علامہ شبلی اور عطیہ فیضی … چند حقائق : ڈاکٹرمحمدالیاس الاعظمی

نصراللہ خاں کے خاکہ ’’عطیہ فیضی‘‘ کے حوالہ سے

نصراللہ خاں [۱۹۲۰-۲۰۰۲ء] اردو کے ممتازاہل قلم اور ادیب تھے۔ ان کی زندگی اگرچہ مختلف مشاغل صحافت، تدریس اور ریڈیو کے شعبہ میں گذری ،گویا قلم ہمیشہ ان کے ہاتھ میں رہا۔ ان کو نثر نگاری کا خاص سلیقہ تھا۔ سلاست، روانی، شگفتگی اور برجستگی ان کی نثر کی خاص خوبیاں ہیں۔ ان کی دو کتابیں ’’بات سے بات‘‘ اور ’’کیا قافلہ جاتا ہے‘‘ شائع ہوئیں۔ ثانی الذکر کا پہلا ایڈیشن ۱۹۸۴ء میں مکتبہ تہذیب و فن کراچی سے شائع ہواتھا۔ دوسرا ایڈیشن جناب راشد اشرف نے ۲۰۱۷ء میں بزم ادب کراچی سے شائع کیا۔ یہ نصراللہ خاں کے ۵۲؍ خاکوں کا مجموعہ ہے۔ اس میں علم و ادب، شعر و شاعری، صحافت اور فنون لطیفہ کی بعض بڑی اہم شخصیات کے خاکے شامل ہیں۔
نصراللہ خاں کو خاکہ نگاری میں مہارت حاصل تھی۔ انہوں نے جن اشخاص کے خاکے لکھے ہیں، ان کا مطالعہ و مشاہدہ گہرائی سے کیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ صاحب خاکہ کی زندگی کا عکس ان کے قلم سے کاغذ پر اتر گیا ہے۔ انہوں نے اصل شخصیت کے خدوخال ہی نمایاں نہیں کئے ہیںبلکہ صاحب خاکہ کے ان اوصاف کو بھی بیان کیا ہے جن پر عام طور پر نظر نہیںپڑتی۔ شخصیات کے واقعات و لطائف بیان کرنے میں بھی انہیں ملکہ حاصل ہے، بلکہ وہ اپنے دلفریب انداز نگارش سے صاحب خاکہ کی ایک ایک ادا دکھا دیتے ہیں۔ ان خوبیوں کے باوجود کہیں کہیں ان کا قلم لغزش کھا جاتا ہے۔ کہیں ان کا حافظہ ساتھ نہیں دیتا اور وہ لکھنے کی رو میں کہیں سے کہیں بہک جاتے ہیں۔اس طرح کی لغزشیں ان کے قلم سے عطیہ فیضی [۱۸۷۷ – ۱۹۶۷ء] کے خاکہ میں زیادہ ہوئی ہیں۔خاص طور پر علامہ شبلی [۱۸۵۷ – ۱۹۱۴ء] کے ذکر میں بے حد مبالغہ سے کام لیا ہے۔
شبلی و عطیہ کے حوالہ سے بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ متعدد مضامین و مقالات کے علاوہ مستقل کتابیں بھی لکھی گئی ہیں۔ خود عطیہ فیضی نے علامہ شبلی پر یکے بعد دیگرے تین مضامین لکھے۔ نصراللہ خاں کا خاکہ ’’عطیہ فیضی‘‘ اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے، چونکہ اس میں بیشتر واقعات و خیالات عطیہ فیضی کی زبانی پیش کئے گئے ہیں، اس لئے اس کی حیثیت بھی عطیہ کے خیالات کی ہوگئی ہے۔ یہاں نصراللہ خاں کے خاکہ کے اندراجات اور عطیہ فیضی کے بیانات کا تاریخی تناظر میں ایک مطالعہ پیش کیا جاتا ہے۔
نصراللہ خاں لکھتے ہیں:
’’میں نے عطیہ بیگم کو اس عمر میں دیکھا تھا جب ان کی جوانی ڈھل رہی تھی۔ بوٹا سا قد، بڑی بڑی روشن آنکھیں، ان کی آنکھوں میں بلا کی چمک اور ذہانت تھی۔ ہاں رنگ روپ وقت کے ساتھ بدلتا گیا۔کچھ مٹیالا ہوکر کچھ سانولا ہو گیا تھا۔ ناک ستواں تھی ۔ ساڑی پارسنوں کی طرح باندھتی تھیں۔ پاؤں میں گرگابی، ناپ تول کر قدم رکھتیں۔ آواز بڑی رعب دار، ہاتھوں میں پھولوں کے گجرے۔گلے میں سیاہ دانوں کی مالا، کبھی کنٹھا، بغل میں چھتری، آگے آگے عطیہ اور پیچھے پیچھے ان کے شوہر فیضی رحمین۔‘‘ (۱)
نصراللہ خاں ۱۹۲۰ء میں پیدا ہوئے اور عطیہ فیضی ۱۸۷۷ء میں، اس لحاظ سے وہ عمر میں عطیہ فیضی سے ۴۳؍سال چھوٹے تھے۔ انہوں نے ۱۹۴۷ء میں ایم اے پاس کیا اور ایک سال بعد ۱۹۴۸ء میں ریڈیو کراچی سے وابستہ ہوئے۔ عطیہ فیضی اسی سال محمد علی جناح [۱۸۷۶ – ۱۹۴۸ء] کی دعوت پر کراچی گئیں۔ اس وقت ان کی عمر ۷۱؍سال ہوچکی تھی ،یعنی ان کی عمر طبعی بھی گذر چکی تھی، نہ کی جوانی ڈھلی تھی جیسا کہ نصراللہ خاں نے بیان کیا ہے۔ اس کے بعد نصراللہ خاں نے عطیہ کے عاشقوں کا ذکر کیا ہے ۔ ان میں سرفہرست علامہ شبلی بعد ازاں علامہ اقبال [۱۸۷۷ – ۱۹۳۸ء] کا نام لکھا ہے مگر پھر پورے خاکہ میں علامہ اقبال کا کہیں ذکر نہیں آیا، ہر جگہ شبلی ہی شبلی ہیں۔ حالانکہ عطیہ فیضی کے اقبال سے بڑے گہرے مراسم تھے جو یورپ میں قائم ہوئے اور اخیر تک قائم رہے۔ دونوں ایک دوسرے کے لئے کشش بھی رکھتے تھے۔ اقبال کی دلی کیفیت کا اندازہ ان کے اس شعرسے جو انہوںنے عطیہ فیضی کی ڈائری پرلکھاتھالگایا جاسکتا ہے :

عالم جوش جنوں میں ہے روا کیا کیا کچھ!

کہیے کیا حکم ہے دیوانہ بنوں یا نہ بنوں(۲)

عطیہ فیضی نے ۱۹۴۷ء میں اپنے نام کے علامہ اقبال کے خطوط شائع کئے۔ ۱۹۵۱ء میں یوم اقبال منعقد کیا اور زندگی بھر علی الاعلان اقبال سے تعلق کا اظہار کرتی رہیں مگر نصراللہ خاں نے پورے خاکہ میں ان کا دوبارہ نام تک نہیں لیاہے۔ راقم اس کا سبب تلاش کرنے میں ناکام رہا۔
شبلی و عطیہ کے روابط کے بارے میں نصراللہ خاں لکھتے ہیں:
’’جہاں تک مولوی شبلی اور عطیہ کے معاشقے کا تعلق ہے تو عطیہ نے ایک انٹرویو میں مجھے بتایا کہ ان کے والد کابل میں برطانوی حکومت کے ہائی کمشنر تھے اور ان کی مولوی شبلی سے دوستی تھی، عطیہ مولوی صاحب کو چچا کہتی تھیں،لیکن مولوی صاحب چچا کی حد سے آگے بڑھے تو بقول عطیہ اس نے انہیں ڈانٹ دیا ،لیکن یہ محض پردہ داری ہے۔ مولوی شبلی کے خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ معاملہ دو طرفہ تھا اور دونوں طرف آگ برابر لگی ہوئی تھی، لیکن یہ بات آگے نہیں بڑھی اور یہ شاید افلاطونی محبت تک رہی۔‘‘ (۳)
۱۸۹۲ء میں علامہ شبلی نے قسطنطنیہ کا سفر کیا، وہاں عطیہ فیضی کے والد حسن علی آفندی سے ان کی ملاقات ہوئی۔ انہوں نے اپنے خانگی خطوط میں بقول عطیہ فیضی علامہ شبلی کا ذکر کیا اس طرح شبلی سے وہ واقف ہوئیں۔ ۱۵؍ سال بعد ۱۷؍ مئی ۱۹۰۷ء کو علامہ شبلی کے حادثہ پا کا واقعہ پیش آیا۔ اخیر دسمبر ۱۹۰۷ء میں ڈاکٹررجب علی کی خواہش پرعلامہ شبلی اپنا پاؤں بنوانے بمبئی گئے تو غالباً جنوری ۱۹۰۸ء میں زہرا فیضی [۱۸۶۶ – ۱۹۴۰ء] اور عطیہ فیضی سے ان کی ملاقات ہوئی۔ بعد ازاں نومبر ۱۹۰۸ء میں عطیہ فیضی لکھنؤ آئیں اور غالباً مشیر حسین قدوائی کے یہاں قیام کیا۔ یہاں بھی بقول عطیہ شبلی سے ملاقات ہوئی۔ پھر خط و کتابت اور ربط و ضبط کا سلسلہ قائم ہوا جو علامہ شبلی کی وفات تک قائم رہا۔ علامہ شبلی کی وفات کے ۱۱؍ سال بعد محمد امین زبیری [۱۸۷۰ – ۱۹۵۸ء] نے علامہ شبلی کے وہ خطوط جو زہرا و عطیہ فیضی کے نام تھے حاصل کئے اور ۱۹۲۵ء میں ’’خطوط شبلی‘‘ کے نام سے شائع کیا ۔ اس پر بابائے اردو مولوی عبدالحق [۱۸۷۰ – ۱۹۶۱ء] سے مقدمہ لکھوایا اور انہوں نے دونوں کے درمیان خلوص کی بو محسوس کی۔ چنانچہ اسی مقدمہ سے لوگوں کوشبلی و عطیہ کے دیرینہ تعلق کا علم ہوا۔ ۱۹۳۵ء میں امین زبیری نے خطوط شبلی کو دوبارہ شائع کیا۔ پھر انہوں نے پے در پے اس حوالہ سے کئی مضامین اور کتابیں لکھیں۔ ذکر شبلی اور شبلی کی رنگین زندگی جن کے ایک سے زائداضافہ شدہ ایڈیشن شائع کئے گئے۔ اسی سلسلہ کی کتابیں ہیں۔ بعد ازاں ۱۹۵۰ء میں ڈاکٹر وحید قریشی [۱۹۲۵ – ۲۰۰۹ء] نے ’’شبلی کی حیات معاشقہ‘‘ سپرد قلم کی اور نفسیاتی تنقید کے نام پر خطوط شبلی کے بے سر و پا معنی و مفہوم نکالے اور الفاروق کے مصنف کو ایک عاشق مزاج شخص ثابت کیا۔ شیخ محمد اکرام [۱۹۰۸ – ۱۹۷۳ء] نے شبلی نامہ میں وادی گل لکھ کر مزید رنگ آمیزی کی۔ چونکہ علامہ شبلی کے بارے میں عام رائے یہی ہے کہ وہ کانگریس کے حامی اور مسلم لیگ کے سخت مخالف تھے ،اس لئے دو قومی نظریہ کے ایک مخالف کے لئے اس کی داستان معاشقہ بیان کرنے سے زیادہ لطف و لذت کی اور کیا چیز ہو سکتی تھی۔ چنانچہ پاکستان کے چند ایک سنجیدہ اہل قلم کے سوا بیشتر اہل قلم نے علامہ شبلی کو ایسا ہی سمجھا اور لکھا جیسا کہ مولوی عبدالحق، منشی امین زبیری اور ڈاکٹر وحید قریشی نے سمجھایا تھا۔ حتی کہ ہمارے عہد کے ممتازادبی مورخ اورنقادڈاکٹر جمیل جالبی [۱۹۲۹-۲۰۱۹ء]جیسے نامور اہل قلم نے بھی تاریخ ادب اردو میں شبلی کے ذکر میں پہلے عطیہ کا ذکر کیا ہے، بعد ازاں ان کی خدمات کوبیان کیاہے۔ (۴) نصراللہ خاں نے بھی علامہ شبلی کے لئے عاشق اور معاشقہ جیسے الفاظ استعمال کرکے دراصل اس شرم ناک روایت کو آگے بڑھایا ہے۔
نصراللہ خاں سے عطیہ فیضی کے خاکہ میں تجزیاتی غلطیاں تو ہوئی ہی ہیں ،بعض تاریخی غلطیاں بھی سرزد ہوئی ہیں ۔ ان کی یہ غلطیاں دو طرح کی ہیں۔ایک وہ جو خود نصراللہ خاں کی بیان کردہ ہیں۔ دوسری وہ جو انہوں نے عطیہ فیضی کے حوالہ سے لکھی ہیں یا عطیہ فیضی کے الفاظ میں بیان کی ہیں۔ مثلاً انہوں نے لکھا ہے کہ ’’عطیہ بمبئی میںپیدا ہوئیں۔‘‘ (۵) حالانکہ عطیہ بیگم یکم اگست ۱۸۷۷ء کو قسطنطنیہ ترکی میں پیدا ہوئی تھیں۔ (۶) اسی طرح انہوں نے عطیہ فیضی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ان کے والد حسن علی کابل میں ہائی کمشنر تھے۔ (۷) جبکہ صحیح یہ ہے کہ وہ قسطنطنیہ ترکی میں ایک تاجر تھے۔ مولاناماہر القادری نے انہیں ترکی میں برطانیہ کا سفیر لکھا ہے۔ (۸) جس کی کسی اور حوالہ سے تصدیق نہیں ہوتی۔ دراصل خود عطیہ فیضی نے اس سلسلہ میں مبالغہ سے کام لیا ہے۔ تاہم واقعہ یہ ہے کہ علامہ شبلی ۱۸۹۲ء میں جب قسطنطنیہ پہنچے تو عطیہ کے والد حسن علی آفندی [۱۸۳۸ – ۱۹۰۳ء] سے ان کی قسطنطنیہ ہی میں ملاقات ہوئی۔ انہوں نے علامہ کی بڑی خاطر تواضع کی اور ساتھ ساتھ رہے۔ علامہ شبلی نے انہیں تاجر بتایا ہے اور سفرنامہ روم و مصر و شام میں ان کے بارے میں لکھا ہے کہ:
’’حسن آفندی بدرالدین طیب جی بیرسٹر ایٹ لا ساکن بمبئی کے عم زاد بھائی ہیں۔ ہندوستانی اشیا کی تجارت کرتے ہیں۔ پہلے ان کا کارخانہ بڑے فروغ پر تھا چنانچہ اور مصارف کے علاوہ آٹھ سو ماہوار صرف دکان کا کرایہ تھا لیکن اب فیشن بدل جانے سے ان چیزوں کی قدر نہیں رہی اور کارخانہ سست ہو گیا، تاہم خوشحالی سے بسر کرتے ہیں۔ مکان اور فرنیچر قسطنطنیہ کے لحاظ سے امیرانہ ہے ، ایک باغ بھی تیار کرایا ہے۔ تمام لوگ ان کی عزت کرتے ہیں۔ سلطان کے یہاں سے مڈل بھی ملا ہے۔ انگریزی بھی بخوبی جانتے ہیں۔ نہایت خوش اخلاق، فیاض ، روشن ضمیر، نیک طبع آدمی ہیں۔ ہندوستانیوں سے ان کو عجیب انس و محبت ہے اور یہ حب الوطنی ہی میرے اور ان کے تعارف کا ذریعہ ہوئی۔‘‘(۹)
پھر اپنی دلچسپ ملاقات کا ذکر اس طرح کیا ہے:
’’ایک دفعہ میں بازار میں پھر رہا تھا۔ آفندی موصوف سامنے سے گذرے مجھ کو دیکھ کر بے اختیار بڑھ کر پوچھا ’’آپ ہندوستانی تو نہیں‘‘ اس وقت میرا لباس عربی تھا، طرہ یہ کہ جواب میں اتفاقاً زبان سے بجائے ہاں کے نعم کا لفظ نکلا، تاہم میرا ہندی ہونا کیونکر چھپ سکتا تھا۔ وہ گلے سے لپٹ گئے اور بولے کہ ’’آپ تو ہماری چیز ہیں ہم سے بچ کرکہاں چلے تھے۔‘‘ میں جب تک وہاں رہا اکثر میرے مکان پر تشریف لاتے تھے۔ کئی دفعہ دعوت کی اور اپنے گھر لے گئے۔ معلوم نہیں مہمان نوازی ان کی طینت کا خمیر ہے یا قسطنطنیہ کی آب و ہوا کا خاصہ ہے۔ ان کا پتہ یہ ہے: مجوہر بدستاندہ حاجی حسن علی آفندی ہندی۔ میں نے پتہ اس غرض سے لکھا ہے کہ کوئی صاحب قسطنطنیہ کا قصد کریں تو ان سے ضرور ملیں۔ ان سے بڑھ کر کوئی غم خوار نہیں ملتا۔ ‘‘ (۱۰)
جیسا کہ اوپر کے اقتباس میں مذکور ہے کہ ترکی میںحسن علی آفندی سے علامہ شبلی کی بارہا ملاقاتیں رہیں اور انہیں وہ اپنے گھر بھی بلاتے رہے ،مگر عطیہ نے قسطنطنیہ کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی ان کے علامہ شبلی کے ساتھ سفر کرنے، رہنمائی کرنے، حتیٰ کہ ان ممالک کے اہل علم اور علماو فضلا سے متعارف کرانے کا ذکر کیا ہے۔ عطیہ فیضی کی عمراس وقت پندرہ سال تھی اور وہ اس وقت وہاںموجودبھی نہیںتھیں۔ خداجانے ان کایہ بیان کس حد تک درست ہے۔؟ (۱۱) علامہ شبلی نے قسطنطنیہ کے علاوہ کسی اور ملک میں ان کے ساتھ رہنے اور رہنمائی کرنے کی صراحت نہیں کی ہے۔
سفرنامہ روم و مصر و شام میں حسن علی نام کے کئی اشخاص کا ذکر ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سفرنامہ روم و مصر و شام کا اشاریہ نگار حسن علی آفندی اور حسین حبیب آفندی میں فرق نہ کر سکا اور دونوں کا اشاریہ ایک ہی نام سے بنایا ہے۔ حالانکہ دونوں دو شخص تھے اور نام بھی غلط درج کیا ہے۔ حسین حبیب کو حسین حسیب آفندی لکھا ہے۔ (۱۲) حسین حبیب آفندی علامہ شبلی کے شناسا اور ہندوستان میں ترکی کے سفیر رہ چکے تھے۔ بعد میں قسطنطنیہ میں پولس کمشنر ہوئے۔ ۱۸۷۷ء میں روس نے جب ترکی پر حملہ کیا تھا اس زمانہ میں علامہ شبلی ۲۰؍ سالہ نوجوان اور ترکوں پر فدا تھے، چنانچہ انہوں نے ترکوں کے تعاون کے لئے اعظم گڑھ میں ایک انجمن بنائی۔ خود اس کے سکریٹری ہوئے اور اس زمانہ میں تین ہزار کی رقم جمع کرکے حسین حبیب آفندی ترکی سفیر مقیم بمبئی کے ذریعہ ترکی بھیجی تھی۔ علامہ شبلی کے سفر ترکی کے زمانہ میں وہ وہاں کے پولس کمشنر تھے۔ علامہ شبلی کی ان سے بے تکلفانہ ملاقاتیں رہیں جس کا ذکر انہوں نے اپنے سفرنامہ میں کئی جگہ کیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حسین حبیب اور حسن علی دو شخص ہیں اور ان دونوں کا کابل سے کسی طرح کے تعلق کا ذکر نہیں ملتا۔ بہرحال عطیہ فیضی کے والد حسن علی آفندی کا کابل میں ہائی کمشنر ہونا ثابت نہیں۔ ظاہر ہے یہ نصراللہ خاں کا سہو ہے، عطیہ فیضی کا نہیں۔
نصراللہ خاں نے ایک اور بہت دلچسپ بات لکھی ہے کہ عطیہ شبلی کو چچا کہتی تھیں۔ یہ بات ان کے سوا کسی اور نے آج تک نہیں لکھی ،لیکن واقعہ یہ ہے کہ تعلق تو ان کا چچا کا ہی تھا، اس لئے کہ علامہ شبلی ان کے والد کے دوست تھے اور عمر میں ان سے ۱۹؍ سال چھوٹے تھے۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ عطیہ فیضی کے جو خطوط علامہ شبلی کے نام دستیاب ہیں ان میں وہ چچا کے بجائے محترم اور مولانا کے القاب سے یاد کرتی ہیں۔ (۱۳) حد سے بڑھنا اور ڈانٹنا سب نصراللہ خاں کے دماغ کی اختراع ہے۔مخالف سے مخالف شخص نے بھی اس طرح کی بیہودہ باتیں نہیںلکھی ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے علامہ شبلی کے عطیہ فیضی سے معاشقے کی بات اڑائی تھی انہیں لوگوں نے شبلی کے ان سے عشق کی داستان بھی ان کو یعنی عطیہ فیضی کو سنائی۔ (۱۴) اس طرح عطیہ فیضی کو خود اپنے معاشقے کی ۳۰؍سال تک خبر ہی نہیں رہی۔ طرفہ تماشہ نصراللہ خاں کہتے ہیں کہ خطوط شبلی سے اندازہ ہوتا ہے کہ آگ دونوں طرف برابر لگی ہوئی تھی۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر آگ دونوں طرف لگی ہوئی تھی تو عطیہ فیضی اس آگ میں کیوں نہیں جلیں؟۔ دراصل اس طرح نصراللہ خاں بابائے اردومولوی عبدالحق، محمد امین زبیری اور وحید قریشی کے خیالات کی بغیر نام لئے تصدیق و تشہیر کرتے ہیں۔ خطوط شبلی آج بھی سب کے سامنے ہیں۔ ان میں بقول عطیہ فیضی اس طرح کی کوئی بات نہیں ہے۔ (۱۵) دراصل ان خطوط میں بلند آہنگی کے ساتھ ادب و انشا کی جو لالہ کاری دکھائی دیتی ہے، وہ علامہ شبلی کے اسلوب نگارش کا امتیاز اور خاصہ ہے۔علامہ شبلی کا تقریباً وہی رنگ و آہنگ مولانا حبیب الرحمن خاں شروانی، مہدی افادی اور مولانا آزاد حتی کی خواجہ حسن نظامی جیسے صوفی منش بزرگ کے نام کے خطوط میں بھی نظرآتا ہے۔ اب اس کو کیا نام دیا جائے۔؟
جیسا کہ اوپر لکھا جاچکا ہے کہ ۱۹۲۵ء تک علامہ شبلی اور عطیہ کے معاشقے کا کسی کو علم نہیں تھا۔ ۲۳-۱۹۲۲ء میںمنشی امین زبیری نے عطیہ فیضی سے علامہ شبلی کے خطوط حاصل کئے اور انہیں مولوی عبدالحق کے مقدمہ کے ساتھ شائع کیا۔ اسی مقدمہ سے لوگوں کو شبلی و عطیہ کے معاشقے کا پہلی بار علم ہوا۔ مولوی عبدالحق علامہ شبلی کی جا و بے جا تنقید نہیں تنقیص کرتے رہتے تھے۔ اس کا آغاز گلشن ہند کے مقدمہ میںعلامہ شبلی پر سخت تنقید سے ہوا۔ پھر حافظ محمود شیرانی سے تنقید شعرالعجم لکھوائی اور اسے ۵-۶ برس تک مسلسل اپنے رسالہ اردو میں شائع کرتے رہے۔ ایسے ماحول میں امین زبیری نے خطوط شبلی گویا انہیں خوان سجا کر پیش کر دیا اور انہوں نے تنقید و تنقیص شبلی کی حدیں پار کر دیں اور ایسا طوفان کھڑا کیا کہ یہ اہل قلم کا ایک محبوب موضوع قرار پایا۔ ان حریفان شبلی کے جواب میں ڈاکٹر ابن فرید [۱۹۲۵ – ۲۰۰۷ء] نے ایک طویل مقالہ ’’شبلی چوں بہ خلوت می رود‘‘ لکھا جوپہلے ادیب علی گڑھ کے شبلی نمبرمیںبعد ازاں ان کی کتاب ’’میں ہم اور ادب‘‘ میں شائع ہوا۔ واقعہ یہ ہے کہ ڈاکٹر ابن فرید نے اپنے زور قلم اور زور تحقیق سے شبلی شکنی کی اس تحریک پر کاری ضرب لگائی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ شیخ محمد اکرام نے اپنی کتاب کا نام بدل کر ’’یادگار شبلی ‘‘ کردیا۔ مولوی عبدالحق نے بھی اخیر عمر میں ادیب علی گڑھ کے شبلی نمبر میں معذرت خواہانہ انداز اختیار کیا۔ البتہ محمد امین زبیری سجدہ سہو کے لئے زندہ نہیں تھے۔ تاہم اب بھی ناواقف ا ور کم نظر اہل قلم کی طرف سے رہ رہ کر شبلی کے معاشقہ کی صدائیں بلند ہو جاتی ہیں۔
نصراللہ خاں نے اس سلسلہ میں ایک اور گھناؤنی بات یہ لکھی ہے کہ:
’’جس زمانہ میں میں ریڈیو پاکستان سے عطیہ کے انٹرویو کا انتظا م کر رہا تھا تومولوی عبدالحق صاحب نے یہ کہا تھا کہ تم عطیہ سے یہ بھی پوچھنا کہ مولوی شبلی صاحب کی ٹانگ میں گولی کیسے لگی۔؟ میں نے یہ سوال عطیہ سے انٹرویو میں تو نہیں پوچھا ایک نجی ملاقات میں پوچھا۔ عطیہ اس پر بگڑ گئیں اور کہنے لگیں ’’تمہیں یہ بات مولوی عبدالحق نے بتائی ہوگی۔‘‘ اور میں آج تک یہ سوچ رہا ہوں کہ آخر یہ کیا بات تھی۔‘‘ (۱۶)
یہاں یہ واضح کرتا چلوں کہ ۱۷؍مئی ۱۹۰۷ء کو شبلی منزل میں بھری ہوئی بندوق ایک جگہ سے دوسری جگہ رکھتے ہوئے شبلی کی بہو بیگم حامد حسن نعمانی سے دب گئی جس کی زد میں علامہ شبلی کا پاؤں آیا اور ان کی پنڈلی چور چور ہوگئی۔ اس حادثہ پر ملک میں کہرام مچ گیا۔ عیادت کے لئے اہل علم اور قدردانان شبلی نے اعظم گڑھ کی راہ لی۔ متعدد شاعروں نے قطعات و رباعیات لکھیں۔ بمبئی کے مشہور سرجن ڈاکٹر رجب علی نے نواب محسن الملک کے ذریعہ کہلوایا کہ وہ علاج کے لئے بمبئی آجائیں۔ غرض ہر شخص رنجیدہ اور فکر مند ہوا، مگر مولوی عبدالحق نے اس حادثہ پر بجائے دکھ کا اظہار کرنے کے شبلی کو ذلیل و رسوا کرنے کی کوشش کی۔ اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ علامہ شبلی کی مخالفت میں کس سطح پر آگئے تھے۔ نصر اللہ خاں نے بھی مولوی عبدالحق کے خاکے میں لکھا ہے کہ:
’’ویسے میں یہ اچھی طرح جانتا ہوں کہ مولوی عبدالحق اور مولوی شبلی میں کافی کٹا چھٹی تھی اور مولوی شبلی کے خلاف مولوی عبدالحق صاحب نے محمود شیرانی مرحوم سے کام لیا تھا لیکن اس کے باوجود شعرالعجم کی اہمیت اور مولوی شبلی کے مرتبے میں کوئی فرق نہیں آیا۔‘‘ (۱۷)
نصراللہ خاں نے عطیہ فیضی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ شبلی نے عطیہ کو اس بات پر آمادہ کیا تھا کہ وہ فرماںروائے بھوپال بیگم سلطان جہاں [۱۸۵۸ – ۱۹۳۰ء] کو راضی کریں کہ وہ علامہ شبلی سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت لکھوائیں۔ ( ۱۸) عطیہ فیضی نے اپنے مضمون میں بھی سیرت لکھوانے کے لئے بیگم صاحبہ کو خود متوجہ کرنے کی بات لکھی ہے۔ (۱۹) ممکن ہے علامہ شبلی نے کسی موقع پران سے سیرت کاذکرکیا ہو۔ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ اس زمانہ میں ان کا عام موضوع سخن سیرت نبویؐ ہی تھا۔ وہ جہاں جاتے اور جس محفل میں ہوتے بس سیرت ہی کا ذکر کرتے جیسا کہ متعدد اہل قلم نے لکھا ہے۔ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ جانکنی کے عالم میں بھی وہ سیرت سیرت ہی پکارتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوئے۔ مگر تعجب ہے کہ خطوط شبلی میں اس کا ذکر کہیں نہیں آیا ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ شبلی نے سیرۃالنبیؐ کے منصوبے کا باقاعدہ تحریری طور پر اعلان شائع کرایا تھا، جس سے متاثر ہوکر لوگوں نے تعاون کی غرض سے چندے بھیجے۔ بیگم سلطان جہاں نے جب تالیف سیرت کا تمام ذمہ اپنے سر لے لیا تو علامہ شبلی نے چندے کی رقم واپس کر دی۔ اس کی تفصیل حیات شبلی میں موجود ہے۔ لیکن اس سلسلہ میں خود بیگم سلطان جہاں نے اپنی خودنوشت ’’اختر اقبال‘‘ میں بہت واضح طور پر علامہ شبلی کے اعلان سے متاثر ہوکر رقم منظور کرنے کی بات لکھی ہے۔ (۲۰) انہوں نے منشی امین زبیری یا عطیہ فیضی کے متوجہ کرنے کی صراحت نہیں کی ہے۔ عطیہ فیضی نے اپنے مضمون میں یہ بات بھی لکھی ہے کہ انہوں نے ہی بیگم سلطان جہاں سے علامہ شبلی کی ملاقات کرائی۔ (۲۱) لیکن یہ بات سرے سے درست نہیں، کیونکہ عطیہ فیضی کی ملاقات سے پہلے کم از کم دو مرتبہ علامہ شبلی بیگم سلطان جہاں سے مل چکے تھے۔ پہلی بار ۱۸۹۲ء میں سرسید کے ساتھ حیدرآباد سے واپس آتے ہوئے اور دوسری بار ۱۹۰۵ء میں ندوہ کے وفد کے ساتھ۔ اس دوسری ملاقات اور بیگم سلطان جہاں کی شخصیت اور ان کے علم و فضل کا تذکرہ بھی وہ ماہنامہ الندوہ میں کر چکے تھے۔ خود بیگم سلطان جہاں بھی علامہ شبلی کے فضل و کمال سے بہت متاثر ہو چکی تھیں۔ چنانچہ ۱۹۰۵ء میں جب علامہ شبلی سررشتہ علوم و فنون حیدرآباد کی نظامت سے مستعفی ہوئے تو انہوں نے نواب محسن الملک کے توسط سے انہیں ریاست بھوپال سے وابستہ کرنا چاہا تھا (۲۲)،ان ملاقاتوں کے بعد پھر ملاقات اور متعارف کرانے کا قصہ دراصل عطیہ کی خود اپنی توقیر میں اضافہ کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں۔
نصراللہ خاں نے ایک اور بات لکھی ہے کہ ’’سیرت پر غیر زبانوں میں جتنا کام ہو چکا تھا اس کے ترجمے عطیہ نے کرائے ۔‘‘ (۲۳) عطیہ فیضی نے بھی اپنے مضمون میں سیرت پر لکھی گئی انگریزی کتابوں کو شبلی کے سامنے لاکر ڈھیر کردینے کا ذکر کیا ہے۔ (۲۴) ممکن ہے نصراللہ خاں کو یہ بات بھی عطیہ فیضی ہی نے بتائی ہو، مگر اس بات کا ذکر اور کہیں نہیں ملتا اور نہ کسی اور حوالہ سے اس کی تصدیق ہوتی ہے۔انگریزی مواد علامہ شبلی نے جن انگریزی دانوں سے ترجمہ کرایا تھااور جن کتابوں سے کرایاتھا مکاتیب شبلی اور حیات شبلی میں ان کی تفصیل موجود ہے۔ اس میں عطیہ فیضی کا کہیں نام و نشان نہیں۔ حتیٰ کہ’’ خطوط شبلی‘‘ موسومہ عطیہ فیضی کے کسی خط میںبھی اس کی طرف اشارہ نہیںہے۔ واقعہ یہ ہے کہ نہ یہ عطیہ فیضی کا موضوع تھا اور نہ ان کے بس کی بات تھی کیونکہ ان کا موضوع موسیقی، مصوری اور فنون لطیفہ تھا۔ موسیقی پر ان کی کتاب قابل ذکر ہے اور یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ان علوم کے حاصل کرنے میں بھی علامہ شبلی نے ان کی مدد کی تھی۔ موسیقی اور اس کی کتابوں سے وہ بخوبی واقف تھے اور بعض کتابیں انہوں لکھنوسے نے خرید کر عطیہ فیضی کو بھیجی بھی تھیں، جیسا کہ خطوط شبلی میں مذکور ہے۔
نصراللہ خاں نے عطیہ فیضی کا جو انٹرویو لیا تھا، اس میں ان کے سفر لکھنؤ کی تفصیل پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ:
’’جب میں لکھنؤ پہنچی تو دھواں دھار بارش ہو رہی تھی۔ میں نے دیکھاکہ مولوی شبلی صاحب چھتری لگائے ایک کونے میں کھڑے ہیں۔ ایک دس برس کا بچہ میرے کمپارٹمنٹ کے قریب اس وقت آیا جب میں گاڑی سے اتر چکی تھی ۔ اس بچے نے مجھ سے پوچھا کیا آپ ہی عطیہ بیگم ہیں؟میں نے کہا ہاں میں ہی عطیہ بیگم ہوں۔ بچے نے کہا میرے ساتھ چلئے، مولوی صاحب بھی آئے ہیں، چنانچہ میں نے قلی کے سر پہ سامان رکھوایا اور پلیٹ فارم سے باہر نکلی، باہر ایک یکہ پہلے ہی سے کھڑا تھا، قلی نے اس میں سامان رکھا اور وہ بچہ آگے بیٹھ گیا اوریکہ چلا، دیکھتی کیا ہوں میرے پیچھے کے یکے میں مولوی صاحب سمٹے سمٹائے بیٹھے ہیں۔ مولوی صاحب کی اس حالت پر مجھے بے اختیار ہنسی آگئی۔ تھوڑی دیر کے بعد یکہ مولوی صاحب کے گھر پہنچا اور میں گھر کے اندر داخل ہوئی۔ اتنے میں مولوی صاحب بھی آگئے۔ مولوی صاحب کا گھر پرانے زمانے کا تھا۔ ڈیوڑھی سے گذرو تو سامنے صحن، پھر برآمدہ پھر دونوں طرف کمرے۔ مولوی صاحب کی اہلیہ اور بیٹی سے ملاقات ہوئی۔ چوڑی دار پاجامہ ، ڈھیلا ڈھالا کرتا، سر پر دوپٹہ، دونوں ماں بیٹیوں کے کپڑے گھر میں رنگے ہوئے تھے۔ دونوں کے ہاتھوں میں دھانی چوڑیاں تھیں۔ ماں کے ہاتھوں اور پاؤں میں چھلے، ناک میں لونگ اور کانوں میں بندے تھے۔ بیٹی کی ناک میں نیم کا تنکا البتہ کانوں میں بالیاں تھیں۔ دونوں کے بال الٹے تھے۔ میں یہاں ایک ہفتے رہی اور دونوں ماں بیٹیوں میں گھل مل گئی۔ میں ان سے اتنی بے تکلف ہوگئی کہ میں نے ان کے ساتھ مل کر ڈھولک پر ساون کے گیت گائے۔ ‘‘ ( ۲۵)
عطیہ فیضی نے جب لکھنؤ آنے کی خواہش ظاہر کی تو علامہ شبلی نے دریافت کیاکہ آپ کہاں ٹھہرنا پسند کریں گی۔؟ علامہ شبلی ان کواپنے دوست نواب سید علی حسن خاں کے گھر ٹھہرانا چاہتے تھے۔ (۲۶)عطیہ کے لکھنؤ آنے کا ذکر انہوں نے مشیر حسین قدوائی رئیس گدیہ سے کیا جن کے خانوادہ فیضی سے گہرے روابط تھے۔ انہوں نے اپنے یہاں قیام کی پیش کش کی۔(۲۷) بہرحال عطیہ لکھنؤ آئیں۔ غالباً یہ نومبر ۱۹۰۸ء کی بات ہوگی۔ ماہ و سنہ تو صحیح ہے لیکن تاریخ قطعی طور پر معلوم نہ ہو سکی۔ البتہ یہ تو طے شدہ ہے کہ نومبر ۱۹۰۸ء سے پہلے وہ لکھنؤ نہیں آئیں۔ اب حقیقت واقعہ یہ ہے کہ ان کے اس سفر سے دو سال پہلے علامہ شبلی کی اہلیہ کا دسمبر ۱۹۰۵ء میں انتقال ہو چکا تھا (۲۸)، جن کی تدفین میں مولانا ابوالکلام آزاد بھی اتفاقیہ اعظم گڑھ پہنچ کر شریک ہوئے تھے ۔اس کا ذکر انہوں نے اپنی خودنوشت آزاد کی کہانی خودآزاد کی زبانی میں کیا ہے۔ (۲۹) علاوہ ازیں علامہ شبلی کی بڑی بیٹی رابعہ خانم کا اس سے تین سال پہلے یعنی ۱۹۰۴ء میں انتقال ہو چکا تھا۔ (۳۰) صرف دوسری بیٹی فاطمہ خانم جو صاحب اولاد تھیں، زندہ تھیں۔ ان کی شادی بندول ہی میں ہوئی تھی اور وہ وہیں قیام کرتی تھیں۔ ان کے لکھنؤ آنے کا کہیں ذکر بھی نہیں ملتا۔ انہوں نے ۱۹۰۹ء میں وفات پائی۔ (۳۱) اب سوال یہ ہے کہ عطیہ فیضی کی علامہ شبلی کی اہلیہ سے ملاقات کیسے ہوئی اور انہوں نے ان کے لباس، طرز معاشرت کا کیسے ذکر کیا؟، یہاں تک کہ ان کے ساتھ ڈھولک پر ساون کے گیت کیسے گائے؟ جبکہ وہ دنیا ہی میں نہیں تھیں۔ یہ بے سرو پا قصہ دراصل عطیہ یا نصراللہ خاں کے دماغ کی اپج ہے۔ اس کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں۔
ایک بات اور سمجھ میں نہیں آتی کہ علامہ شبلی کی بیوی کی ناک میں لونگ اور بیٹی کی ناک میں نیم کا تنکاتھا ۔ خطہ اعظم گڑھ میں چھوٹی بچیوں کی ناک میں نیم کا تنکا بچپن میںاس وقت ڈالا جاتا ہے،جب کیل پہننے کے لئے ناک میںتازہ تازہ سوراخ کیاجاتاہے۔ مگر بڑی بچیوں کی ناک نیم کاتنکانہیں کیل ہوتی ہے، جس زمانہ کی یہ باتیں ہیں علامہ شبلی کی صاحبزادی صاحب اولاد تھیں ان کی ناک میں نیم کا تنکا کہاں سے آگیا؟۔ دراصل علامہ شبلی کے بیوی بچوں کو گنوار ثابت کرنے کی کہانی عطیہ فیضی نے اپنی برتری ثابت کرنے کے لئے گھڑی ہوگی۔ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ علامہ شبلی علمی حیثیت سے تو بلند رتبہ تھے ہی معاشرتی اعتبار سے بھی معمولی آدمی نہ تھے۔ حیدرآباد سے دو سو ماہوار وظیفہ کے سوا ان کی زمینداری کئی گاؤں پر مشتمل تھی اور ان کا رکھ رکھاؤ کبھی معمولی نہیں رہا۔ان کے والد شیخ حبیب اللہ اعظم گڑھ کے نامور وکیل اور بڑے زمیندار اور متمول شخص تھے۔ برادران شبلی بھی بڑے عہدوں پر فائز ا ور بڑے نامور تھے۔ عطیہ فیضی کے یورپ جانے سے بیس سال پہلے علامہ شبلی کے منجھلے بھائی مہدی حسن یورپ سے بیرسٹری کی ڈگری حاصل کر چکے تھے۔دوسرے بھائی محمد اسحاق الہ آباد ہائی کورٹ کے نامور وکیل تھے۔ خلف شبلی حامد حسن نعمانی اس وقت تحصیل دار اور بھتیجے محمدعثمان الہ آبادکے کوتوال تھے۔ بہرحال خانوادہ شبلی کسی درجہ کم رتبہ نہیں تھا کہ گنواروں کی زندگی بسر کرتا۔
نصراللہ خاں کے قلم سے عطیہ کے سفر لکھنؤ کا حال اوپر گذر چکا ہے، اب خود عطیہ کے قلم سے ان کے سفر کی روداد ملاحظہ ہو:
’’جب میں لکھنؤ پہنچی تو دیکھا کہ مولانا دور کھڑے ہیں، ایک بچے نے آکر کہا کہ وہ ہیں مولانا آپ ان کے پیچھے پیچھے جائیے، چنانچہ وہ ایک گاڑی میں سوار ہوگئے اور اس بچے نے مجھے دوسری بگھی میں سوار کرایا، ایک مکان میں پہنچے جس کا ماحول پرانی معاشرت کا نمونہ تھا، مولانا نے خوش آمدید کہا اور ایک دروازے کی طرف اشارہ کیا کہ آپ اندر جائیے، کمرے میں خاصا اندھیرا تھا اور کچھ بیویاں وہاں تشریف فرما تھیں، صاحب خانہ نے کہا کہ یہ میری بیٹیاں ہیں، ساجد، مسرت اور فاطمہ الرب، میں نے ایسے نام کبھی نہیں سنے تھے۔ یہ مکان مولانا کے کسی دوست کا تھا اور بیٹیاں اتنی شریف اور پردہ کی پابند تھیں کہ اپنے رشتہ داروں سے بھی پردہ کرتی تھیں۔‘‘ (۳۲)
عطیہ فیضی کے اس بیان سے کم از کم یہ تو طے ہے کہ ان کا قیام علامہ شبلی کے گھر پر نہ تھا جیسا کہ نصراللہ خاں نے اپنے خاکہ میں واضح طور پر لکھا ہے۔ لہٰذا یہ یقینی ہے کہ نصراللہ خاں نے غلط بیانی سے کام لیا ہے اور شبلی کے گھر کا جو نقشہ اور ان کی اہلیہ اور بیٹی کے بارے میں جو کچھ عطیہ فیضی کے حوالہ سے لکھا ہے وہ سب فرضی داستان ہے۔
عطیہ بے پردہ رہتی تھیں۔ اس کو جائز قرار دینے کے لئے انہوں نے ایک اور واقعہ علماء سے مناظرہ کاگھڑا ہے، جس میں وہ بے پردہ علماء کے سامنے آگئیں اور علماء مجلس چھوڑ کر بھاگ گئے۔ (۳۳) انہوں نے یہ بھی کہا کہ علماء کے بھاگنے پر شبلی نے کہا کہ ’’اب میں علماء کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا۔‘‘ اس سلسلے کا عطیہ کا آخری جملہ یہ ہے کہ ’’مولوی صاحب علماء کو منہ دکھانے کے قابل رہے ہا نہ رہے، لیکن واک آؤٹ کرکے علماء نے ہی ثابت کر دیا کہ ان کے پاس میرے اعتراضات کا کوئی جواب نہیں تھا۔‘‘ دراصل یہ تمام باتیں عطیہ فیضی کی پیداکردہ اور اپنے بے پردہ رہنے کا جواز پیش کرنے کی ایک کوشش کے سوا کچھ نہیں۔ سچ یہ ہے کہ عطیہ کا ذہن صاف نہیں، کہیں وہ علامہ شبلی کو روشن خیال ثابت کرتی ہیں تو کہیں قدامت پرست۔ جیسا جہاں بہتر معلوم ہوتا ہے وہ لکھ جاتی ہیں یا بیان کر دیتی ہیں۔
نصراللہ خاں نے پردہ کے سلسلے میں انٹرویو کے حوالہ سے جو باتیں لکھی ہیںوہ عطیہ کے دوسرے مضامین میں بھی قدرے مختلف انداز میں درج ہیں، مگر یہ بات محل نظر ہے کہ آخر وہ بار بار اور علامہ شبلی سے ہر ملاقات میں پردہ کا مسئلہ کیوں اٹھاتی ہیں۔؟ مثلاً علامہ شبلی سے بمبئی میں اپنی پہلی ملاقات کی تفصیل میں وہ لکھتی ہیں:
’’جب ہم شبلی کی قیام گاہ پر پہنچے تو ہمیں ایک کمرے میں لے جایا گیا جہاں پردہ پڑا ہوا تھا، ہم نے محسوس کر لیا کہ ارادہ یہ ہے کہ ہم بند کمرے میں بیٹھیںاور وہیں سے بات چیت کریں، شبلی باہر دروازہ کے سامنے بیٹھے تھے، ان کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی تھے، سب اس خیال میں چپ تھے کہ کیا کہیں، اور کیونکر شروع کریں۔ یہ عجیب تکلیف دہ صورت تھی جس پر غصہ بھی آرہا تھا اور ہنسی بھی آرہی تھی، میں نے فیصلہ کر لیا کہ اسے ختم ہونا چاہئے، میں نے پردہ پرے ہٹایا، باہر نکلی اور میں نے کہا کہ اگر آپ ہمارا سامنا نہیں کرنا چاہتے تو ہم بھی جاتے ہیں، ایک عجیب سکوت سا میری اس بات پر چھا گیا۔ ‘‘(۳۴)
قیام لکھنؤ کا قصہ سنئے:
’’شبلی نے مجھے لکھنؤ بلوا کر ایک عجیب مخمصے میں ڈال دیا، انہوں نے تمام علماء و فضلا کو اکٹھا کیا، انہوں نے قرآن و حدیث کے حوالوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ عورت مرد کے ماتحت ہے، اس لئے ایثار اور قربانی، ترک اور تیاگ کی زندگی بسر کرے، ہم پہلے سے ایک کمرے میں بٹھائے گئے تھے، جب یہ باتیں سنتے سنتے میں عاجز آگئی تو مجھ سے صبر نہ ہوسکا، میں نے سوچا اس صورت حال کا خاتمہ ہونا چاہئے، کمرے سے باہر نکل کر میں نے کہا ’’جنت ماں کے پاؤں کے نیچے ہے، یہ قرآن کہتا ہے اور دوزخ باپ کے پاؤں کے نیچے ہے، یہ شیطان کہتا ہے اور یہ دونوں بڑی سچائیاں ہیں۔‘‘ میرے یہ الفاظ بم کا گولہ ثابت ہوئے۔‘‘ (۳۵)
ان واقعات سے کم از کم یہ تو طے ہے کہ شبلی ان کی بے پردگی کے خلاف تھے اور چاہتے تھے کہ وہ پردہ کریں، لیکن جب عطیہ یہ کہتی ہیں کہ وہ پردہ کے علمی و عملی دونوں طرح سے خلاف تھے۔ (۳۶) تو سمجھ میں نہیں آتا کہ جب وہ پردہ کے خلاف تھے تو بار بار علماء کو جمع کرکے کیوں پردہ کی اہمیت ان پر واضح کرانا چاہتے تھے۔ عطیہ ایک دوسرے مضمون میں لکھتی ہیں:
’’ہم نے ان کے بارے میں اندازہ لگایا کہ وہ عورتوں کے بارے میں بہت زیادہ تنگ نظر اور قدامت پرست ہیں۔ ان کے نزدیک اسلام میں عورت کی کوئی خاص منزلت اور حیثیت نہیں تھی۔ ‘‘ (۳۷)
عطیہ فیضی کی یہ رائے اس شخص کے بارے میں ہے جس نے امیر علی کے جواب میں الندوہ میں اسلام اور پردہ کے عنوان سے سخت مضمون لکھا تھا اور پردہ کی اہمیت واضح کرتے ہوئے ثابت کیاتھا کہ عورتوں کا پردہ کرنا اور منہ چھپانا مسلمانوں کی عام معاشرت تھی۔ (۳۸) واقعہ یہ ہے کہ عطیہ فیضی علامہ شبلی کو سمجھ ہی نہیں سکیں اور خود علامہ شبلی بھی عطیہ کو سمجھنے سے قاصر رہے۔ کیونکہ وہ عطیہ فیضی کی جس تربیت کے لئے سارے جتن کر رہے تھے اور جس مقصد سے کر رہے تھے، وہ عطیہ پر واضح نہیں کر سکے۔ اس روشن خیالی کا لازمی نتیجہ وہی نکلنا تھا جو مولوی عبدالحق، امین زبیری اور ڈاکٹر وحید قریشی وغیرہ نے نکالا۔ اس طرح علامہ شبلی کے وہ سارے جتن جو انہوں نے ایک جدید تعلیم یافتہ تیزطرار خاتون کی تربیت کے لئے کئے نہ صرف رائیگاں گئے بلکہ خود ان کی شخصیت کے لئے بھی مضر ثابت ہوئے۔
ایک اہل قلم ڈاکٹر محمد یامین عثمان نے اپنے مقالہ میں ثابت کیا ہے کہ علامہ شبلی کی عطیہ فیضی سے جو توقعات تھیں وہ تقریباً سب پوری ہوئیں۔ وہ ایک بہترین خطیب بنیں، خواتین کی تعلیم کے لئے جدوجہد کی، مدرسہ یادگار امیرا قائم کیا، پندرہ روز ہ رسالہ معین نسواں جاری کیا، وغیرہ۔ (۳۹) حقیقت یہی ہے کہ عطیہ خود توعلامہ شبلی کی ذات سے فیض یاب ہوئیں، لیکن ان کی ایک تحریرجو’’علامہ شبلی اورخاندان فیضی‘‘کے عنوان سے شائع ہوئی اس سے علامہ شبلی کی شخصیت کو شدید نقصان پہنچا۔
نصراللہ خاں نے عطیہ فیضی کے متعلق بعض متضاد مگربڑی دلچسپ باتیں بھی ان کے خاکہ میں لکھ دی ہیں۔ مثلاً وہ لکھتے ہیں:
’’نواب سلطان جہاں کے بارے میں عطیہ بیگم یہ کہا کرتی تھیں کہ اگر بیگم چاہتیں تو بڑے بڑے نوابوں اور نواب زادوں کے رشتے موجود تھے لیکن انہوں نے ایک عالم بے بدل مولوی صدیق حسن خاں سے شادی کی جن کے پاس علم کی دولت کے سوا کچھ نہ تھا اور بیگم صاحبہ ان کی اسی طرح خدمت کرتی تھیں جس طرح اس زمانے میں ایک عام عورت اپنے شوہر کی کیا کرتی تھی۔ بیگم صاحبہ ایک باپردہ خاتون تھیں۔‘‘ (۴۰)
یہ بیگم سلطان جہاں کی توصیف و ستائش میں عطیہ بیگم کا بیان ہے۔ خود عطیہ کا کیا حال تھا؟ نصراللہ خاں کے الفاظ میںملاحظہ ہو :
’’وہ فیضی [رحمین] سے ذرا ذرا سی بات پر خفا ہوجاتیں اور اسے بری طرح ڈانٹتیں اور بے پناہ غصے کے عالم میں اسے یہودی کتا کہتیں ،لیکن فیضی ہر وقت ’’جی بیگم صاحب! جی بیگم صاحب!‘‘ کہتے اور وفادار کتے کی طری دم ہلاتے رہتے۔‘‘ (۴۱)
عطیہ فیضی فرماں روائے بھوپال سلطان جہاں بیگم سے اپنے گہرے تعلقات کا ذکر کرتی ہیں۔ تالیف سیرت کے لئے شبلی کی طرف انہیں متوجہ کرانے کا دعوی کرتی ہیں۔ بھوپال جاتی ہیں۔ وہاں قیام کرتی ہیں لیکن ان کی معلومات کا یہ حال ہے کہ نواب سید صدیق حسن خاں کو ان کا شوہر بتاتی ہیںاور ان کی مثالی خدمت کا بھی ذکر کرتی ہیں۔ حالانکہ ان کے عقد میں نواب شاہ جہاں بیگم تھیں اور اطاعت شوہری کے قصے بیگم سلطان جہاں کے نہیں شاہ جہاں بیگم کے ہیں۔
عطیہ جھوٹ بھی دھڑلے سے بولتی اور لکھتی ہیں، ایک جگہ نہیں کم از کم دو جگہ لکھا ہے کہ والد نے بہن زہرا کے علمی ذوق کی شبلی سے تعریف و تحسین کی تو انہوں نے قسطنطنیہ ہی سے ان کے نام الندوہ جاری کرادیا۔ (۴۲) علامہ شبلی کا سفرقسطنطنیہ ۱۸۹۲ ء میں ہوا اورالندوہ جولائی ۱۹۰۴ء میں نکلا تو ان کے والد نے قسطنطنیہ سے الندوہ کیسے جاری کرا دیا؟ بعد میں بھی ان کے والد کے ذریعہ الندوہ کا اجرا ممکن نہیں ہو سکتا کیونکہ اس کے اجراء سے پہلے ۱۹۰۳ء میں وہ وفات پا چکے تھے۔
نصراللہ خاں نے عطیہ بیگم کے خاکے میں اقبال کے دلی لگاؤ کا ذکر سرے سے نظر انداز کر دیا ہے۔ ان کی کراچی کی زندگی پر بھی روشنی نہیں ڈالی ہے۔ ان کے بارے میں جو کچھ بیان کیا وہ آزادی سے پہلے کے قصے ہیں۔ کراچی میں وہ کس کسمپرسی میں رہیں۔ کیا کیا تکلیفیں اٹھائیں۔ حتی کہ سخت مجبوری کے عالم میںانہیںہاتھ پھیلانا پڑا۔ اور پھر وہ کس طرح بے یار و مددگار جناح اسپتال میں چل بسیں جس کی تفصیل ماہر القادری نے اپنے وفیاتی مضمون میں جو پہلے فاران میں شائع ہوا بعد ازاں یاد رفتگاں (۴۳) میں شامل کیا گیا، اس کی تفصیل لکھی ہے۔ نصراللہ خاں نے ان سب واقعات کو قلم انداز کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ عطیہ فیضی نے محمد علی جناح کی خواہش پر ہجرت کی تھی۔ جب’’ قائد اعظم‘‘ کے ایماپرجانے والوں کا یہ انجام ہوا تو جو بغیر بلائے گئے تھے ان کا کیا حشر ہوا ہوگا۔ ؟
ایک اور بات قابل ذکر ہے کہ علامہ شبلی اپنے عہد کی کانگریس کے حامی اور مسلم لیگ کے مخالف تھے۔ آخری دور میں الہلال کلکتہ کے صفحات میں ان کی یہ لے اور تیز ہوگئی تھی۔ خطوط شبلی سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک زمانہ میں عطیہ فیضی اس معاملہ میں نہ صرف ان کی ہم نوا تھیں بلکہ ان سے بھی دو قدم آگے تھیں ،مگر جب انہیں ہجرت کرنی ہوئی تو انہوں نے اپنی دوست سروجنی نائیڈو کی بات بھی ٹھکرا دی۔البتہ نصراللہ خاں نے یہ بات قطعی طور پر سچ لکھی ہے کہ ’’عطیہ کی شخصیت انتہائی پراسرار تھی۔‘‘ (۴۴) اور وہ خود اس پراسرار داستان کو صحیح طورسے سمجھ نہیںسکے۔m

حوالے
(۱) کیا قافلہ جاتا ہے ص ۱۴۲ ، نصراللہ خاں، بزم ادب کراچی، ۲۰۱۷ء
(۲) اقبال از عطیہ ص ۱۶۴، ضیاء الدین احمد برنی، اقبال اکادمی پاکستان طبع سوم ۱۹۸۱ء
(۳) کیا قافلہ جاتا ہے ص۱۴۳-۱۴۴
(۴) تاریخ ادب اردو جلد چہارم حصہ دوم ص ۱۰۵۹۔ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی
(۵) کیا قافلہ جاتا ہے ص۱۴۳
(۶) ڈاکٹر منیر احمد سلیچ، وفیات اہل قلم ص ۳۰۵، اکادمی ادبیات پاکستان ، ۲۰۰۸ء
(۷) کیا قافلہ جاتا ہے ص۱۴۳
(۸) یاد رفتگاں ج۲ ص ۱۴۳، ماہر القادری، مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی
(۹) سفرنامہ روم و مصر و شام ص ۱۰۸ ، علامہ شبلی نعمانی، دارالمصنّفین اعظم گڑھ، ۲۰۱۰ء
(۱۰) ایضاً ص ۱۰۸
(۱۱) شبلی شناسی کے اولین نقوش ص ۱۳۳۔ ڈاکٹر ظفر احمد صدیقی ، دارالمصنّفین اعظم گڑھ
(۱۲) سفرنامہ روم و مصر و شام ص۲۰۵
(۱۳) علامہ شبلی کے نام اہل علم کے خطوط ص ۱۴۰-۱۴۱، محمد الیاس الاعظمی ، ادبی دائرہ اعظم گڑھ ، ۲۰۱۴ء
(۱۴) ماہنامہ ادبی دنیا لاہور ، جون ۱۹۴۶ء ص ۳۷
(۱۵) ایضاً
(۱۶) کیا قافلہ جاتا ہے، ص ۱۴۳
(۱۷) ایضاً ص ۱۴۴
(۱۸) ایضاً ص ۱۴۴
(۱۹) شبلی معاصرین کی نظر میں ص ۱۷۹، ظفر احمد صدیقی، اردو اکادمی لکھنؤ
(۲۰) اختر اقبال ص ۲۳۸
(۲۱) شبلی شناسی کے اولین نقوش ص ۱۳۹
(۲۲) حیات شبلی ص ۴۰۸
(۲۳) کیا قافلہ جاتا ہے، ص۱۴۴
(۲۴) شبلی شناسی کے اولین نقوش ص ۱۳۹
(۲۵) کیا قافلہ جاتا ہے ص۱۴۴-۱۴۵
(۲۶) خطوط شبلی ص ۵۶، مرتبہ امین زبیری، شمسی سین پریس آگرہ
(۲۷) ایضاً ص ۵۷
(۲۸) حیات شبلی ص ۶۶۸
(۲۹) آزاد کی کہانی خودآزاد کی زبانی ص ۱۹۶- ۱۹۷
(۳۰) حیات شبلی ص ۶۶۷
(۳۱) ایضاً
(۳۲) شبلی شناسی کے اولین نقوش ص ۱۳۵
(۳۳) کیا قافلہ جاتا ہے ، ص۱۴۵
(۳۴) شبلی شناسی کے اولین نقوش ص ۱۳۸
(۳۵) شبلی شناسی کے اولین نقوش ص ۱۴۰
(۳۶) ادبی دنیا لاہور جون ۱۹۴۶ء ص ۳۶
(۳۷) شبلی شناسی کے اولین نقوش ص ۱۳۸
(۳۸) مقالات شبلی اول ص ۱۲۲، دارالمصنّفین اعظم گڑھ، ۱۹۳۰ء
(۳۹) مباحث لاہور ، جنو ری تا جون ۲۰۱۲ء ، ص ۳۱۱- ۳۲۶
(۴۰) کیا قافلہ جاتا ہے ص۱۴۶
(۴۱) ایضاً ص۱۴۳
(۴۲) شبلی شناسی کے اولین نقوش ص ۱۳۳
(۴۳) یادرفتگاںج ۲، ص۱۴۳
(۴۴) کیا قافلہ جاتا ہے ایضاً ص ۱۴۷

You might also like
  1. younus khayyal says

    عطیہ فیضی کے علامہ اقبال اورمولاناشبلی سے تعلقات کے حوالے بہت کچھ لکھاگیا۔ یہ تحقیقی اور وضاحتی مضمون اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے ۔ ڈاکٹرمحمدالیاس الاعظمی نے دلائل کےساتھ کچھ حقائق ہمارے سامنے رکھے ہیں ۔۔۔۔۔
    ’’ خیالنامہ ‘‘ ڈاکٹرصاحب کا شکرگزارہے کہ انھوں نے ہمارے قارئین کے لیے یہ مضمون خصوصی طورپربھجوایا۔

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post