“مجید امجد۔۔۔ایک مطالعہ”… حکمت ادیب کی عمدہ کاوش۔۔ایک تاثر : ڈاکٹرشبیر احمد قادری

جھنگ محبت کرنے والے لوگوں کا شہر ہے ۔ بہت میٹھے،ملنساراور مہمان نواز لوگوں کا شہر ہے۔ بھلےوقتوں میں میرا جھنگ آنا جانا بہت تھا۔صاحبزادہ رفعت سلطان ،صفدر سلیم سیال ،معین تابش، خیرالدین انصاری،حنیف باوا،بیدل پانی پتی، حکمت ادیب ، مظہر اختر، ڈاکٹر غلام شبیر رانا،شفیع ہمدم ،ڈاکٹر محمد اسلم ضیا،احمد تنویر،شفیع بلوچ،ممتاز بلوچ، ڈاکٹر محسن مگھیانہ ،سجاد بخاری ظفر سعید صاحبان کتنے ہی روشن اور تابناک چہروں کی محبتیں سمیٹنے اور صحبتوں سے فیضیاب ہونے کے مواقع ملتے رہے ،ڈاکٹرریاض مجید صاحب کی قیادت میں گیا تو شیر افضل جعفری،رام ریاض اور مظہر اخترکے نیاز حاصل کیے، واصل ہاشمی اقوال پر مشتمل اپنی کتاب کی رونماٸ کے سلسلے میں ہمراہ لے گیے،ریڈیو پاکستان فیصل آباد نے میثاق حسین زیدی صاحب کی قیادت میں مختلف شہروں میں جا کر وہاں کے ادیبوں کے ساتھ ادبی پروگرام اور مشاعروں کے انعقاد کا فیصلہ کیا،جڑانوالہ،ٹوبہ اور جھنگ بھی گیے ، مجھے بحیثیت کمپیر ہمراہ جانے کا مواقع ملتے رہے ، اَن گنت تقریبات میں بحیثیت مقرر اور مہمان شریک ہوا ۔ کیا حَسین دن تھے ۔
١٩٩٦ ٕ میں جھنگ گیا تو سیدھا حکمت ادیب صاحب کے دولت کدے پر پہنچا ،وہ ہارٹ اٹیک کی بنا پر محوِ استراحت تھے،فرشی نشست رہی،گھنٹوں باتیں ہوییں ،بہت شفیق اور محبّت کرنے والے شخص اور شاعر تھے ۔احمد تنویر صاحب کو بھی بلا لیا گیا ۔اِس موقع پر حکمت ادیب صاحب نے اپنی مرتّبہ کتاب ” مجید امجد۔ایک مطالعہ” اپنے دستخط کے ساتھ عطا کی۔تاریخ ٥ مارچ ١٩٩٦ ٕ درج ہے،یہ ضخیم و حجیم کتاب فیصل آباد میں میرے عزیز ترین دوست حمید شاکر نے اپنے اِدارے اکیسویں صدی کمپیوٹر الیکٹرونکس، میڈیسن مارکیٹ ،چنیوٹ بازار ،فیصل آباد میں کمپوز کی ۔احمد تنویر مواد کی فراہمی اور وصولی کے لیےاِس ضمن خود فیصل آباد آتے،میرا حمید شاکر صاحب کے دفتر میں کم و بیش روزانہ آنا جانا تھا سو احمد تنویر مرحوم سے بھی اکثر ملاقات رہتی ۔بہت مخلص شخص اور اچھے شاعر تھے ۔
” مجید امجد۔ایک مطالعہ” ۔٩٨٤ صفحات پر مشتمل شان دار دستاویز ہے۔یہ کتاب ١٩٩٤ ٕ میں جھنگ ادبی اکیڈمی جھنگ کے زیرِاہتمام شایع ہوٸ ۔ابتداییہ(اپنی بات)میں حکمت ادیب لکھتے ہیں:
” ۔۔۔مجید امجد کو جِتنی بار پڑھا،ایک نیے لطف اور انوکھی مسرّت سے سرشار ہوا ہوں،ہر بار ایک نیی دُنیا کی سیر کی اورمعنی و مفہوم کے باب کُھلتے چلے گیے،یہی کیفیّت اگرچہ غالِب کے لیے تھی مگر میرے حواس پر مجید امد ہی چھایا رہا ہے۔یہی وجہ تھی کہ میرے مَن میں اِس خواہش نے جنم لیا کہ مجید امجد پر کچھ کام کیا جاۓ ۔مجید امجد کی زندگی میں زمانے نے اُن کے ساتھ بڑی بے اعتناٸ برتی،اُس نے بھی شُہرت کی دہلیز پر کبھی اپنا سر نہیں جھکایا۔جب ہم نے جایزہ لیا تو معلوم ہوا کہ اب تک مجید امجد پر خاصا کام ہو چکا ہے۔۔۔۔ہم نے فیصلہ کیا کہ کچھ مضامین منتخب کیے جاییں اور کچھ نیی چیزیں شامل کی جاییں۔۔۔” (ص١١۔١٢)،
کتاب کا آغاز مجید امجد کی دُعا اور نعت سے کیا گیا ہے ۔” سوانح” کے ذیلی عنوان کے تحت مجید امجد کے سوانحی احوال کی تجمیع کا اہتمام کیا گیا ہے ،اِس ذیل میں ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا، شیر افضل جعفری،ڈاکٹر خورشید رضوی،بلال زبیری،جعفر شیرازی،مقصود زاہدی،اسرار زیدی،محمد امین،محمود رضوی، سمیع اللہ قریشی ،قیوم صبا،خالد طور،احمد تنویر اور صدیق راعی کی تحریریں شامل ہیں ،اس حصّے میں سب سے اہم مجید امجد کی مختصر خود نوشت ہے :
” تاریخ پیدایش: ٢٩ جون ١٩١٤ ٕ
ولادت: جھنگ مگھیانہ
١٩٣٠ میں اِسلامیہ ہاٸ اسکول سے دسویں جماعت کا امتحان پاس کیا۔١٩٣٢ ٕ میں گورنمنٹ کالج جھنگ سے انٹرمیڈیٹ اور ١٩٣٤ ٕ میں اِسلامیہ کالج لاہور سے بی۔اے کا امتحان پاس کیا۔چند دن ایک قانون گو صاحب کے ماتحت ١٩٣٥ ٕ کے آیین کے تحت ووٹروں ک لسٹیں بنانے کا کام کیا۔ کچھ دن ایمپایر آف انڈیا نشورنس کمپنی کا ایجنٹ رہا۔اِس کے بعد ١٩٤٠ ٕ تک اخبار” عروج” جھنگ کی اِدارت کے فرایض سرانجام دیے۔دوسری جنگِ عظیم کے دوران اخبار عروج کو چھوڑنا پڑا اور دفتر ڈسٹرکٹ بورڈ کے ایک شعبہ میں تین چار سال کام کیا۔١٩٤٤ ٕ میں سرکاری ملازمت اختیار کی اور لایل پور،گوجرہ، سمندری،تاندلیانوالہ،جڑانوالہ،چیچہ وطنی،مظفر گڑھ،لیہ،منٹگمری،پاک پتن،اوکاڑہ،عارف والا،راولپنڈی،لاہور،شاہدرہ تعنیات رہا۔آج کل ساہیوال میں ہوں۔اِس عرصے میں شعر کے لیے کس وقت خامہ فرسا ٸ کی ہے۔یاد نہیں پڑتا جہاں بھی رہا ہوں دیارِ جھنگ کی عطا کی ہوٸ وارفتگی میرے ساتھ رہی ہے۔مجید امجد ۔” (ص١٧)،
مجید امجد کی یہ مختصر سوانح بہت اہمیت کی حامل ہے ۔ کتاب کا دوسرا حصّہ مجید امجد کی نظموں کے تجزیوں پر مشتمل ہے۔اِس ذیل میں ریاض احمد،ڈاکٹر وزیر آغا،ڈاکٹر انور سدید،خلیل الرحمٰن اعظمی،سجاد نقوی،اسرار زیدی،سجاد شیخ،ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا ،آفاق صدیقی،گلزار وفا،ڈاکٹر محمد فخرالحق نوری اور سجاد نقوی کے مضامین شامل ہیں ۔
” نقدونظر” کے زیر عنوان مجید امجد کے اشعارو افکار پر تنقیدی مضامین شامل کیا گیا ہے ۔یہ حصّہ خاص اہمیت کا حامل ہے، مضمون نویسوں کے نام درج ذیل ہیں:
ڈاکٹر سید عبداللہ،ڈاکٹر وزیر آغا،احمد ندیم قاسمی،ڈاکٹر محمد صادق،سید جعفر طاہر، مظفر علی سید،بلراج کومل،شہزاد احمد،ڈاکٹر انور سدید،بلال زبیری،محمد علی صدیقی،ڈاکٹر سلیم اختر،ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا،ڈاکٹر تبسم کاشمیری،ذوالفقار احمد تابش،ڈاکٹر سہیل احمد،یحیٰ امجد،عنایت کبریا،اطہر ندیم،ڈاکٹر سعادت سعید،سراج منیر،ڈاکٹر طاہر تونسوی،افسر ساجد،انجم نیازی،خیرالدین انصاری،رفیق سندھیلوی،ڈاکٹر نوازش علی،رشیدالزماں،اسرار احمد سہاوری،منوچہر،ایزد عزیز،محمد اشرف،اختر عباس،ڈاکٹر اسلم ضیا،انوارالحق،محمد کلیم خان،عقیل احمد صدیقی،شبیر احمد قادری،علی تنہا،قرة العین طاہرہ،ڈاکٹر رشید احمد گوریجہ، ناصر عباس نیر،پروفیسر شفیع ہمدم اور حکمت ادیب ۔
اِس فہرست پر بارِدگر نگاہ دوڑاییں تو اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ مجید امجد کے فکر و فن پر کس درجہ اہم ادیبوں نے اظہارِ خیالات کیا ہے۔ان نو بہ نو مضامین کے مطالعے سے بیسویں صدی کے ادبی منظر خاص طور پر مجید امجد کی شاعری کی مختلف جہات کو سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے ۔ڈاکٹر سعادت سعید کی راۓ میں :
” مجید امجد کی شاعری ایک صحت مند آدمی کی شاعری ہے جس نے سماج کے بطن کا سرطان اپنی رگوں میں انڈیلا اور اپنی شاعرانہ جراحت کی صلاحیتوں سے اپنا اور سماج کا اپریشن کرنے کی کوشش کی،تیسری دنیا کا سماج!تیسری دنیا کا فرد! تیسری دنیا کا کرب! مجید امجد کی شاعری کے بنیادی جوہر کا سرچشمہ ہے۔”(ص٤٠٧)،
” مجید امجد کی نثر” کی ذیلی سرخی کے تحت مجید امجد کے مختلف شعری مجموعوں پر لکھے گیے دیباچے شامل کیے گیے ہیں اُن میں درج ذیل شعرا اور اُن کے مجموعوں کے نام شامل ہیں :
شیر افضل جعفری(“سانولے من بھانولے”)،
کبیر انور جعفری(” لبِ سرخ”۔” حدیثِ کربلا”)،
ڈاکٹر وزیر آغا(” شام اور ساۓ”)،
جعفر شیرازی(” ہَوا کے رنگ”)،
اشرف قُدسی(” آہنگِ وطن”)،
سیّد منظور احمد(” الاستدراک”) اور مولوی محمد عمر( بیام عمر (“بیاضِ عمر”)۔
یہ دیباچے مجید امجد کی نثر نویسی کا دلآویز نمونہ ہیں ۔اُن کی روشنی میں متعلقہ شاعروں کے فکر و فن کی تفہیم کے نیے در وا ہوتے ہیں ۔اِن دیباچوں کے مطالعے سے پتا چلتا ہے کہ باکمال شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ مجید امجد بے حد عمدہ نثر نویس بھی تھے،اِس ضمن میں اُن کے تنقیدی مضامین بھی پڑھنے کے قابل ہیں ۔ان مضامین کے عناوین درج ذیل ہیں:
١۔ ” کیا موجودہ ادب رُو بہ زوال ہے “،
٢۔ ” طوفان میں ایک موج” ،
٣۔ “اب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں” ،
٤۔” کچھ تخت سنگھ کے بارے میں ” ۔
اپنے دوسرے مضمون میں مجید امجد نے ناصر شہزاد اور تیسرے مضمون میں مولانا صلاح الدین احمد کے بارے میں اظہارِ خیال کیا ہے۔
” نظموں کے تجزیے ” کے زیرِ عُنوان شہزاد احمد ،بلراج کومل اور حمایت علی شاعر کی نظموں “بلیک آٶٹ کی پہلی رات” ، ” کُتب خانے” اور ” تضاد” کے حوالے سے مجید امجد کے تجزیے شایع کیے گیے ہیں ۔
” اِداریے” کے زیرِ عنوان تین اِداریے شامل ہیں :
١۔”ہمارا قومی ترانہ”،
٢۔” قہرِخداوندی کو حرکت میں لانے والا ظلم۔ریچھ کُتوں کی لڑا ٸ” ،
٣۔” آنسوٶں کی عید” ۔
دو مضمون بچّوں کے لیے بھی شامل ہیں :
١۔” جُھوٹ مُوٹ موت ” ،
٢۔” نہر سویز کی تاریخ” ۔
“تراجم “کے زیرِ عنوان مجید امجد کے تین ترجمے شامل کیے گیے ہیں :
١۔ ” دربارِ خُدا وندی میں” (ایک مصری شاہکار کا ترجمہ)،
٢۔ ” شاعر کا انجام” ، ( ٹیگور کے رُومانی افسانے کا آزاد ترجمہ)،
٣۔” لالہ فام زارینہ” ،( رُوس کے” مردِآہن” کی پُر اسرار محبوبہ)۔
” فکاہی کالم ” کے عنوان کے تحت مجید امجد کا لکھا ہوا ایک کالم ” اشارات” شامل ہے۔
مجید امجد کے شعری مجموعوں کے دیباچے اور پیش لفظ کی شمولیت سے اس کتاب کی اہمیت دوچند ہو گیی ہے۔ان میں خود مجید امجد کے ساتھ تقی الدین انجم،عبدالرشید،جاوید قریشی،ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا ، ڈاکٹر انور سدید ، خاطر غزنوی،تاج سعید اور ساحل احمد کے اسما شامل ہیں۔
اِنٹرویوز کے زیرِ عنوان ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا،شیر محمد شیری،بیگم شیر محمد شعری اور ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا کا دُوسرا اِنٹرویو شامل ہے یہ انٹرویو افضال احمد انور نے لیا ہے جس میں مجید امجد کی شعری ہیتوں کا جایزہ لیا گیا ہے ۔
مجید امجد کے خطوط بھی جزوِ کتاب ہیں ۔یہ خطوط محمد حیات خان سیال،ضیا شبنمی،ڈاکٹر وزیر آغا،کبیر انور جعفری کے نام لکھے گیے ہیں ۔اُن میں سے بعض خُطوط کے عکوس بھی شایع کر دیے گیے ہیں جس سے اس حصے کی اہمیت دستاویزی حیثیت اختیار کر گیی ہے ۔
” منظوم نذرانے” کے زیرِ عنوان مجید امجد پر لکھی گیی نظمیں شامل ہیں ۔نظم نگار درج ذیل ہیں:
عبدالعزیز خالد،قتیل شفاٸ ،فارغ بخاری، خاطر غزنوی،عظیم قریشی ،ظفر اقبال،گوہر ہوشیار پوری،احمد ظفر،ناصر شہزاد،اسرار سہوری،اسرار زیدی،ابرار احمد،بشیر احمد بشیر، محمود رضوی،مسعود منور، جلیل حشمی، تاج سعید،رفیق احمد جسکانی،انور سدید،محمود علی محمود، محمد امین،فرحت زماں ملک، شوکت ہاشمی،آثم مرزا، ڈاکٹر کاظم بخاری،علی رضا،اکرم کلیم،مظہر اختر،ظفر سعید،اصغر عباس،اقبال رمیض،سجّاد بخاری،عارف شاہد عارفی اور خادم رزمی۔
“مجید امجد کی غیر مطبوعہ یا متروکہ نظمیں ” کا حصّہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ آگے چل کر مجید امجد کے فِکروفن پر مرزا ادیب ،انتظار حسین،اظہر جاوید اورسجاد میر کے کالم شامل ہیں ۔
” اِنتظاریہ ” کے ذیلی عُنوان کے تحت ڈاکٹر وحید قریشی،ارشد جاوید،منیبہ خانم،ڈاکٹر نیاز علی محسن اورمیاں شان احمد کی تحریریں موجود ہیں۔
فاروق حسن،سلیم الرحمٰن،بلراج کومل،انیس ناگی نے مجید امجد کی نظموں کے انگریزی تراجم کیے ہیں۔
بعد ازاں مجید امجد کی چند منتخب اور ترجمے بھی شامل کیے گیے ہیں۔
آخری صفحات پر بیدل پانی پتی ،سیّد حسنین زیدی،شفیق احمد شفیق کی اُردو نظمیں اور انیس ناگی کا انگریزی مضمون شامل ہے اور مظفر اقبال نے مجید امجد کے ایک صفحے پر مُشتمل مضمون کو انگریزی میں ترجمہ کیا ہے ۔
مختلف یونیورسٹیوں کے تحت مجید امجد کے فکر و فن پر لکھے گیے مقالات،مجید امجد کے مضامین ،فلیپ، خطوط ،دیباچوں،تبصروں اور نظموں کی فہرست بھی شایع کی گیی ہے، جن میں سے بہت سی نگارشات کتاب میں شامل ہیں۔ سمیع اللہ ،میاں کمال الدین اور اعتزازالرشید کے خطوط بنام حکمت ادیب اور مجید امجد کی نادر تصاویر بھی شاملِ اشاعت ہیں ۔
” مجید امجد ایک مطالعہ” حِکمت ادیب مرحوم کی ایسی کاوش ہے جِسے مجید امجد کی شخصیت اور فکروفن کے حوالے سے اب تک کی سب سے جامع اور ضخیم کتاب قرار دیا جا سکتا ہے ۔یہ اہلِ جھنگ کی جانب سے اپنے شہر کے سب سے بڑے اردو شاعر کے حُضور ایک شان دار تُحفہ ہے،یہ ادبی رسالے ” القلم” جھنگ کی اشاعتِ خاص ہے ۔اِس کے نگران صفدر سلیم سیال،مدیرِ اعلیٰ حکمت ادیب،معاون مدیر احمد تنویر اور سجاد بخاری ہیں ۔مجلسِ مشاورت ڈاکٹر وزیر آغا،ڈاکٹر خواجہ محمّد زکریا،ڈاکٹر انور سدید اور ڈاکٹر ریاض مجید پر مُشتمل ہے ۔معاونین میں انجم نیازی ، خیرالدین انصاری، حنیف باوا اور معاونین اِنتظامی اُمور میں الیاس شیروانی اور انیس انصاری شامل ہیں ۔ مجید امجد کی احوالِ حیات اور فکرو فن کی کُنہ تک پہنچنے کے لیے اس کتاب کا مطالعہ ناگزیر ہے۔

 

You might also like
Loading...