’’ شمال کی جانب ہجرت کا موسم ‘‘ : ڈاکٹر عبدالعزیز ملک

( مو ضوعاتی مطالعہ )

طیب صالح کا تعلق شمالی سوڈان سے ہے جہاں اس نے ۱۹۲۹ء میں جنم لیالیکن اُس نے زیست کے بیشتر ماہ وسال لندن اور فرانس میںگزارے۔طیب صالح نے بی بی سی لندن کی عربی سروس سے وابستہ رہنے کے باوجود علم وادب سے اپنا رشتہ برقرار رکھا جس کاثبوت اس کا عربی رسالے’’المجلہ‘‘ میں دس سال تک متنوع موضوعات پر اشاعت پذیر ہونے والاہفتہ وارکالم ہے۔مزید براںانھوںنے ناول اور افسانے بھی تحریر کیے،کچھ وقت قطرمیں وزارت اطلاعات کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے گزارا۔زندگی کے آخری سالوں میں وہ اقوام ِ متحدہ کے ادارے یونیسیکو سے وابستہ رہے ۔اقوامِ متحدہ سے وابستگی کے باعث انھیںریٹائر منٹ کے بعد زیادہ وقت فرانس میںگزارنے کاموقع ملاجس کی وجہ سے انھوںنے وہاں کی سیاست،سماج اورثقافت کاقریب سے مشاہدہ کیاجس کی جھلک ان کی تحریروں میںنمایاں ہوئی ہے۔ادب میں ان کاغالب رجحان فکشن کی طرف رہا۔اسی لیے اُن کو قارئین صحافی کے بجائے فکشن نگار کی حیثیت سے زیادہ جانتے ہیں۔اُنھوں نے فکشن کی بنیادیں سوڈانی دیہات کی اجتماعی زندگی ، اس کے پیچیدہ رشتوں،بدوی تہذیب کے عناصر،دریائے نیل کی زرعی معیشت ،مشرق اور مغرب کے مابین تفاوت،جدت اور روایت میں کشمکش اور انسانی نفسیاتی کوائف، پراستوار کرنے کی کوشش کی ہے۔
طیب صالح کا ناول’’شمال کی جانب ہجرت کا موسم‘‘پہلی بار عربی میں ۱۹۶۶ء میں ’’موسم الہجرۃالی الشمال‘‘کے عنوان سے منظرِ عام پر آیا ۔اسے ۱۹۶۹ء میںڈینس جانسن ڈیویز(جسے عبدالودود کے نام سے بھی جاناجاتاہے۔)نے Season of Migration to the Northکے عنوان سے انگریزی میں ترجمہ کیا۔ڈینس جانسن ڈیویز کا شمار عربی فکشن کو انگریزی کا جامہ پہنانے والوں میںسر فہرست ہے۔انھوں نے طیب صالح کے علاوہ نجیب محفوظ،محمود درویش اورزکریاتیمرجیسے اہم مصنفین کی تخلیقات کو عربی سے انگریزی کا روپ دیا ،یہی وجہ ہے کہ ایڈورڈ سعید جیسے اہم مستشرق نے انھیںاپنے عہد کا نمایاں ترجمہ نگار قرار دیا ہے(“the leading Arabic-English translator of our time”)۔اردو میں اس ناول کو ارجمند آرا نے ترجمہ کیا ہے جسے ۲۰۱۶ء میں آج ،کراچی نے شائع کیا۔اس کے علاوہ بھی کئی اہم متون کو ارجمند آرا انگریزی سے اردو میں ترجمہ کر چکی ہیں،ان میں رالف رسل کی آپ بیتی’’جویندہ پایندہ‘‘اور ارون دھتی رائے کا ناول’’ بے پناہ شاد مانی کی مملکت‘‘ خاص طور پر نمایاں ہیں۔
طیب صالح کاناول’’شمال کی جانب ہجرت کا موسم ‘‘ سوڈان کی مابعدنوآبادیاتی صورتِ حال کا عکاس ہے جس میں ہمہ دان بے نام راوی کے ذریعے ناول کی کہانی کو بیان کیا گیا ہے۔راوی سات برس برطانیہ میں حصولِ تعلیم کی غرض سے گزارنے کے بعد، دریائے نیل کے کنارے آبادشمالی سوڈان کے ایک گاؤں ،وَد حامد لوٹتا ہے۔برطانیہ میںقیام کے دوران میں طویل اجنبیت اور گھر سے دوری کااحساس ہمہ وقت اسے دامن گیررہا ،اب جب وہ اپنے آبائی گاؤںلوٹا ہے تووہ یہاں کے مناظر،یہاں کی فضا اوریہاں کے لوگوں سے اُنسیت اور محبت محسوس کر رہا ہے :
’’اہم بات یہ ہے کہ اپنوں سے ملنے کی شدیدخواہش دل میں لیے ہوئے نیل کے خم میں واقع اس چھوٹے سے قریے میں لوٹا۔سات برسوں تک میں اس کے لیے تڑپتا رہا اور میں نے اس کے خواب دیکھے۔وہ لمحہ میرے لیے نہایت اہم تھاجب میں نے خود کوحقیقاًان کے سامنے کھڑا پایا۔۔۔اور ذرا ہی دیر میںمجھے یوں لگنے لگاجیسے میرے اندر برف کا ایک ٹکڑاتھا جو پگھلنے لگاہے،کوئی منجمد شے جس پر سورج چمک اٹھا ہے۔‘‘(شمال کی جانب ہجرت کاموسم:ص۱۱)
وہ گاؤں جو وہ سات سال پہلے چھوڑ کر گیاتھا اب اس میںکئی تبدیلیاں وقوع پذیر ہو چکی ہیں۔کئی دیہاتی جو زندہ تھے اب فوت ہو چکے ہیں اور کئی گھروں میںنئی زندگیاں جنم لے چکی ہیں۔گاؤں میں رہٹ کی جگہ پمپ آ گئے ہیں،لکڑی کے ہل کی جگہ لوہے کے پمپ نے لے لی ہے۔لوگ اب اپنی بیٹیوں کو سکول بھیجنے لگے ہیں ،ریڈیو اور ٹی وی سے گاؤں والے متعارف ہو چکے ہیںاور اب انھوں نے مریسہ اور عرق کی جگہ وسکی اور بئیر پینا شروع کر دی ہے۔گاؤں میں کچھ نوجوان سوشلسٹ ڈیموکریٹک پارٹی چلا رہے ہیںاورپُر امیدہیں کہ وہ گاؤںکوسدھارنے میں کامیاب ہوجائیں گے جب کہ کچھ مایوس کن لوگوں کا خیال ہے کہ حالات جوں کے توں قائم رہیں گے۔ اس دوران میں ،اس کاسامنا گاؤں میں موجودایک ادھیڑ عمر اجنبی مصطفیٰ سعید سے ہوتا ہے جو محض پانچ سال قبل اس گاؤں میں قیام پذیر ہوا ہے۔اپنے شانداراخلاق،مثبت سوچ اورجاندار سماجی کردار کے باعث کم وقت میں،اس نے گاؤں میں اپنی اہمیت اور قدر قائم کر لی ہے۔ ایک رات، راوی کے دوست محجوب کے ہمراہ ،محفلِ نشاط میںوہ آتشِ سیال کے استعمال کے بعد، انگریزی شاعری سناتا ہے جو راوی کے لیے نہ صرف حیرت انگیز ہے بلکہ اس کے ماضی کی پردہ کشائی کے لیے باعثِ تجسس بھی ہے۔نظم جنگی صورتِ حال کی عکاس ہے جس سے مصطفی سعید کے تاریخی اور سماجی شعور کا اندازہ ہوتا ہے:
’’یہ فلانڈرکی عورتیں ہیں
یہ منتظر ہیں ان کی جو گم ہوگئے ہیں
منتظر ہیں ان گمشدگان کی جو لنگر گاہ کبھی نہ چھوڑیں گے
منتظر ہیں ان گمشدگان کی جو ٹرین سے کبھی نہ لوٹیں گے
ان عورتوں کی آغوش میں جن کے چہرے مردہ ہیں۔
یہ منتظر ہیںان گمشد گان کی جو مردہ پڑے ہیں
خندقوں،حصاروں اور سرنگوں میں،رات کی تاریکی میں
یہ چیرنگ کراس ہے،
گھڑی میںایک سے زیادہ بج چکاہے۔
روشنی بہت مدھم ہے
اور درد بہت زیادہ‘‘
اس نظم کو سننے کے بعدوہ سوچتا ہے کہ مصطفی سعید کی شناخت وہ نہیں جو بظاہر دکھائی دیتی ہے ،وہ اس کے سوا اور بھی بہت کچھ ہے۔ایک طرف راوی اس کے ماضی کے حالات اور باطنی زندگی کے کوائف قاری پہ منکشف کرنا چاہتا ہے تو دوسری جانب مصطفی سعید خود راوی سے مانوسیت محسوس کرنا شروع کر دیتا ہے۔ایک شب وہ وقت نکال کرراوی کے گھر تشریف لاتا ہے اوراُسے اپنی زندگی کی کہانی سناتا ہے۔ وہ اسے بتاتا ہے کہ اس کا تعلق سوڈان کے دارالحکومت خرطوم کے نواح سے ہے۔جب وہ شیر خوار تھا تو اس کا باپ فوت ہوگیا اوراس کی والدہ نے اسے پالا پوسا۔اس کی غیر معمولی ذہانت وفطانت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اسے انگریزوں کے قائم کردہ سکول میں داخل کرا دیا گیا۔پھر اسے مصر کے شہر قاہرہ میں تعلیم کے حصول کے سلسلے میں وظیفہ ملا ،کچھ عرصہ وہاں تحصیل ِعلم کے بعد، اُس نے لندن کا رخ کیا۔لندن میں قیام کے دوران میں اس نے کئی لڑکیوں کے ساتھ تعلقات استوار کیے جو اس کی بدیسی ،عرب افریقی شباہت اور ذہانت سے متاثر ہوجاتی تھیں۔اس کا انداززیست اورمخصوص خدوخال ان کے لیے جنسی کشش کا باعث بنتے ہیںبالکل شیکسپئیر کے ڈرامے اوتھیلو کے ہیرو کے مانند جس کاتعلق افریقا کے صحراؤں اور جنگلوں سے تھااور وہ اپنی بہادری اور ذہانت سے عورتوں کواپنی جانب متوجہ کرلیتا تھا۔مصطفی سعید بھی خود کو’’شریف وحشی‘‘ سے موسوم کرتا تھا اور اپنی ذہانت ،ارتکازِ توجہ اور مشرقی تہذیب کے پر اثر قصّے بیان کر کے عورتوں کو ملتفت کرلیتا تھا۔اس ضمن میں اس کا بیان ملاحظہ ہو:
’’میں شاعری پڑھتا،مذہب اور فلسفے پر گفتگو کیاکرتا،مصوری پر تنقید کرتااور مشرقی روحانیات کے موضوع پربہت سی باتیں کیا کرتا تھا۔عورت کو اپنے بستر تک لانے کے لیے ہر ممکن ہتھکنڈااپناتا،اس کے بعد کسی دوسرے شکار کے لیے چلاجاتا۔۔۔میں جن عورتوں کو پھانس کر بستر تک لایا ان میں سالویشن آرمی کی عورتیں بھی تھیں اور کویکرزسوسائٹیوں اور فیبیئن انجمنوں کی خواتین بھی۔‘‘(شمال کی جانب ہجرت کا موسم:ص۳۴)
جن عورتوں نے اس سے تعلقات استوارکیے ان میں سے تین ،این ہیمنڈ،شیلا گرینوڈاورازابیلاسیمورنے خود کشی کر لی۔جان مورس جو انگریز خاتون تھی اُس نے مصطفیٰ سعید کو مشکل صورتِ حال سے دوچار کیا،بالآخر اس سے شادی کی اوران دونوں کے مابین نہ ختم ہونے والی کشمکش کا آغاز ہوا ،وہ اسے زبانی اور جسمانی اذیتوں سے دوچار کرتی رہی اور خود کو مصطفی سعید کے سپرد کرنے سے ہمیشہ انکاری رہی۔فروری کی ایک سرد رات کو جب مصطفیٰ سعید گھرلوٹا تو اسے بسترپر برہنہ پایا،اس سے پہلی بارجنسی تعلق قائم کیااور اسے موت کے گھاٹ اتار دیا ،اس پر عدالت میں مقدمہ چلا۔ججوں نے اسے قصوروار ٹھہرایا،جس کے نتیجے میں اسے سات سال قید کا حکم جاری ہوا۔جیل سے رہائی کے بعدوہ آوارہ پھرتا رہا،اس نے پیرس،کوپن ہیگن دہلی اوربینکاک کے سفر کیے،آخر کار وہ سوڈان لوٹا اوروَد حامد میں رہایش پذیرہوا جہاں اس کی ملاقات کہانی کے راوی سے ہوتی ہے۔ مصطفی سعید کی کہانی نے راوی کی دنیا بدل ڈالی۔وہ راوی جو برطانیہ سے واپسی پر اپنے ملک اورخطے سے مانوسیت محسوس کر رہا تھا اب اُسے اجنبیت محسوس ہونے لگتی ہے۔حصولِ تعلیم کے سلسلے میں طویل عرصہ یورپی ثقافت اورجدید معاشرے میں گزارنے کے بعد ،اب اس دیہی معاشرے میں وہ الگ تھلگ اوراجنبی محسوس کرنا شروع کر دیتا ہے ۔مصطفی سعید کی کہانی اس کے لیے حیرت زابھی ہے اور تجسس انگیز بھی۔تمام تر نفسیاتی کیفیات کے باوجود وہ سوڈانی معاشرے سے خود کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔وہ دارلحکومت خرطوم میںوزارتِ تعلیم کے محکمے میں ملازمت حاصل کرتا ہے اور گاہ گاہ گاؤں کا چکر لگا کر یہاں کے حالات سے بھی باخبررہتا ہے۔اچانک اسے مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ مصطفی سعید سیلاب کے موسم میں کھیتوں پر کام کرتے ہوئے غائب ہو گیا ہے جس کے بارے میں اہلیان دیہہ کا خیال ہے کہ وہ حادثے کا شکار ہوا ہے لیکن راوی کا خیال ہے کہ اُس نے خو دکشی کی ہے۔وہ پانیوں میں ڈوب نہیں سکتا تھا کیوں کہ وہ ماہر تیراک تھا اور اس نے ایک بار دریائے نیل بھی تیر کر عبورکیا تھا۔وہ راوی کو اپنی زوجہ حسنہ بنتِ محمود اوردو بیٹوں کا نگران یا کفیل مقرر کر جا تا ہے۔راوی اس ذمہ داری کواحسن طورپر نبھاتا ہے اور اس کے بیوی بچوں کا خیال رکھتا ہے۔وفات کے بعد بھی راوی مصطفی سعید کے سحر میں مبتلا رہتا ہے۔اس کا تعلق اس کے ساتھ کسی نہ کسی صورت میں اگلے پچیس سال تک جڑا رہتا ہے ۔اسے خرطوم میں مختلف لوگوں سے ملاقات کاموقع ملتا ہے جن میںسے متعدد مصطفی سعید کی ذہانت اور شخصیت سے متاثر ہوتے ہیں۔وہ ان سے اختلاف رکھتا ہے لیکن اس کا اظہار نہیں کرتا۔
ایک بار جب وہ گاؤں آتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ وَد ریاض اس کی بیوی حسنہ سے شادی کا خواہاں ہے اس کے باوجود کہ دونوں میں چالیس سال کا تفاوت ہے اور دوسرا وہ اس شادی سے انکاری بھی ہے۔حسنہ راوی سے مدد کی خواستگار ہے لیکن وہ اس کی مدد کرنے سے قاصر ہے۔وہ اس کو اس کی حالت پہ چھوڑ کرکشتیوں کے بجائے ٹرک کے ذریعے خرطوم چلاجاتا ہے۔وہ گرمی اور پیاس کی شدت سے حواس باختہ ہو جاتا ہے اور اس دوران میں وہ ٹرک ڈرائیوروں کی ایک برجستہ پارٹی سے لطف اندوز بھی ہوتا ہے۔اس کی عدم موجودگی میں حسنہ کا باپ جبراًاس کی شادی وَد ریاض سے کردیتا ہے۔ایک ماہ بعد اسے محجوب کی طرف سے ٹیلی گرام موصول ہوتا ہے جس میں حسنہ کی موت کی خبر ہوتی ہے،اسے جلدہی گاؤں لوٹنا پڑتا ہے کیوں کہ حسنہ بنتِ محمود نہ صرف خود کو بلکہ وَدریاض کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیتی ہے۔بنتِ مجذوب اسے بتاتی ہے کہ در حقیقت وہ مصطفی سعید کے بعد کسی سے جنسی تعلق قائم نہیں کرنا چاہتی لیکن وَدریاض اس سے جبراً جنسی عمل کرنا چاہتا ہے جس کے نتیجے میں وہ پہلے ود ریاض کا قتل کرتی ہے اور بعد ازاں خود کو موت کے حوالے کر دیتی ہے۔اس خوفناک اور دل دہلا دینے واقعے نے پورے گاؤں کو خوف کی لپیٹ میں لے لیا ہے جوکبھی اس طرح کے خوفناک اور حیرت زاتجربے سے نہیں گزرے۔گاؤں والے اس قتل کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں مگر اس کوشش میں ناکام رہتے ہیں۔
راوی جومصطفیٰ سعید کی بیوی سے اخلاقی ہمدر ی رکھتاہے،اس واقعے کے بعد ذہنی اور نفسیاتی خلفشار کا شکارہو جاتاہے۔گاؤں میں قیام کے دوران میں وہ مصطفی سعید کے ذاتی کمرے میں داخل ہوتا ہے جس کی چابی اس نے راوی کے حوالے کر رکھی تھی۔کمرے میں داخل ہونے کے بعد وہ یہ دیکھ کر حیرت زدہ رہ جاتا ہے کہ اس کا کمرہ کتب سے بھراپڑا ہے۔مختلف الماریوں میں متنوع موضوعات پر سیکڑوں کتابیں موجودہیں۔کمرہ مصطفی سعید کی زندگی کے کئی اور گوشے جن کا تعلق یورپی زندگی سے ہے،راوی پر منکشف کرتا ہے۔یہ اس کی زندگی کے وہ حصے ہیںجن سے وہ اس کی زندگی میں بے خبر رہاتھا۔اسے پہلی بار علم ہوتا ہے کہ وہ مصوری کے ساتھ ساتھ شاعری بھی کیا کرتا تھا ،اسے اس کے کمرے میں اس کی تحریر کردہ نظمیں،کئی پورٹریٹ اور کتابیںملتی ہیں جو اس نے خود لکھی ہیں۔راوی تمام رات اس کے کمرے میں گزارتا ہے اورصبح صادق جب وہ اس کے کمرے سے باہر نکلتا ہے توذہنی اور نفسیاتی کشمکش کا شکار ہے،وہ خود کو پُر سکون کرنے کی خاطر دریائے نیل کا رخ کرتا ہے۔وہ دریا میں داخل ہوتا ہے اور تیرتے تیرتے دوسرے کنارے پر جانے کا خواہاں ہے،جلد ہی وہ تھکن اوربے سمتی کا شکار ہوجاتا ہے،اسے محسوس ہوتا ہے کہ کوئی قوت اسے نیچے کی جانب تاریکی کی طرف کھینچ رہی ہے۔جیسے ہی پانی اس کے سر کے قریب پہنچتا ہے وہ خواہش کرتا ہے کہ وہ خود کو دریائے نیل کے پانیوں کے حوالے کر دے اور مصطفی سعیدکے مانند عدم کے سفرپر روانہ ہو جائے۔اچانک اسے ہوش آتا ہے اور زندہ رہنے کا فیصلہ کرتاہے اور اپنی پوری قوت صرف کرتے ہوئے تیرتا ہے۔تیرتے تیرتے وہ لوگوںکومدد کے لیے بلانا شروع کردیتا ہے،یوں ناول کا اختتام ہو جاتا ہے۔
طیب صالح نے دریائے نیل کے کنارے آباد بستی، ود حامد کو امید اور رجائیت کی علامت بناکر پیش کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ناول کا مرکزی کردارمصطفی سعید برطانیہ سے حصولِ علم کے بعد وَد حامد کے لوگوں کی سماجی،سیاسی اور علمی خدمت سر انجام دیتاہے ۔ ناول نگار نے مصطفی سعید اوردریائے نیل میں کئی مماثلتیں قائم کرنے کی کوشش کی ہے ۔دریائے نیل جو اپنے پانیوں سے سوڈان کی سر زمین کو فیاضانہ طور پر سیراب کرتا ہے،فصلوں کی ہریالی اور اہلِ دیہہ کی خوشحالی اس کے دم قدم سے ہے۔اسی طرح مصطفی سعید بھی اہلِ دیہہ کے لیے مہربان،فیاض اور مدد گار ہے۔اس کی ذات کی کئی پرتیں ہیں ،وہ دریا کے پانیوں کے مانند گہرا،زرخیز اور بعض مقامات پرناقابلِ یقین،مبہم ، پوشیدہ اور پر اسرار ہے۔جب راوی اس سے اس کے ماضی کے بارے میں استفسار کرتا ہے تو وہ اس سے پہلو تہی کا مظاہرہ کرتا ہے جس سے اس کے باطنی گوشوں کو کھوجنے کی خواہش بڑھ جاتی ہے۔دریائے نیل اور مصطفی سعید میں مماثلتیں اُس وقت مزید بڑھ جاتی ہیں جب وہ جنسی عمل میں فراخدلی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ جنسی عمل کو یہاں زرخیزی کی علامت کے طورپر پیش کیا گیا ہے۔جس طرح نیل اپنے پانیوں سے زمین کے بیجوں کو سیراب کرتا ہے اور جب مشتعل ہوتا ہے تو ان زمینوں کی کوکھ سے اُگنے والی، ہر بھری فصلوں کو تباہی کا شکار کر دیتا ہے۔اسی طرح مصطفی سعید بھی جنسِ مخالف میں امید کابیج بوتاہے اور پھرکسی انجانے جذبے کے تابع اس بیج کوتلف بھی کر دیتا ہے،جہاںجنس ِمخالف میںمایوسی اور ناامیدی مریضانہ شکل اختیار کر لیتی ہے جو بالآخر خود کشی پر منتج ہوتی ہے۔
طیب صالح نے ناول میں مابعدنو آبادیاتی صورتِ حال کو منعکس کرنے کے لیے مصطفی سعید، بیان کنندہ(راوی)،محجوب ،انگریزخواتین اور وَد حامد کے گاؤں کی صورتِ حال کااستعمال کیا ہے۔ مصطفی سعیدبرطانیہ میں قیام کے دوران میں بارہا سوچتا ہے کہ وہ سوڈان پربرطانوی راج کا انتقام لے رہا ہے۔وہ سفید فام عورتوںکا اس لیے پیچھا کرتا ہے کہ اُن سے جنسی تعلق قائم کرسکے۔یہ سفید فام عورتیں درحقیقت یورپی ثقافت کی تجسیم ہیں جس نے سوڈانیوں کو برس ہا برس غلام بنائے رکھا ،ان کی اقدار،وسائل اور سیاسی و سماجی آزادی کو ساقط کیا ۔انگریزقوم کا ہمیشہ سوڈانیوں سے آباد کار اورمفتوح کا سا تعلق رہااورانگریزوں نے اس خطے کے مکینوں کا دل کھول کر استحصال کیا۔انھوں نے نہ صرف یہاں کے لوگوں کی املاک ہتھیائیں بلکہ اقتدار کو طول اور استحکام بخشنے کے لیے یہاں کی ثقافت اورسماجی اقدار کو بھی مسخ کیا۔معاشی مفادات کے حصول کے لیے استعماریوں نے حیرت انگیز اور قابلِ مذمت ہتھکنڈے اختیار کیے۔جب وہ پہلی بار دریائے نیل کے کنارے اترتے تھے تو ان کے بحری جہازوں میں اسلحہ تھا نہ کہ یہاں کے کمزور اور بھوکے طبقے کے لیے خوراک تھی۔انھوں نے یہاں تعلیم عام کرنے کے لیے جو سکول قائم کیے،درحقیقت وہ مقامی باشندوں کو صرف اس حد تک تعلیم یافتہ بنانا چاہتے تھے کہ وہ ان کو ان ہی کی زبان میں ’’ہاں‘‘ کہ سکیں۔انھوں نے برطانوی نظامِ حکومت،سیاسی تصورات،ثقافتی رسوم اورمغرب کے جملہ علوم کو آفاقی قرار دے کر اس کی اس خطے میں ترویج کی ۔
انگریزوں نےDivide and Ruleپالیسی اختیارکر کے یہاں کے لوگوں کو مختلف بنیادوں پر تقسیم کیا،بااثراور با رسوخ لوگوں کواپنا ہمنوا بنایااور ان تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے مقامی حکمرانوں کے خلاف نفرت کی آگ بھڑکائی ،اس حکمت ِعملی میں مقامی باشندوں کو مہرے کے طور پر استعمال کیا گیا۔اس طرح انھوں نے سوڈانیوں کے دلوںمیں نفرت اور عناد کے بیج بوئے جو اب گھنے درخت کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔مرکزی کردار مصطفی سعید بھی ان درختوں میں سے ایک درخت ہے جس کی جڑیں سوڈانی سر زمین میں پیوست ہیں۔متعدد یورپی اور ایشیائی ملکوںمیں گھومنے کے بعد اسے سوڈانی سر زمین میں سکون میسر آتا ہے۔
مصطفی سعید نے بھی انگریز کے قائم کردہ، گارڈن کالج میں تعلیم حاصل کی اور نوآبادیاتی آقاؤں کے اقتصادی ایجنڈے کو آگے بڑھانے میںخدمات انجام دیں۔’’تیس کی دہائی کے آخری برسوں میںسوڈان میں انگریزوں کے منصوبوں کی تکمیل میں اس کا اہم کردارتھا۔وہ ان کے مخلص ترین حامیوں میں سے تھا۔برطانیہ کی وزارتِ خارجہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنے مشکوک مشنوں کے لیے اس کی خدمات حاصل کیں،نیزوہ ۱۹۳۶ء میں لندن میں ہونے والی کانفرنس کے سیکرٹریوں میں سے تھا‘‘مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی تہذیب اورثقافت سے بھی جُڑا رہا۔اسے افریقا کے جنگلوں کی کہانیاں،وہاں کے سورماوئں کے قصّے،اساطیراورجغرافیائی حالات ازبر تھے۔ناول میںیورپی اور مشرقی تہذیب کے مابین تصادم اس وقت اور نمایاںہوتاہے جب مصطفی سعید اورجین مورِس کے درمیان تناو بڑھتا ہے۔دونوںکردار علامتی حیثیت اختیار کر کے اپنی اپنی تہذیبوں کے نمایندہ بن جاتے ہیں:
’’میں نے اس سے شادی کرلی۔پھر میری خواب گاہ میدانِ جنگ بن گئی اور میرا بستر قطعۂ جہنم ۔جب میں نے اس کو گرفت میں لیا تولگاجیسے بادلوں کوپکڑاہو،جیسے شہابِ ثاقب کے ساتھ لیٹا ہوا ہوں ،جیسے میں گھوڑے پر سوارپرشیائی کمان سنبھالے ہوئے ہوں۔اس کے ہونٹوں پر ایک تلخ تبسم مستقل کھیلتا رہتا۔میں ساری رات جاگتا اور اپنی کمان ،تلوار،نیزے اور تیر سنبھالے مسلسل مصروفِ جنگ رہتا،اور صبح کودیکھتا کہ اس کی مسکراہٹ میں ذرابھی تبدیلی نہیں آئی ہے اورمیں جان جاتاکہ میں یہ جنگ بھی ہار گیا ہوں۔۔۔میرا دن کینز اور ٹونی کے نظریات کے ہمراہ گزرتااور رات کو میں کمان،تلوار،نیزے اور تیر سنبھالے ہوئے اپنی جنگ جاری رکھتا۔‘‘(شمال کی جانب ہجرت کا موسم:ص۳۸)
ناول میںمشرق اور مغرب کی تہذیبی کشمکس اس وقت مزید نمایاں ہوتی ہے جب این ہیمنڈ کا کرداراور مصطفی سعید آمنے سامنے آتے ہیں۔وہ اسے ،گرم آب وہوا ،ظالم آفتاب اور قِرمزی اُفُق کی علامت خیال کرتی ہے۔اس کے پسینے سے اُسے افریقا کے جنگلوں کی باس آتی ہے۔وہ اسے ہمیشہ آبائی وطن کے تہذیبی تناظر میں دیکھتی ہے۔شیلا گرین وڈ بھی اسے دساور کا باشندہ تصور کرتی ہے جسے اس کا سیاہ رنگ مسحور کر لیتا ہے۔رنگوںکا تفاوت اور ان کا باہمی تعلق ایسے ظاہر کیا گیا ہے جیسے نو آباد کار اور مقامی باشندے کے مابین رشتہ ہوتا ہے جہاں انتہائیں اپنے نکتہ عروج پر ہوتی ہیں۔مصطفی سے منسوبہ انگریزی خواتین خصوصاً این ہیمنڈ اور شیلا گرین ووڈ اسے نوآباد کار کی نظر سے دیکھتی ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ سعید خود ان سٹیریو ٹائپ کرداروں کی ہمت افزائی کرتا ہے تاہم ان کے مابین استحصالی رشتہ موجودر ہا،بالکل اسی طرح جیسے نوآبادیاتی دور میں انگلستان اورسوڈان کے مابین رشتہ تھا۔
ازابیلا سیمورکومصطفیٰ سعیدیوں خیال کرتا ہے جیسے وہ کوئی مفتوح ہو اورخود کو عرب سپاہیوں میںسے ایک سپاہی خیال کرتا ہے جنھوں نے قرونِ وسطیٰ میں سپین پر حملہ کر کے فتح حاصل کی تھی۔ جب اس پر اسے جنسی فتح حاصل ہوتی ہے،وہ اس کے ساتھ سرور اور بہجت محسوس کرتا ہے۔یوںازا بیلا سیمور اندلس کی علامت اور امین حسن(مصطفی سعید کا فرضی نام جو اس نے ازا بیلا سے شناخت چھپانے کے لیے اختیار کیا ہوا ہے۔)عرب فوج کی علامت کی صورت میں نمایاں ہوا ہے جس نے سپین پر فتح کے جھنڈے نصب کر کے حُکومت قائم کی تھی۔
طیب صالح نے مذکورہ ناول میں جنسی تشدد کے تصور کوبھی اُبھارنے کی کوشش کی ہے۔ناول کا مرکزی کردار مصطفی سعید برطانیہ میں قیام کے دوران میں کئی انگریزی خواتین سے جنسی تعلقات پیدا کرتا ہے جو موت پر منتج ہوتے ہیں۔اسی طرح سوڈانی شہر وَد حامد میں مصطفی سعید کی زوجہ حسنہ کو وَد رئیس جو اُس سے عمر میںکافی زیادہ ہے، کے ساتھ جبراً شادی پر مجبور کیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں وہ ود رئیس کو قتل کر کے خود کشی کر لیتی ہے۔ناول میں یوں ظاہر کیا گیا ہے کہ خواہ وہ برطانیہ ہو یا سوڈان ہر جگہ عورت نہ صرف مردکے تابع ہے بلکہ اس کی جنسی ہوس کا شکار ہے۔ناول کا مرکزی کردار مصطفی سعید انگریز خواتین کو لبھاتا ہے،انھیں خواب گاہ میں لاتا ہے اورجنسی تسکین کی خاطر اُن کا استحصال کرتا ہے۔وہ اپنی شناخت چھپا کر کئی عورتوں کو دھوکا دیتا ہے اور جنسی عمل کرنے کے بعد ان سے کنارہ کشی اختیار کر لیتا ہے اور وہ مایوسی ،بے وفائی اور لاپرواہی کے باعث خود کو موت کے حوالے کردیتی ہیں۔ایک برس کے عرصے میں اس نے بیک وقت پانچ مختلف عورتوں کے ساتھ وقت گزاراہے۔اس کا خطر ناک ترین تعلق جین مورس کے ساتھ بنتا ہے جسے وہ جنسی عمل سے گزارنے کے بعد قتل کر دیتا ہے ۔اس نے جین مورس سے شادی کو جنگ سے تشبیہ دی ہے، اس ضمن میں ناول سے اقتباس ملاحظہ ہو :
’’پس میں نے اس سے شادی کر لی۔پھر میری خواب گاہ میدانِ جنگ بن گئی،اور میرا بستر قطعہ جہنم ۔۔۔۔۔گویا میں بازار سے ایک دینارمیں خریدا ہوا شہر یار غلام تھا جو طاعون میں ہلاک شدہ شہر کے ملبے پر کھڑی بھیک مانگتی شہر زاد کے سامنے کھڑا ہواتھا۔‘‘(شمال کی جانب ہجرت کا موسم:ص۳۸)
اس جنگ میں جین مورس کی شدید مزاحمت کے باوجود،بالآخر فتح مرد کی ہوتی ہے جو جنسی لذت کشید کرنے کے بعد اسے اپنے لندن کے اپارٹمنٹ میں موت کے حوالے کر دیتا ہے۔مرد مرکز معاشرے میں عورت خواہ جتنی طاقت ور ہوجائے اس کی حیثیت ثانوی رہتی ہے۔اس کی تقدیر کے فیصلے مرد کے ہاتھ میں ہوتے ہیں۔مثلاًبنت ِ حسنہ باشعور اور سمجھدار ہونے کے باوجوداپنی قسمت کا فیصلہ خود نہیں کرسکتی تھی، اس کے باپ نے اس کی مرضی کے خلاف اس کی شادی وَد رئیس سے کی اوراس کا نتیجہ بھیانک قتل کی صورت میں سامنے آیا۔وہ وَد رئیس جو عورتیں ایسے بدلتا تھا جیسے گدھے بدلے جاتے ہیں۔بنتِ حسنہ کے انکار نے اس کی انا کو ٹھیس پہنچائی اور وہ اس سے زبردستی شادی کرنے پر بضد ہوگیا۔ناول کا راوی جب اسے سمجھانے کی کوش کرتا ہے تو وہ اسے یہ کَہ کر چُپ کرا دیتا ہے کہ’’مدرسوں میں جو فالتو باتیں تم لوگ سیکھتے ہو وہ یہاں ہمارے اوپر نہیں چلیں گی۔اس گاؤں میں مرد ہی عورتوں کے سر پر ست ہوتے ہیں۔‘‘حتیٰ کہ راوی کا دوست محجوب بھی اس بات کا قائل ہے کہ’’عورتیں مردوں کی ملکیت ہوتی ہیں ،اور مرد تو مرد ہوتا ہے،چاہے وہ پیرِ فرتوت ہی کیوں نہ ہو‘‘یوں سماجی سطح پرسوڈان کے اس گاؤں میں عورت کو بچے پیدا کرنے والے وجود کے طور پر دیکھا جاتا ہے،اسی لیے مذکورہ گاؤں میںمرد ایک سے زیادہ شادیاں کرنا اعزاز سمجھتا ہے۔انسانی معاشرے میں عورت کی سماجی اور ثقافتی حیثیت کو معرضِ تفہیم میں لانے کے حوالے سے ،پی براؤن کی کتاب”Body and Society”کو دیکھا جا سکتا ہے جس میں اس نے عورت کی سماجی ، سیاسی اور ثقافتی حیثیت پر بحث کی ہے اور بتایا ہے کہ یہودیت کے دور سے لے کر یورپ کی نشاۃ ثانیہ تک جتنی تحریکیں منظرِ عام پر آئیں ان میں ایک بھی ایسی نہیں تھی جس میںعورت کے معاشرتی مقام ومرتبے کو بلند کرنے کی بات کی گئی ہو۔
خواتین کو جنسی طور پر قابو کرنے کی خواہش عالم گیر رہی ہے اس کوکسی ایک خطے تک محدود نہیں کیا جا سکتا۔اس حوالے سے چین میں پائے بندی کی رسم ہو یا افریقا،کینیڈا،یورپ اور امریکا کے بعض قبائل میں عورتوں کو مختون کرنے کی رسم،اس کے عقب میںمردانہ جنسی حظ کو بڑھانے کی لاشعوری خواہش کا عمل دخل رہا ہے۔عورت کے ختنے کو اس کی بکارت کی حفاظت،جنسی خواہش میں کمی اورمرد کی جنسی تشفی سے جوڑا جاتا رہاہے ۔مذکورہ معاشروں میںبکارت اور پارسائی کو لازم و ملزوم خیال کیا جاتا ہے۔افریقی قبائل میں ایک عمومی عقیدہ بھی رائج ہے جس میں بظر کو نہ کاٹا جائے تویہ نشو ونما پاتا رہتا ہے اور پیدایش کے وقت اگر بچے کے سر سے مس ہو جائے تو بچہ بڑا ہو کر جنسی خواہش سے محروم ہو جاتا ہے۔مصری طبی ماہر نوال السعدی نے اپنی کتاب Women and Sexجو ۱۹۷۲ء میں اشاعت پذیر ہوئی ،اس میں عورتوں کے ختنوں کے خلاف آواز اٹھائی ۔اس کے نتیجے میں اسے نہ صرف ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ کے عہدے سے ہٹا دیا گیا بلکہ اس کتاب پر بھی پابندی عاید کر دی گئی۔اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسف کی رپورٹ کے مطابق سوڈان میں اٹھاسی فیصد خواتین اس مسئلے کا شکار ہیں۔اس بات کی طرف اشارہ ناول میں بنتِ مجذوب کے کردار کے توسل سے کیا گیا ہے۔ ناول میں اس کا بیان کچھ ان الفاظ میں درج ہوا ہے،ملاحظہ ہو:
’’نصاریٰ کی عورتیں ان معاملوں کو اتنا بھی نہیں جانتیں جتنا ہمارے گاؤں کی لڑکیاں جانتی ہیں،بنتِ مجذوب بولی۔’’ وہ غیر مختون ہوتی ہیں،ان کے نزدیک سارا قصہ گلاس بھر پانی پینے جیسا ہوتا ہے۔ ہماری دیہاتی لڑکی اپنے سارے بدن پر تیل اور خوشبوئیں ملواتی ہے،اور سلک کا لباس ِشب خوابی پہنتی ہے،اور جب عشا کی نماز کے بعد وہ اپنے سرخ قالین پر لیٹتی ہے اور رانیں کھولتی ہے تو مرد ایسا محسوس کرتا ہے جیسے وہ ابو زید الہلالی ہو۔ایسا مرد بھی جسے دلچسپی نہ ہو ،چست ہو جاتا ہے اور دلچسپی لینے لگتا ہے۔‘‘(شمال کی جانب ہجرت کا موسم:ص۷۴)
عورتوں کے ختنوں کے خاتمے کے لیے گزشتہ کچھ دہائیوںسے افریقا اوریورپ کے ممالک میں تحریکیں سامنے آئی ہیں۔اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے دباؤ اور عورتوں کی حقوق کی تنظیموں نے سوڈان میں اس کے خلاف قانون منظور کرا لیا ہے۔کوئی بھی شخص جو عورت کو مختون کرنے میں ملوث ہوگا اسے تین سال قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔اس سے ملتے جلتے قوانین افریقا اور دیگر یورپی ممالک میں بھی پاس کرائے گئے ہیں تاکہ اس قبیح رسم سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے۔
ناول میں طیب صالح نے غریب ممالک کے نظامِ تعلیم پر بھی عمیق طنز کیا ہے،وہ ممالک جو برطانیہ کی نو آبادیات رہے ہیں،ان میں نظام تعلیم عبرت ناک حد تک تباہی کا شکار ہو چکا ہے۔تعلیمی ڈھانچہ منہدم ہو چکا ہے،قومیں انتشار کا شکار ہیں اوران میں یک جہتی ہر گزرتے دن کے ساتھ مفقود ہوتی جا رہی ہے۔کسی قوم کے اصل وسائل اس کے افراد ہوتے ہیں،جنھیں تعلیم یافتہ بنا کر،خوشحالی اور ترقی کی راہوں پر گامزن ہوا جا سکتا ہے۔ہر قوم کے اربابِ اختیار کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ تعلیم کے ذریعے نئی نسل کو تاریخ، مذہب اورقومی کردار کا شعور مہیا کرے جس سے ملکی افراد کو متحد کر کے، بیرونی قوتوں کے انتشار پسند عزائم کے سامنے انھیں مستحکم دیوار بنا سکیں۔اس وقت معاشی ضعف کے شکار ممالک کو کئی چیلنجز درپیش ہیں، جن میں قومی یکجہتی اور صد فی صد شر ح خواندگی کا حصول نمایاں ہیں۔یہی صورتِ حال سوڈان کی بھی ہے جہاں خطیر رقمیں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے کے لیے خرچ کی جا رہی ہیں لیکن اس کے عوامی سطح پر اثرات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ناول کا راوی اپنے دوست محجوب کو خرطوم میں ہونے والی تعلیمی کانفرنس کا حال بیان کرتے ہوئے اس پر آنے والے اخراجات کا ذکر کرتا ہے،جس سے قاری پر منکشف ہوتا ہے کہ کمزور معیشت کے باوجود سوڈانی حکومت اسراف کا مظاہرہ کر رہی ہے:
’’محجوب یقین نہیں کرے گا کہ جس ’استقلال ہال‘میں نو دن تک انھوں نے افریقی ممالک میں تعلیم کی تقدیر کا مطالعہ کیا،اور جو اسی کانفرنس کی غرض سے تعمیر کیا گیا تھا،اس پر ایک ملین پونڈ سے زیادہ کا خرچہ آیا تھا۔پتھر،سیمنٹ،ماربل اور شیشے کی عمارت،ایک مکمل دائرے کی شکل میں بنائی گئی تھی جس کا ڈیزائن لندن میں تیار ہوا تھا۔راہداریاں سفید ماربل کی تھیں جو اٹلی سے لایا گیا تھا اور کانچ کے رنگین چھوٹے ٹکڑوں کو ٹیک کے فریم میں مہارت سے لگا کر کھڑکیاں آراستہ کی گئیں تھیں۔ مرکزی ہال کا فرش شاندارایرانی قالینوں سے مزین تھا،اور چھت جو گنبد کی شکل میں تھی،سونے کے پانی میں جھلملا رہی تھی۔۔۔‘‘(شمال کی جانب ہجرت کا موسم:ص۱۰۴)
ترقی پذیر ممالک کا المیہ یہ ہے کہ تعلیمی اداروں کی تعداد میں اضافے کے باوجود اجتماعی اور مفکرانہ سوچ میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی رونما نہیں ہوئی۔اس ضمن میں کینیا کے قلم کارانگوگی تھیانگو کی تحقیق قابلِ مطالعہ ہے جس میں انھوں نے نو آبادیاتی نظام کے منفی اثرات کی جانب توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی ہے۔نو آبادیاتی نظام تعلیم میں خود سے اور مقامی کلچر سے نفرت پیدا کی جاتی ہے۔جب افراد مقامی کلچر سے نفرت محسوس کرنا شروع کرتے ہیں تو بیرونی قوتیں انھیں گرفت میں لے کر جس سمت مرضی چلائیں،افراد مزاحمت نہیں کرتے۔
نو آبادیاتی نظام تعلیم میں لوگوں کے ذہنوں کو تنقیدی اور تجزیاتی بنا نا بنیادی مقصد نہیں تھا بلکہ اس میں رٹے کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی تاکہ اچھے کلرک اورمنشی تیار کیے جا سکیں۔قائدانہ اور تخلیقی صلاحیتیں بیدار کرنا اس نظام تعلیم کا خاصا نہیں تھا اسی لیے اس نظام تعلیم سے ایسا کوئی شخص آگے نہیں آیاجو مزاحمت کے استعارے کے طور پر پیش کیا جا سکے۔اس نظام تعلیم کی ساخت کچھ ایسی ہے کہ اس سے پیدا ہونے والے لوگوں کے رویے بورژوازی ہوتے ہیں اور وہ عوام کی خدمت پر یقین رکھنے کے بجائے ان کو غلام سمجھتے ہیں۔ خرطوم میں ہونے والی تعلیمی کانفرنس میں راوی ایک وزیر کی تقریر کا اقتباس پیش کرتا ہے، جس سے نظام تعلیم کے تضادات سامنے آتے ہیں:
’’آج ہر شخص جو تعلیم یافتہ ہے ،پنکھے کے نیچے ایک آرام دہ میز پر بیٹھنا چاہتا ہے،ایسے ایر کنڈیشنڈ گھر میں رہنا چاہتا ہے جو سڑک کے برابر کشادہ ہو۔اگر ہم نے اس بیماری کو جڑ سے اکھاڑ نہیں پھینکا تو ہمارے پاس ایسا بورژوا طبقہ پیدا ہوگا جسے ہماری حقیقی زندگی سے کوئی واسطہ نہ ہوگا،اور جو افریقا کے مستقبل کے لیے استعماریت سے بھی زیادہ خطر ناک ہوگا۔‘‘(شمال کی جانب ہجرت کا موسم:ص۱۰۵)
آزادی کے بعد سوڈانی حکومت کو ایسا نظام تعلیم مرتب کرنا چاہیے تھا جس سے فارغ التحصیل ہونے والے افراد قومی معیشت میںمثبت کردار ادا کرتے،قومی ،سماجی اور سیاسی تشکیل کرتے اوران کی قائدانہ، تخلیقی ا ور تجزیاتی صلاحیتیں بیدار ہوتیں، مگر ایسا نہ ہو سکا۔و ہی نو آبادیاتی آقاؤں کا بنایا ہوا انتظامی ڈھانچہ برقرار رکھا گیا۔نئے تعلیمی ادارے تو کئی بنائے گئے مگر ان کی کارکردگی کا گراف زوال پذیر رہا ،دہائیاں گزرنے کے باوجود نہ تعلیمی نظام بہتر ہوا اور نہ معیارِ تعلیم۔نصاب تعلیم اورامتحانی مراکز کی زبوں حالی سب کے سامنے ہے۔مختصراًکہا جا سکتا ہے کہ سماجی اور سیاسی تبدیلی کی کلید تعلیمی نظام میں تغیر پر منحصر ہے،جب تک نظام تعلیم، طریقہ تعلیم اور نصاب میں تبدیلیاں نہیں لائی جاتیں اس وقت تک صورتِ حال جوں کی توں موجود رہے گی۔
’’شمال کی جانب ہجرت کا موسم‘‘میں ہجرت کے کرب کو بھی موضوع بنایاگیا ہے جو کہ زندگی کا تلخ ترین تجربہ ہوتا ہے۔انسان کا اپنی جنم بھومی، عزیز و اقارب اور دوست احباب سے محبت اور انسیت کارشتہ فطری نوعیت کاہوتا ہے۔انھیں الوداع کہنا انتہائی مشکل عمل ہے لیکن زندگی میں روانی اور پیش آمدہ مسائل سے نپٹنے کے لیے بعض اوقات ہجرت ناگزیر ہو جاتی ہے۔گزشتہ ادوار کے مانند ہجرت آج کے دور کا پیچیدہ اور مشکل ترین عمل ہے جس میں وطن سے دوری اور بے گھر ہونے کا احساس مدغم ہوتا ہے ۔موجودہ حالات سے تنگ آکرافریقااورایشیا ئی ممالک سے لوگ ہجرت کر کے روشن مستقبل اور پُر آسایش زندگی کا خواب آنکھوں میں سجائے یورپ کارخ کر رہے ہیں۔
ہجرت کی متعدد وجوہات ہو سکتی ہیں۔ان میں تبلیغ دین ،بہتر زندگی گزارنے کا آدرش،قوم کے رویوں سے تنگی ، جنگ زدہ ماحول سے نجات اورکسب معاش وغیرہ نمایاں وجوہات ہیں۔مذکورہ ناول میں ہجرت کی جو وجوہات زیادہ نماں ہوئی ہیں ان میںکسب معاش اور حصول ِ تعلیم زیادہ واضح ہیں۔ناول میں مرکزی کردار مصطفیٰ سعید اور راوی دونوں سوڈان چھوڑ کر انگلینڈ پہونچ جاتے ہیں جہاں حصول تعلیم کی خاطر انھیں طویل عرصہ رہایش پذیر ہونا پڑتا ہے اور وہ اپنے گاؤں اور کلچر کے لوگوں سے دور ہو کر رہ جاتے ہیں۔ ان دو کرداروں کی مدد سے ناول نگار نے یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہجرت خواہ کسی بھی طرح کی ہو،شناخت کے مسئلے کو اُجاگر کرتی ہے۔مصطفی سعید جو آبائی ملک سوڈان کے سکول میں غیر معمولی ذہانت کا مظاہرہ کرتا ہے ،پہلے وہ قاہرہ اور بعد ازاں انگلینڈ اعلیٰ تعلیم کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔ وہیں وہ تلاشِ معاش کے عمل سے گزرتا ہے اور زندگی کے تیس سال گزار دیتا ہے۔ناول کا راوی بھی اپنے گاؤں سے سات سال کے لیے انگلینڈ جاتا ہے اور انگریزی ادب میں پی ایچ ڈی کر کے جب گھر آتا ہے تو اسے خوشی اور تازگی کا احساس ہوتا ہے۔’’سات برسوں تک میں ان کے لیے تڑپتا رہا اور میں نے ان کے خواب دیکھے۔‘‘ راوی کا مذکورہ بیان اس کی دلیل ہے کہ وطن سے دوری ،اس کے لیے کتنی اذیت ناک تھی۔مصطفی سعید اورراوی دونوں،جب تک انگلستان رہے ،دوتہذیبوں کے درمیان نہ صرف لٹکے رہے بلکہ ان میں مفاہمت پیدا کرنے سے بھی قاصر رہے۔وَد حامد کے گاؤں میں مصطفی سعید کے پاس ایک خفیہ کمرہ ہے جو اس کی انگلینڈ میں گزری یادوں کا محافظ ہے،یوں وہ انگریزی تہذیب سے اپنی جڑت قائم رکھنا چاہتا ہے اور دوسری جانب وَد حامد کے گاؤں سے تعلق پیدا کرنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔راوی کی شخصیت بھی دو حصوں میں منقسم ہے ایک طرف وہ اپنے گاؤں کے افراد سے اُنسیت محسوس کرتا ہے اور دوسری جانب اس کی اخلاقی اقدار اور انسانیت کا تصور گاؤں کے لوگوں کے تصورات سے مختلف ہے۔ ناول میں اس کی سماجی اور معاشرتی اقدار کا تضاد اس وقت اور نمایاں ہو جاتا ہے جب وہ مصطفی سعید کی بیوہ حسنہ کا دفاع کرتا ہے کہ اسے وَد ریاض سے شادی نہیں کرنی چاہیے۔تمام افراد جس میں اس کاقریبی دوست محجوب بھی شامل ہے، حسنہ سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ وَد ریاض سے شادی کر لے مگر راوی کی رائے ان سب سے مختلف ہے۔اس پر گاؤں کے دیگر افراد اس کی مخالفت کرتے ہیں اوروہ اپنے ہی گاؤں میں اجنبیت محسوس کرنا شروع کر دیتا ہے ۔ یہی وہ وجہ تھی کہ راوی اور مصطفی سعید ایک دوسرے کے قریب تھے اور انگلینڈ میں گزرے لمحات کو دونوں مل کر یاد کیا کرتے تھے۔دونوں کردار ثقافتی تذبذب ،شناخت کی عدم موجودگی اورآبائی تہذیب سے عدم انسلاک کا شکار ہیں اور مکمل طور پر وہ نہ تو انگلستانی تہذیب میں موجود ہیں اور نہ ہی سوڈانی تہذیب میں،یوں وہ داخلی اور خارجی دونوں سطح پر انتشار اور تذبذب کا شکار ہیں۔
طیب صالح کا ناول’’ شمال کی جانب ہجرت کا موسم‘‘سادہ بیانیہ،پیچیدہ استعاراتی نظام،جنسی تعلق،عورتوں کی صورتِ حال،سوڈان کی آزادی کی تحریک ،دریائے نیل کے کنارے زرعی تہذیب،صحرا کے مسافروں کا رات کو اچانک جشن اورنو آبادیاتی نظام کے خلاف رد عمل کا مظہر ہے۔ناول کی پیشکش میں دیگر کئی متون اور تخلیق کاروں کے حوالے اس طرح متن میں گھل مل گئے ہیں کہ ان سے نہ اجنبیت کا احساس ہوتا ہے اورنہ بوریت محسوس ہوتی ہے۔ان تخلیق کاروں میں المعریٰ،کیٹس، مارک ٹوین،برنارڈ شاہ،چارلس ڈکنز،محمد سعید العباسی ،ابو نواس،عمر خیام اور نگاریو مارش کے نام نمایاں ہیں۔موسیقاروں میں باخ، بینتھون اور میری لائیڈ کا حوالہ اس بات کا شاہد ہے کہ طیب صالح کو موسیقی سے خاص دلچسپی ہے ،مزید براں ناول کے بیانیے میں موسیقی کے ردھم کو پیش نظر رکھا گیا ہے بالکل ایسے ہی جیسے میلان کنڈیرا اپنے ناولوں میں نثری ردھم کو قائم رکھنے کے لیے نہ صرف موسیقی کے آہنگ اور اصطلاحات کو بروئے کار لاتا ہے بلکہ موسیقی کے داخلی نظام سے بھی استفادہ کرتا ہے،یہ بات ہمیں طیب صالح کے ہاں بھی دکھائی دیتی ہے۔مختصرا کہا جا سکتا ہے کہ بیانیہ کی تکنیک کے اعتبار سے اور موضوعاتی سطح پر بظاہر سادہ ناول ہونے کے باوجود مذکورہ ناول تہہ دار اور تکثیرجہتی ناول ہے جو خود کو قاری پر ایک ہی قرأت میں منکشف نہیں کرتا۔قاری کو بین السطور معنی تک رسائی کے لیے محنت اور توجہ صرف کرنا پڑتی ہے تب جا کر وہ مخفی معنی کو دریافت کر پاتا ہے جو متن میں مستور ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post