عبدالسلام ندوی کا تنقیدی شعور(شعر الہند کے تناظر میں) : پروفیسرمجاہدحسین

ABSTRACT

مولانا عبدالسلام ندوی کے ادبی سرمائے میں ’شعر الہند‘ کو بے حد اہمیت حاصل ہے۔ اس کتاب میں عبدالسلام نےشعرا کے حالات زندگی اور ان کی شاعری پر بحث کی ہے۔ ’شعر الہند‘ دو جلدوں پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب اردو شاعری کا جائزہ ہے۔ شعر الہند کو ادبی تاریخ کہا گیا ہے۔ مصنف شعر الہند نے کتاب کی تالیف میں ’آب حیات‘ اور ’گل رعنا‘ سے استفادہ کیا ہے۔ ’آب حیات‘ تذکرہ نگاری اور ادبی تاریخ کے درمیان حد فاصل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ’آب حیات‘ میں محمد حسین آزاد نے شاعروں کا ذکر الف بائی کے حساب سے کیا ہے۔

عبدالسلام کی تالیف ’شعر الہند‘ اردوکی پہلی ادبی تاریخ ہے۔ یہ کتاب دو جلدوں پر مشتمل ہے شعر الہند کی پہلی جلد جون ۱۹۲۵ ءاور دوسری جلد ۱۹۲۶ء میں مطبع معارف اعظم گڑھ کے تحت شائع ہوئی۔ یہ کتاب جب پہلی بار شائع ہوئی تو اس پر تاریخ اشاعت درج نہ تھی، اس سلسلے میں ڈاکٹر گیان چند ’اردو کی ادبی تاریخیں‘ میں لکھتے ہیں:

’’جلد اوّل کے دیباچے میں کوئی تاریخ درج نہیں کی، کیونکہ سنین دینا مولانا عبدالسلام کی کمزوری نہیں۔ میرے استفسار پر دارالمصنفین سے مجھے اطلاع دی گئی کہ ’شعر الہند‘ کا پہلا

حصہ جون ۱۹۲۵ء میں اور دوسرا ۱۹۲۶ء میں شائع ہوا۔ فروری ۱۹۲۶ء میں نیاز نے ’نگار‘ میں ’شعر الہند‘ پر تبصرہ کیا۔‘‘1

شعر الہند کی پہلی جلد ۴۴۵ صفحات پر مشتمل ہے۔ عبدالسلام نے اس کی پہلی جلد کو چار ابواب میں تقسیم کیا ہے اور ان چار ابواب میں شاعری کو چار ادوار میں تقسیم کیا ہے۔ شعر الہند جلد اوّل کی ابواب بندی کچھ یوں ہے: پہلا باب اردو شاعری کا آغاز، قدما کا پہلا دور، قدما کا دوسرا دور، میر و مرزا، قدما کا تیسرا دور، مصحفی و انشا، تلامذہ شعرائے قدیم، متبعین شعرائے قدیم۔ دوسرا باب: متوسطین کا پہلا دور، اردو شاعری کے دو مختلف اسکول، شیخ ناسخ اور خواجہ آتش، اساتذہ دہلی، متوسطین کا دوسرا دور، تلامذہ مومن و غالب۔ تیسرا باب: متاخرین کا پہلا، داغ و میر، متاخرین کا دوسرا دور، چوتھا باب: دور جدید۔

کتاب کے آغاز میں ایک دیباچہ ہےا س میں مصنف نے مسلمانوں کا تنزل اور شاعری کی ترقی بیان کی ہے۔ کتاب میں دیباچے کے بعد مصنف نے ایک مقدمہ تحریر کیا ہے۔ اس مقدمہ میں قدیم شعرا کے تذکروں کا بیان ہے جس میں ان کی حیثیت اور کیفیت بیان کی ہے۔ شعر الہند جلد اوّل کے مقدمہ میں عبدالسلام کتاب کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔ ان کے مطابق کتاب کی ترتیب یہ ہے کہ شاعری کے چار دور قرار دیے ہیں اور یہ ترتیب پہلے دور میں قدما کی شاعری کے تاریخی انقلابات و تغیرات کو نمایاں کیا ہے، اس کے بعد متوسطین کے دور کو لیا ہے جس میں لکھنو کی شاعری کا آغاز ہوا ہے اور دلی اور لکھنو کے دو الگ الگ سکول قائم ہو گئے ہیں، اس لئے اس دور کی اصلاحات و تغیرات کی تاریخ کے ساتھ دلی اور لکھنو کی امتیازی خصوصیات اور اس دور کے مختلف اساتذہ مثلاً مومنؔ، ذوقؔ، شاہ نصیرؔ، غالبؔ، ناسخؔ، آتشؔ اور ان کے تلامذہ کی شاعری پر ایک مفصل بحث کی ہے، پھر متاخرین کے دور کو لیا ہے اور اس دور میں لکھنو کی شاعری میں جو انلقاب پیدا ہوا ہے اس کی تفصیل کی ہے، سب سے آخر میں دور جدید کا ایک عنوان قائم کیا ہے، جس میں شعرائے حال کے کارناموں کو بہ تفصیل بیان کیا ہے، اس کے بعد اردو شاعری کے تمام انواع یعنی قصیدہ، مثنوی اور مرثیہ وغیرہ پر تنقید تاریخی اور ادبی حیثیت سے کی ہے اور انہی مباحث پر کتاب کا خاتمہ ہو گیا ہے۔2 ’شعر الہند‘ کی جلد اوّل میں اردو شاعری کے آغاز سےلے کر جدید شاعری کے ارتقا تک کا بیان ہے۔

باب نمبر ۱ میں اردو شاعری کے آغاز پر بحث کی گئی ہے اس کے بعد قدما کا پہلا دور بیان کیا گیا ہے۔ اس دور میں شاعری کی تجدید اور اس میں اصلاح کی طرف توجہ کی گئی ہے۔ دلی میں اردو شاعری اور قدما کا دوسرا دور بیان کیا گیا ہے۔ میر اور مرزا کا موانہ کیا گیا ہے۔ اس کے بعد قدما کا تیسرا دور شروع ہوتا ہے اس میں لکھنو میں شاعری کے آغاز پر بحث کی ہےاور مصحفی و انشا کا موازنہ و مقابلہ پیش کیا ہے، اس کے بعد تلامصذائے شیخ شرف الدین، مضمون، مظہر جان جاناں، مصطفی خان یک رنگ، شاہ

حاتم، میر، سودا، قلی ندیم، اشرف علی خاں فغاں، میر محمدی بیدار، جعفر علی حسرت، میر حیدر علی حیران، میر شمس الدین فقیر دہلوی، شاہ قدرت اللہ قدرت کا مختصر ذکر ہے، ان شعرا کے چند ایک اشعار بھی ساتھ دیے گئے ہیں دوسرے باب کا عنوان متوسطین کا پہلا دور ہے۔ اس باب کی ابتدا ناسخ سے ہوتی ہے، اس کے بعد اردو شاعری کے دو مختلف سکول دلی اور لکھنو کا بیان ہے۔ اس کے بعد شیخ ناسخ اور خواجہ آتش کے عنوان سے بحث کی گئی ہے۔ دوسرے باب کا اگلا عنوان اساتذہ دلی ہے۔ پھر متوسطین کا دوسرا دور بیان کیا گیا ہے۔ اسی باب کا اگلا عنوان تلامذہ آتش و ناسخ ہے۔ اس کے بعد تلامذہ مومن و غالب ہے۔ تیسرے باب میں متاخرین کا پہلا دور کا آغاز ریاست رام پور کے نام سے کیا ہے، اس کے بعد اسی باب میں داغ و امیر کا موازنہ پیش کیا ہے۔ اس کے بعد متاخرین کا دوسرا دور شروع ہوتا ہے۔ جس میں تلامذہ داغ و امیر پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ چوتھا باب دور جدید پر مبنی ہے، آخر میں متفرق نظموں کا عنوان قائم کیا گیا ہے، اس میں انگریزی نظموں سے تراجم کا ذکر کیا گیا ہے۔ ’شعر الہند‘ کی ابواب بندی اور عنوانات کے بارے میں ڈاکٹر گیان چند لکھتے ہیں:

’’تنقید کا بھی مطالبہ ہے کہ شاعر کے کلام کا اس کے عہد، ادبی ماحول اور سوانح کے آئینے میں جائزہ لیا جائے، لیکن مولانا نے اس پہلو کو بالکل نظر انداز کیا ہے۔ وہ کتاب کا خاکہ بنانے میں بھی ماہر نہیں۔ انہیں باب کے تعین کا اچھا شعور نہیں۔ پہلے حصے (جلد) میں جو چار باب بنائے ہیں وہ دراصل کتاب کے بڑے حصے ہیں اور ان کے ذیلی عنوانات باب کی حیثیت رکھتے ہیں، بہرحال انہوں نے اردو شاعری کے چار دور کئے ہیں اور ان میں ہر ایک کو ایک ایک باب دیا ہے۔ پہلا باب متقدمین سے متعلق ہے جس کے تین دور کیے ہیں۔ دوسرا باب متوسطین کا ہے، اس کے دو دو دور کیے ہیں۔ تیسراباب متاخرین کا ہے، اس کے بھی دو دور ہیں۔ یہ نہ سمجھیے کہ متاخرین کے دورِ دوم پر دور تمام ہو گئے۔ چوتھا باب دور جدید ہے جس میں صنف وار جائزہ لیا ہے۔ متاخرین کے بعد ایک اور دور کیا معنی۔ دورِ جدید کو متاخرین ہی کا تیسرا باب کہنا چاہئےتھا۔‘‘3

رام بابو سکسینہ ’شعر الہند‘ کے لئے رقم طراز ہیں:

’’شعر الہند میں جونظم اردو کی ایک مبسوط تاریخ ہے ان اثرات و حالات کو جو مختلف اوقات میں نظم اردو پر مرتب ہوئے ہیں مفصل اور نہایت خوبی سے بیان کیا ہے۔ اپنی نوعیت میں کتاب بہت عمدہ اور قابل تعریف ہے اور اس کتاب کو تصنیف کر کے مصنف نے فی الحقیقت زبان اردو کی بڑی خدمت کی ہے، مگر یہ کہنا پڑتا ہے کہ کتاب کا نام اسم غیر مسمیٰ ہے……. بہر حال کچھ بھی ہو کتاب کارآمد اور مفید ضرور ہے۔‘‘4

آغا محمد باقر ’شعر الہند‘ کیتعریف میں رطب السان ہیں:

’’’شعر الہند اپنی نوعیت کی عمدہ کتاب ہے۔ اس میں نظم اردو پر ایک خاص نقطہ نظر سے بحث کی گئی ہے۔ اس میں اکثر لوگوں کا ذکر نہیں جنہوں نے زبان کی ترقی میں بے حد کوششیں کی ہیں ….. بہرحال اس میں خاص باتیں ایسی ہیں جو دوسری کتابوں میں نہیں ملتیں۔‘‘5

’شعر الہند‘ کے بارے میں ناقدین کلی طور پر متفق نہیں ہوئے کہ یہ تذکرہ ہے یا ادبی تاریخ۔ ڈاکٹر گیان چند کو شعر الہند کی ابواب بندی پسند نہیں آئی۔ رام بابو سکسینہ کو اس کے نام پر اعتراض ہے۔ شعر الہند تنقیدی تاریخ ہے یا تذکرہ ہے، اسم باسمیٰ ہے یا اسم غیر مسمیٰ، مگر دنیائے ادب میں اس کی بے حد اہمیت ہے۔ عبداسلام نے اپریل ۱۹۳۱ء ’معارف‘ میں لکھا کہ ’آب حیات، گل رعنا اور خمخانہ جاوید میں صرف شعرا کے تذکرے ہیں، سیر المصنفین میں صرف نثاروں اور انشا پردازوں کے حالات ہیں۔ شعر الہند میں صرف اردو شاعری کی تنقیدی تاریخ ہے۔6 ’شعر الہند‘ کا وجود اردو شاعری کے بعد کے لکھے جانے والے تذکروں یا ادبی تاریخوں کے لئے خضر راہ ثابت ہوا۔

’شعر الہند‘ کی جلد اوّل میں گیارہ صفحوں پر مشتمل مقدمہ ہے۔ اس مقدمہ میں عبدالسلام نے قدیم تذکروں کی ایک فہرست دی ہے۔ اس فہرست سے پہلے ایک دیباچہ ہے۔ اس دیباچے میں عبدالسلام لکھتے ہیں:

’’افسوس ہے کہ آج تک اردو زبان میں کوئی ایسی جامع کتاب نہیں لکھی گئی جو اردو شاعری کے ان تمام انقلابات و تغیرات کو نمایاں کرتی اور اس سے یہ معلوم ہوتا کہ انواع شاعری کی ترقی کے لحاظ سے موجودہ زبانوں میں اردو کا کیا درجہ ہے؟ یہ سچ ہے کہ اردو شاعری کے ہر دور میں شعرائے اردو کے تذکرے کثرت سے لکھے گئے اور بعض تذکرے نہایت مستند لوگوں نے لکھے، چنانچہ ان تذکروں کی فہرست سے اس کا اندازہ ہو سکتا ہے۔‘‘7

مولوی عبدالحق، عبدالسلام سے اختلاف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کا یہ موضوع ہے، تو ہمیں افسوس سے یہ کہنا پڑتا ہے کہ مؤلف کو اس میں کامیابی نہیں ہوئی۔ شاعری کے انقلابات اور تغیرات اپنے زمانے کےانقلابات اور تغیرات سے وابستہ ہوتے ہیں۔ شعر کو شاعر سےاور اس کے زمانے سے الگ کر کے دیکھنا ایسا ہے جیسے کسی شخص کو اس کے احباب اور عزیزوں اور اس کے وطن سے جدا کر دینا۔ 8عبدالسلام نے کتاب کے آغاز میں آب حیات سے پہلے لکھے گئے قدیم تذکروں کی ایک فہرست دی ہے ان کے مطابق یہ فہرست گارساں دتاسی نے اپنے تذکرے کے مقدمہ میں دی ہے۔ (گارساں دتاسی نے اردو زبان و ادب کی بے حد خدمت کی ہے، ان کا تعلق فرانس سے تھا، وہ ۲۰ جنوری ۱۷۹۴ء کو مارسیلز فرانس میں پیدا ہوئے۔

انہوں نے پیرس میں عربی ، فارسی اور ترکی زبان سیکھی اور اردو زبان کی تعلیم انگلستان میں حاصل کی۔ ۱۸۸۲ء میں ان کی کوشش سے پیرس میں ادارہ السنہ ء شرقیہ میں شعبہ اردو قائم ہوا، جب انہوں نے اپنی تعلیم مکمل کر لی تو پھر اسی ادارے کے ساتھ وابستہ ہو گئے) جس کے ایک حصہ کا ترجمہ محفوظ الحق نے رسالہ ’معارف‘ ستمبر ۱۹۲۲ء میں شائع کروایا۔ اس ضمن میں ڈاکٹر گیان چند لکھتے ہیں:

’’سچ یہ ہے کہ دستاسی نے کوئی تذکرہ نہیں لکھا۔ اس نے ۱۸۵۴ء کے خطبے میں اردو تذکروں اور انتخابات کی تفصیل دی۔ بعد میں اسی کو ’ہندوستانی زبان کے مصنفین کا تذکرہ‘ کے نام سے کتابی شکل میں چھاپا۔ مولوی ذکا اللہ نے اس کا اردو ترجمہ کر کے ۱۸۵۶ء میں شائع کیا۔ محفوظ الحق کو اس ترجمے کا علم نہ ہو گا۔ انہوں نے اس کا علیحدہ سے ترجمہ کیا جس سے عبدالسلام نے استفادہ کیا۔ دستاسی کے رسالے میں جو تسامحات ہیں، وہ ’شعر الہند‘ میں بھی درآگئے ہیں۔ عبدالسلام نے تذکروں کی فہرست نہ زمانی حیثیت سے دی ہے نہ تذکرے یا مصنفوں کے نامی کی ہجائی ترتیب سے۔‘‘9

’شعر الہند‘ کے مقدمہ میں تذکروں کی فہرست کا آغاز ’عیار الشعرا‘ سے ہوا ہے، اس فہرست میں گلزار مضامین کے نام سے بھی ایک تذکرہ شامل کیا گیا ہے جو مرزا جان طپش کا ہے، ڈاکٹر گیان چند کے مطابق:

’’گلزار مضامین، طپش کے مجموعہ کلام کا نام ہے۔ چونکہ شاعر نے اس کے نثری دیباچے میں اردو شاعری پر نظر ڈالی ہے اور شعرا کی زندگی کا مختصر خاکہ بھی پیش کیا ہے۔ اسی لیے سہواً اسے تذکروں میں جگہ دی گئی۔ ذکا اللہ کے رسالہ ’درباب تذکرات‘ کے بارے میں عبدالسلام قیاس کرتے ہیں، ’غالباً تذکروں پر کوئی بحث ہو گی۔‘ انہیں یہ علم نہیں کہ وہ دتاسی کے جس نام نہاد تذکرے سے استفادہ کر رہے ہیں، ذکا الہ نے اسی کا ترجمہ کیا۔ یہ رسالہ تذکرہ نہیں، تذکروں کا تذکرہ ہے۔‘‘10

تذکروں کی اسی فہرست میں ’روضۃ الشعرا‘ بھی شامل ہے، اس کے لکھنے والے محمد حسین کلیم دہلوی ہیں۔ اس ضمن میں ڈاکٹر گیان چند لکھتے ہیں:

’’اس میں اردو شعرا کا حال نظم میں لکھا گیا ہے۔ نیز میر نے ’نکات الشعرا‘میں کلیم کے احوال میں اس کا ذکر کیا ہے اور اس کا ایک شعر بھی دیا ہے…. ڈاکٹر محمود الٰہی کے مرتبہ ’نکات الشعرا‘ میں کلیم کے حالات میں ’روضۃ الشعرا‘ کا کوئی ذکر نہیں۔ عبدالسلام کے بیان سے ایسا لگتا ہے جیسے یہ کوئی منظوم ’تذکرہ شعرا‘ ہو۔ دراصل یہ ایک قصیدہ نما طویل نظم ہے جس میں شاعروں کا ذکر ہے۔ اسے تذکرہ نہیں کہہ سکتے۔‘‘11

عبدالسلام نے شعر الہند کے مقدمہ میں تذکروں کی جو فہرست دی ہے اس میں شامل کئی تذکرے دیکھنے میں نہیں آئے، کچھ تذکروں کے مصنفین کے نام غلط ہیں ور کسی جگہ تذکرہ کا نام غلط لکھا گیا ہے۔ شعر الہند میں دی گئی تذکروں کی فہرست میں ’طبقات الشعرا‘ تذکرہ کا نام اور مصنف کا نام مولوی کریم الدین لکھا ہے، کیفیت کے خانے میں عبدالسلام لکھتے ہیں کہ یہ تذکرہ ۱۸۴۸ء میں بمقام دلی چھپا، اس میں لکھا ہے کہ یہ ڈی ٹاسی کی کتاب ’تاریخ ہندی و ہندوستانی لٹریچر‘ کا ترجمہ ہے، لیکن درحقیقت یہ اس سے علیحدہ اور مستقل کتاب ہے۔ مسٹر ایف فلن انسپکٹر تعلیمات عامہ بہار نے ڈی ٹاسی کی کتاب کا مواد اس مصنف کو دیا تھا اور اسی پر اس نے یہ عمارت کھڑی کی ۔12 ڈاکٹر گیان چند ’اردو کی ادبی تاریخیں‘ میں لکھتے ہیں:

’’عبدالسلام نے ’شعر الہند‘ کے دیباچے کی فہرست میں کریم الدین کے تذکرے کا نام ’طبقات الشعرا‘ لکھا ہے۔ صحیح ’طبقات شعرائے ہند‘ ہے، لیکن ص ۸ پر اس کا نام ’تاریخ شعرائےا ردو‘ لکھا ہے۔ کتاب میں جگہ جگہ اس تذکرے سے حوالے ہیں اور ہر جگہ اس کا نام ’تاریخ شعرائے اردو‘ لکھا ہے جو کسی طرح اس تذکرے کا نام نہیں۔ اس سے بڑی غلط فہمی ہوتی ہے۔ میں نے عبدالسلام کے مذکورہ کئی حوالوں کو کریم الدین کے تذکرے میں ڈھونڈا اور موجود پایا۔ اس سے یقین ہو گیا کہ ’تاریخ شعرائے اردو‘ سے عبدالسلام کی مراد ’طبقات شعرائے ہند‘ ہی ہے۔‘‘13

عبدالسلام نے تذکرہ ’مراۃ الخیال‘ سے جو چند اور اشعار نقل کیے ہیں، ان میں ہندی الفاظ بکثرت ہیں، جیسے پان، کلیان، مینا، چنبیلی وغیرہ۔ عہد شاہ جہانی میں شعرا نے اس روش کو برقرار رکھا ، انہوں نے خاص طور پر کلیم کا حوالہ دیا ہے، کلیم نے اپنی شاعری میں اردو زبان کے بہت سے الفاظ استعمال کیے ہیں۔ انہوں نے کلیم کی مثنوی سے جو اشعار پیش کیے ہیں، ان میں کئ الفاظ ہندی زبان کے ہیں جیسے تنبولی، دھوبی، پٹھانی، راجپوت، چنبہ، مولسری، گڈ ہل وغیرہ۔

عبدالسلام کے مطابق مولانا صفیر بلگرمی نے تذکرہ جلوۂ خضر میں اس بات کو غلط قرار دیا کہ ولی اردو کے پہلے شاعر نہیں ہیں، اس بات کو ثابت کرنے کے لئے انہوں نے چند دلائل دیے ہیں:

1) دکن میں ایک مدت سے اردو زبان کا خاکہ تیار ہو چکا تھا۔

2) اس لئے قدرتی طور پر پہلے نثر لکھی گئی ہوگی۔

3) اس کے بعد نظم کی نوبت آئی ہوگی اور لوگوں نے امیر خسرو کی غزلوں، پہیلیوں کو نمونہ بنایا ہوگا اور پہلے تفنتاً یا مزاحاً کچھ کہنا شروع کیا ہوگا۔

4) لیکن ولی کا کلام نہایت صاف، رواں اور ترقی یافتہ ہے، انہوں نے بالکل شعرائے ایران کے طرز پر ردیف واردیوان مرتب کیا

ہے۔ اس لیے اصول ارتقا کے مطابق کسی شاعر کا ابتدائی کلام اس قدر ترقی یافتہ نہیں ہو سکتا۔

5) دکن میں اور بھی بہت سے شعرا کے نام ملتے ہیں جن کے کلام میں ولی کی صفائی اور شستگی نہیں ہے اور وہ بالکل امیر خسرو کے پیرو معلوم ہوتے ہیں۔14

عبدالسلام نے ’شعر الہند‘ میں زبان کی اصلاح و ترقی دکھانے کے لئے تبدیلی الفاظ کی جو جدول دی ہے، وہ نہایت مفید ہے۔ انہوں نے مذکورہ فہرست، جلوہ خضر سے نقل کی ہے۔ بقول ڈاکٹر گیان چند زبان کی اصلاح و ارتقا دکھانے کے لئے ’شعر الہند‘ میں اڑھائی صفحوں پر ایک جدول دی ہے جس کے پہلے کالم میں ’لفظ وقت ولی‘ اور دوسرے کالم میں ’تبدیلی میرومرزا‘ دی ہے۔ یہ فہرست انہوں نے ’جلوہ خضر‘ سے نقل کی ہے۔ چونکہ جلوہ خضر نہایت کم یاب ہے، اس لیے ’شعر الہند‘ نے اس مفید فہرست کو ڈائجسٹ کر کے اچھا کیا۔ عبدالسلام نے یہ نتیجہ نکالا کہ اصلاحات مظہر و حاتم کے بعد اردو شاعری بالکل فارسی کے قالب میں ڈھل گئی۔ ڈاکٹر گیان چند نے جدول کا سیدھا سادہ ذکر کر دیا ہے مگر مولوی عبدالحق نے اس میں پیش کردہ کئی الفاظ کے معنی کے بارے میں اس بات کا اظہار کیا ہے کہ وہ غلط ہیں۔ اس بارے میں مولوی عبدالحق لکھتے ہیں:

’’قدماکا دوسرا دور جس میں اردو شاعری کی تجدید واصلاح پر بحث کی ہے وہ بھی بہت مختصر ہے، یعنین صرف بارہ صفحے ہیں۔ اگرچہ قابل مولف نے زبان کی تاریخ اور تغیر و تبدل کے اسباب پر کہیں بحث نہیں کی لیکن اس امر کو خوبی سے بتایا ہے کہ شعر گوئی کی طرز اور زبان میں کس کس طرح تغیر ہوا اور کون کون سےا لفاظ ترک ہوتے گئے۔ ہمارے ہاں زیادہ تر شاعری کے ظاہر سے بحث ہوتی ہے اور اس لیے الفاظ کے ترک و اختیار پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ چنانچہ اس دور میں قدیم محاورات اور الفاظ میں جو تذکرہ ’جلوہ خضر‘ سے نقل کر دی ہے، چونکہ خود تحقیق نہیں ہے اس لیے جو غلططی اصل مصنف سے ہو گئی ہے، وہ ویسی ہی رہ گئی ہے۔ مثلاً نسدن کے معنی ہمیشہ لکھتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہو سکتا ہے، لیکن اس کے معنے یہ نہیں ہیں۔ نس کے معنی رات کے ہیں اور نس دن کے معنی شب و روز کے ہوتے ہیں۔‘‘15

’شعر الہند‘ جلد اوّل کے دوسرے باب کا پہلا موضوع متوسطین کا پہلا دور ہے۔ اس موضوع پر عبدالسلام نے سبس ے پہلے ناسخ پر بحث کی ہے۔ عبدالسلام کے مطابق مصحفی اور انشا کے زمانے تک اگرچہ لکھنو میں شاعری عام ہو چکی تھی اور بہت سارے شاعر پیدا ہو چکے تھے لیکن دلی والے شاعر کسی کو خاطر میں نہ لاتے۔ اس زمانے میں شیخ امام بخش ناسخ پیدا ہوئے۔ بقول عبدالسلام ناسخ نے تمام شعرا قدیم کی شریعتیں منسوخ کر دیں،

عبدالسلام نے وہ تبدیلیاں بیان کی ہیں جو ناسخ نے زبان اور شاعری کی اصلاح میں کیں:

1) پہلے زبان اردو کو ریختہ کہتے تھے لیکن ناسخ کے وقت سے اس کا نام اردو رکھا گیا۔

2) پہلے غزل کو بھی ریختہ کہتے تھے، ناسخ نے غزل کا لفظ رائج کیا۔

3) غزل کی زمینوں میں تصرف کیا۔

4) افعال میں یہ اہتمام کیا کہ جو افعال اصولاً صحیح تھے، انہی پر ردیف و قافیہ کی بنیاد رکھی۔

5) قدما کی ایک خصوصیت فحاشی اور بدزبانی تھی اور ہجو سے گزر کر خود غزل میں اس فحش زبان نے بار پا لیا تھا، لیکن ناسخ نے اس قسم کے الفاظ سے زبان کو پاک کر کے اس کو مہذب اور شائسہ بنا دیا۔

6) جہاں تک ممکن ہوا فارسی اور عربی زبان کے الفاظ استعمال کیے اور ہندی اور بھاکا کے الفاظ کو چھوڑ دیا۔

7) الفاظ کی تذکیر و تانیث کے قاعدے بھی بنائے۔

8) بندش کی طرز فارسی کی طرز پر قائم کی جس سے مضامین میں وسعت پیدا ہو گئی اور شعر کے ظاہری حسن میں بھی اضافہ ہو گیا۔

9) مضامین میں عاشقانہ طرز کو کم کر کے ہر قسم کے مضامین کو شاملِ غزل کیا جس سے غزل گوئی کے دائرے میں نہایت و سعت پیدا ہو گئی۔

10) اردو زبان کی اصلاح کا دور اگرچہ شاہ حاتم ہی کے زمانہ سے شروع ہوا اور ان کے بعد ہر زمانہ میں تبدیلیاں ہوتی رہیں، تاہم اب تک اصلاح کی ضرورت باقی تھی۔16

نصیر الدین ہاشمی نے ’مقالات ہاشمی‘ میں شعر الہند پر جو تبصرہ کیا وہ صرف شعر الہند کی جلد اوّل پر ہے۔ عبدالسلام سے دکن کے بارے میں جو فرو گزاشتیں ہوئیں اور جو کمیاں رہ گئیں ان کے بارے میں نصیر الدین ہاشمی لکھتے ہیں:

1) شعر الہند کے دیباچے میں اردو تذکروں کی فہرست دی گئی ہے، مگر دکن کے کسی تذکرہ نویس کا ذکر نہیں۔

2) اردو شاعری کے آغاز کو بہت مختصر بیان کیا گیا ہے۔ ابتدائی شاعری جو کہ دکن سے تعلق رکھتی ہے اس کے بارے میں کچھ نہیں لکھا، سلطان قلی قطب کے مجموعہ کلام کو ’دیوان‘ لکھا ہے، وہ دیوان نہیں ہے۔ غواصی نے طوطی نامہ بخشی لکھا جس کا ایک مصرع ہندی اور دوسرا مصرع فارسی میں تھا، یہ کتاب ایسی نہیں بلکہ یہ دکنی نظم ہے، مثنوی ’من لگن‘ کا ذکر سرسری

طورپر کیا ہے۔ عبدالسلام کا یہ لکھنا کہ اردو شاعری کا آغاز مذہبی حیثیت سے ہوا اور ولی کے معاصرین نے جو کچھ لکھا وہ مناجات وغیرہ پر مشتمل تھا یہ بیان صحیح نہیں ہے۔ بلکہ وجہی، نصرتی، ابن نشاطی، قطب شاہ رستمی، غواصی، خوشنود، شیدا، مومن وغیرہ کی مثنویوں میں مناظر قدرت کا بیان ہے۔ تاریخی اور اخلاقی نظمیں بھی ملتی ہیں۔

3) عبدالسلام کا یہ لکھنا کہ اردو کا خاکہ عالم گیر کے عہد میں تیار ہوا لیکن اس کی داغ بیل عالم گیر کے زمانے سے بہت پہلے پڑ چکی تھی، یہ بات صحیح نہیں ہے، اردو کا مکمل خاکہ بہت پہلے سے تیار ہو چکا تھا اور بیسیوں با کمال شاعر پیدا ہو چکے تھے، ان کا کلام آج تک محفوظ ہے۔

4) ولی کے متعلق عبدالسلام کا یہ کہنا غلط ہے کہ ولی جب تک دکن میں رہے اس وقت تک ان کا کلام قابل اصلاح تھا، اس بات کا کوئی ثبوت نہین ہے بلکہ جب وہ دلی آئے تو ان کا دیوان ان کے ساتھ تھا، اس وقت تک وہ کہنہ مشق شاعر بن چکے تھے۔

5) ولی، لکھنو، رامپور عظیم آباد تک شاعری کی ترقی کا احوال لکھا ہے، مگر حیدرآباد کو نظر انداز کیا ہے۔ ذوق اور ناسخ کے ہم عصر دکنی شاعر حفیظ کو نظر انداز کیا ہے۔

6) ولی سے پہلے کئی شعرا نے اپنے فن میں کمال حاصل کیا ان کا کہیں ذکر نہیں، شعر الہند میں سوائے ولی اور سراج کے سرسری ذکر اور کسی شاعر کا ذکر نہیں، چوتھے باب میں بھی یعنی دور جدید میں دکن کونظر انداز کیا گیا ہے، شاد کی صوفیانہ غزلیں، کیفی کی اخلاقی اور قومی نظمیں، امجد کی رباعیات اور نظمیں سب کو نظر انداز کیا ہے، انگریزی نظموں کے ترجموں میں مولانا نظم طبا طبائی خاص طور پر قابل ذکر ہیں، لیکن ’گور غریباں‘ کا کہیں ذکر بھی نہیں کیا۔17

’شعر الہند‘ جلد دوم تاریخ ادب اردو میں اپنی نوعیت کی پہلی کتاب ہے ، اس میں اردو کی اصناف سخن کا تاریخی اور ادبی ریویو پیش کیا گیا ہے۔ کتاب کے آغاز میں اردو زبان میں فن تنقید پر ایک مبسوط مقدمہ لکھا گیا ہے اس میں دور قدیم کے انداز کی تنقید پیش کی گئی ہے۔ پہلا باب اردو کی انواع شاعری پر ریویو، تاریخی حیثیت سے، غزل، ریختی، واسوخت، قصیدہ، مرثیہ، مثنوی، ڈراما، مذہبی شاعری، صوفیانہ شاعری، اخلاقی شاعری، فلسفیانہ شاعری۔ دوسرا باب اردو کی انواع شاعری پر ریویو ادبی حیثیت سے، غزل، خمریات، قصیدہ، فخریہ، مرثیہ، ہجو، مثنوی، سہرا، وصف، تشبیہ و استعارہ، اجزائے شعر، قافیہ، ردیف، وزن، محسنات شعر، صنائع و بدائع۔ تیسرا باب ملکی سرمایہ، ہندوؤں کا تعلق اردو شاعری کے ساتھ، مربیان سخن، خاتمہ، اردو شاعری کا درجہ، پر مشتمل ہے۔

’شعر الہند‘جلد دوم کا آغاز مقدمہ سے ہوتا ہے، عبدالسلام کے مطابق مقدمہ کا موضوع ہے ’اردو زبان میں فن تنقید‘، اردو شاعری نے جیسا کہ عام طور پر معلوم ہے سب سے پہلے دکن میں نشوونما پائی،ا س کے بعد دلی میں اس کا آغاز ہوا، اور سب سے اخیر میں اس نے لکھنؤ کو اپنا مستقر بنایا۔ اردو شاعری کے ان تینوں مراکز میں ابتدا ہی میں اختلافات رونما ہو گئے، قدما اور متوسطین نے اصلاح زبان کے لئے چند ایک اقدامات کیے، کچھ الفاظ نکال دیے اور ان کی جگہ نئے الفاظ نے لے لی۔ اس کے بعد اردو شاعری کے دو سکوں دلی اور لکھنو قائم ہو گئے۔ شاعرانہ اعتبار سے دونوں کی خصوصیات ایک دوسرے سے متضاد تھیں، دونوں طرف سے ایک دوسرے پر لفظی اور معنوی طور پر اعتراضات کی بوچھاڑ ہونے لگی۔ اہل لکھنو کو اپنی زبان دانی پر بڑا ناز تھا، لیکن اہل دلی مطالب پر زیادہ نظر رکھتے۔ جب جدید اردو شاعری کا آغاز ہوا تو اس کے ساتھ ہی فن تنقید کا بھی ایک نیا دور شروع ہوا۔ مولانا حالی کا ’مقدمہ شعر و شاعری‘ ، امام امداد اثر کی ’کاشف الحقائق‘، مولانا شبلی نعمانی کا ’موازنہ انیس و دبیرا‘ اردو تنقید کی اہم کاوشیں ہیں۔ اس ضمن میں عبدالسلام لکھتے ہیں:

’’عربی و فارسی میں بھی فن تنقید کے متعلق بہت کچھ لکھا گیا ہے اور غزل، قصیدہ اور مرثیہ وغیرہ کے الگ الگ اصول مقرر کر دیے گئے ہیں، جو اگرچہ شعرائے ایران و شعرائے عرب کے کلام سے ماخوذ ہیں لیکن ان کو اردو شاعری پر بھی نہایت کامیابی کے ساتھ منطبق کیا جا سکتا ہے اس لیے ہم ان تمام ماخذوں کو پیش نظر رکھ کر اردو شاعری پر ایک مفصل تنقید کرنا چاہتے ہیں لیکن اس سے پہلے اردو شاعری کے تمام انواع و اصناف پر تاریخی حیثیت سے ایک عام نگاہ ڈالنا مناسب خیال کرتے ہیں تا کہ ہر دور کی خصوصیات کے معلوم ہو جانے کے بعد یہ بآسانی معلوم ہو سکے کہ اردو شاعری کے کس دور میں ان اصول کا لحاظ رکھا گیا ہے اور کس دور میں ان کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔‘‘18

عبدالسلام نے ابن قدامہ اور ابن رشیق اور عرب کی عاشقانہ شاعری کو پیش نظر رکھا اور پھر غزل کے بارے میں چند بنیادی باتیں بتائیں اور عربی شاعری کی مثالوں سے اپنی بات واضح کی، عبدالسلام ابن رشیق اور ابن قدامہ کی تنقیدوں سے متاثر تھے اور انہوں نے شعر الہند میں ابن رشیق کی کتاب العمد اور ابن قدامہ کی نقد الشعر سے استفادہ کیا ہے ابن قدامہ اور ابن رشیق کے بیان کردہ افکار سے عبدالسلام نے جو نتائج برآمد کیے ہیں، وہ کچھ یوں ہیں:

1) غزل کو صرف قوت منفعلہ کے مظاہر یعنی شیفتگی، فریفتگی، بے خودی، مدہوشی، شوق و حسرت، رنج و غم، درد و الم اور سوز و گدار وغیرہ کا مجموعہ ہونا چاہئے۔

2) غزل میں زیادہ تر ان جذبات، احساسات اور حالات کا اظہار کرنا چاہئے جو عامۃ الورود ہوں، یعنی تمام عشاق کو پیش آنے والے ہوں، یا پیش آتے ہوں۔

3) معشوق کے جسمانی اوصاف کی تعریف غزل کی حقیقت سے خارج ہے، اس لیے جو شعراء اس قسم کے مضامین سے غزل میں کام لیتے ہیں، وہ بہترین غزل گو شاعر نہیں تسلیم کیے جا سکتے۔

4) غزل کے الفاظ شیریں، نرم، خوشگوار اور واضح ہونے چاہئیں، یہاں تک کہ اگر معشوقوں کے فرضی ناموں میں بھی ثقل ہو تو غزل کی لطافت ان کو برداشت نہیں کر سکتی، غزلکا طرز ادا بھی نہایت طرب انگیز، مستانہ اور متانت شکن ہونا چاہئے۔

5) غزل میں شاعر کو اپنی بڑائی، قوت اور مقدرت کا اظہار نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہ تمام چیزیں قوت فاعلہ سے تعلق رکھتی ہیں اور عجز و خاکساری کے منافی ہیں۔

6) عاشوق کو غیور ہونا چاہئے، اس لیے اس قسم کے اشعار جن سے یہ ثابت ہو کہ معشوق ہر جائی اور بازاری ہے، اصول تغزل کے خلاف ہیں۔

7) غزل میں معشوق کے ادب و احترام کا کافی لحاظ رکھنا چاہئے اور کوئی ایسی بات نہیں کہنی چاہئے، جو معشوق کے شایان شان نہ ہو، البتہ عشق و محبت میں معشوق کا مدعیانہ مقابلہ کیا جا سکتا ہے، یعنی معشوق سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ جیسا برتاؤ تمہاری طرف سے ہوگا، ہم سے بھی اسی قسم کے برتاؤ کی توقع رکھنی چاہئے۔

8) لیکن ابن قدامہ اس کو بھی جائز نہیں رکھتا اور اس کے نزدیک عاشق کو ہر حال میں شیفتہ و فریفتہ بنا رہنا چاہئے۔19

مذکورہ بالا نکات میں عبدالسلام نے ’شعر الہند‘ میں غزل پر بحث کرتے ہوئے ابن قدامہ اور ابنر شیق کے خیالات کا خلاصہ پیش کیا ہے۔ اس پر کلیم الدین احمد تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’ان اصول کی ترتیب کے بعد اردو غزلوں سے سوز و گداز، شیریں الفاظ وغیرہ کی متعدد مثالیں ہیں، یہی غزل کی ’ادبی تنقید‘ ہے، ایسی تنقید کس کام کی، اس سے غزل کے امکانات و حدود پر کوئی روشنی پڑتی، خیالات مستعار ہیں، آزادی فکر منقود ہے اور کورانہ تقلید مثل آفتاب روشن۔ یہ خیال بھی نہیں ہوتا کہ انہیں اصول سے اور شاعری کے جوہر سے کوئی لگاؤ نہیں، نظر حسب معمول جسم پر ہے، عبدالسلام صاحب جو کچھ دیکھتے ہیں دوسروں کی آنکھوں سے دیکھتے ہیں ان کی آواز اپنی نہیں، ایک صدائے بازگشت ہے۔‘‘20

شعر الہند کی دونوں جلدیں تمام ہوئیں، شعر الہند کی دونوں جلدوں پر شروع سے لیکر آخر تک تنقید نگاروں کی رائے شامل کی گئی ہے۔ شعر الہند کے بارے میں ناقدین نے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا ہے، ان سے ادبی تاریخ کی قدر و قیمت معلوم ہوتی ہے۔ ان ادبی نقادوں کی آرا سے معلوم ہوگا کہ انہوں نے شعر الہند کو کس طرح سے جانا اور سمجھا۔ اس ضمن میں ڈاکٹر گیان چند لکھتے ہیں:

’’میں محسوس کرتا ہوں کہ ’شعر الہند‘ کا خاکہ یعنی تقسیم ابواب باقاعدہ نہیں۔ حشو و زائد کو نکال کر اسے بہتر بنایا جا سکتا تھا۔ ’شعر الہند‘ کی جلد دوم، جلد اوّل کے مقابلے میں کمزور ہے۔ مولانا عبدالسلام اردو ادب کا تاریخی ترتیب سے تنقیدی جائزہ لے سکتے تھے لیکن نظریاتی تنقید ان کا میدان نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ جلد دوم میں نثر کے جملے برائے نام اور صفحوں کے صفحے شعری نمونوں سے بھرے پڑے ہیں …. معلوم نہیں ’شعر الہند‘ لکھنے سے مصنف کا کیا مقصد تھا۔ ظاہراً یہ نظم اردو کی تاریخ ہے لیکن تاریخ کے لحاظ سے بالکل ناکام ہے، محض ’تنقید ادب‘ ہے۔‘‘21

ابھی تک ناقدین سے یہ بات طے نہیں ہوئی شعر الہند تذکرہ ہے یا ادبی تاریخ، آب حیات سے پہلے تک شعرا اور شاعری کے بارے میں لکھا گیا ادب تذکرہ کہلایا، آب حیات ان تذکروں میں ایک موڑ کی حیثیت رکھتی ہے، محمد حسین آزاد پہلے شخص ہیں، جنہوں نے تذکرہ نگاری کو بہتر بنانے کی کوشش کی، اس کے بعد مولانا عبدالحئی نے آب حیات کو پیش رو بنا کر گل رعنا تالیف کی اور سب سےز یادہ تنقید بھی آب حیات پر کی، ان دو کتابوں کے بعد اردو شاعری پر جو کتاب تالیف کی گئی وہ شعر الہند ہے، یہ بات طے ہے کہ شعر الہند تذکرہ کی تعریف کے ضمن میں نہیں آتی اور یہ ادبی تاریخ ہے، جہاں تک عبدالسلام کی تحقیق کی بات ہے تو انہوں نے زیادہ تر قدیم تذکروں پر انحصار کیا ہے جو کہ خود اغلاط سے پر ہیں، عبدالسلام نے ان تذکروں میں پیش کردہ مواد کی چھان بین نہیں کی، اور وہ بہت ساری ایسی باتیں بھی کہہ گئے جو کہ تاریخی لحاظ سے غلط تھیں۔ شعر الہند کی ان کوتاہیوں کی نشاندہی ڈاکٹر گیان چند نے خاص طور پر کی ہے، انہوں نے شعر الہند سے مثالیں پیش کر کے ان کوتاہیوں اور لغزشوں پر روشنی ڈالی ہے۔ مولوی عبدالحق نے شعر الہند کی جلد اوّل پر تبصرہ کیا ہے، انہوں نے بھی مثالوں کے ساتھ واضح کیا کہ عبدالسلام سے ’شعر الہند‘ میں کہاں کہاں غلطی ہوئی ہے یا پھر شعر الہند کو کیسے ہونا چاہئے تھا، شعر الہند کے نام پر بھی اعتراض کیا گیا ہے۔ یہ د رست ہے کہ شعر االہند شعر العجم کے تتبع میں لکھی گئی، معترضین کو شعر الہند کے نام پر بھی اعتراض ہے کہ اس میں ہندوستان کی باقی زبانوں کے شعرا کا ذکر نہیں۔ ہندوستان میں اردو زبان چونکہ ہر جگہ بولی اور سمجھی جاتی ہے مگر باقی مقامی زبانیں محدود ہیں،

ان میں اردو جیسا لٹریچر بھی تخلیق نہیں ہوا تو پھر کیا ان سب کو ملا کر کھچڑی پکانا ضروری تھا، جہاں تک کلیم الدین احمد کی تنقید کا ذکر ہے تو شائد تنقید برائے تنقید کے قائل ہیں ان کے نزدیک تنقید کرنی چاہئے، چاہے اس کا کوئی بھی مطلب نہ ہو، ایک جگہ پر جو بات کہہ رہے ہیں اسی بات کی نفی دوسری جگہ پر کیے جا رہے ہیں، ان کا اپنا دماغ پراگندگی کا شکار ہے، یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ شعر الہند میں مصنف سے غلطیاں ہوئی ہیں، ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی ادیب نے جو تخلیق و تحقیق کی ہے وہ سو فیصد درست ہو۔ تحقیق کے باعث نئی نئی باتیں سامنے آتی رہتی ہیں۔ کل یم الدین احمد نے یہ بات ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ عبدالسلام تنقید کے مرد میدان نہیں تھے۔

ڈاکٹر عبادت بریلوی نے بھی بطور تنقید نگار عبدالسلام اور ’شعر الہند‘ پر خامہ سائی فرمائی ہے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں صرف عبدالسلام ندوی کی ادبی تاریخ ایسی تاریخ ہے جس میں کچھ تنقید ملتی ہے۔ دوسری تاریخوں کے مقابلے میں اس میں تنقیدی پہلو زیادہ ہے اور یہ کہ عبدالسلام نےشعر الہند میں ہماری کے سارے نشیب و فراز کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے لیکن دوسری جگہ فرماتے ہیں، شعر الہند کی حیثیت بھی تنقیدی نہیں۔ اس کی اہمیت تاریخی ہے۔ پھر بھی دوسری تاریخوں کے مقابلے میں غنیمت ہے۔ ڈاکٹر عبادت بریلوی نے شعر الہند پر تنقید و تبصرہ کرتے ہوئےاپنے روّیے کو معتدل رکھا ہے۔

شعر الہند کا دو تہائی حصہ اشعار کی مثالوں سے پر ہے۔ ہر دور کے شاعروں اور ان کی شاعری کا باہم موازنہ شعر الہند میں اچھے طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ شعر الہند کا مواد اکٹھا کرنے میں عبدالسلام نے نہایت جانفشانی سے کام کیا ہے۔ عبدالسلام نے شاعروں کے بارے میں نثر میں چند جملے لکھے ہیں اور شاعری کے بے تحاشا نمونے دیے ہیں۔ غیر معتبر روایات پیش کرنے کی وجہ سے تحقیقی لحاظ سے کتاب کی قدر و قیمت کم ہوئی ہے۔

دبستان دلی اور لکھنو کو پیش کرتے وقت عبدالسلام نے اعتدال کا دامن پکڑے رکھا ہے۔ دوسری جلد میں اصناف سخن پر تاریخی اور ادبی ریویو الگ الگ ہونے کے باعث ان کی بات سمجھنی مشکل ہے۔ پروفیسر عبدالقیوم صاحب نے تو شعر الہند پر تنقید و تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ چونکہ عبدالسلام مواد کو صحیح طرح سے سمیٹ نہیں سکے، اس لیے اس کتاب کو پھر سے ترتیب دیا جائے اور اس کی قطع برید کی جائے، پھر شاید یہ کتاب زیادہ اچھی ہو جائے۔

عبدالسلام پیش کردہ مواد کو اگر سلیقے سے استعمال کرتے تو کتاب کی مجموعی قدر و قیمت میں اضافہ ہوتا۔ بہرحال شعر الہند کی تالیف کرتے ہوئے مصنف نے یہ تو ہرگز نہیں کیا تھا کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں وہ حرف آخر ہے۔ تحقیق کے میدان میں ہر روز نئی باتیں سانے آتی رہتی ہیں۔ بعد میں آنے والے محققین شعر الہند میں ہونے والی فروگزازتوں اور کوتاہیوں کی تلافی کر سکتے تھے۔ تحقیق کے میدان میں تو چراغ سے چراغ جلتا ہے۔ آنے والے

ادیب شعر الہند کو پیش نظر رکھ کر تذکرہ و ادبی تاریخ کے کام کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ کچھ نہ ہونے سے تو بہتر ہے کہ آپ کے پاس کچھ ہے جس کو یپش نظر رکھ کر آپ آگے بڑھ سکتے ہیں۔ شعر الہند ادبی و تنقیدی تاریخ کے لحاظ سے ایک کامیاب کاوش ہے۔ جو ادبا تنقید نگار اور محققین کے لئے روشنی کا مینار ہے۔

You might also like
  1. یوسف خالد says

    عمدہ تنقیدی و تحقیقی مضمون ہے

  2. گمنام says

    پروفیسر صاحب آپ کی کیا بات ہے…

  3. عمران عالی says

    کیا کہنے واہ وا اچھا تجزیہ ہے

  4. عمران عالی says

    کیا کہنے واہ وا اچھا تجزیہ ہے سیر حاصل بحث ابتدائی دور سے جدید دور حوالہ جات خووووووووووب است

Cancel Reply

Leave Your Comments for this Post