علی سردار جعفری کی شاعری میں محبت،امن اور اتحاد : رانا مجاہد حسین

شاعری کی ایسی جامع تعریف جس کا اطلاق اُس کے ہر پہلو اور ہر صورت پر ہو سکے بہت مشکل ہے۔ لارڈ میگالے جیسے ماہر علم و ادب نے بھی غیر مکمل تعریف کر کے اسی بات کا اعتراف کیا ہے کہ شاعری جیسا کہ دو ہزار برس پہلے کہا گیا تھا ایک قسم کی نقالی ہے جو اکثر اعتبارات سے مصوری، بُت تراشی اور ناٹک سے مشابہ ہے۔ شاعری الفاظ کی ترتیب و تنظیم کا ایسا اظہار ہے جو بحور کی اشکلال میں پابندِ عروض ہوتی ہے اور یوں اس اظہار میں آراستہ و پیراستہ افکار و محسوسات کا ایک حسین تاثر قائم ہو جاتا ہے۔ شاعری ایک فنکارانہ تخلیق ہے جو خوشگوار اور مسحور کن اثرات چھوڑتی ہے۔ شاعری کی نمایاں خصوصیات وحدت، توازن، ہم آہنگی اور خوش آہنگی ہیں۔ نغمگی شاعری کی روح رواں ہے اور خود نغمگی خوب صورت بندشوں کی پیدا کردہ ایک تحریک ہے۔ جب تک الفاظ نثری شکل میں ہوتے ہیں وہ حقیقی احساسات کے لیے کوئی دیرپا اثر نہیں چھوڑتے اور جیسے ہی انھیں غنائی تنظیم و تربیت میں ڈھالا جاتا ہے وہ ایک نغمہ و معنی کے محیط دائرے کی صورت میں مرتعش ہو جاتے ہیں۔ وہی جھنجھنا اٹھتے ہیں، بولتے ہیں اور کبھی تو یہ اس طور پر بول اٹھتے ہیں کہ ان کا جمال و جلال بہ تمام و کمال ایک پیکر کی صورت میں چلتا پھرتا اور گنگناتا، گرجتا نظر آتا ہے۔ لفظوں کے کارواں بانگِ درا، صدائے جرس آواز کوس کے ملے جلے تاثرات لیے سوئے منزل اک پیغام زندگی گاتے ہوئے رواں ہر دم جواں نظر آتے ہیں۔ ملٹن کہتا ہے ’سب سے عمدہ نظم وہ ہے جو سادہ، نازک خیال اور مؤثر ہو۔
اردو شاعری کے تہذیبی و ثقافتی پس منظر کا جائزہ لیں تو بقول وزیر آغا:
’’اردو شاعری کے مزاج سے آشنا ہونے کے لیے اس برصغیر کے سارے ثقافتی اور تہذیبی پس منظر کو ملحوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ یہ اس لیے کہ شعر کا مزاج دراصل دھرتی کے مزاج سے تشکیل پذیر ہوتا ہے۔‘‘
اردو شاعری کو اگر اس تناظر میں دیکھیں تو شاعری کو بادشاہوں کی نشان و شکوہ اور ان کے فاتحانہ نغموں کے اظہار کے لیے ذریعۂ اظہار کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ ہومر کی شاعری یا جزیروں پر بسنے والے قبائلی لوگوں کے لوک گیت یا لوک داستان جنھیں ساگا گیت (Sagas Songs) بھی کہا جاتا ہے۔ گیت کے اظہار کی شکل رقص ہے۔گیت جذبات و احساسات کو بیان کرنے کی صورت ہے اور رقص اس کے کاملِ اظہار کا ذریعہ۔یہ ساگا گیت اس لیے گائے جاتے تھے کہ وہ اربابِ اقتدار اور اشراف کی عیش و خورو نوش کی محفلوں کے تزک و احتشام کی ایک خوب صورت تصویر پیش کرتے آئے ہیں۔ قدیم عہد میں چوں کہ رسم الحظ کا رواج زیادہ نہ تھا اس وجہ سے ان گیتوں، داستانوں اور نظموں کو یاد کر لیا جاتا تھا۔ ان گیتوں یا داستانوں کی طوالت کو کم کرنے کے لیے تا کہ یہ بہ آسانی یاد و حفظ کی جا سکیں، انھیں چھوٹے چھوٹے بندوں اور قطعات میں باندھ لیا جاتا تھا۔ ان کا طرزِ بیان اور اظہار ادا غنائی ہوتا تھا تا کہ نغمگی کی دل آویزی کے سبب قوت حافظہ پر زیادہ بار نہ پڑ سکے اور انسانی ذہن کے لیے یہ گیت سرور انگیزیوں کا سامان بہم پہنچا سکیں۔ غنائیت قدیم شاعری کی ایک ممتاز صفت تھی۔ نغمگی غنائیت کا سب سے بڑا فائدہ یہ تھا کہ ان میں از خود ازبر ہو جانے کی بے پناہ صلاحیت ہوا کرتی تھی۔ اس تاریخی حوالے کے پس منظر میں دیکھیں تو ڈاکٹر وزیر آغا کے بیان کو مزید تقویت ملتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ:
’’گویا یہ تینوں اصناف شعر یعنی گیت، غزل اور نظم نہ صرف اردو شاعری کے تدریجی ارتقا کو پیش کرتی ہیں بل کہ اس برصغیر کے ثقافتی اور تہذیبی ارتقا کی بھی عکاس ہیں۔‘‘
اردو شاعری میں جب ہم محبت اور امن کے موضوعات پر لکھنے والے جن چند شعراء و ادبا کاذکرکرتے ہیں ان کی فہرست میں ن۔م راشد،میراجی اور فیض احمد فیض کے بعد جو نام ہمارے سامنے آتا ہے وہ معروف شاعر و ادیب علی سردار جعفری کا ہے۔آپ جہاں ترقی پسند کے ایک ممتاز شاعر تھے وہیں آپ نے ایک اعلی ادیب، نقاد اور ایک دانشور کے طور پر بھی اپنی ایک منفرد پہچان بنائی۔ اس کے علاوہ رسالہ ’گفتگو‘ کے مدیر فرائض انجام دیتے رہے اور ساتھ ہی اردو زبان کے مختلف شعرا ء پر دستاویزی فلمیں بھی بنائیں۔
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ علی سردار جعفری ترقی پسند ادبی تحریک کے ساتھ ساتھ کمیونسٹ پارٹی کے ایک فعال رکن کی حیثیت سے قوم کو بیدار کرنے کا کام بھی انجام دیتے رہے اس کے علاوہ آپ ٹریڈ یونین کی سرگرمیوں میں اپنی پوری مستعدی سے حصہ لیتے رہے اور اپنی شاعری کے ذریعے، وہ عوام میں سیاسی شعور پیدا کرنے کی کوشش کرتے تھے۔
آپ کی پیدائش اترپردیش کے گونڈہ ضلع کے بلرامپور میں 29 نومبر 1913ء کو ہوئی۔ آپ نے لکھنؤ میں ایک مذہبی ماحول میں پرورش پائی۔ جبکہ اعلیٰ تعلیم آپ نے لکھنؤ یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور یہاں سے علی سردار جعفری نے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ آپ بچپن سے ہی بہت ذہین واقع ہوئے تھے آپ کی ذہانت کا یہ عالم تھا کہ آٹھ سال کی عمر میں وہ انیس کے مرثیوں میں سے 1000 اشعار نہ صرف زبانی یاد تھے بلک انھیں روانی سے پڑھتے تھے۔ آپ نے اپنی ادبی زندگی کا باقاعدہ آغاز پندرہ برس کی عمر سے کیا اور اپنے ادبی سفر کی شروعات افسانہ نگاری سے کی۔ 1938ء میں آپ کا پہلا افسانوں کا مجموعہ‘‘منزل’’شائع ہوا۔ لیکن اس کے بعد جلدی ہی جعفری نے اپنی تمام تر توجہ شاعری کی طرف مرکوز کر دی۔لیکن یہاں قابل ذکر ہے کہ علی سردار جعفری نے اپنی شاعری میں محبوب کی زلف کے پیچ و خم کو سنوارنے کی بجائے شاعری میں انقلابی اور حب الوطنی سے جڑے موضوعات کو اپنے اظہارِ خیال کا ذریعہ بنایا۔ اپنی انقلابی شاعری کی آپ کو قیمت بھی چکانی پڑی یعنی اس کی وجہ علی سردار جعفری کو 1940ء میں گرفتار کر لیا گیا۔
لیکن اس کے باوجود علی سردار جعفری کمیونسٹ پارٹی کے ایک رکن کے طور پر مسلسل کام کرتے رہے اور ساتھ ہی ٹریڈ یونین کی سرگرمیوں میں مستعدی سے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے اور اپنی شاعری کے ذریعے آپ عوام میں سیاسی شعور پیدا کرنے تا عمر کوشش کرتے رہے۔ علی سردار جعفری کے انقلابی تحریک سے لبریز چند اشعار آپ بھی یہاں دیکھیں کہ:
اسی لیے تو ہے زنداں کو جستجو میری
کہ مفلسی کو سکھائی ہے سرکشی میں نے
انقلاب آئے گا رفتار سے مایوس نہ ہو
بہت آہستہ نہیں ہے جو بہت تیز نہیں
بہت برباد ہیں لیکن صدائے انقلاب آئے
وہیں سے وہ پکار اٹھے گا جو ذرہ جہاں ہوگا
پرانے سال کی ٹھٹھری ہوئی پرچھائیاں سمٹیں
نئے دن کا نیا سورج افق پر اٹھتا آتا ہے
دامن جھٹک کے وادء غم سے گزر گیا
اٹھ اٹھ کے دیکھتی رہی گرد سفر مجھے
سو ملیں زندگی سے سوغاتیں
ہم کو آوارگی ہی راس آئی
مقتل شوق کے آداب نرالے ہیں بہت
دل بھی قاتل کو دیا کرتے ہیں سر سے پہلے
آپ کی نظمیں بھی اردو ادب بہترین و بیش قیمتی سرمایہ ہیں نظم‘‘اب بھی روشن ہیں’’میں سے دو بند آپ بھی یہاں دیکھیں کہ:
اب بھی روشن ہیں وہی دست حنا آلودہ
ریگ صحرا ہے نہ قدموں کے نشاں باقی ہیں
خشک اشکوں کی ندی خون کی ٹھہری ہوئی دھار
بھولے بسرے ہوئے لمحات کے سوکھے ہوئے خار
ہاتھ اٹھائے ہوئے افلاک کی جانب اشجار
کامرانی ہی کی گنتی نہ ہزیمت کا شمار
صرف اک درد کا جنگل ہے فقط ہو کا دیار
جب گزرتی ہے مگر خوابوں کے ویرانے سے
اشک آلودہ تبسم کے چراغوں کی قطار
جگمگا اٹھتے ہیں گیسوئے صبا آلودہ

ٹولیاں آتی ہیں نوعمر تمناؤں کی
دشت بے رنگ خموشی میں مچاتی ہوئی شور
پھول ماتھے سے برستے ہیں نظر سے تارے
ایک اک گام پہ جادو کے محل بنتے ہیں
ندیاں بہتی ہیں آنچل سے ہوا چلتی ہے
پتیاں ہنستی ہیں اڑتا ہے کرن کا سونا
ایسا لگتا ہے کہ بے رحم نہیں ہے دنیا
ایسا لگتا ہے کہ بے ظلم زمانے کے ہیں ہاتھ
بے وفائی بھی ہو جس طرح وفا آلودہ
ایک دوسری نظم ’’بہت قریب ہو تم’’میں سے بھی چند اشعار دیکھیں کہ:
بہت قریب ہو تم پھر بھی مجھ سے کتنی دور
کہ دل کہیں ہے نظر ہے کہیں کہیں تم ہو
وہ جس کو پی نہ سکی میری شعلہ آشامی
وہ کوزۂ شکر و جام انگبیں تم ہو
مرے مزاج میں آشفتگی صبا کی ہے
ملی کلی کی ادا گل کی تمکنت تم کو
صبا کی گود میں پھر بھی صبا سے بیگانہ
وفا بھی جس پہ ہے نازاں وہ بے وفا تم ہو
جو کھو گئی ہے مرے دل کی وہ صدا تم ہو
بہت قریب ہو تم پھر بھی مجھ سے کتنی دور
حجاب جسم ابھی ہے حجاب روح ابھی
ابھی تو منزل صد مہر و ماہ باقی ہے
حجاب فاصلہ ہائے نگاہ باقی ہے
وصال یار ابھی تک ہے آرزو کا فریب
تمام حسن و حقیقت تمام افسانہ
علی سردار جعفری کی ایک اور بہت ہی خوبصورت نظم ’’چاند کو رخصت کردو‘‘ سے چند اشعار دیکھیں کہ:
میرے دروازے سے اب چاند کو رخصت کر دو
ساتھ آیا ہے تمہارے جو تمہارے گھر سے
اپنے ماتھے سے ہٹا دو یہ چمکتا ہوا تاج
پھینک دو جسم سے کرنوں کا سنہرا زیور
تم ہی تنہا مرے غم خانے میں آ سکتی ہو
ایک مدت سے تمہارے ہی لیے رکھا ہے
میرے جلتے ہوئے سینے کا دہکتا ہوا چاند
دل خوں گشتہ کا ہنستا ہوا خوش رنگ گلاب
آپ کی ایک اور نظم ہے جو آج بھی ہندوستان پاکستان کے مابین رشتوں کو پختہ کرنے اور امن و امان کے قیام کی دعوت دیتے ہوئے محسوس ہوتی ہے۔ نظم کا عنوان ہے ’’تمہارا ہاتھ بڑھا ہے جو دوستی کے لیے‘‘ آپ بھی دیکھیں کہ:
تمہارا ہاتھ بڑھا ہے جو دوستی کے لیے
مرے لیے ہے وہ اک یار غم گسار کا ہاتھ
وہ ہاتھ شاخ گل گلشن تمنا ہے
مہک رہا ہے مرے ہاتھ میں بہار کا ہاتھ

خدا کرے کہ سلامت رہیں یہ ہاتھ اپنے
عطا ہوئے ہیں جو زلفیں سنوارنے کے لیے
زمیں سے نقش مٹانے کو ظلم و نفرت کا
فلک سے چاند ستارے اتارنے کے لیے

زمین پاک ہمارے جگر کا ٹکڑا ہے
ہمیں عزیز ہے دہلی و لکھنؤ کی طرح
تمہارے لہجے میں میری نوا کا لہجہ ہے
تمہارا دل ہے حسیں میری آرزو کی طرح

کریں یہ عہد کہ اوزار جنگ جتنے ہیں
انہیں مٹانا ہے اور خاک میں ملانا ہے
کریں یہ عہد کہ ارباب جنگ ہیں جتنے
انہیں شرافت و انسانیت سکھانا ہے

جئیں تمام حسینان خیبر و لاہور
جئیں تمام جوانان جنت کشمیر

ہو لب پہ نغمۂ مہر و فا کی تابانی
کتاب دل پہ فقط حرف عشق ہو تحریر

تم آؤ گلشن لاہور سے چمن بردوش
ہم آئیں صبح بنارس کی روشنی لے کر
ہمالیہ کی ہواؤں کی تازگی لے کر
پھر اس کے بعد یہ پوچھیں کہ کون دشمن ہے
اسی طرح ایک اور نظم جس میں انھوں نے ہند پاک دوستی کے تعلق سے بات چیت کی ہے جو موجودہ حالات میں امن اتحاد اورمحبت کے حوالے سے علی سردار جعفری کی یہ نظم خصوصی اہمیت کی حامل بن کر سامنے آتی ہے عنوان ہے ’’گفتگو‘‘ چنداشعارملاحظہ فرمائیں آپ بھی دیکھیں:
گفتگو بند نہ ہو
بات سے بات چلے
صبح تک شام ملاقات چلے
ہم پہ ہنستی ہوئی یہ تاروں بھری رات چلے
مذہب آپس میں بیر رکھنا نہیں سکھاتا اور ہر ایک میں احترامِ انسانیت کی تعلیم دی گئی ہے۔ ادب میں تو یہ تعلیم سب سے واضح شکل میں ملتی ہے۔ میں سمجھتاہوں ادیب ایک مصلح بھی ہوتاہے وہ اپنے تئیں سماج کی اصلاح بھی کرتاہے
آج کی چیختی، کراہتی اور مختلف تعصبات سے بھری دنیا میں اِس بات کی سب سے زیادہ ضرورت ہے کہ انسان خواہ اُس کا تعلق کسی مذہب و مسلک سے ہو، رنگ و نسل کے اعتبار سے کیسا ہی ہو، کوئی زبان بولنے والا ہو، کہیں کا رہنے والا ہو، تہذیب و تمدن کے اعتبار سے جیسا کچھ بھی اختلاف ہو، کسی جماعت، پارٹی اور کسی منصب و عہدہ سے وابستہ ہو وہ سب سے پہلے اپنے ’’انسان‘‘ ہونے کو جانے اور پہچانے، اِس کی حقیقت اور حیثیت پر نظر رکھے۔ وہ یہ سمجھے کہ کسی انسان کی تکلیف میری تکلیف ہے، کسی انسان کا قتل میرا قتل ہے، کسی انسان کا گھر جل رہا ہے اور دوکان تباہ ہورہی تو وہ میرا ہی گھر اور میری ہی دوکان ہے۔ کسی عورت کا سہاگ لُٹ رہا ہے اور کوئی بچہ یتیم ہورہا ہے تو یہ حادثہ میرے اپنے گھر کا ہے، خنجر کسی پر چل رہا ہو اور تڑپ یہ رہا ہو اور اس کی شخصیت میں اِس شعر کی حقیقت گھل مل گئی ہو :
تمام عمر اِسی احتیاط میں گزری
کہ آشیاں کسی شاخِ چمن پہ بار نہ ہو
معروف امریکی ماہر لسانیات ونفر ڈپی نے دنیا کی تمام زبانوں کو سات لسانی خاندانوں میں تقسیم کیا ہے۔ ہند یورپی ان تمام خاندانوں میں سب سے بڑا لسانی خاندان ہے۔اردو زبان کا تعلق بھی بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر اسی لسانی خاندان سے ہے اور یہ زبان اپنی شائستگی، شگفتگی، سلاست اور روانی جیسی خوبیوں کے ساتھ ساتھ اپنے سحر طراز لب و لہجہ کی وجہ سے پوری دنیا کو خلوص ومحبت اور امن و اتحاد کا پیغام دیتی ہے۔ عصر حاضر میں عالمی امن کا موضوع کافی نازک اور پیچیدہ ہو چکا ہے کیونکہ دنیا کے تمام ممالک میں امن اور خوشخالی کا فقدان ہے ہر طرف انتشار اور افرا تفری کا بازار گرم ہے۔جہاں تک زبان و ادب کا تعلق ہے تو دنیا کی کوئی زبان ایسی نہیں جو امن و اتحاد کا پیغام نہیں دیتی۔یہ ایک فطری اصول ہے کہ کسی بھی زبان کا شاعر یا ادیب اپنے گرد و نواح جو کچھ دیکھتا ہے اسے اپنی تخلیقات میں پیش کرنے کے ساتھ ساتھ سماجی و اخلاقی اقدار کو بھی بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے۔زبان بنیادی طور پر ایک وسیلۂ اظہار ہے لیکن جب وہ کسی مخصوص علاقے، ریاست یا ملک کی نمائندگی کرتی ہے تو وہ اس علاقے یا ملک کی سیاسی و سماجی او ر تہذیبی و ثقافتی سر گرمیوں کی بھی آئینہ دار ہوتی ہے۔
کسی ملک میں امن اسی وقت قائم ہو سکتا ہے جب اس کی بنیادیں مضبوط و مستحکم اور اعلیٰ سماجی و اخلاقی اقدار پرقائم ہوں اور باشندگان ملک بھی ان اقدار پر روبہ عمل ہوں اور اس کے بعد ہی اس ملک کا ادب امن و اتحاد کو فروغ دے سکتا ہے۔تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ روز اول تا حال عالمی سطح پر کبھی مکمل طور پر امن قائم نہیں ہوا لیکن زبان و ادب نے ہمیشہ انتشار و انحطاط کے خلاف آواز بلند کی اور غیر اخلاقی سماجی رویوں کو بہتر بنانے کی کوشش کی اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔دنیا کی دیگر بڑی زبانوں کے ساتھ ساتھ اردو زبان نے بھی قومی یکجہتی کو بر قرار رکھنے میں کار ہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔
اردو زبان ربط اور اتحادپیدا کرنے کا اہم ذریعہ ہے اور اپنی اسی انفرادیت کی بنا پر یہ زبان گنگا جمنی تہذیب کی بھر پور نمائندگی کرتی ہے۔ اردو زبان کے اسی مخلصانہ اور دل افروز ر ویے سے متاثر ہو کر خواجہ الطاف حسین حالی نے کیا خوب فرمایا ہے ملاحظہ کیجیے :
شہد و شکر سے شیریں اردو زباں ہماری
ہوتی ہے جس کے بولے میٹھی زباں ہماری
اس حوالے سے ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ ہندوستان کی قومی زبان اگر چہ ہندی ہے لیکن عام بول چال میں اردو زبان ہی مستعمل ہے یہاں اردو اور ہندی کا تقابل نہیں کیا جا رہا ہے بلکہ اردو زبان کے اس مخصوص اور ہر دلعزیز لب و لہجے کی طرف اشارہ کیا ہے جو بلا تفریق مذہب و ملت عوام الناس میں سرایت کر چکا ہے۔ اس حقیقت سے ہندوستان کا ہر شہری آشنا ہے اور ہندوستان میں بنائی جانے والی فلمیں اس کا واضح ثبوت فراہم کرتی ہیں لیکن زبانوں کو ہم نے مذہب و ملت کا لبادہ پہنا دیا ہے اس لیے مذکورہ حقیقت کو قبول کرنا عوام کے لیے مشکل ترین کام بن گیا ہے۔ اردو زبان کی مرکزیت و انفرادیت کا اعتراف کرتے ہوئے اردو کے نامور نقاد پروفیسر گوپی چند نارنگ ہندوستان کے نمائندہ انگریزی اخبار ’ٹائمز آف انڈیا‘ میں اسے ہندوستان کا لسانی تاج محل قرار دیتے ہیں اس حوالے سے وہ یوں رقمطراز ہیں:
”Urdu belongs niether to Muslim nor Hindu,it will survive so long as india remains multicultural, urdu’s sophistication and charm captivate everyone that’s why I call Urdu India’s linguistic Taj Mahal.”
گوپی چند نارنگ کے اس خیال کی وضاحت قیصر شمیم کے اس شعر سے بھی ہوتی ہے :
میرا مذہب عشق کا مذہب جس میں کوئی تفریق نہیں
میرے حلقے میں آتے ہیں تلسی بھی اور جامی بھی
زبان چاہے کوئی بھی ہو اس کا تعلق کسی مخصوص جماعت، مذہب یا گروہ سے نہیں ہوتا بلکہ سماجی ضروریات کی بنا پر اس کا وجود عمل میں آتا ہے اور جب اس کے بولنے اور سمجھنے والے کثیرالتعداد ہو جاتے ہیں تو اس میں ادب تخلیق کیا جانے لگتاہے جو مذہب و ملت کو بالائے طاق رکھ کر عوام کے تمام بنیادی مسائل کومنظرعام پر لاتاہے۔
اسی طرح اردو زبان نے ابتدا تا حال کسی ایک مخصوص طبقے کی نمائندگی نہیں کی بلکہ اس کی دور بین اور دور رس نگاہ ہمیشہ عالم انسانیت پر رہی ہے۔اردو زبان کے اسی غیر جانبدارانہ کردار کی نمائندگی ہندو،مسلم،سکھ، عیسائی اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے وہ تمام شعرا ء اور ادبا کرتے ہیں جنھوں نے ذریعہ اظہار کے لیے اردو زبان ہی کا انتخاب کیا۔عصر حاضر میں پوری دنیا جنگ و جدل، قتل و غارت، انتشار، بد امنی اور بے شمار نفرت انگیز لڑائی جھگڑوں سے دوچار ہے۔اردو شعرو ادب نے ان تمام نامساعد حالات اور نفرتوں کے خلاف احتجاج درج کیا اور نفرتوں کے اس ماحول میں خلوص و محبت کا چراغ روشن کرنے کی ہر ممکن کوشش کی ہے۔یہ شعر ملاحظہ کیجیے :
کیسا اس نفرت کے سناٹے میں گھبراتا ہے دل
اے محبت کیا تیرے ہنگامہ آرا سو گئے
یہ شعر محض کسی ایک ملک یا شہر کے پر آشوب ماحول کی داستان نہیں بلکہ پوری دنیا میں آج نفرتوں کا جو بازار گرم ہے اسے جڑ سے اکھاڑنے اور ایک جذبہ محبت پیدا کرنے میں محو نظر آتا ہے۔کسی بھی اخلاقی یا غیر اخلاقی نظریے کا آغاز دراصل سماج سے ہوتا ہے اور پھر سماج کے اراکین وقتاٌ فوقتاٌان نظریات پر عمل پیرا ہو جاتے ہیں۔آج ہم دیکھتے ہیں کہ ایک ہی گھر کے افراد آپس میں دشمنی اور رنجش کی تمام حدود سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔اولاد اپنے والدین کو بھول جاتی ہے،بھائی بھائی کا دشمن بن جاتا ہے، میاں بیوی کی لڑائی فوراٌ طلاق تک پہنچ جاتی ہے اور اسی طرح ایک متحداور خوشحال گھرانہ دشمنی،رنجش اور سازشوں کی بنا پر تقسیم ہو جاتا ہے اردو زبان نے معاشرے کے اس المیے کو بھی بے نقاب کیاہے اس حوالے سے مخمور سعیدی کا یہ شعر غور طلب ہے :
کتنی دیواریں اٹھی ہیں ایک گھر کے درمیان
گھر کہیں گم ہو گیا دیوار و در کے درمیان
اردو زبان کو جب ہم عالمی تناظر میں دیکھتے ہیں تو کہیں جارج فلیکس،مورس جان،ڈاکٹر مسیح یوسف یاد جیسے ادیب نظر آتے ہیں اور کہیں میر، درد، سودا، غالب، اقبال، نسیم، چکبست اور فراق محفل سخن آراستہ کیے بیٹھے ہیں اور کہیں منشی پریم چند، منٹو، بیدی،کرشن چندر، عصمت چغتائی،قرۃالعین حیدر اور انتظار حسین شر پسند عناصر کے خلاف احتجاج اور ایک پرامن معاشرہ قائم کرنے میں سر گرم نظر آتے ہیں۔ اگر چہ کہ اردو زبان کا آغاز ہندوستان میں ہوا لیکن اردو زبان و ادب نے پوری دنیا میں امن و اتحاد کا پیغام دیا۔ابتدائی ایام کے اردو ادب پر مذہبی نقوش دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن اس دور کے ادب کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس میں ہندو اور مسلم تصوف کا حسین ترین امتزاج نظر آتا ہے اس طرح ہم پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ اردو زبان اپنے آغاز سے ہی قومی یکجہتی کی ترجمان رہی ہے۔اس دور کی اردو شاعری پر اگر چہ کہ تصوف کا رنگ غالب ہے لیکن تصوف کے اس مخصوص رنگ میں بھی وہ پیار و محبت کا پیغام دے کر اپنی بوقلمونی کا ثبوت فراہم کرتی ہے۔تصوف کے اس رحجان کے بعد اردو شاعری جب ادب برائے زندگی کی نمائندگی کرنے لگی تو اس نے سماج کو غیر اخلاقی عناصر سے مبرا کرنے میں کار ہائے نماں انجام دیے اور ہمیشہ خلوص و محبت کا درس دیتی آئی ہے۔ آفاق صدیقی اردو زبان کے اس مخلصانہ پیغام کو اردو شاعری میں کچھ اس طرح پیش کرتے ہیں ان کے اشعار ملاحظہ کیجیے :
دیدہ و دل کی رفاقت کے بغیر
فصل گل ہو یا خزاں کچھ بھی نہیں
ایک احساس محبت کے سوا
حاصل عمر رواں کچھ بھی نہیں
متذکرہ بالا اشعار کو کسی مخصوص علاقے یا سماج تک محدود نہیں کیا جا سکتا بلکہ ان میں عالم انسانیت کو بھائی چارے اور انسان دوستی کا بیش قیمتی پیغام دیا ہے عالمی سیاست میں آج جو ہنگامہ برپا ہے اردو شاعری نے اس کی مذمت کرتے ہوئے انسان کو انسانیت کی بنیاد پر متحد کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔اس حوالے سے ڈاکٹر راحت اندوری کا یہ شعر قابل داد ہے :
ملانا چاہا ہے انساں کو جب بھی انساں سے
تو سارا کام سیاست بگاڑ دیتی ہے
اردو کے شعرا جب مذہب و ملت کے نام پر قتل و غارت کا سانحہ اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہیں تو وہ اس تفریق کو جڑ سے ختم کرنے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں۔اس ضمن میں اکبر الہ آبادی کا یہ شعرملاحظہ کیجیے :
کہتے ہیں کہ اگر مذہب خلل ہے ملکی مقاصد میں
تو شیخ و برہمن پنہاں رہیں دیر و مساجد میں
مذہب و ملت کی یہ تفریق جب انسانوں میں فاصلے بڑھا کر انھیں سرحدوں تک محدودکرنے لگتی ہے تو اردو کے شعرا اور ادبا بلا تفریق مذہب و ملت ان فاصلوں کو مٹانے اور انسان دوستی کادرس دینے میں اہم کردارادا کرتے ہیں جس کی وضاحت کنول ضیائی کے اس شعر سے ہوتی ہے :
ہمارا خون کا رشتہ ہے سر حدوں کا نہیں
ہمارے خون میں گنگا بھی ہے چناب بھی
آج پوری دنیا میں جو ہنگامہ بھر پا ہے انسان خود اس کے لیے ذمہ دار ہے اور اس کے مادہ پرست ذہن نے انسانیت کو مادیت، مذہب،قوم،ملک اور شہر کی بنیادوں پر بانٹا اور اب انسان ان برے اعمال کے خوفناک نتائج دیکھتاہے اور ان کی تلافی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ امن و شانتی قائم رکھنے کے لیے کئی قومی اور بین الاقوامی ادارے بھی قائم کیے گئے ہیں ان اداروں میں اولاٌ تو عدل و انصاف کا فقدان ہے اور اگران میں سے کوئی انسانی مساوات کی بات کرے بھی تو اسے عملی جامہ نہیں پہنایا جاتا۔اس طرح انسان نے دنیا کو ایک تماشا گاہ بنا رکھا ہے۔ اس حوالے سے مجتبیٰ حسین کے ایک طنزیہ مضمون ’ہو ٹل شبانہ‘ کا یہ اقتباس ملاحظہ کیجیے :
’’دنیا کا بڑے سے بڑا مسئلہ اس ہوٹل میں پہنچ کرچھوٹا ہو جاتا ہے کئی پیچیدہ بین الاقوامی مسائل کے بارے میں یہاں کٹھا کھٹ فیصلے صادر کئے جاتے ہیں یہ اور بات ہے ان فیصلوں پر عمل کوئی نہیں کرتا۔مرزا کہتے تھے کہ جب دنیا اقوام متحدہ کے فیصلوں پر عمل نہیں کرتی تو ہوٹل شبانہ کے فیصلوں کو کون سنے گا۔‘‘
اردو زبان کے ادیبوں نے ادب کے ذریعے انسان کو ہمیشہ ظلم و تشدد کے خلاف آواز بلند کرنے اور امن و انصاف پر قائم رہنے کی تلقین کی ہے۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ کسی ملک کی ترقی اور خوش حالی کا انحصار اس کی سیاست اور حکومت کے اراکین پر ہوتا ہے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ قومی ترقی میں سب سے اہم اور متحرک کردار ملک کے عام شہری کا ہوتا ہے۔اردو زبان و ادب نے انسان کو خودشناس اور خود دار بنانے کے ساتھ ساتھ اسے اپنی فلاح کے لیے از خود فکر مند بنانے میں مرکزی رول ادا کیا ہے جس کی وضاحت سرسید احمد خان کے ایک مضمون ’اپنی مدد آپ‘ کے اس اقتباس سے ہوتی ہے:
’’ترقی مجموعہ ہے شخصی محنت،شخصی عزت،شخصی ایمانداری، شخصی ہمدردی کا اسی طرح قومی تنزل مجموعہ ہے شخصی سستی،شخصی بے عزتی،شخصی بے ایمانی شخصی خود غرضی اور شخصی برائیوں کا۔‘‘
میں اپنے مقالے کا اختتام اردو زبان کے اس اعلیٰ اخلاقی پیغام پر کرتا ہوں جس میں مولانہ الطاف حسین حالی فرماتے ہیں :
یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں
کہ کام آئے دنیا میں انساں کے انساں
میں اپنے مقالے کا اختتام اردو زبان کے اس اعلیٰ اخلاقی پیغام پر کرتا ہوں جس میں مولانہ الطاف حسین حالی فرماتے ہیں :
یہی ہے عبادت یہی دین و ایماں
کہ کام آے دنیا میں انساں کے انساں
بالآخر میں مقالے کے اختتام پر یہی کہوں گا کہ امن و سلامتی اور سماجی استحکام انسانی معاشرہ کی بنیادی ضرورت ہے، یوں تو غذا، لباس اور مکان بھی انسانوں کے لئے اہمیت رکھتے ہیں لیکن معاشرہ کو سماجی استحکام اور امن و سلامتی کی اِن سے بھی زیادہ ضرورت پیش آتی ہے، جیسے مختلف مذاہب اور عقائد کے ماننے والوں اور مختلف زبانیں بولنے والوں کے لئے جن کا اپنا الگ الگ کلچر
اورملک ہے وہاں کے باشندوں میں جیو اور جینے دو کا جذبہ کمزور ہوگا تو خطرہ ہے کہ انسانوں کی زندگی دشوار ہوجائے۔ ہم زمانہ قدیم سے دیکھتے ہیں کہ مختلف اقوام میں فکرونظر، رسم و رواج اور مذہب و دھرم کے مختلف دھارے بہہ رہے ہیں ادب اور ادیب آج بھی امن کے داعی ہیں اور اس دنیا کااستحکام و ترقی محبت امن اور اتحاد ہی سے مشروط ہے۔
٭٭٭

 

You might also like
  1. محمّد سمیع صادق 637 says

    ماشاءاللّه بہت خوب سر جی

  2. ڈاکٹر عبدالعزیز ملک says

    شاندار اور خوب صورت انداز میں لکھی گئی تحریر

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post