فسانہ عجائب … چند تاثرات : ڈاکٹر عبد العزیز ملک

رجب علی بیگ سرور کی داستان ’’فسانۂ عجائب‘‘اردو کے داستانی ادب میں کئی حوالوں سے اہم ہے ۔ بعض ناقدین اسے داستان اور ناول کے درمیان کی کڑی خیال کرتے ہیںاوربعض کے نزدیک اس کی اہمیت اس کے مرصّع ومسجّع اُسلوب کے باعث ہے ۔اس نے نہ صرف اپنے عہد کے ادب کو متاثر کیا بلکہ بعد میں تخلیق ہونے والے ادب پربھی اثرات مرتسم کیے۔بطور داستان اسے دیکھا جائے تو اس میں کئی خامیاں موجود ہیں جن پرناقدین نے وضاحت سے لکھا ہے۔نمایاں اعتراض تو داستان کے ہیرو پر کیا گیا کہ اس میں داستانی ہیرو کی خصوصیات موجود نہیں۔ہیروہونے کے باوجود اس میںسادہ لوحی اس قدر موجود ہے کہ قاری اس کی حرکات سے حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔اس کے نسوانی ناز وا نداز،نمایشی جرأت و دلیری،اس کا عورتوں کی جانب التفات و تمتع،اس کی بزدلی اور کم ہمتی، لکھنوی نوابوں کی کھوکھلی اور پُرتصنع زندگی کی آئینہ دار زیادہ اور داستانی ہیروکی خصوصیات کم ہیں۔ داستان کے ضمنی کرداروں میں بھی یہی رویہ موجود ہے ،بندر والا سوداگر،مجسٹن کا لڑکااوروہ بادشاہ جس سے جانِ عالم کی داستان کے آخرمیں لڑائی ہوتی ہے وغیرہ اس حوالے سے مثال کے طور پر پیش کیے جا سکتے ہیں۔ان کے علاوہ بھی سرور نے جو داستانی کردار تخلیق کیے ہیں ان میں ایسی جاذبِ توجہ خصوصیات نہیں کہ قاری کا ذہن کچھ سوچنے پر مجبور ہو۔ان کے کردارسحر البیان اور باغ و بہار کے کرداروں کی نقالی محسوس ہوتے ہیں۔ پھر کئی ضمنی کہانیوں کے پیوند اس طرح لگائے گئے ہیں کہ داستان گو ان میں نامیاتی وحدت پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا،آج کے دور کا قاری اسے پڑھ کر الجھ جاتا ہے۔غیر مانوس ، ثقیل اور ادق الفاظ و تراکیب اس کے صفحات پر جابجا بکھری پڑی ہیں۔اگر چہ پیچیدگی اور ادق پن کے ساتھ ساتھ سرورنے فصاحت سے کام لے کر اپنی مہارت کا ثبوت دیا ہے مگرعام قاری کے لیے اسے روانی سے پڑھنا ممکن نہیں۔عربی اور فارسی الفاظ کی افراط سے انکار نہیں ۔رجب علی بیگ سرور بعض اوقات ایسے الفاظ استعمال کر جاتے ہیں جن کا لغت میں ملنا مشکل ہے جو یا تو ہندوستانی فارسی کے ہوتے ہیں یا سرور کے ذاتی گھڑے ہوئے،مثلاًمادر بختے(حرام زادے)،رقم( قبول صورت عورت)،کسگر( کاسہ گر) وغیرہ ۔بعض الفاظ میں ترمیم بھی کی گئی ہے،بعض ہندی الفاظ کو استعمال کیا گیا ہے جو عموماً اردو میں استعمال نہیں کیے جاتے۔محاوروں اور روز مرہ میں تصرف بھی فسانہ عجائب میں موجود ہے۔ زبان و بیان کے حوالے سے اعتراضات کے علاوہ دیگر کئی پہلوؤں پربھی اعتراضات موجود ہیںجن کا ذکر یہاں مطلوب نہیں۔ان تمام معائب کے باوجود گزشتہ تقریباًدو سو سال سے اس کی ہر دلعزیزی اور دلکشی برقرار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مذکورہ داستان کے اب تک سیکڑوں ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔میر امن کی ’’باغ و بہار‘‘کے علاوہ کسی اور داستان کو اتنی مقبولیت نصیب نہیں ہوئی جتنی ’’فسانہ عجائب‘‘ کے حصے میں آئی ہے۔معائب اور محاسن کا تجزیہ کریں تو ڈاکٹر گیان چند جین کی اس رائے سے اتفاق کرنا پڑتا ہے کہ ’’فسانہ عجائب شمالی ہند کی پہلی اہم طبع زاد داستان ہے۔‘‘
تمام محققین نے’’فسانہ عجائب ‘‘کا زمانۂ تصنیف ۱۸۲۴ ء متعین کیا ہے۔یہ وہ دور ہے جب لکھنو میں غازی الدین حیدر کا دورِ حکومت جاری تھا۔قوم سستی، کاہلی اورآرام پسندی کا شکار ہو کر سعی وعمل سے عاری ہو چکی تھی۔قصے ،کہانیوںاور داستانوں کے علاوہ کھیل کود ، شاعری ،موسیقی اورشاہد بازی نقطہ عروج کو چھو رہی تھی۔حسن و عشق کے گیت اور افسانے دہرائے جا رہے تھے ،شراب و کباب کے تذکرے کیف و سروراور نشاط انگیزی کا باعث تھے۔مختصراً تمام کا تمام معاشرہ کھوکھلی تہذیبی اقدار اور پُر تصنع وقار کی گرد میں گم ہو چکاتھا۔معاشرتی زوال پذیری کا خاصاہے کہ افرادِ معاشرہ جھوٹے نشے میں مخمور اپنے عہدکے فطری تقاضوں کو پورا کرنے کے بجائے مصنوعی تقاضوں کی جانب زیادہ متوجہ رہتے ہیں،یہی وہ صورتِ حال تھی جو پورے لکھنو کو حصار میں لیے ہوئے تھی اور لوگ پُر تصنع تہذیبی اقدار،کھوکھلی روایات اورعامیانہ گفتار و کردار میں محو تھے۔جھوٹی شان و شوکت اور سطوتِ شاہی کے اظہار کے لیے خزانے لٹائے جارہے تھے ۔آخرکار تصنع اور بناوٹ پر مبنی یہ معاشرہ انگریز کی جدید تہذیب کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوا اور جنگ ِ آزادی کے بعدجاگیرداری نظام کی کھوکھلی اقدار زمین بوس ہوئیںاور لکھنو ی تہذیب ماضی کا قصہ ہو کر رہ گئی۔رجب علی بیگ سرور کی ’’فسانہ عجائب‘‘مذکورہ دور کی نمایندہ داستان ہے جس میں لکھنوی اندازِ بیان ،لکھنوی تہذیب و معاشرت ،عمارات،میلے ٹھیلے اور بازاروںکا تذکرہ اس مہارت سے کیا گیا ہے کہ قاری سرورؔ کے مشاہدہ سے حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔سرورنے جس انداز سے ہر باکمال شخص کا تذکرہ (میاں خیر اللہ،حسینی،عبداللہ عطر فروش،شیخ کولی،نورا،میاں خیراتی،خوش نویس حافظ ابراہیم،مرثیہ خواں میر علی،جھجوخان غلام رسول قوال ،میرک جان )مع اس کے پیشے کے کیا ہے، اس سے انیسویں صدی کے لکھنو کی تصویر سامنے آجاتی ہے۔ صرف اشخاص کا تذکرہ نہیں بلکہ عمارات وباغات(کوٹھیاںمثلاًفرح بخش، دل کشا منزل،سلطان منزل،سرِ راہ کی بارہ دری،رومی دروازہ ،عیش باغ وغیرہ)کھانے(کباب،فیرنی،شیر مال،سوہن حلوہ،بریانی ،چنے ،نہاری وغیرہ)،رسموں(ولادت،چھٹی، چلہ ،عقیہ ،بسم اللہ ،ختنہ ،روزہ ،منگنی ،نکاح ،شادی ، نیاز ،نذر،فاتحہ ، مجلس ،میلاد،گیارہویں)اور موسموں کا ذکر بھی موجود ہے۔جملہ دلائل سے واضح ہوتا ہے کہ رجب علی بیگ سرور نے اگرچہ’’فسانہ عجائب ‘‘ میں ملک ختن کا ذکر کر کے بادشاہ فیروز بخت کے زمانے کو بیان کیا ہے لیکن حقیقت میں انیسویں صدی کے اوائل کے لکھنو کی تصویر کشی کی ہے۔جن کرداروں کو داستان میں پیش کیا گیا ہے ان کی گفتار ،لب و لہجہ ، اشارے کنائے ،نزاکت آفرینی اوراندازِ گفتگو سے لکھنویت صاف صاف جھلکتی ہے۔
’’فسانہ عجائب‘‘ لکھنوی معاشرت کی عکاس طبع زاد داستان ہے لیکن اس پر ما قبل داستانی اثرات کی چھاپ واضح طور پر موجود ہے۔گیان چند جین (اردوکی نثری داستانیں)کے خیال میں قصے کا ڈھانچہ مہجور کی ’’گلشنِ نو بہار ‘‘سے اخذ کیا گیا ہے۔داستان کاآغاز میر حسن کی مثنوی’’ سحر البیان‘‘سے ملتا جلتا ہے۔مثلاً باد شاہ کی اولاد نہ ہونا ،اولاد کی پیدایش پہ نجومیوں کا زائچہ بنانا،شہزادے کا پندرھویں سال میں حادثے کا شکار ہونا،’’سحر البیان‘‘ اور’’ گلشنِ نوبہار‘‘ سے ماخوذ ہے۔ توتے کی خریداری ’’توتا کہانی‘‘ سے لی گئی ہے۔شہزادی کا توتے سے حسن کی تعریف کی گواہی طلب کرنا اور توتے کا کسی اور حسین شہزادی کا پتا دینا ’’پدماوت‘‘ اور ’’بہارِ دانش‘‘ کا چربہ معلوم ہوتا ہے۔مذکورہ دونوں داستانوں میں توتا وہی عمل دہراتا ہے جو ’’فسانہ عجائب‘‘ میں بیان کیاگیا ہے۔حاتم طائی اوربوستان خیال کی داستانوں میں حوض میں غوطہ لگانے پر کردار جادو کی دنیا میں پہنچ جاتا ہے۔بالفاظِ دیگر حوض طلسماتی دروازے کا کام کرتا ہے۔فسانہ عجائب میں جانِ عالم حوض میں غوطہ زن ہو کر جادو گرنی کے محل میں جا نکلتا ہے۔شہزادے سے جادو گرنی کاجبری عشق کرنا ’’گل و صنوبر‘‘ کی داستان سے لیا گیا ہے جہاں لطیفہ بانو کا کردار الماس روح بخش کو ہرن کے قالب میں ڈھال کر پاس رکھ لیتی ہے۔تاجر زادہ لندن اور پسر مجسٹن کے ضمنی قصے انگریز دور کی یاد دلاتے ہیں ۔جانِ عالم کے تبدیلی قالب کا واقعہ سنسکرت کی متعدد داستانوںاور کہانیوں میں ملتا ہے جسے رجب علی بیگ سرور کے ذہنی تخیل کی پیداوار قرار نہیں دیا جا سکتا ۔ڈاکٹر پرکاش مونس کی کتاب ’’اردو ادب پر ہندی ادب کا اثر‘‘کو اس حوالے سے پیش کیا جا سکتاہے۔کتھا سرت ساگر، پنج تنتر اور بے تال پچیسی ایسے ہندی کہانیوں کے سلسلوں میں تبدیلی قالب کے عمل کو دہرایا گیا ہے۔گیان چند جین نے تو تبدیلی قالب کو اپنی کتاب ’’ اردو کی نثری داستانیں‘‘ میںمرگیندر کی تصنیف ’’ پریم پیوندھی‘‘ سے مماثل قرار دیا ہے اور فارسی مثنوی ’’ بہارِ دانش ‘‘کا ذکر کر کے اسے وہاں سے ماخوذ خیال کیا ہے۔اس کی تائید ڈاکٹر سہیل بخاری اور عزیز احمد نے بھی کی ہے۔تبدیلی قالب ہندوستان میں یوگ کا حصہ بھی ہے جہاں مختلف مشقوں سے روح ایک جسم سے دوسرے جسم میں داخل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جسے منی پورا چکر سے موسوم کیا جاتا ہے۔ایسے سادھووں کا ذکر غوث علی شاہ قلندر نے تذکرہ غوثیہ میں بھی کیا ہے۔
’’فسانہ عجائب ‘‘کا تخلیقی زمانہ وہی ہے جب لکھنو دلی سے الگ شناخت بنانے کی تگ و دو کر رہا تھا ۔الگ شناخت کا مسئلہ ایک طرف سیاست میں نمودارہوا تو دوسری جانب ادب و ثقافت میں بھی اس کے اثرات نمایاں ہونے لگے۔یہی وجہ ہے کہ سرور نے جب ’’فسانہ عجائب ‘‘تحریر کی تو ادب میں ناسخ کی لسانی تحریک زوروں پر تھی۔شعری زبان پرانے اسالیب سے دامن بچا کر نئے فارسی رنگ و آہنگ سے مملو ہو رہی تھی ۔اصلاحِ زبان کے ذریعے نئی لسانی تشکیلات کا عمل زوروں پر تھا جس میں محاورہ اور روز مرہ لکھنو کے تہذیبی مزاج کے تابع کرنے کی شعوری کوشش جاری تھی۔تہذیبی و ثقافتی برتری کے ساتھ ساتھ یہاں کے ادبا اپنی زبان و اُسلوب کوبھی برتر خیال کرنے لگے تھے جس کا اظہار رجب علی بیگ سرور نے ’’فسانہ عجائب‘‘ کے دیباچے میں میر امن کی’’ باغ و بہار‘‘پر طنز(اگر چہ اس ہیچ میرز کویہ یارا نہیں کہ دعویٰ اردو زبان پر لائے یا اس افسانے کو بہ نظرِ نثاری کسی کو سنائے) کر کے کیاہے۔زبان کامسجّع و مرصّع اُسلوب جو ’’باغ وبہار‘‘ کی اشاعت سے کم زور پڑ گیاتھا سرور نے اس اسلوب کی شعوری تجدید کی۔اس سے دلی اور لکھنو کے داستانی اسلوب میں واضح فرق قایم ہوا۔’’باغ و بہار‘‘ عام لوگوں کی زبان میں تحریر ہونے والی داستان ہے جب کہ ’’فسانہ عجائب‘‘ خواص کی زبان ہے جو رنگینیٔ بیان ،مبالغہ آمیزی ،تصنع اور تکلفات کی غماز ہے۔سرور نے اپنا تعلق نثر کے اس دبستان سے استوار کیا ہے جو بقول تبسم کاشمیری ’’تشبیہات،استعارات اور تمثالوں کے بہ کثرت استعمال سے صفحات کو بھر تو دیتے ہیںمگر ان صفحات میں معنی و مفہوم کو تلاش کریں تو لفظوں کی گرد اڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔‘‘رجب علی بیگ نے ایسا اس لیے کیا کہ وہ لکھنو کی الگ تہذیبی و ثقافتی شناخت کا قائل تھا اور لکھنو کو دلی سے ممیز کرنے کا خواہاں تھا۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post