فرانتز فینن ۔۔۔ بحیثیت  مابعد نوآبادیاتی مفکر : محمد عامر سہیل 

 

مابعد نوآبادیاتی تنقید کا سروکار اپنے خاص دائرہ فکر میں ادبی متون کی قرات و مطالعہ،تفہیم و تشریح اور تعبیر و تجزیہ کے ساتھ ہے۔چوں کہ یہ ثقافتی مطالعات اور مابعد جدیدیت کا حصہ ہے اس لیے اس میں معانی کی دریافت و بازیافت کی اولیت جبکہ ان کے تعین قدر کا معاملہ ثانوی ہے۔اور ظاہر ہے تعین قدر خالصتا جمالیات اور ذوق کے ساتھ مشروط ہے،نیز جو قاری/نقاد کے تعصب و ترجیح کی بھی مرہون منت ہے۔ادب میں شامل ہو کر مابعد نوآبادیاتی قرات جن بنیادی تعقلات سے مکالمہ کرتی ہے،ان کی یہاں وضاحت اضافی ہے۔یہاں بتانا مقصود یہ ہے کہ ادبی متون کی مابعد نوآبادیاتی قرات کے علاوہ استعمار کے عزائم،اس کی نفسیات،اس کی حکمت عملیوں،نوآباد کار اور مقامی باشندہ کا رشتہ اور اس رشتہ کی نوعیتوں کا تجزیہ کرنے والوں میں فرانتز فینن سرفہرست ہیں۔ فرانتز فینن کی سب سے بڑی عطا میں اس کی بیان کردہ نوآبادیاتی صورت حال،دیسی باشندہ کی نفسیات،مقامی دانشور کی سوچ اور مقامی سیاسی رائنما کا رویہ اور نوآبادیاتی جنگوں کا مقامیوں پر اثرات کا تجزیہ شامل ہے۔ذیل میں فرانتز فینن کے سوانحی نقوش اور اس کی ما بعد نوآبادیاتی فکر کا جائزہ لیا جائے گا۔یہ جائزہ اس کی دو کتابوں پر مشتمل ہوگا،تاہم انتہائی ضروری نکات پیش نظر رہیں گے۔

ماہر نفسیات،ماہر لسانیات،سیاسی مفکر و انقلابی شخصیت فرانتز فینن (Frantz Fanon) مابعد نوآبادیاتی مطالعات کے بنیاد گزار ہیں۔فرانسیسی استعماریت کے خلاف پہلے باقاعدہ مزاحمتی رویہ اختیار کرنے والے عظیم لکھاری ہیں۔فینن نے استعمار زدہ کی نفسیات کا مطالعہ کیا۔فینن سے قبل آکٹو مانونی (Octave Mannoni) نے نوآبادکار اور مقامی باشندے کی نفسیات پر روشنی ڈالی۔

مانونی کی کتاب The)

Psychology of  Colonization)

(1950ء) میں پہلی بار شایع ہوئی،جس پختگی سے فینن نے اپنی کتابوں میں نوآبادیاتی نظام کے اثرات کا مطالعہ کیا وہ اس سے قبل نظر نہیں آتا۔فینن 20 جولائی 1925ء میں (Martinizue) کے کیریبین جزیرے میں پیدا ہوا۔کیریبین جزیرہ اس وقت سے آج تک فرانسیسی کالونی ہے۔اس کا والد کیسیمر (Casimir) افریقی غلام جب کہ اس کی والدہ سفید فام نسل سے تعلق رکھتی تھی۔اس نے ابتدائی تعلیم مارکیٹنگ ہائی سکول لیسی(Lycee) سے حاصل کی۔وہ چوں کہ نوآبادیاتی ملک سے تعلق رکھتا تھا اس لیے اسے فرانسیسی آقاوں کی طرف سے جرمنی کے خلاف گوریلا جنگ لڑنا پڑی۔1943ء میں اٹھارہ سال کی عمر میں جزیرہ کریبین سے بھاگ کر برٹش کالونی (Dominiec) میں پہنچ کر آزاد فرانسیسی افواج میں شمولیت اختیار کی۔1945ء میں دوبارہ اپنے آبائی شہر مارٹینک میں واپسی اختیار کی۔وہاں اشتراکی نظریات سے جڑت کے باعث پارلیمنٹ میں نمائندگی حاصل کی۔

فینن کی شادی فرانسیسی سفید فام خاتون جوس ڈبل Jose Duble  سے ہوئی۔1951ء میں بطور ماہر نفسیات پریکٹس شروع کی۔1952ء میں فینن کی پہلی تصنیف Pean Noire, Masques Blance شایع ہوئی۔جس کا انگریزی ترجمہ Black Skin White Masks کے نام سے سامنے آیا۔اس کتاب میں فینن نے فرانسیسی نوآبادکار کے سیاہ فاموں  پر نفسیاتی اثرات کا تجزیہ کیا۔فرانسیسی استعماریت نے جن جن طریقوں اور جن جن ذرائع سے الجیرین اور کیریبین باشندوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر مقامی باشندوں نے جو نفسیاتی اثرات قبول کیے،ان سب کا جائزہ فینن نے لیا۔1956ء میں فینن نے الجیرین مریضوں کا نفسیاتی علاج کیا۔استعماریت نے جن حکمت عملیوں،متشدد رویوں اور بیانیوں سے مقامیوں کو فتح کیا،ان کا اثر مقامیوں پر نفسیاتی ہوا،جس کا سب سے اہم اظہار ‘مقامیوں کا خود کو کم تر قبول کر لینا اور ذہنی بنجر پن کا شکار ہو کر تخلیقی صلاحیتوں سے ہاتھ دھو بیٹھنا ہے’۔

فینن نے 1955ء میں الجیریا کی تحریک آزادی میں شمولیت اختیار کی،اور اگلے سال یعنی  1956ء میں فرانسیسی حکومت کو استعفی بھیج دیا۔1957ء میں فینن الجیریا سے فرانس وہاں سے تیونس چلا گیا۔اس نے الجیریا کی آزادی کےلئے ہر ممکن کوشش کی۔1960ء میں “لوکیمیا” کے مرض میں مبتلا ہو گیا۔1960ء میں نوآبادیاتی نظام کی اصل روح کو سمجھنے اور سمجھانے کےلیے The Wretched of Earth نامی کتاب لکھی،جو 1961ء میں پہلی بار شایع ہوئی۔فینن پھر تیونس سے میری لینڈ چلا گیا،جہاں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ میں شامل ہوا۔بالآخر یہ عظیم مفکر،دانشور اور انقلابی ذہن کا حامل مصنف سامراج کے خلاف لڑتا 6 دسمبر 1961ء میں فوت ہو گیا اور الجیریا میں دفن ہوا۔

فینن کی درج ذیل کتب مابعد نوآبادیاتی حوالے سے اہم ہیں:

1. Black Skin-White Mask (1952)

2. A Dying of Colonialism (1959)

3. The Wretched of Earth (1961)

4. Towards the African Revolution (After Death Published)

اب یہاں فینن کی دوسری اور تیسری بیان کردہ کتابوں سے اس کے فکری نکات کو بیان کیا جائے گا۔کوشش کی جائے گی کہ کم سے کم مگر اہم سے اہم نکات کو درج کیا جائے۔فینن کی کتاب  A Dying of ” Colonialism ” کا اردو ترجمہ:” سامراج کی موت” کے نام سے خالد محمود ایڈووکیٹ نے کیا،جو فکشن ہاوس لاہور سے پہلی بار 2012ء میں شایع ہوا۔جس کا دوسرا ایڈیشن 2017ء میں اشاعت کے مراحل سے گزرا۔اس کتاب کا بنیادی سروکار فرانسیسیوں کی ان حکمت عملیوں سے ہے،جن سے انھوں نے الجزائر کے باشندوں کو ثقافتی سطح پر مغلوب کیا۔فینن رد استعماریت کے طریقے بھی بتاتا ہے۔جنھیں اختیار کر کے سامراج کی موت کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔یہ کتاب ان لوازمات کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے،جن کی رو سے الجزائر کے لوگوں میں نفسیاتی سطح پر تبدیلی آئی اور ایسی تبدیلی جس نے فرانسیسی استعمار کے خلاف ایک منظم عوامی انقلاب کی صورت اختیار کر لی۔علاوہ ازیں فینن نے تمام آبادیوں کے مقامی باشندوں کو بھی استعمار سے جان چھڑانے کے طریقے،حیلے اور تدابیر بتائیں۔اس کتاب میں فینن نے نوآبادیاتی باشندوں کے ذہن سے وہ تمام تصورات ختم کرنا چاہے،جو نو آباد کار نے استعماری صورت حال پیدا کرنے کےلیے ابھارے تھے۔فینن استعمار زدہ کی ذہن سازی ان خطوط پر کرنا چاہتا ہے جس سے رد استعماریت ممکن ہو۔وہ بتاتا ہے کہ سب کچھ استعمار نہیں،بلکہ ہم،ہماری تہذیب،ہماری زبان اور ہماری اقدار سب درست ہیں۔وہ مقامی باشندے کی اساطیری تصویر جو استعمار نے بنائی،کو رد کرتا ہے۔

فینن کی مابعد نوآبادیاتی فکر کی حامل زیر مطالعہ  دوسری اہم کتاب (The Wretched of Earth ) ہے۔بقول قاضی جاوید جو نوآبادیاتی نظام اور اس کی باقیات سے لڑنے والوں کےلیے بائبل کی حیثیت رکھتی ہے۔اس کا اردو ترجمہ ” افتادگان خاک” کے نام سے محمد پرویز اور سجاد باقر رضوی نے کیا۔جو پہلی بار لاہور،نگارشات کے ادارے سے مارچ 1969ء میں شایع ہوا۔فینن کی مذکورہ کتاب کے نام کا اردو ترجمہ ڈاکٹر محمد اجمل نے کیا۔

اس کتاب کا دیباچہ ژاں پال سارتر نے لکھا ہے۔دیباچہ میں دو چیزیں جو یہاں قابل ذکر ہیں۔

اول سارتر نے دیباچہ میں فینن کی مذکورہ کتاب سے اخذ کردہ اہم نکات کا تجزیہ کیا۔دوم سارتر نے خود کو استعمار کا نمائندہ ظاہر کر کے بات کی ہے۔

پہلے سلسلے میں سارتر نے فینن کے حوالے سے استعماری حکمت عملیوں، استعماریت کے متشدد اور نقصان دہ استعماری صورت حال کا ذکر کیا ہے۔حکمت عملیاں یہ ہیں۔

* استعمار نے مقامیوں کو طبقات میں تقسیم کیا۔جس سے مقامیوں کی طاقت کمزور پڑ گئی۔

* نوآبادکار نے مقامیوں میں نسلی امتیازات نمایاں کیے۔یہ بھی مقامیوں کو توڑنے کےلیے تھا۔

* مقامیوں کو فاصلہ پر رکھا۔تاکہ ان کی انسانیت ختم ہو جائے اور وہ خود کو کم تر سمجھنے لگیں۔

* دیسی باشندوں کو جانوروں خصوصا بندوں جیسا قرار دیا جو ” انسان” یعنی نوآبادکار کی نقل اتارتے ہیں ۔

دوسرے سلسلے میں سارتر نے ان نکات کو نشان زد کیا جو استعمار کے متشدد رویے اور اس کی استعماریت کو نمایاں کرتے ہیں۔

* مقامی روایات کو مٹایا گیا۔

* مقامیوں کی زبان چھین کر نوآبادکار نے انھیں اپنی زبان دی۔

* مقامی تہذیب کو بےوقعت اور مردہ قرار دے کر ترک کرنے کی ترغیب دی۔

* مقامیوں میں استعمار کا خوف،دہشت اور ڈر پیدا کرنے کےلیے پولیس اور فوج کے محکمے بنا کر کسانوں کو کوڑے مارے گئے،ان سے استعماری خواہش اور مفاد کی فصلیں کاشت کروائی گئیں،نیز مزاحمتی کو گولی مارنے تک کی کاروائی کی گئی۔

دیباچہ میں راقم نے یہ بات محسوس کی ہے کہ سارتر نے خود کو استعمار کا نمائندہ بنا کر پیش کیا ہے۔ذیل میں وہ چند نکات بیان کیے جاتے ہیں جو بذات خود استعمار (سارتر) کی اس سوچ کو واضح کریں گے جو فینن کی کتاب پڑھ کر متشکل ہوئی۔چند اقتباس ملاحظہ ہوں:

” الجیریا اور انگولا میں اگر یورپی دکھائی دے تو قتل کر دیا جاتا ہے،یہ وہ وقت ہے کہ جب ہمارے ہتھیار ہماری سمت واپس لوٹ رہے ہیں ۔۔۔ اب اس کا رخ ہماری طرف ہے۔اس کی ضرب ہم پر پڑ رہی ہے۔مگر ہم پہلے ہی کی طرح اب بھی اس بات کو نہیں سمجھتے کہ ہم نے ہی اس کا آغاز کیا تھا۔”

” آپ کو یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ ہم استحصال کنندہ ہیں۔آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ ہم نے ‘ نئے براعظموں ‘ میں پہلے سونے اور دھاتوں پر ہاتھ صاف کیا اور پھر ان کے پٹرول پر۔”

” آج تشدد ہر جگہ رکاوٹیں پانے کے بعد ،ہمارے سپاہیوں کے ذریعے ہماری طرف واپس آ رہا ہے اور ہمارے اندر آ کر ہم پر قابض ہو رہا ہے،چکر شروع ہو رہا ہے،دیسی باشندہ اپنی تخلیق کر رہا ہے اور ہم نوآبادکار اور یورپی،انتہا اور آزاد خیال ہم سب ٹوٹ رہے ہیں۔”

سارتر کے بیان کردہ مذکورہ اقتباسات جو فینن کی کتاب کے دیباچہ سے یہاں نقل کیے گئے ہیں کا مزید تجزیہ غیر ضروری ہے۔تاہم یہ سمجھنے میں دقت نہیں کہ استعمار یہ بات سمجھ چکا ہے کہ اب مقامی دانشور رد استعماریت کی طرف ہو رہا ہے۔اور حقیقی رد استعماریت کیا ہے وہ آگے فینن کے حوالے سے ذکر کریں گے۔

فینن کی اس کتاب میں سے دو چیزیں جنھیں میں ضروری سمجھتا ہوں،کو یہاں بیان کروں گا۔اول فینن کی نظر میں نوآبادیاتی نظام کےلیے  استعماری حکمت عملیاں دوم فینن کی استعمار مخالف (رد استعماریت) حکمت عملیاں۔

یاد رکھیں یہ دونوں چیزیں بہت اہم ہیں کہ نوآبادیاتی صورت حال کیسے پیدا ہوتی ہے یا ہو سکتی ہے اور پھر نوآبادیاتی صورت حال سے کیسے جان چڑھائی جا سکتی ہے یا چھڑا سکتے ہیں۔اول الذکر کا تعلق نوآبادکار کے ساتھ ہے جبکہ موخر الذکر کا تعلق مقامی باشندے/ استعمار زدہ کے ساتھ ہے۔پہلے کو استعمار اپنا کر مقامی کو ذہنی و جسمانی غلام بناتا ہے،دوسرے کو مقامی/ مغلوب اپنا کر اس جسمانی و ذہنی غلامی سے باہر آتا ہے۔سو ان دونوں کو سمجھنا مابعد نوآبادیاتی عہد میں بھی بہت ضروری ہے کہ حقیقی آزادی جسمانی کے ساتھ ساتھ ذہنی،لسانی،ثقافتی اور تعلیمی   ہے۔

فینن مندرجہ ذیل حکمت عملیاں بتاتا ہے جنھیں استعمار نوآبادیاتی صورت حال پیدا کرنے کےلیے اختیار کرتا ہے۔ان میں بیانیے بھی شامل ہیں جو غیر مصدقہ ہوتے ہیں۔

* استعمار کہتا ہے کہ  دیسی باشندہ اخلاقیات سے بے بہرہ ہے۔

* سفید فام اقدار کی برتری کو مقامی کے ذہنوں میں راسخ کیا جاتا ہے،یعنی فاصلہ رکھ کر،تشدد کر کے،اور علاوہ ازیں ۔۔۔۔

* مقامی دانشور کو ساتھ ملا لینا کہ وہ عوام سے رابطہ رکھ کر انھیں اعمتاد میں لیتا رہے۔

* استعمار کہتا ہے کہ مقامیوں کی تاریخ وہی بناتا ہے اور نوآبادی والی سرزمین بھی استعمار کی تخلیق کردہ ہے۔اس پہ کلی اختیار استعمار کا ہے۔

* دیسی باشندوں میں نسلی امتیاز ابھارا جاتا ہے کہ وہ مل کر کسی مزاحمت کو اختیار نا کر سکیں۔

* استعمار کے مطابق نوآبادی پر اختیار خدا کا عطا کردہ ہے۔اس طرح بقول فینن استعمار روحانی جمود پیدا کر دیتا ہے۔

*دیسی باشندہ کو یہ باور کرایا جات اہے کہ یہ تاریخ کا بہاو ہے۔اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ دیسی باشندہ اپنی کمزوریوں کو نا سمجھے اور نوآبادیاتی صورت حال کو قبول کر لے کہ اس نے ایسے ہی ہونا تھا۔یہ سوچ مقامی کو بے عملی کا شکار کر دیتی ہے۔

* مقامی سے فاصلہ رکھا جاتا ہے،جس سے وہ احساس کمتری میں مبتلا ہو جاتا ہے۔

* آزادی کا خواب نہیں دیکھنے دیا جاتا۔

* کنڑول کےلیے پولیس اور فوج کا استعمال کیا جاتا ہے۔

معلوم ہے کہ یہ نئی باتیں نہیں ہیں۔تاریخ اور مابعد نوآبادیاتی فکر کا طالب علم انھیں جانتا ہے مگر ان کا اعادہ اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ ہم مسلسل اس چیز کو سامنے رکھتے آئندہ کےلیے محتاط رہیں۔

مذکورہ جتنے بیانات ہیں ان کا تعلق حقیقت کے ساتھ نہیں ہے۔

ہر چیز کا نتیجہ ہوتا ہے،کوئی بھی کیفیت،صورت،حالت،جذبہ اور سوچ تبدیل ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی۔نوآبادیاتی صورت حال سے نجات پانے کےلیے انھیں حکمت عملیوں کو اپنانا ہوگا جن سے یہ صورت حال پیدا ہوئی تھی۔فینن وہ پہلا مابعد نوآبادیاتی مفکر ہے جس نے باقاعدہ استعمار شکست رویوں کو اجاگر کیا ۔اور حقیقی آزادی کی راہ دکھائی۔

اس بات میں دورائے نہیں کہ مابعد نوآبادیاتی عہد جدید استعماری حکمت عملیوں کے ساتھ رواں دواں ہے۔ان کا ذکر اسی صورت ہو گا جب سابقہ نوآبادیاتی ممالک نوآبادیاتی صورت حال سے باہر آئیں گے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پہلے نوآبادیاتی نظام کی باقیات کو شکست دے کر نوآبادیاتی نظام کا رد کیا ہے۔اس کے بعد جدید استعماری حکمت عملیوں کا رد ہوگا۔اس باب میں فینن نے جن استعمار شکن رویوں،کاروائیوں،تدبیروں اور حکمت عملیوں کو بیان کیا ہے،ان کا ذکر یہاں کیا جاتا ہے۔جن پر عمل پیرا ہو کر نوآبادیاتی عہد میں پروان چڑھنے والی ذہنی غلامی سے نجات ممکن ہے۔پیرا گراف کی شکل میں تحریر کرنے سے بہتر یہی ہے کہ نکات کی صورت میں فینن کی بیان کردہ استعمار شکن تجاویز کو رقم کیا جاتا ہے۔

* استعمار کی حقیقی شکست پورا معاشرتی ڈھانچہ بدلنے میں ہے۔

* مقامی اپنی اقدار کی تلاش کریں جو نوآبادیاتی عہد میں کھو گئی تھیں،اور اپنے انداز،طور اطوار خود پیدا کریں۔

* استعمار کی شکست نئے انسانوں کی تخلیق ہے،جن کے خون میں استعمار مخالفت جذبات شامل ہوں،وہ اپنی تہذیب اور  اپنی اقدار سے محبت کرنے والے ہوں۔

* مقامی باشندوں کو باور کرایا جائے کی تمام انسان برابر ہیں۔

* اسی تشدد سے استعمار کا مقابلہ کیا جائے جس تشدد کا اظہار استعمار نے کیا۔

* یورپ کو اپنے حال پر چھوڑ دو،وہاں انسانیت کے پرچار کے جھوٹے دعوے کیے جاتے ہیں مگر جہاں انھیں انسان نظر آتا ہے،اسے قتل کر دیتے ہیں۔

* یورپ نے دنیا کی رائنمائی کا کام بےلحاظی اور تشدد کے ساتھ سر انجام دیا ہے۔اس کے متشدد رویے نے اس سے عاجزی،انکساری،لجاجت اور ملائمیت ایسے اوصاف چھین لیے ہیں۔

* ہمارے پاس یورپ کی پیروی کے علاوہ زیادہ بہتر کام ہیں،یورپی کھیل ختم ہو چکا ہے اس لیے ہمیں کچھ اور تلاش کرنا چاہیے۔

* ہم سب کچھ کر سکتے ہیں،ہاں یورپ کی نقالی ترک کریں اور اس کی ہمسری کرنے کی خواہش کو چھوڑ دیں۔

* یورپ گہری کھائی میں گر رہا ہے،لہذا ہم یورپ کی اس گمرائی سے بچیں۔یعنی اس کی نقل چھوڑ دیں۔

* ہمیں یورپی کارناموں،یورپی تکینک اور یورپی اسالیب پر ریجھ کر اپنا توازن نہیں کھونا چاہیے کہ ان میں انسان کی نفی ہے۔

* ہم یورپ کے خلاف متحد ہو جائیں،ہمارا انحصار اپنے بازو اور ذہن ہونا چاہیے۔

* ہم اس انسان کی تخلیق کریں،جس کو یورپ برتری کے تصور کے تحت جنم دینے میں ناکام رہا ہے۔

* ہم یورپ کے جمود میں کھڑے ہیں،ہمیں اس جمود سے بھاگنا چاہیے۔

* یورپ سے حسد کرنا ترک کریں۔ہم اس سے ڈرنا چھوڑ دیں۔

* تیسری دنیا ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرے،جنھیں یورپ حل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

* یورپ کو یہ بتانا ضروری ہے کہ اس نے تعظیم انسانیت کو روا نہیں رکھا لیکن اب وہ گیت گانا اور خوشی سے ناچنا بند کرے۔

* ہم یورپ سے فیضان حاصل کرنے والی ریاستیں،ادارے اور مجلسیں قائم کر کے مزید اسے خراج تحسین پیش نہ کریں۔

* اپنے ملکوں کی تقدیر کو یورپ کے ہاتھوں سے نکالیں اور انسانیت کو دیکھیں۔

* انسانیت کو بڑھتا دیکھنا ہے تو ہمیں دریافتیں اور ایجادیں  کرنا ہوں گی۔

* یورپ کےلیے،اپنے لیے،اور انسانیت کےلیے ہمیں نئے انسان کو اس کے قدموں پر کھڑا کرنا ہو گا۔

مذکورہ بالا استعمار شکن نکات فینن کی مابعد نوآبادیاتی فکر کو پیش کرتے ہیں۔فینن کی فکر کا خلاصہ یہ ہے کہ اب یورپ کی طرف دیکھنا چھوڑ دیں،اس وقت ہمیں اس نئے انسان کی تخلیق کرنے کی ضرورت ہے جس میں انسان دوستی ہو اور متشدد رویوں سے پاک ہو۔غیر یورپ کو اپنے پاوں پہ کھڑا ہونا چاہیے،اس کےلیے نئی دریافتیں اور ایجادیں کرنا ہوں گی۔

فینن نے خطابیہ اسلوب میں اپنی گزارشات اور سفارشات کو پیش کیا ہے۔

” اب مجھے افسوس اور دکھ کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے،کہ آخر فینن کے استعمار شکن نکات کا مطالعہ ہمارے دانشوروں نے ضرور کیا ہو گا،لیکن اس کے باوجود ہمارے اندر تبدیلی نہیں آئی۔استعمار،نوآبادیات،مقامی باشندہ،حکمت عملیاں،شکست،غالب ،مغلوب،استحصال،بربریت،ظلم،جبر ۔۔۔ یہ وہ ۔۔۔ کتنا لکھا پڑھا گیا ۔۔۔اس کے باوجود تبدیلی نہیں آ رہی ۔۔۔ خیر ”

فینن نے اس کتاب میں Mimicry اور Ambivalence کا واضح ذکر کیا ہے،جنھیں بعد ازاں ہومی کے بھابھا نے باقاعدہ مابعد نوآبادیاتی اصطلاحات کا درجہ دیا۔

فینن نے اس کتاب میں ‘تشدد کا نظریہ’ پیش کیا۔اس کے مطابق مقامی باشندوں میں تشدد کا فروغ اسی تناسب سے ہوگا،جس تناسب سے وہ خطرہ محسوس کرے گا۔اس کے علاوہ فینن نے اس کتاب میں مقامی دانشوروں کی سوچ،سیاسی رائنماوں کا حال اور قومی شعور پہ روشنی ڈالی ہے۔فینن نے جو انتہائی اہم بات کی ہے وہ یہ کہ جس طور طریقوں سے استعمار کار مقامی باشندے کی اساطیری تصویر بناتا ہے  اور اس کو سراپا برائی پیش کرتا ہئ،بالکل اسی طرح مقامی باشندہ/مقامی دانشور/ مابعد نوآبادیاتی مفکر کو چاہیے کہ وہ بھی استعمار کی اساطیری تصویر بنائے،جس میں وہ ‘سراپا برائی’ ظاہر ہو۔نتیجتا مقامی باشندے استعمار کی نقل ترک کرے کے،انسانیت کا پرچار کر کے،استعمار کی بھیانک اساطیری تصویر بنا کر،رداستعماریت ممکن کر سکتا ہے۔فینن نے استعمار کار اور مقامی باشندے کی نفسیات کا گہرا مطالعہ کیا ہے۔اس نے مقامی اور نوآبادکار کی زندگی میں جو تضاد ہے،اس کو اجاگر کر کے مقامی پر اس کے اثرات کا تجزیہ کیا ہے۔اس تمام صورت حال کے پیش نظر فینن مابعد نوآبادیاتی مفکر اور استعمار شکن دانشور کے طور پر سامنے آتے ہیں۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post