سید صبیح رحمانی کا’’نعت رنگ‘‘ ۔۔۔ ایک تاثر : ڈاکٹرشبیر احمد قادری

سید صبیح رحمانی بہت باکمال شخص ہیں ، بحیثیت شاعر اور نثار وہ علمی و ادبی حلقوں میں اپنی نمایاں پہچان رکھتے ہیں ، نعت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کی خصوصی توجہات میں محوری حیثیت رکھتی ہے ، موصوف ایک خوش الحان نعت خواں بھی ہیں ، فروغ نعت کے سلسلے میں ان کی ایک اہم خدمت کتابی سلسلہ ” نعت رنگ” کا اجرا ہے ، اپریل 1995ء میں پہلا شمارہ منظر عام پر آیا تو ادبی و علمی حلقے اس لیے بھی چونکے کہ یہ تنقید نمبر تھا ۔
نعت اور تنقید !!!
نعت کی دنیا میں یہبا ضابطہ طور پر یکسر ایک نیا طرز احساس تھا ، سید معراج جامی اسے مذہبی ، مسلکی اور دینی شاعری سے تعلق رکھنے والوں کے ذہن فرسودہ کے تالاب میں پھینکے جانے والا پتھر قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں =
• اس تالاب سے پیدا ہونے والی بے قرار لہروں نے 1995ء سے تادم ایں وہ ارتعاش برپا کیا کہ اب تک اس سیلاب کی زد میں آۓ ہوۓ لوگ جاۓ پناہ ڈھونڈنے میں۔۔۔۔بھٹک رہے ہیں۔ ایک طرف تو ان کے ساتھ یہ واقعہ رونما ہوا اور دوسری طرف علم و ادب کی دنیا کے سنجیدہ صاحبان فکر و نظر نے بھی ” نعت رنگ ” کے اس شمارے کو خوش گوار حیرت سے دیکھا ، پھر آنے والےنعت رنگ نے روایتی اور غیر محتاط رویے کے حامل اہل سخن کے ذہنوں سے کالک کھرچنا شروع کی ۔۔• ( ” نعت رنگ اہل علم کی نظر میں” مرتب =شبیر احمد قادری، ص317)،
“نعت رنگ” کا انتیسواں شمارہ اپنی روایتی آب و تاب کے ساتھ منظر عام پر آیا ہے ، اس شمارے میں شامل مختلف الموضوع تحریریں بہت اہمیت کی حامل ہیں ، سید صبیح رحمانی ان مدیروں میں سے ایک ہیں جو اداریہ کو رسالے کا حقیقی چہرہ سمجھتے ہیں اور اس ترسیل فکرواحساس کا افادی نکتہ قرار دیتے ہیں ، *نعت رنگ* کے اداریوں کی اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ اب تک کتب کے ساتھ ساتھ ان اداریوں کے مندرجات کے حوالے سے کئی مضامین بھی لکھے جا چکے ہیں ، زیر نظر ادارے کی خاص بات شمس الرحمن فاروقی کے خط کی شمولیت ہے ،اس خط میں انھوں نے ایسے نکات پر بات کی ہے جس کا مسکت جواب صبیح رحمانی نے دینا ضروری خیال کیا ، فاروقی صاحب نعت رنگ میں شامل مضامین کا ناقدانہ جائزہ لیتے ہوۓ لکھا=
*ہم اردو والوں کی یہ عادت بھی پرانی ہے کہ الفاظ کا بے دریغ استعمال کرتے ہیں اور بات بہت ذرا سی نکلتی ہے ، اگر نکلتی ہے ۔ موجودہ شمارے کے اکثر مضامین کا یہی حال ہے *(ص9),
اس پر صبیح رحمانی لکھتے ہیں =
* اپنے عہد کے ایک سنجیدہ اور معتبر نقاد کا یہ جملہ بھی خوش کن اور حوصلہ افزا ہے کہ بعض لوگوں نے نئ ذیا گہری بات کہنے کی کعشش ضرور کی۔۔۔ایک ایسی صنف سخن جس کی طرف ایک طویل عرصے تک نقدونظر نے التفات کی نگاہ ہی نہیں اٹھائی اور اسے *شعر عقیدت* کا لیبل لگا کر ہمیشہ مباحث کی فضا سے دور رکھنے کی کوشش کی گئی اج وہ اس مرحلے تک آ گئی کہ اس میں نئی بات، نئے نکات کی کوشش کا اعتراف کیا جانے لگا، الحمد اللہ ثم الحمد اللہ آج وہ اس لایق تو ہوئ کہ اس عہد کا ایک مستند اور معتبر نقاداسے اس درجہ اہم گردانتا ہے کہ اس کے نکات ، سوالات اور مباحث پر وقت اور توجہ صرف کر رہا ہے *(ص9),
اس ضمن میں سید صبیح رحمانی نے بہت مناسب بات کی ہے کہ فاروقی صاحب اپنی ذمےداری کا تعین خود فرمائیں، قابل قدر یہ ہو گا کہ وہ اس شعبے کے لیے عملی اقدام کریں اور خود مستحکم مقدمات پیش کریں ، بات صد فی صد درست ہے کہ دوسروں کی تحریروں میں موجود خامیاں ، کمیاں اور کجیاں تلاش کرنے سے کہیں بہتر ہے کہ خود نقدونظت کے مثالی نمونے سامنے لاۓ جائیں جو نئے لکھنے والوں کی راہنمائ کا موثر ذریعہ بنیں ،
*نعت رنگ* شمارہ نمبر انتیس کا آغاز حمدوں سے کیا گیا ہے ،ریاض مجید ، وفا چشتی ، سلیم شہزاد،سعود عثمانی،خان حسنین ثاقبتنویر پھول اور شہزاد مجددی کی حمدیں شامل ہیں ، ریاض مجید صاحب کے حمدیہ قصیدے کے یہ ابتدائ اشعار ملاحظہ ہوں =
سبحان تری قدرت تخلیق نژادہ
امکاں پس امکاں ہے جو اسرار نہادہ
رو میں ہیں صفات ازلی غیر تعطل
جاری ہے سفر ذات کا بے منزل و جادہ
ہم جس کو سمجھتے ہیں عدم، وہ بھی ہے دراصل
اک سلسلہ حکمت کا تری ،خلق ولادہ
(ص25)
” تحقیق و تنقید “کے ذیلی عنوان کے تحت درج ذیل مضامین شامل ہیں =
مغرب کا نعتیہ بصری ادب،( ڈاکٹر طارق ہاشمی) ،نعت کی شعریت،(سلیم شہزاد)،اردو نعت میں تعظیمی بیانیہ ،( ڈاکٹر طارق ہاشمی) ،برسبیل نعت،(ڈاکٹر ریاض مجید)، نعت میں محاورہ و استعارہ، تشبیہ اور علامت کا استعمال،( ڈاکٹر عزیز احسن) ،صفوت کا معراج نامہ ،(ڈاکٹر سید یحی نشیط) ، نذر صابری کی نعت میں معراجیہ عناصر اور ان کا معراج نامہ ،(ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد)،دکنی زبان میں سیرت النبی کے منظوم مآخذ،( پروفیسر مجید بیدار)،اردو نعت میں تاریخی صداقتیں، (پروفیسر محمد اقبال جاوید) ، ابتداۓ اکیسویں صدی میں اردو نعت کا تشکیلی تناظر(منتخب رسائل کی روشنی میں)،(ڈاکٹر محمد اشرف کمال )،اردو حمد کی شعری روایت، (صبیح رحمانی)، معاصر اردو نعت کا موضوعاتی تنوع،( زاہد ہمایوں) ،
*قند پارسی* کے زیر عنوان ڈاکٹر محمد اسمعیل آزاد فتح پوری ، احمد جاوید ۔ شہزاد مجددی اور ڈاکٹر نوید احمد گل کے مضامین شامل ہیں ،
*فکروفن* کے ذیلی عنوان کے تحت ڈاکٹر ریاض مجید ، ڈاکٹر عقیل ہاشمی ، محمد آصف ،ڈاکٹر سراج احمد قادری ، احسان اللہ طاہر اور کاشف عرفان کے مضامین شامل ہیں ،
گوشی کے زیر عنوان ڈاکٹر ارشد محمد ناشاد کی نعت پر ڈاکٹر عزیز احسن کے تعارفی مضمون کے بعد ناشاد صاحب کی نعتیں شامل ہیں ،
*مطالعات نعت* کو خان حسین ثاقب ، سلیم شہزاد ، ڈاکٹر طارق ہاشمی اور پروفیسر انوار احمد زئ کی تحریروں سے مزین کیا گیا ہے ،
°ایوان مدحت °کے تحت نعتیں اور *نعت نامے* کے زیرعنوان مکاتیب شامل ہیں ، آخری صفحات پر نعت ریسرچ سنٹر کراچی کی مطبوعات کی فہرست شایع کی گئ ہے ، فہرست کے مطابق سنٹر کے زیر اہتمام اب تک باسٹھ کتب معرض شہود پر آ چکی ہیں ،
رفیق سندیلوی کی ایک نعت کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں =
حضور کوئی تدارک کہ دل نمو پائیں
ہم ایک گوشہ سرسبز چارسو پائیں
کمال ہو کہ سحردم جونہی چراغ بجھے
تو خود کو روضہ اقدس کے روبرو پائیں
دوبار جی اٹھیں تاثیر اسم احمد سے
ہم اپنی مردہ رگوں میں نیا لہو پائیں
(ص478)
°نعت رنگ° عصر حاضر میں اپنے موضوع کے تناظر میں بلا شبہ سب سے اہم اور وقیع رسالہ ہے ،اس کا ہر شمارہ خاص شمارہ ہوتا ہے ، مواد کی جمع آوری ، انتخاب ، حسن ترتیب ، اشاعت اور ترسیل ان سب مراحل و مدارج سے سید صبیح رحمانی بہت مثالی انداز سے عہدہ برا ہو رہے ہیں اور اس کی بہتری اور کامیابی کے لیے ہمہ وقت سرگرم عمل دکھائ دیتے ہیں ۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post