مرا اثاثہ شہ ِ انبیا کی مد حت ہے : ناصر علی سیّد

ذکر نعتیہ مجموعہ ’تو کجا من کجا“ اور ماہنامہ چہار سو راولپنڈی کا
شعر گوئی تو عطیہ ء خداوندی ہے جسے مشق اور ریاضت سے سجایا اور سنوارا تو جاسکتا ہے مگر یہ بھی طے ہے کہ بغیر اذن اور توفیق ِ خداوندی کے، ایک مصرع بھی موزوں کرنا ممکن نہیں ہوتا، لیکن جب یہ ہنر عطا ہو جاتا ہے تو پھر شعرتو اترنے لگتے ہیں لیکن مدح رسولﷺ میں کچھ کہنے کی کی ہمت اور حوصلہ نہیں پڑتا۔ شعر گوئی سے جڑے ہوئے ا ساتذہ فارسی کے ہوں یا اردو کے نعت نبی ﷺ کی ایک بہت ہی مضبوط روایت یقیناََ عجم میں ان سے ہی چلی، کچھ صوفی شعرا نے خود کو مدحت سرکارﷺ کے لئے ہی وقف کئے رکھا۔ مگرپھر بھی مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ایسے اساتذہ کی تعداد بہت کم ہے جنہوں نے مسلسل نعت گوئی کی ہے۔البتہ اپنے دواوین ترتیب دیتے ہوئے آغاز میں حمد و نعت کا التزام ضرور کیا جاتا ہے اور اساتذہ سے بہتر کون جانتا تھا کہ دنیائے عشق کی بنیاد’حب‘ پر استوار ہے۔اور حب کی معراج عشق نبیﷺ ہے، مگر عشق رسولﷺ سے سرشار ہونے کے باوجود انہوں نے بہت کم نعت کہی ہے۔ مجھے جو اس کی ایک سامنے کی وجہ نظر آتی ہے وہ ایک ڈر اور ایک خوف تھا کہ کہیں مدحت ِ آقائے نامدار ﷺبیان کرتے ہوئے کوئی کمی نہ رہ جائے،یا صداقت کا مکمل اظہارنہ ہو پائے اور شان اقدس میں گستاخی کا ارتکاب ہو جائے، اسی لئے اساتذہ کی نعتیں پڑھتے ہوئے احساس ہو تا ہے کہ ان کی سرشاری کا وفور عجز سے مملو ہے۔ شاید اسی لئے غالب جیسے شاعر نے برملا کہہ دیا کہ
غالب ثنائے خوا جہ بہ یزداں گزاشتیم
کاں ذات ِ پاک مرتبہ دان محمد است
میں سوچتا ہوں کہ جو سخنور مسلسل نعت کہتے ہیں یقیناََ انہیں یہ توفیق ودیعت ہوتی ہے، گویا یہ وہ چنیدہ لوگ ہیں جنہیں نعت گوئی خود چنتی ہے، اور یہ خوش بخت سخنور جب ایک بار وادیئ نعت میں قدم رکھتے ہیں تو مدح رسول ﷺکے نئے افق نت نئے حوالے اور حیرتوں کے نئے مناظر انہیں اپنی طرف کھینچتے چلے جاتے ہیں، ان خوش نصیب چنیدہ لوگوں کے قافلے میں اپنے پور ے عجز کے ساتھ عشق نبی ﷺ میں شرابور سخنور بشریٰ فرّخ بھی شریک ہونے کا اعزاز حاصل کر رہی ہے۔غزل اور نظم کے کئی ایک شعری مجموعوں کی شاعرہ ویسے تو گاہے گاہے نعت بھی کہتی رہی مگر خود اس کو یہ علم نہیں تھا کہ مدحت رسول ﷺکے کہے گئے ان اشعارمیں سے کسی نعت،کسی شعر یا کسی مصرع یا پھر شاید کسی ایک لفظ کو کسی سعد ساعت میں ایسا شرف ِ قبولیت نصیب ہو جائے گا جو بشرح فرّخ کے لئے نعت گوئی کا پروانہ ئ راہداری لے کر آ جائے گا پھر وہ نعت کہتی رہی یا شاید یوں کہنا چاہیے کہ نعت نے اسے اپنے سایہ عاطفت سے بھگونا شروع کر دیا، وہ بھیگتی رہی نعت ہوتی رہی اور ہو رہی ہے ایک نعتیہ شعری مجموعہ ”و رفعنا لک ذکرک“ ابھی اس کے پڑھنے اور چاہنے والوں سے بشری فرخ کی پر خلوص کاوش،بے کراں محبت اور بے بدل عقیدت سے خراج لے ہی رہا تھا، لیکن وہ اس داد و تحسین سے بے نیازوادیئ نعت میں اپنا محبت اور عقیدت بھرا سفر جاری رکھے رہی۔اور اب وہ سرشاری کے ایک اور پڑاؤ پر آن پہنچی ہے اور نعت گوئی کا یہ دوسرا پڑاؤ ”تو کجا من کجا“ہے۔ اور یہ بھی پڑاؤ ہی ہے ابھی لگتا ہے کہ اس کی منزل آگے اور آگے ہے ابھی تو نعت رسول امیں ﷺنے اس کی انگلی تھامی ہوئی ہے،سو ایسے میں بجز اس کے اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ بشری جی! اسی احساس عجز اور تفاخر سے خود کو بھگوتے ہوئے مدحت سرکارﷺ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بناتی رہو۔تمہیں علم تو ہے کہ ایں سعادت بزور بازو نیست۔ نعت رسول مقبول ﷺ کا یہ خوبصورت تحفہ ادب سرائے کے حوالے سے
0333 910 5581 پر رابطہ کر کے اپنایا جاسکتا ہے۔نعت کا ایک شعر پیش ہے
دیار نعت میں رہتی ہوں رات دن بشریٰ
مرا اثاثہ شہ ِ انبیا کی مدحت ہے
۔ کار ادب میں بے تکان اور تسلسل سے اپنا بھرپور حصّہ ڈالنے والے بے لوث زعما میں ایک اہم نام محبی گلزار جاوید کا بھی ہے، جن کی ادرات میں اردو دنیا کا معتبر اور پوری اردو دنیا میں مقبول ” ماہنامہ چہار سو “ راولپنڈی کئی دہائیوں سے اپنی اشاعت کو باقاعدہ بنائے ہو ئے ہے۔اور بانی مدیر اعلیٰ سید ضمیر جعفری کے سرپرستی میں گزشتہ کل کا لگایا ہوا یہ پودا ایک چھتنار کی صورت اردو کی پوری ادبی دنیا کو ٹھنڈی میٹھی چھاؤں مہیا کر رہا ہے۔ میں نے ماہنامہ چہار سو راولپنڈی پہلے پہل کوئی ربع صدی پہلے نیو یارک کے جیکسن ہائٹس میں بے بدل شاعرو افسانہ نگاراور سیاسی تجزیہ کار جوہر میر مرحوم کے اپارٹمنٹ میں دیکھا،اور دیکھا بھی کیا جوہر میر نے مجھے پڑھنے کو دیتے ہو ئے کہا، کہ ”ناصر یہ میرے ہمدم دیرینہ سید ضمیر جعفری کے ہاتھوں کا لگایا ہوا پودا مجھے بہت بہت عزیز ہے، تم پاکستان جا کر اس پرچے کے لئے ضرور اپنی تخلیقات بھیجنا“ شاید ایک غزل بھیجی بھی پھر ایک طویل عرصہ بعد جب چہار سو کا محسن احسان نمبر شائع ہو رہا تھا تو محسن احسان نے میرا ان پر ہی لکھا ایک مضمون اس میں شائع کرایا۔ اور پھر ایک لمبی چپ کے بعد کوئی دس بارہ برس قبل جب سید امجد حسین زیدی نمبر شائع ہو رہا تھا تو مجھے ڈاکٹر سید امجد حسین نے کہا میں نے وعدہ کر لیا مگر میں ان دنوں انڈیا میں تھا اور مضمون کو پاکستان واپسی تک مؤخر رکھا اور واپس آ کر اس وقت یاد آیا جب چہار سو کا نمبر شائع ہو چکا تھا۔ ان دنوں انٹر نیٹ ہماری زندگی میں داخل ہونا شروع ہوا اور آغاز ”ای میل“ سے ہوا تو ان دنوں ای میل کے وٹس ایپ کی طرح کے سائیٹس اور گروپ بننا شروع ہو گئے تھے اور اس وقت مدیر و افسانہ نگار محبی گلزار جاوید نے نہ صرف چہار سو کو آن لائن کر دیا تھا بلکہ ان کے چہار سو میں شائع ہونے والے معرکہ آرا انٹرویوز کے چرچے عام تھے۔ کو پھر الگ سے سامنے بھی آئے اور نیٹ پر بھی پڑھنے کو بھی ملے۔ اور وقت اپنی دلکی چال چلتا رہا،ایک دن میں خوشحال باغ ورسک روڈ پر امریکہ سے آئے ہوئے عتیق صدیقی کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک فون آیا کہ میں ڈاکٹر ریاض ہوں،آپ کو شاید یاد نہ ہو لیکن تقریباََ 35 برس پیشتر ہماری اس وقت ملاقات ہوئی تھی جب یوسف خان(دلیپ کمار) پشاور آئے تھے،آپ نے نظامت کی تھی اور میں ڈاکٹر سیمیں محمود جان کے ساتھ اس استقبالیہ کمیٹی میں شامل تھا۔ مجھے چھریرے بدن والے ہنس مکھ ڈاکٹر ریاض کو پہچاننے میں ذرا دیر نہ لگی کہ اس کا ہیر سٹائل بھی یوسف خان سے ملتا جلتا تھا۔کہنے لگے گلزار جاوید کو جانتے ہیں نا، میں نے کہا ایک تو چہارسو کے مدیر گلزار جاوید ہیں مگر ملاقات نہیں بلکہ رابطہ میں بھی نہیں ہوں۔ اور یہ جاننا بھی یکطرفہ یوں ہے کہ میں انہیں جانتا ہوں وہ مجھے نہیں جانتے۔ ڈاکٹر ریاض نے ایک قہقہہ لگایا کہ یہ ایک لطیفہ ہی ہو سکتا ہے کہ کوئی شعر و ادب سے جڑا ہو اور گلزار جاوید جی اس سے بے خبر ہوں اور تازہ خبر یہ ہے کہ وہ چہار سو کا اگلے شمارہ آپ کے نام کرنا چاہتے ہیں، ک ک کیا مطلب؟ مجھے یاد ہے میں چپ سا ہو گیا تھا۔ اب یاد نہیں کہ ڈاکٹر ریاض کیا کہتے رہے،میرا نمبر ان کو بھیجا کوئی دس منٹ بعد گلزار جاوید کا فون آیا بات ہوئی میں اپنی کم مائیگی کی بکل مارے ان سے بات کرتا رہا اور اس پراجیکٹ کو مؤخر کرنے کی درخواست کرتا رہا، یوں بھی مجھے دو ہفتوں بعد امریکہ کوئی ڈھائی مہینے کے لئے جانا تھا۔ وہ بضد تھے آپ تخلیقات بھیج دیں تا کہ میں انٹرویو کے لئے سوال نامہ تیار کر لوں۔ میں نے ہمیشہ کی طرح برخوردار پروفیسر شکیل نایاب کو آواز دی انہوں نے ہمیشہ کی طرح جواب دیا۔آپ بے فکر رہیں سر میں کر لوں گا۔ بس ان ہی دنوں نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا کی عملی تفسیر و تصویر گلزار جاوید کی محبتوں کا اور بے لوث و پر خلوص کار ادب میں بے تکان جتے رہنے کا معترف تو تھا ہی معتقد بھی ہوا۔ یہ سب مجھے چہار سو راولپنڈی کے تازہ شمارے کے مطالعہ کے دوران اس لئے یاد آتا رہا کہ اب کے یہ شمارہ دنیائے شعر و ادب کی ایک طرحدار افسانہ و ناول نگار اور ادبی کالم نگار ؑ عذرا اصغر کے نام ہے۔ عذرا اصغر کی چھے دہائیوں پر محیط تخلیقی،تنقیدی،علمی اور تحقیقی ادبی خدمات کسی بھی قلمکار کو احساس کمتری میں مبتلا کرنے کے لئے کافی ہیں لیکن ان سے جو مکالمہ گلزار جاوید نے اس تازہ شمارہ میں کیا ہے وہ ایک معتبر ادبی دستاویز اور بہت ہی عمدہ،دلکش پڑھنے لائق اور خاصے کی چیز ہے۔ اس کے علاوہ تازہ شمارہ معاصر ادب کا ایک بے مثال انتخاب ہے، آن لائن بھی میسر ہے اور 0336 055 85 18 پر گلزار جاوید سے رابطہ کر کے منگوایا بھی جاسکتا ہے یاد رہے کہ یہ اکلوتا ادبی شمارہ ہے جس کی قیمت گلزار جاوید نے۔۔ ” دل ِ مضطرب نگاہ ِ شفیقانہ “ رکھی ہو ئی ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post