شازیہ مفتی کی’’ اینٹ گارے کی کھرچن ‘‘ : نادیہ عنبر لودھی

شازیہ مفتی نے یہ کتاب مجھے پچھلے سال جولائی میں عطا کی تھی – اس کتاب کی تقریب رونمائی اکادمی ادبیات اسلام آباد میں منعقد کی گئ تھی -میں نے کتاب گھر آکر بک ریک میں رکھ دی اور زندگی کی مصروفیات میں مصروف ہوگئی آج ایک کتاب کی تلاش میں اس کتاب پر نظر پڑی تو کتاب کا مطالعہ شروع کیا –
شازیہ مفتی کی یہ کتاب بہت توجہ سے پڑھنے کے لائق ہے اس میں آپ نے زندگی کے مشاہدات اور تجربات کو جمع کیا ہے – فی زمانہ سوشل میڈیا کے دور نے ہر انسان کو مصروف کررکھا ہے کتب بینی کے لیے وقت نکالنا بہت مشکل ہوتا جارہا ہے زیادہ تر تحریریں آن لائن پڑھی جاتی ہے – اب کتاب کا خمار قصہ ِپارینہ بنتا جارہا ہے -ہمارے بچپن اور لڑکپن کے زمانے میں کتاب بہترین تفریح ہوا کرتی تھی اور فراغت میں بہترین مشغلہ بھی -جلدی جلدی ضروری کام نپٹا کے کتاب ہاتھوں میں لے کے ہم ایک نئے جہان میں گم ہوجاتےتھے – شازیہ مفتی کی کتاب میں وہی زمانہ رواں دواں ہے – آپ اسی ماضی میں گم ہیں پہلا نثر پارہ جس کا نام “اینٹ گارے کی کھرچن “ہے- اس نثر پارے میں مصنفہ نے مختلف گھروں سے متعلق مشاہدات قلم بند کیے ہیں اسی نثر پارے پر کتاب کا نام رکھا گیا ہے –
اس نثر پارے مصنفہ کو گھروں کی آنکھیں اور کان دل اور بانہیں پکارتے اور دھتکارے دکھائی دیتے ہیں گھر بھی مکینوں کے مزاج میں ڈھلتے نظر آتے ہیں وہ چند بے رس چہروں اور سفید بالوں والی خواتین کی دردناک موت کا قصہ سناتی ہیں جن کو وقت روند کے آگے بڑ ھ جاتا ہے لکشمی دیوی اور گلابو دیوی کے گھروں سے جڑے واقعات اور تقسیم کے حالات بیان کرتی ہیں –
پھر موجودہ دور سے ماضی کا موازنہ کرتی ہیں کہ وضع داری کا وہ دور اب نہیں رہا -زمانہ بدلتا ہے اور بدلتا چلا جاتا ہے -اب گھر خلوص اور تہذیب کے گہوارے نہیں رہے -اب تو گھر اسٹیٹس سمبل بن چکے ہیں اپنی دولت کی نمود و نمائش کا بہترین ذریعہ -پہلے گھر ضرورت کے تحت بناۓ جاتے تھے مکینوں کے مطابق -اب تو جتنا بڑا گھر ہو اتنے کم مکین اس میں رہتے ہیں – یورپ کی طرح یہاں بھی پیشگی اطلاع دے کر رشتہ داروں کے گھروں میں جانے کا رواج ہوتا جارہا ہے – بے تکلفی کی جگہ تکلف نے لے لی ہے -مصنفہ نے بدلتی ہوئی تہذیب کے نوحے کو گھروں کے موازنے کے ذریعے بیان کر نے کی کوشیش کی ہے -دوسرا نثر پارہ “قمیضیاں چھینٹ دیاں “کے عنوان سے ہے – برانڈز کے زمانہ نے چھینٹ کے کپڑے کو آوٹ اُف فیشن کردیا ہے -سلائی تو اب پرانا فیشن ہوگیا خواتین کے پاس اب سلائی کا وقت کہاں – دیگر موضوعات میں” ہے جذبہ جنوں تو ہمت نہ ہار “شجر کاری مہم سے متعلق ہے -“اطلاع عام “سیل فون اور نیٹ کے موضوع پر لکھا گیا ہے -“ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے “عزیز رشتہ داروں کے منافقانہ رویے سے متعلق ہے جو ہمارے معاشرے میں عام ہے -گنبد کی آواز ، بدلتی سوچ ، میرا چہرہ اور دیگر نثر پارے جن کی مجموعی تعداد بیالیس بنتی ہے -ان سب میں مصنفہ نےباریک بینی اور عمیق مشاہدے سے کام لیا ہے -خواتین لکھاریوں کی تحریروں میں ماضی پرستی اور اداسی کی فضا عام ملتی ہے -شازیہ مفتی صاحبہ بھی اداسی اور ماضی سے جڑی ہوئی ہیں –
دل بھی پایا تو ِبلا کا زود رنج
اک اداسی گھیرے رہتی ہے اسے
آپ پرانی نسل اور نئی نسل کے درمیان کھڑی ہیں ۔پرانی نسل کی روایات اور نئی نسل کی ترجیحات اور ان دونوں کے درمیان بڑھتے ہوۓ جنریشن گیپ کو بہت نفاست سے بیان کرتی ہیں -زیر ِ نظر کتاب میں مصنفہ نے زبان و بیان کے معاملے میں اردو زبان کو بخوبی نبھایا ہے – طرز تحریر میں معیاری زبان کا رنگ نمایاں ہے -مصنفہ کی مادری زبان اردو ہے -لہذا زبان پر ان کو قدرت حاصل ہے – الفاظ کا چناؤ بھی خوب کیا گیا ہے -محاوروں کی چاشنی ، تحریر میں سلاست اور روانی نے اسلوب کو عمدگی اور انفرادیت بخشی ہے -شازیہ مفتی صاحبہ شاعرہ بھی ہیں اور بہترین افسانہ نگار بننے کی صلاحیتوں سے بھی مالا مال ہیں – یہ ان کا اولین نثری کارنامہ ہے -آپ خانگی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ لکھنے کا شوق بھی پورا کرتی ہیں -جو کہ قابل تحسین ہے ہر لکھاری کے مقام کا تعین اس کے بعد آنے والا عہد کرتا ہے -یہ کتاب نہ تو افسانہ کی کتاب ہے نہ انشائیہ کی -یہ نثر پارے کی کتاب ہے جن میں مصنفہ نے کمالِ فن دکھایا ہے -مولا مزید کامیابیاں عطا فرماۓ آمین –
نادیہ عنبر لودھی
اسلام آباد

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post