فرزندِ اُردو… سید روح الامین:ڈاکٹرعبدالعزیز ملک

معاصرعہد میں اُردوزبان و ا دب کی ترقی اورترویج کی خاطر کام کرنے والےگنے چُنےچند اشخاص موجود ہیں ۔ان میں ایک نمایاں نام سید روح الامین کابھی ہےجو اب تک ایک درجن سے زیادہ کتب تالیف و تصنیف کر چکے ہیں۔جن میں زیادہ تر کتب اقبالیات، لسانیات اور فروغ اُردو کے حوالے سے ہیں ۔سید روح الامین وہ خوش قسمت انسان ہیں جنھوں نےسر سید احمد خان، محسن الملک، با بائے اُردومولوی عبدالحق ،ڈاکٹر سید عبداللہ، ڈاکٹر فرمان فتح پوری ،مولانا صلاح الدین احمد اور فتح محمد ملک کے کام کونہ صرف آگے بڑھایا ہے بلکہ اس میں اضافہ بھی کیا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنی عمریں اُردو زبان وادب کے فروغ ،نفاذ،تحسین ،دفاع اور ترقی کے لئے وقف کر دی تھیں ۔اُردو ان کا اوڑھنا بچھونا،ان کی وجہ دوستی ، عداوت کا سبب،نظریہ اور نظام خیال رہا ہے بلکہ جزوِ ایمان کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔سید روح الامین کی اُردو سے والہانہ محبت کا ثبوت "ہماری اُردو ،ہمارا پاکستان”،”اُردو ہے جس کا نام "،”اُردو ایک نام محبت کا "،”اُردو بطور ذریعہ تعلیم”،”اُردو لسانیات کے زاویے”،”اُردو کے لسانی مسائل،”اُردو تاریخ و مسائل” اور”اُردو کے رنگ ڈھنگ "کی صورت میں موجودہیں۔معاصر عہد کے قابلِ قدر ناقدین ومحققین ان کے کام کو سراہتے ہوئے شمہ برابر ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتے کیوں کہ ان کا کام سچے اور پکے محبِ وطن ہونے کا غماز ہونے کے ساتھ ساتھ منطقی اور استدلالی بنیادوں پر اُستوارہے۔وہ اُردو کو قومی تہذیب وثقافت کا علم بردار سمجھتے ہیں ۔ان کا خیال ہے کہ پاکستان کی شناخت کے جہاں اور کئی عوامل ہیں اُردو زبان ان میں سے ایک ہے۔زبان کی حفاظت در اصل قومی تہذیب و ثقافت کی حفاظت کے مترادف ہے ، اس لیے انھیں اس بات پر افسوس ہے کہ اب تک اردو زبان کے نفاذ اور اس کی ترویج و ترقی کی جانب خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔نو آباد کار وں کی زبان سے لگاؤ کا اظہار کرکے ہم اپنے ورثے سے منھ موڑ رہے ہیں۔ہم انگریزی کی محبت میں اتنا آگے نکل چکے ہیں کہ شاید انگریز جس کی مادری زبان انگریزی ہے وہ بھی اتنا اس سے پیار نہ کرتا ہو۔ہمارے معاشرے میں یہ روش عام ہوتی جا رہی ہے کہ والدین اپنے بچوں کی انگریزی درست کرنے میں اردو کی نسبت زیادہ توجہ دیتے ہیں جو آگے چل کر خطرناک صورتِ حال اختیار کر جائے گی اور ہم اپنے تہذیبی ورثے اور فکری روایت سےمحروم ہو جائیں گے ۔زبان کی ضرورت اور اہمیت پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے وہ اپنی کتاب "اردو ہے جس کانام” میں لکھتے ہیں:
”اگر دوسروں کی زبان پر ہی ترقی کا انحصار ہوتا تو جاپان علوم و فنون میں ہم سے بہت پیچھے ہوتا اور علمی دنیا میں آج اُسے وہ فوقیت حاصل نہ ہوتی جویورپ و امریکا میں بھی باعث رشک ہے۔آخر کیا دیوانگی ہے جو ہم نے اپنے اوپر طاری کر لی ہےکہ ہم اپنی زبان،اپنی تہذیب کو پسِ پشت ڈال کرانگریزی زبان اورتہذیب و تمدن کی اندھا دھند پیروی کر رہے ہیں۔”(اُردو ہے جس کانام،ص:23)
پاکستانی قوم میں علوم و فنون کا صحیح ذوق اور اس کی اصل سے شناسائی پیدا کرنے کے لیےقومی زبان میں سوچنا، سمجھنا، لکھنا اور پڑھنا ضروری ہے،وہ قومیں جو اس روش کو اپنا لیتی ہیں وہ علوم و فنون میں ترقی کے زینے برق رفتاری سے طے کرتی چلی جاتی ہیں ۔خود انگریزوں نے بھی ترقی اور عظمت کے زینے اس وقت طے کرنا شروع کیے تھے جب انھوں نے اپنی قومی زبان کی جانب توجہ مبذول کی تھی ۔اگر ہمیں اپنی شناخت کو قایم رکھنا اور اپنی قوم کو مہذب اور ترقی یافتہ قوموں کی صف میں کھڑا کرنا ہے تو اردو زبان کو قومی سطح پر نافذ کرنا ہوگا ۔ یہی وہ خیالات ہیں جن کی بنیاد پر سید روح الامین”تحریکِ نفاذِ اردو” کے مستعد رکن ہیں اور اس کے نفاذ کے لیے ہمہ وقت سر گرمِ عمل ہیں۔وہ اُردو زبان کے توسط سے پوری قوم کو ایک ہی تہذیبی و تمدنی رشتے میں پرونا چاہتے ہیں تاکہ قوم کی مشترکہ شناخت کو ابھارا جا سکے۔ان کا خیال ہے کہ مشترک زبان کے بولنے والوں میں اجتماعی اور قومی وجود کا شعور بیدار ہوتا ہے۔بہت سے لوگوں میں یہ خدشہ موجود ہے کہ اردو کے نفاذ سے علاقائی زبانیں معدومیت کے خطرے سے دوچار ہو جائیں گی ۔ یہ ان کی خام خیالی ہے کیوں کہ اُردو کا علاقائی زبانوں سے رشتہ حریفانہ نہیں بلکہ دوستانہ ہے۔اردو اور علاقائی زبانوں نے ایک طرح کی فضا اور ماحول میں پرورش پائی ہے ،اس لیے ان میں جو اشتراکات موجود ہیں وہ مشترک ماحول اور فضا کی بدولت ہیں ۔اردو کا صوتی نظام ، لب و لہجہ، ساخت اور قواعد کے زیادہ تر اُصول مقامی بولیوں کے زیرِ اثر ہیں اس لیے ان میں نفرت اورتعصب کے بجائے محبت اور خلوص کا رشتہ استوار ہواہے ۔اس رشتے کو بعض ملک دشمن عناصر مغائرت اور اجنبیت میں بدل کر تعصب اور نفرت پیدا کرنا چاہتے ہیں تا کہ وہ اپنے مخصوص مقاصد حاصل کر سکیں ورنہ بلوچی ، سندھی ،پنجابی ، پشتو اورسرائیکی ایک ہی طرح کی فضا، ماحول اور معاشرت کی پروردہ ہیں ۔ان کے ظاہری خدو خال میں تو فرق ہو سکتا ہے لیکن ان کے باطن ایک جیسے ہیں اس لیے ان میں مغائرت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔علاقائی اشتراک کی بدولت ان کا علمی و ادبی سرمایہ ،اسلامی تہذیب سے اخذ و استفادہ اور صوفیہ کی سر پرستی کا سایہ ایک سا رہا ہے جو ان زبانوں کو اردو کے مزید قریب تر کر دیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اردو سے علاقائی زبانیں اخذ و استفادے کے عمل سے گزرتی رہتی ہیں اور اردو بھی مقامی زبانوں کے علمی و ادبی سرمایے سے مستفید ہونے میں باک محسوس نہیں کرتی جس کی بدولت اردو زبان کے لب و لہجے اور اسلوب میں نمایاں تغیرات وقوع پذیر ہوئے ہیں ۔ یہ تغیرات کسی کو اچھے لگیں یا برے،وہ زبان پر عوام کی حاکمیت کو ختم نہیں کر سکتے ۔علاقائی اور قومی زبان میں اخذ و استفادے کا یہ عمل چوں کہ آزادانہ وقوع پذیر ہو ا ہے اس لیےزبان پر کسی خاص طبقے کی اجارہ داری قایم نہیں رہے گی ۔
سید روح الامین اردو زبان کو قومی اتحاد و یگانگت کا ذریعہ ہی نہیں سمجھتے بلکہ وہ اس بات پربھی زور دیتے ہیں کہ اُردو زبان کو ذریعہ تعلیم بھی ہونا چاہیے جس کا ثبوت ان کی کتاب "اردو بطور ذریعہ تعلیم ” ہے ۔یہ بدیہی امر ہے کہ بچوں کو تعلیم ان کی مادری زبان میں دی جانی چاہیے۔دنیا بھر کی زندہ قومیں اس اصول پر کار بند دکھائی دیتی ہیں۔روسی ، جاپانی، چینی اور عربی قومیں اپنے بچوں کو مادری زبان میں تعلیم دیتی ہیں۔افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے ہاں اس ضرورت کو محسوس نہیں کیا جا رہا ۔ یہی وجہ ہے کہ ملازمتوں کے سلسلے میں انعقاد پذیر ہونے والے امتحانات اور مصاحبے انگریزی زبان میں ہوتے ہیں ۔ جس کی اردو کی نسبت ،انگریزی بہتر ہو گی وہ ان امتحانات میں کامیاب ٹھہرے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں اگر صحیح معنوں میں نسلِ نو کی تعلیم، تربیت اور ترقی پر توجہ دینا ہے تو قومی زبان کو ذریعہ تعلیم بنانے کے ساتھ ساتھ اسے سرکاری اور نجی دفاتر میں بھی رائج کرنا ہوگا تا کہ قومی اتحادو یگانگت قایم رکھنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی ، سائنسی اور تجارتی میدانوں میں ترقی کے زینے طے کیے جا سکیں ۔ڈاکٹر جمیل جالبی زبان کے بارے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے ،ذریعہ تعلیم میں زبان کی اہمیت کو طبقات سے جوڑتے ہیں ۔ان کا خیال ہے:
”جس قوم کی تعلیم زبوں حالی کا شکار ہو اس کی ترقی بھی مشکوک و معدوم ہو جاتی ہے۔دراصل ذریعہ تعلیم کا مسئلہ ہمارے ہاں طبقاتی کسمکش کا مسئلہ بن گیا ہے۔ہماراطبقہ خواص جو مجموعی آبادی کا ایک یا زیادہ سے زیادہ دو فی صد ہے ،نہیں چاہتا کہ عوام تعلیم یافتہ ہوکر اس کی جگہ لے لیں۔”(اردو بطور ذریعہ تعلیم،ص:12)
بالائی طبقہ کسی صورت نہیں چاہتا کہ ان کی اجارہ داری کا خاتمہ ہو ، اس لیے وہ ہمیشہ انگریزی زبان کے ذریعے تعلیم دینے کے حق میں دلائل دیتے ہیں۔سیدروح الامین اس نقطہ نظر کو من و عن قبول نہیں کرتے بلکہ سب سے بڑی دلیل تاریخی دلیل دیتے ہیں ان کا خیال ہے کہ "اردو پنجاب ،سر حد ،کشمیر اور بلوچستان میں انگریزی دورِ اقتدار میں تمام مذہبی اورعلاقائی گروہوں کے لیے اتفاق رائے کی زبان تھی۔”اگر اس وقت یہ قابلِ قبول تھی تو اب کیوں نہیں؟consensusسے منظور شدہ
سید روح الامین کا خیال ہے کہ اُردو وہی زبان ہے جس نے جدو جہدِ آزادی میں برِ صغیر کے مسلمانوں کا ساتھ دیا ،اس کے استعمال سے ہمارے زعما نے اپنا پیغام اس خطےکے قریے قریے تک پہنچایا۔اسی زبان نےانتشارزدہ قوم کو منظم کرنے میں اپناکردار ادا کیااور عوام میں ذہنی ،جذباتی ، فکری اور ثقافتی ہم آہنگی کو فروغ دیا۔یہ وہی زبان ہے جس میں ہمارا وقیع علمی و ادبی سرمایہ محفوظ ہے،اس لیے یہ ہمارے ماضی کی امین، حال کی ترجمان اور مستقبل کی آ ئینہ دار ہے۔قیامِ پاکستان کے بعد ہمارے راہنما ،اگر پاکستان میں منظم قوم کی تشکیل کے خواہاں ہیں تو انھیں لسانی اختلافات کا خاتمہ کر کےجمہوری اداروں کو مستحکم کرنا ہوگا ۔باہمی رنجشوں کو مٹا کر اتحاد ،قومی یگانگت اورآزادی کے احساس کو اجاگر کرنا ہوگا تاکہ ترقی کی راہیں مسدود ہونے سے محفوظ رہیں۔گونگی اور زبان سے عاری قومیں بے وقعت اور غیر مؤثر ہو کر رہ جاتی ہیں۔ سید روح الامین کی یہی بصیرت،انھیں قومی زبان کے نفاذ اور اس کی ترویج و ترقی پر ہمہ وقت گرمِ سفر رکھتی ہے

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post