مضبوط قیادت کا قیام ضروری ہے۔مشرق کی نجات اقبال کے ہاں متحد ہونے میں ہے ،نہ کہ” لیگ آف نیشنز”(1920ء)جو عالمی جنگ اول کے بعد بنی اور عالمی جنگ دوم کے بعد “اقوام متحدہ” (1946ء)کے نام سے روشناس ہوئی ،میں ہے۔اقبال فرماتے ہیں:
؎ربط و ضبط ملتِ بیضا ہے مشرق کی نجات
ایشیا والے ہیں اس نکتے سے اب تک بیخبر
فکر اقبال کی روشنی میں سب سے پہلے غیر مغربی اتحاد کریں اور ایسی مضبوط،ایمان دار اور انسان دوست قیادت پیدا کریں جو مغربی قیادت سے مکالمے کرنے کی اہلیت رکھتی ہوں۔اس کےلیے مغرب کو بھی گف و شنید اور باہمی مکالمے کی طرف پیش قدمی کرنا ہو گی،نہ کہ تہذیبی تصادم کے امکان کو دیکھنا ہوگا۔مغرب تو غیر مغربی ممالک کو توڑنا چاہتا ہے۔تاکہ مکالمے کی گنجائش ہی نہ رہے۔جبکہ اقبال اس سے بڑھ کر بنی نوع انسان کی بات کرتے نظر آتے ہیں۔فرماتے ہیں:
؎تفریقِ مِلل حکمتِ افرنگ کا مقصود
اسلام کا مقصود فقط ملتِ آدم
عصر حاضر میں مشرق و مغرب کے درمیان تہذیبی کشمکش اور تصادم کے بجائے باہمی گفت و شنید اور مکالمے کی ضرورت ہے،اس کےلیے اقبال کی فکر لمحہ لمحہ پیش نظر رہنی چاہیے۔ایک مثبت اور متوازن تہذیبی مکالمے کے ذریعے عالمی امن اور ترقی پذیر اقوام کی بہتری ممکن ہے۔اس کےلیے فکرِ اقبال قدم قدم پر معاون اور راہنما ہے جو مشرق سے بیزاری کا درس دیتی ہے نہ مغرب سے حذر کرنے کا۔آج جس تہذیبی تصادم کی بات ہو رہی ہےاس کی وجہ تہذیبی تشدد ہے۔مغربی تہذیبی تسلط اسلامی تہذیب کو اپنے غلبہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خیال کرتا ہے۔مغربی میڈیا نے عالمی سطح پہ اسلام کی جو تصویر پیش کی ہے وہ اسلام اور اسلامی تہذیب کو پُر تشدد دکھاتی ہے،حالاں کہ حقیقت میں اسلام پُر امن بقائے باہمی،انسانی حقوق کا ضامن اور انصاف پر مبنی نظام حیات کا تصور پیش کرتا ہے۔اس کے برعکس مغربی ممالک کا ایجنڈا ہے کہ مغربی تہذیب کو عالمی تہذیب بنا کر سرمایہ داریت اور استحصال کو جاری رکھا جائے۔مغربی تہذیب اپنا یہ مشن سیاسی،لسانی، تعلیمی،مذہبی،تہذیبی اور معاشی سطح پہ انجام دے رہی ہے۔فکرِ اقبال ہمیں مغرب کے ان سیاسی،لسانی،تعلیمی،مذہبی،تہذیبی اور معاشی پالیسیوں سے روشناس کراتی ہے۔مطالعہ اقبال سے ہم اس قابل ہو جاتے ہیں کہ مغربی سیاسی نظام جس کی بنیاد جمہوریت پر ہے وہ بہ ہر صورت خطرناک ہے،لسانی استعماریت سے ترقی ناممکن ہے،اسلام واحد عالمی تہذیب پیش کرنے کے قابل ہے،مغربی تہذیب شاخِ نازک پر ہےجو اخلاقی و روحانی پستی کا شکار ہے اور مغربی معاشی پالیسی سرمایہ داریت پر قائم ہے ۔اقبال ہمیں مغربی تہذیب کے جملہ اداروں اور مظاہر سے باخبر کرتے ہیں۔آج فکر ِ اقبال تصادم کی طرف نہیں بلکہ مکالمے کی طرف ہمیں متوجہ کرتی ہے کہ مغرب کو اسلام کا اصل چہرہ اپنے کردار سے دکھایا جائے۔اس کےلیے مغربی قیادت کو بھی مکالمے کی طرف آنا ہوگا۔انھیں بھی اپنے استعماری،سرمایہ داری اور تہذیبی مقاصد کو پس پشت ڈال کر عالمی امن کے قیام سے لے کر ترقی پذیر کی ترقی تک خود کو وقف کرنا ہوگا۔تاہم ایک بات واضح ہے اگر مغربی اور مشرقی(اسلامی) تہذیب دونوں اپنے مقاصد( مغربی تہذیب خود کو عالمی تہذیب بنانا چاہتی جبکہ اقبال اسلامی تہذیب کو بین الاقوامی تہذیب دیکھنا چاہتے ہیں) کے حصول کےلیے انتہاپسندی کو اپنائیں تو تہذیبی تصادم جنم لے گا۔بہتر یہی ہے کہ مشرقی اور اسلامی قیادت فکرِ اقبال سے استفادہ کرتے ہوئے مشرقی و مغربی تہذیب میں مکالمے کی فضا کو ہموار کرے۔یہ مشکل ضرور ہے ناممکن نہیں۔قابل غور بات یہ ہے مشرقی و اسلامی تہذیب کو اپنے تشخص کی ضرورت ہے۔اس کے لیے پہلا قدم تو یہ ہے غیر مغربی اپنی تہذیب کو اپنائیں اور مغربی تہذیب کی نقل و تقلید کو چھوڑ دیں۔ممکن ہے ایسے میں مغربی قیادت مکالمے کی طرف پیش رفت کرے۔غیر مغربی اگر مغربی تہذیب کی نقل و تقلید کرتے ہیں تو مکالمہ کسی منطقی نتیجے کو نہیں پہنچے گا۔ اقبال کا پیغام یہ ہے کہ “کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں”،اس سے ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اسلامی تہذیب کو مکمل اختیار کیا جائے تاکہ مغرب کو اسلامی تہذیب کی عملی شکل نظر آئے ۔جب ایک چیز اپنی کا ملیت کے ساتھ نمایاں ہو گی تو اس کا اصل چہرہ واضح ہو گا۔
فکرِ اقبال ہمیں اتحاد عالم اور بین الاقوامی امن کی طرف راہنمائی کرتی ہے۔اسلامی تہذیب میں مکالمے کی گنجائش موجود ہے جس کی واضح مثال “میثاق مدینہ” ہے۔”میثاق مدینہ” امن،حقوق کے تحفظ اور اپنی آزادی کے ساتھ اپنے مذاہب پر عمل پیرا ہونے کےلیے انجام پایا۔آج بھی ایسی صور ت نکالی جا سکتی ہے جو مذکورہ پہلوؤں کا احاطہ کرتے ہوئے تمام اقوام عالم کو یکساں سیاسی،معاشی،تہذیبی اور تعلیمی ترقی کرنے کے مواقع فراہم کرے۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post