فہیم کا تفہم اور شعری استحسان : خاورچودھری

[۱]

فہیم سے میرا تعلق ربع صدی پر پھیلا ہوا ہے؛ یہ کوئی معمولی مسافت نہیں۔ ایک مکمل زندگی ہے۔ میں نے اُسے نوجوانی سے جوانی میں داخل ہوتے دیکھا اور پھر جوانی سے ادھیڑ پن کا مرحلہ بھی میری نگاہوں میں ہے۔ ہم نے اَدبی سفر کم وبیش ایک ہی وقت میں شروع کیا۔ میں اُن دنوں ایک نعتیہ مجموعہ” شمع فروزاں“ پیش کرچکاتھا، جو اپنی موزونیت کے باعث خام تھا اور یوں مجھے ڈاکٹر مبارک بقاپوری مرحوم سے علم عروض کی تعلیم لینا پڑی۔ فہیم سمیت حضرو اٹک کے ادبی حلقے سے جب میرا تعارف ہوا؛تب تک میں ڈاکٹر مرحوم سے وابستہ ہوچکاتھا ۔
حضرو میںاَدبی اعتبار سے میرا پہلا تعلق محمدعلی اعظمی(اُس زمانے میں یہی نام رکھتے تھے، اب اعظمی ترک کردیا ہے) سے ہوا؛میں بھی ”آداب عرض“ میں لکھتا تھا اوروہ بھی ۔ جب میرا ایڈریس رسالے میں چھپا توایک دن وہ ملنے چلے آئے ۔انھی کے وسیلے سے فہیم سے ملاقات ہوئی۔یہ 1993کے آخری دنوں کی بات ہے۔ پھر ملاقاتوں میں تسلسل آگیا۔ فہیم کی شخصیت میں بہ ہرحال ایک کشش تھے ، جو باہمی ملاقاتوں کودوستی میں بدلنے کا سبب بنی۔ شروع میں وہ دوسرے تیسرے روز آتا تھا، پھر روز کا معمول ہو گیا۔ میرے مزاج میں ذرا عجلت اور تیزی تھی(اب بھی ہے) جب کہ فہیم کے مزاج میں ایک ٹھہراو ¿ اورتسکین رَچی ہوئی تھی۔ اس کے باوجود ہماری دوستی استوار ہی نہیں ہوئی بل کہ مسلسل پختہ ہوتی رہی۔
میری مشق اُن دنوں خوب زوروں پر تھی۔ روز تازہ غزل کہتا اور اگلے دن فہیم کوسُنادیتا۔ اس معاملے میں فہیم کا رویہ خاموش تماشائی کا ہوتاتھا۔ وہ سُنتا، گاہے داد دیتا اور خاموش ہوجاتا۔ یوں میرے لیے ایک مستقل تحریک موجود رہتی ۔اس کے برعکس فہیم شاذونادر ہی سُناتاتھا ۔ حتیٰ کہ مشاعروں میں بھی کم کم پڑھتا ۔ شاید یہ اُس کی جھجک یا احتیاط تھی ۔ ایک آدھ باراسٹیج پر بھول بھی گیاتھا، غالباً یہ سبب بھی ہو۔بہ ہرحال وہ نجی محفلوں میں بھی کم ہی کُھلتاتھا۔
اُنھی دنوں میرے حلقہ احباب میں خالد محمود صدیقی، غریب نوازسوزاور سرور خیال شامل ہوئے۔ یہ تمام فہیم کے بھی دوست تھے۔ یُوں ایک اَدبی حلقہ بن گیا، جس کی شہرت”بزمِ اہلِ سخن“ کے نام سے ہوئی اور جو سینئر ادیبوں سے تعلق کا وسیلہ بھی بنا ۔توقیر علی زئی مرحوم، احمدحسن نظر شاہجہانپوری مرحوم، راشدعلی زئی مرحوم اور نوازشاہد سے ہم سبھی کی قربتیں ہوئیں۔یُوں ہم نوآموزوں کو بہت کچھ سمجھنے کا موقع بھی ملا۔1994میں توقیر علی زئی نے”چاک “ کا اجراکیا تو اُس رسالے میں مجھے انھوں نے بہ طور ناظم شامل کیا۔اسی عرصہ میں مجھے کراچی جانا پڑگیا۔
فہیم کاددھیالی خاندان کراچی میں آبادہے۔ ایک متمول گھرانہ ،جس کے اکثر افراد تعلیم یافتہ ہیں اور خوب صورت زندگی گزار رہے ہیں۔ ننھیال حضرو میں ہے اور یہ لوگ بھی ثروت مند اور شہر میں معروف ہیں۔ فہیم کا ننھیال آناجاناتھا اورآبائی علاقہ بھی یہی ہے۔ شاید یہی فطری کشش اُسے مستقلاً یہاں کھینچ لائی۔ایک وجہ شاید یہ بھی ہو کہ والدکاسایہ سرسے اُٹھ گیا تھا، جس کے باعث وہ حضرو میں خود کو زیادہ محفوظ خیال کرتاتھا۔ممکن ہے گھر میں بڑا ہونے کے باعث اس کا فیصلہ قبول کیاگیا ہواور یوں فہیم کی والدہ اور بہن بھائی بھی کراچی چھوڑ کریہاں چلے آئے ۔ یہی وہ مرحلہ ہے، جس سے فہیم کی زندگی ایک نئی جہت اختیار کرتی ہے۔
میرے کراچی میں قیام کے دوران میں فہیم ہفتے میں ایک آدھ بار میرے پاس آجایاکرتا تھا اوراتفاق کی بات ہے ، میرا ایک بار بھی اُس کے پاس جانانہ ہوسکا۔ البتہ ہم دونوں کبھی کبھار اکٹھے ڈاکٹر مبارک بقاپوری کے یہاں چلے جایاکرتے تھے یا کسی ادبی تقریب میں شریک ہوتے ۔اُن تقاریب میں عموماً طرح مصرع دیاجاتاتھا، وہاں بھی فہیم ایک قدم پیچھے ہی رہاکرتاتھا۔
فہیم اپنے خاندان کے ساتھ حضرو تو چلاآیا لیکن یہاں اس کے قدم نہ جم سکے ۔ حضروکون ساصنعتی شہر ہے، جہاں فہیم کے لیے روزگار کے دَر وا ہوتے؟ پھر اُس کے دوستوں میں کون سا ایسا تھا یا ہے، جواُسے کسی اچھے مقام تک پہنچاسکتا؟ہم سب زندگی شروع کررہے تھے۔میرا معاملہ یہ تھا ، کہ میں بچپن سے ہی مشقت میں پڑ گیاتھا اور جب حضرو کے ادبی حلقے سے متعارف ہوا توصاحب روزگارتھا اور پھر1996 میں کراچی سے پلٹاتوشادی بھی کرلی تھی۔ یوں میری سمتیں واضح اور متعین تھیں۔ باقی نوجوان دوست عملی زندگی شروع کرنے کی کوششوں میں تھے۔
1998میں حضرو سے میں نے ایک اخبار ہفت روزہ” حضرو“ جاری کیا تواس کے اجرا کے پیچھے فہیم کی تحریک موجود تھی۔ اگرچہ وہ اخبارشروع ہونے کے عرصے میں موجود نہ تھا لیکن اُس کی طاقت میں یہاں محسوس کرتاتھا۔ وہ کراچی سے آیا۔کچھ عرصہ میں نے اُس کا نام معاون مدیر کی حیثیت سے بھی لکھا۔اسی عرصہ میں فہیم نے حضرو میں رکشوں کی آمد کے حوالے سے ایک اداریہ بھی لکھاتھا(اُس کے خدشات بعدمیں درست ثابت ہوئے )۔
اگست 1999میں، جب میں نے ڈاکٹر مبارک بقاپوری صاحب کا مجموعہ ”جیون صحرا“ شائع کیا تومیں فہیم کو ساتھ لے کر کراچی چلاگیا۔ہم وہاں صبح چار بجے کے قریب پہنچے۔ کتابوں کے بنڈلوں سمیت ہم نے اسٹیشن پرطلوعِ صبح کا انتظار کیا۔ اسی دوران فہیم مجھے پہلی بار اپنے گھرشادمان ٹاو ¿ن لے گیا۔ ایک عالی شان بنگلہ، جو اَب بھی ہم میں سے کسی دوست کے پاس نہیں، فہیم کاگھرتھا۔ فہیم نے باہر سے ہی دروازہ کھولا، خاموشی سے اندرداخل ہوا اور اپنی ضرورت کی کوئی چیز اُٹھا کرواپس آگیا۔ یہاں سے ہم 130۔ علی دولت اسکوائر حیدری گئے، جہاں ڈاکٹرمبارک مرحوم کی رہائش تھی۔وہ دُنیا سے رُخصت ہوچکے تھے اور ہمیں اس کی خبر نہ تھی۔
قیامت کی وہ گھڑی میری زندگی میں ٹھہری ہوئی ہے(یہ تذکرہ کسی اورمقام کے لیے بچا رکھتا ہوں) ۔ کتابیںاُن کے لواحقین کے حوالے کیںپھرڈاکٹر مبارک بقاپوری مرحوم کے دوست نصیر کوٹی صاحب سے ہم اکٹھے ملے اور اُسی شام چار بجے کی ریل سے میں واپس حضرو آگیا۔
جب میں نے 2000میں حضرو سے ادبی رسالہ ”سحرتاب“ جاری کیا ، تب بھی فہیم کو معاون مدیر کی حیثیت سے شامل کیا۔ ایک سال بعد ہفت روزہ ” تیسرارُخ“ جاری کیا توپہلے بلال مارکیٹ، پھرایاز پلازہ اورآخر میں سکندرپلازہ میں جب اس اخبار کا دفتررہا، فہیم باقاعدگی کے ساتھ آتا رہا۔اس عرصہ میں فہیم برزہ زئی میں منہاج القرآن اسکول سے وابستہ ہوا؛ گورنمنٹ پرائمری اسکول مراڑیہ میں بھی کچھ عرصہ اعزازی استاذ کی حیثیت سے پڑھایا اور شہر میں”ماسٹر “ کے نام سے مشہور ہوگیا۔ پھر ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے فہیم اُس راستے کا مسافربنا، جو ہمارے لیے آج بھی اذیت کا باعث ہے۔میرے مجموعے ”مئے خاور“(مطبوعہ 2016) میں ایک نظم”فراریت“ فہیم کے لیے ہے۔
اس نظم کو میرے بعض مہربانوں نے منفی رُخ دے کر فہیم کو بدگمان کرنے کی کوشش بھی کی لیکن اُس نے میری محبت کواچھی طرح جان رکھا ہے۔میرے ابتدائی دوستوں میں سے فہیم واحد شخص ہے، جس کے ساتھ کسی بھی مرحلے پراونچ نیچ نہیں ہوئی اور جب بھی ہم ملتے ہیں، اُسی محبت، اُسی تپاک سے ملتے ہیں۔اَب جب کہ بعض دوست اور رشتے دار فہیم کی ظاہری حالت سے بیزاری اور برا ¿ت کا اظہارکرچکے ہیں، میں حضروجاتا ہوں تو فہیم کی تلاش میں رہتا ہوں۔
فہیم اسم بامسمٰی ہے۔ بلا کا ذہین ، معاملہ فہم،معتدل، حلیم اور آخری درجے تک تعلق نبھانے کا جوہر رکھنے والا۔فہیم کی زبان سے میں نے ایک آدھ دوست کے علاوہ کبھی کسی کے لیے سطحی لفظ نہیں سُنا۔وہ اگراختلاف رائے کا اظہار بھی کرتاہے تو عموماً اپنی بات پیش کرتا ہے۔اُس کی شخصیت کی حلاوت، لہجے کی چاشنی اور شخصی وقار (جس میں خودی سب سے نمایاں ہے)ملنے والے کے لیے باعث ِ کشش ہے۔
ایسے میں، جب کہ اُس کی ضرورتیں موجوود اور متعین ہیں، روزگار کا کوئی وسیلہ بھی نہیں، میں نے دیکھا ہے، وہ بہ ہرحال اپنی عزتِ نفس کا تحفظ کرتاہے۔اتنا کچھ اُس نے بھوک لیا، اتنا کچھ اُس کے ساتھ ہوگیا ، پھر بھی وہ ثابت وسالم ہے۔ میں سمجھتا ہوں ، وہ ایک بہادرشخص ہے۔ بچپن میں یتیمی ،والدہ کی جدائی ، جوان بھائی کی اچانک موت ،بے روزگاری اور گھر سے واجبی ساتعلق رہ جائے توانسان جیتے جی مر جاتاہے لیکن فہیم نے ان تمام مصائب و آلام کامقابلہ جواں مردی سے کیا اور کررہا ہے۔میں سمجھتا ہوں، وہ مایا موہ کاشکار ہوا ہی نہیں یا پھر اُسے زَر کی طلب تھی ہی نہیں۔اُس کی زندگی میں غنا اور درویشانہ شان شروع سے ہے۔اگر وہ چاہتاتو ہم میں سے کئی ایک سے زیادہ وسائل اور راستے اُس کے پاس موجود تھے۔

[۲]
فہیم کی زندگی کاایک پہلو تواُوپربیان کرآیا ہوں، دوسرا پہلو اُس کی شاعرانہ اور علمی حیثیت کو محیط ہے۔اُس کا فن روحانی حریت کا توانا اور متحرک استعارہ ہے، جو اُس کے وجدان کی بجائے اضطرار سے پھوٹتا ہوا معلوم ہوتا ہے، جس کا منبع جوہرِ اصلی کے نواح میں ہے۔وجدان ادراک کااسیر ہے، جب کہ اضطرار میں دلی خشوع و خضوع ، رجوع اور اختیار کا پہلو بھی تمکنت آشنا رہتا ہے۔اُس کے یہاں بلندآہنگی، بلندفکری میں یوں رَچی ہوئی اورآمیخت ہے، کہ دونوں کو الگ نہیں کیاجاسکتا۔
آسانی کے لیے فہیم کی شاعری کودوادوار میں تقسیم کیاجاسکتا ہے۔ ایک وہ عرصہ، جس میں وہ ایک نوآموز کی طرح عشق کی اَن دیکھی دُنیاو ¿ں کی جستجوا ورتحیرمیں نکلتاہوانظرآتا ہے اور دوسرا وہ دور ، جب وہ زندگی کی آفاقی سچائیوں کو اپنے انداز میں سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔
پہلے دور میں فہیم کی شاعری پر میر اورناصر کی سی ہجرت گزینی اورپُرسوزی دکھائی دیتی ہے۔دوسرے دور میں دورنگ بہ یک وقت جھلکتے ہیں؛ ایک وہ جو خواجہ میردرد کا مرغوب لحن ہے اور دوسرا مرزااسداللہ خاں غالب کے فکری استدال کا انداز۔ یہاں شاعر ”فائیوڈبلیوز اورون ایچ“) (5W’s and 1Hکو عملاً برتتا دکھائی دیتا ہے ، جو کائنات اور متعلقات ِ کائنات کو سمجھنے، پرکھنے، برتنے اوردوسروں تک پہنچانے کا بنیادی وسیلہ ہے۔کون، کب، کہاں، کیااور کیسے کی دُنیافکری سطح پر جب ہم رکاب ہوتی ہے توشاعری اپنی منزل سے ایک جست بھرکرآگے بڑھ جاتی ہے۔
فہیم نے اپنی شاعری میں خدا، آسمان، زمین، انسان، زندگی،موت ، آخرت، فنا ، بقا اور ان سے جڑے ہوئے بیشتر موضوعات کا احاطہ اپنے انداز میں کیا ہے۔ اُس کی شاعری میں جبر وقدرکافلسفہ بھی ہے اورحیات وممات کے نظریات بھی؛ حسن و عشق کی رعنائیاں بھی ہیں اورفکرِ روزگار کی مشکلات و مصائب کاخوش سلیقہ بیان بھی۔ان تمام مرحلوں میں اُس کی روحانی حریت پوری طرح متشکل ہوکربڑھتی ہوئی نظر آتی ہے۔اُس کا شخصی اضطرار ،وجدان سے آمیخت ہو کرنئی منزلوں تک رسائی کے لیے کوشاں ہوجاتا ہے۔فکر کی پختگی، آہنگ کی بلندی اوراُسلوب کی تمکنت کی کچھ مثالیں دیکھیں:
متاعِ حسن سو پوشیدہ اک خزانہ ہے
بفیضِ عشق یہ سارا جہان قائم ہے

قرب ظاہر اگر نہ ہو جائے
اس تغیر میں کیا ثبات ملے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خدا تُو آپ ہے اور اختیار میرا ہے

ترے وجود میں اب انتظار میرا ہے
ان اشعار میں حسنِ ازل کے ساتھ عشق کا تعلق ایک خاص زاویے کے ساتھ واضح ہوا ہے اورپھربندگی کس طرح خداکونمایاں کرتی ہے، یہ بھی نظر آرہا ہے۔حسن مستور ہے اور عشق جابجااُس کا چرچاکررہا ہے۔دوسرے شعر میں حسن وعشق کاوہ متعین مقام چمکتا ہے،جس کے لیے عشق ہمیشہ سے بے تاب رہا ہے۔گویافنا کے بعد بقا کی منزل ہی اصل ہے اور وہی ثبات کا وسیلہ بھی۔تیسراشعرجہاں نیابتِ الٰہی کادَر کھولتاہے، وہاںطنزکی ایک صورت کئی اور معنوں تک پہنچاتی ہے۔اس طرز میں فہیم کے کئی شعر ہیں ، جواُسے غالب کے اُسلوب سے ہم آہنگ کرتے ہیں۔یہ اشعار دیکھیں:
ہم نے بھی خاک اُڑائی ہے تیری بہشت میں
رفتار ایسی تیز کہ آہو میں رنگ رنگ

بہشت اُدھر کی بھی ، دیکھا اِدھر مکین ملی
خیال و خواب کی دنیا بڑی حسین ملی

میرا ذوقِ نظر بہشتِ خیال
تیرا باغِ ارم نہیں کوئی

سوائے دل کے مرے اور کیا ٹھکانہ ترا
یہ کائنات تری ، میری کائنات میں ہے

یہ زمین آسمان اپنی جگہ
میں تری رہ میں ایستادہ ہوں

جزو میں کل کا تماشا کرنا
اک ذرا دیدہ ¿ دل وا کرنا

میں پاگل ہوا ہوں
خدا بن رہا ہوں
حیات و ممات اوران کے اُلجھتے سلجھتے نظریوںکو فہیم نے دو طرز سے دیکھا ہے۔ ایک وہ جو کلاسیکی شاعری میں موجود ہے اور دوسرااُس کا اپنااختیارکردہ ہے۔آخرالذکرپریقینا اُس کے عہد کا پرتو بھی ہے، کہ انسان اپنے آس پاس سے اثر قبول کرتا ہے اور اس پر خطِ استرداد بھی کھینچتا ہے۔ عمل اور ردِ عمل کا یہ مرحلہ بہ ہرحال تاثیریت سے بھرپور ہوتا ہے ۔اس مقام پرامکانات وناممکنات کا اختلاط بھی ہوتا ہے۔یہ اشعار ملاحظہ ہوں:
سمے کی گرد میں چہرے اَٹے پڑے دیکھے
کسے نصیب حیاتِ دوام سے ملنا

زندگی تیرا اعتبار کسے!
ساتھ چلنا اگر تو جانا تیز

تم سے پہلے بھی کہا تھا ، تم مگر مانے نہیں
پانیوں پر نقش میری جاں کبھی بنتے نہیں
فنا کی ازلی حقیقت، جو ہمارے کلاسیکی اَدب میں تواتر کے ساتھ بیان ہوتی آئی ہے؛ فہیم نے اس پرانے طرز کو نیاآہنگ دیا اوراپنے انداز سے پیش کیا۔
اَب ذرا جبر وقدر کا فلسفہ بھی دیکھ لیں۔ یہاں شاعر نے ایک نئی معنویت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے:
ہر صبحِ نو ہے مرا حوالہ
ہر رات میرا نصیب جلنا

عمرِ اُمید کے دن تھوڑے ہیں
جانتے بوجھتے بہلے رہنا
سُرخ پھولوں کا موسم آیا تھا
اور ہم یوں ہی بے لباس رہے

ہم کو جینے کا تو الزام نہ دو
سانس لینے کا سبب اور بھی ہے
ان شعروں میں انسان کی بے بسی اورخود فریبی کا بھی ایک پہلوموجود ہے۔یہ اشعار محض روایات کا حصہ نہیں، بل کہ فہیم کی زندگی کی حقیقی تصویریں ہیں۔جس کرب اور آشوب نے اُس کے گردگھیرا تنگ کیا اور جس طرح اُسے زندگی کے داو ¿پیچوں سے نبردآزمائی کرنی پڑی ، وہ جاننے والے اچھی طرح جانتے ہیں۔اُس نے اپنے دکھوں ، ناکامیوں یامحرومیوں کوتماشابنانے کی بجائے ہنرمندی کے ساتھ کلاسیک سے ہم آہنگ کرکے انسانیت کا حوالہ بنادیا ۔گویا اُس کا دُکھ ذاتی المیے سے بلند ہوکر اجتماعیت کے رُوپ میں نمایاں ہوا ۔ہم میں سے ہرایک کو ، کسی نہ کسی مقام پر ان حدود و قیود اور سختیوں سے گزرنا پڑتا ہے اور جب یہی باتیں فہیم کے قلم سے نکلتی ہیں تو قرا ¿ت کے وقت یوں معلوم ہوتا ہے، جیسے یہ ہماری ہڈ بیتی ہے،جسے کسی اور نے اظہار کی راہ دکھا دی ۔فہیم کو کہنے کا سلیقہ اور قرینہ ہے۔
فہیم کو جاننے والے جانتے ہیں ،کہ وہ ہجوم میں تنہااورخلوت میں انجمن قائم کرنے والاشخص ہے۔ اُس کی زندگی کا یہ پہلو اُس کی شاعری میں بھی جھلکتا ہے۔ وہ احساسِ ذات میں محوہو کرکہیں اپنادُکھ چھیڑتا ہے تووہ دردناک اَلاپ کی صورت میں سماعتوں سے ٹکراتا ہوا دل میں اُترجاتا ہے۔اس کی زندگی طویل عرصہ تک بے گھری کا شکار رہی ہے۔ اس کے من کا صوفی اُسے مزارات تک لے گیا، وہاں اُس نے دوستیاں بنائیں، تعلق اُستوار کیے اور پھراُنھی کے ساتھ ننگے فرشوں پر سونے کی عادت بھی ڈال لی۔ مجلسوں میں رات دیرتک بیٹھا اور ختم ہوتی رات کے کسی پہرکسی ویران مزار کو مسکن بنالیا یا پھرصبح دَم گھر کی راہ لی اورپھر کچھ ہی دیر میں پلٹ آیا۔ ان لمحوں کو مقید کرنے کے لیے بھی اُس نے شعر کہے۔ ایک دو مثالیں ملاحظہ کریں:
نہیں کہ صرف ہمارا نصیب تنہائی
بھرے ہجوم میں ہر ایک شخص اکیلا ہے

ہم بطرزِ قلندرانہ جیے
کوئی دم ہے ، کہ دم نہیں کوئی

یار تو سارے گئے اپنے ٹھکانوں کی طرف
تُو دریچہ کھول دے گزرے زمانوں کی طرف

یہ جانتا ہوں مرا منتظر نہیں کوئی
میں کیا کروں کہ مجھے لوٹنا ہے گھر پھر بھی

کیوں دل کی باتوں میں آ گئے تھے
اب شام رستوں میں کاٹتے ہیں
فہیم کی شاعری میں سراسیمگی تو ہے لیکن وہ خود متوحش نہیں۔ اُس کے یہاں زندگی سے جڑی ہوئی اقدار وروایات کے سالم و شکستہ وجود ایک ساتھ نمایاں ہوتے ہیں۔ یہ اُس کی زندگی کا ایک پہلو بھی ہے۔ اُس نے بعض قدروں کو جی جان سے چاہا اور جنھیں رَد کیا تواُنھیں بھی علی الاعلان رَد کیا۔ اُس کے نظریات دوٹوک اور واضح ہیں، چناں چہ جب وہ انھیں شعری جامہ پہناتا ہے توبغیر ابہام کے ہرایک بات کھول کھول کر بیان کردیتا ہے۔ وہ صدیوں کی دانش و بینش کو اپنے انداز سے یوں بیان کرتا ہے، کہ اُن میں ایک تازگی بہ ہرحال نمایاں ہوتی ہے۔یہ متنوع اور بوقلموں اظہاریے دیکھیں جو فہیم کے ہنر کا پتا دیتے ہیں:
شاملِ حال تُو رہے ہر دم
لاج تیری ہی آبرو کی ہے

کون سی ایسی کشش ہے ، آسمانوں کی طرف
سب کمر بستہ ہیں ان دیکھے جہانوں کی طرف

تُو مجھے ڈھونڈ لے جہانوں میں
شیشہ ¿ دل میں ہی اُترتا ہوں

ہزار ہو کے مرے دل میں ایک تُو ہی رہا
فسونِ خواب میں سب رنگ بھر کے ہوش کیا
تقسیم عمر شام و سحر میں ہوئی ہے یوں
جلتے ہوئے چراغ ہیں ، جگنو میں رنگ رنگ

گلوں کی دید کی خاطر ، جیا ہزار برس
کہ میرے بعد یہ جشنِ بہار میرا ہے
حسن وعشق کے باب میں فہیم کا قلم محتاط ہے۔ وہ عشق وہوس کے باریک فرق کواچھی طرح جانتا ہے، لہٰذا اس کے یہاں لغزش کاموقع ہی نہیں پیدا ہوتا۔ چند استثنائی حالتیں ڈھونڈنے سے ضرور مل جاتی ہیں۔فہیم کا عشق اَناکیش ہے۔وہ محبوب کی منت سماجت کی بجائے اُسے قبول ورَد کا اختیار دیتا ہے؛البتہ اپنی کیفیات ضرور ظاہر کرجاتا ہے اور کشفِ دل کی یہ منزل اُسے بہ ہرحال ایک الگ مقام پر رکھتی ہے۔ اُس کی منکشف ہونے والی کیفیات میں بھی احترام اوراحتیاط واضح ہے:
یہ ایک اسم ہے ، خود آدمی کی ذات میں ہے
تو کیا فرار محبت سے ممکنات میں ہے

سرائے دہر میں ٹھہرا ہوا ہوں
مجھے تُو آن ملتا ہی نہیں ہے

حسن ہی انتخاب ہے اپنا
ضبط بھی اضطراب ہے اپنا
محبت دُور تک پھیلی ہوئی ہے
اسی کا نام ہی تو زندگی ہے

محبت کیوں نہ اس کا نام رکھ لوں
مجھے تیری ضرورت آ پڑی ہے

میں ڈھونڈتا ہوں اُسے ہاتھ کی لکیروں میں
وہ ایک نام مری لوحِ دل پہ کندہ ہے

دل پہ جو واردات گزری ہے
واقعہ یہ بہت پرانا ہے

کیا ہوئے لوٹ کے آنے والے
عمر بھر راستہ دیکھا کرنا

ابھی کل ہی سرِ راہے ملا تھا
اور اب جیسے شناسا ہی نہیں ہے

ایک دن تجھ کو مرا ہونا ہے
تُو مرے صبر کا پھل ہے پیارے

وہ جسے بھلا کے ہم کو ، نہ کہیں قرار آیا
اُسے بھولنے لگے ہیں ، یہ عجیب ماجرا ہے
یہ محض فہیم کی کتھا نہیں، بل کہ اس سے بہت سوا بھی ہے۔وہ معاملاتِ حسن و عشق کو اس ڈھب پر اُستوار رکھتا ہے، جہاںشرفِ ذات اورشرفِ شعرمجروح نہ ہوں۔اُس کی شاعری دیکھی بھالی زندگی اوراس سے مماثل حرکیات و سکنات کا اظہاریہ ہے۔ اس شاعری میں اعجاز وایجازکی شررفشاں صورتیں نہ بھی ہوں، ان کی ایک جھلک بہ ہرحال موجود ہے؛ جو قاری کو اپنے ساتھ باندھ لیتی ہے ،پھردُورتک اور دیرتک اپنے زیرِ اثر رکھتی ہے۔
فہیم کی بعض مسلسل غزلیں جواُس نے ایک سے زیادہ بار مجلسوں میں سنائیں، اُن کی تاثیرزیادہ نمایاں انداز سے قاری کے دل پر پڑتی ہے۔ اس کی ایک غزل پر توکئی لوگوں کو جھومتے دیکھااورفہیم کو یہ غزل بار بار پڑھتے بھی سُنا۔ مطلع دیکھیں:
پت جھڑ ہے اور مہکتا ہوں
میں بھی کتنا سادہ ہوں
فہیم بنیادی طور پرغزل کا شاعر ہے؛البتہ اُس نے کچھ نظمیں بھی کہی ہیں۔ نظموں میں بھی اُس کی فکر واضح ہے۔ فنی اعتبار سے یہ نظمیں مختلف ہیئتوں میں ہیں۔ ان میں خیال کی ترسیل واضح اورابلاغ سہل ترین ہے۔ نظم” خدشہ“ محض بیس ماتروں پر مشتمل ہے لیکن اس میں زندگی کا گہرافلسفہ پوری روانی اور فنکارانہ شان سے بیان ہوا ہے۔ نظم”بیت المقدس“ میںفہیم نے ایک نئی جہت کی طرف اشارہ کیا ہے۔”گزشتہ سے پیوستہ“ میں وہ اپنے والد سے والہانہ محبت کا اظہار کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اس نظم میں یتیمی سے پیدا ہونے والا دُکھ بھی نظر آتا ہے اورامید کی معدومیت بھی۔ ”پیاس “ اور”زنجیر“ اُس کے عشق کی کتھاکے طور پردیکھی جاسکتی ہیں۔
فہیم کے ابتدائی دور میں ہماری قربت گہری تھی؛ چناں چہ اُن ایام میں ایک جیسی زمینوں اور ایک جیسے خیالات سے باہمی طور پر متاثر ہونافطری اَمر تھا۔ اَب جو دیکھتا ہوں تومیری کتاب” مئے خاور“ میں شامل بعض غزلوں اور فہیم کی کچھ غزلوں میں مماثلت ہے۔کہیں کہیں نوازشاہدکا پیرایہ ¿ اظہار بھی چمکتا ہوا نظرآجاتا ہے۔ یہ تعلق کہیں خیال کے دائرے میں داخل ہے تو کہیں ہیئت کے ۔یہ عجیب اس لیے بھی نہیں کہ ایک عہد اور پھرزیادہ وقت ایک ساتھ گزارنے والوں پر ایک دوسرے کے رنگ کے چھینٹے ضرور پڑجاتے ہیں۔ فہیم کا البتہ اپنا جداگانہ اُسلوب اورشعری مقام ہے، جسے آسانی سے شناخت کیاجاسکتا ہے۔
درج بالامعروضات میرے مطالعے کا نتیجہ ہیں۔ فہیم، غالب ہے نہ میر، ناصر ہے نہ منیر نیازی؛اس لیے اس کے فن کو ماپنے کے لیے ان پیمانوں کواستعمال کرنا بے محل ہوگا۔اُس نے ایک چھوٹے سے شہر میں رہتے ہوئے ، اور انتہائی نامساعد اور ناقابلِ بیان حالات میں جیتے ہوئے ،ایک بڑا شعری کارنامہ انجام دیا ہے۔ اُس کا موجود سرمایہ پانچ نظموں اور پینتالیس غزلوں پر مشتمل ہے۔یہ اُس کے کڑے انتخاب اور ذاتی نقد کا نتیجہ ہے۔ اُس نے بھرتی کے شعروں سے اپنی غزل کی مقدار نہیں بڑھائی ۔ اس خاص تناظرکو مدِ نظررکھ کربھی فہیم کے مسلکِ شعر کو بھی سمجھاجاسکتا ہے۔
فہیم میرا عزیز دوست ہے اور دوستوں پر لکھناہر لحاظ سے مشکل ہوتا ہے۔ اگر جائزتحسین بھی کی جائے توباقیوں کو شکوہ پیدا ہوجاتا ہے اور کہیں جائز نشان دہی کردی جائے تو زیرِ بحث دوست کے ناراض ہوجانے کاامکان رہتا ہے۔بہ ہرحال اس میں شک نہیں کہ جس محبت سے میں نے محترم نوازشاہد کی کتاب ” دوچار دل کی باتیں “ شائع کی تھی اور جتنااشتیاق اورجستجواُن کی شاعری کے لیے تھی؛وہی کیفیت آج بھی ہے۔ فہیم کا کلام پیش کرتے وقت مشتاق بھی اورمتجسس بھی۔
فہیم کو پڑھیے اور دیکھیے کس طرح اُس نے زندگی اور متعلقاتِ زندگی کو اپنے ہنر کے ناخنوں میں رکھتے ہوئے برتااور پیش کیا ہے۔
یہ کتاب گزشتہ سال کمپوز ہوئی اور اس کی پروف خوانی خود فہیم نے کی۔گویایہ مسودہ مستند ہے۔اصل بیاض فہیم کے پاس ہی ہے۔ کوشش تو یہ تھی، کہ یہ پچھلے سال ہی چھپ جاتی لیکن فہیم کوکلام کی کم مقداری کاخیال تھا۔ بہ ہرحال اَب دوستوں کے مطالعے کے لیے پیش ہے اورمیرا خیال ہے، کہ اس کی اشاعت ضروری ہے۔مزید کلام اگرسامنے آجاتا ہے تواسے کوئی اور دوست جمع کرکے اس میں شامل کرسکتا ہے یا پھرالگ کتاب کی صورت بھی موجود ہے۔
کتاب کا نام ” رقص نشاط“ فہیم کی زندگی کے خاص تناظر میں ہے، جس کی طرف اُوپر اشارہ کرآیا ہوں۔اُس کی شاعری اُس کی زندگی سے الگ نہیں کی جاسکتی۔ اُس کا دل اوّل وآخرغنی اورصوفی کا دل ہے؛ جو اکثر ملامتی رنگ اختیار کیے رکھتا ہے۔ یہ میری رائے ۔باقی دوست بھی اپنی آرا کا پورا حق رکھتے ہیں۔
O

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post