سقراط ۔۔۔ قتیلِ شعورِِنو : ڈاکٹر زاہد منیرعامر

یہ حقیقت ہے کہ قدیم تاریخی شہروں کے باسی بالعموم اپنے شہروں کے تاریخی مقامات سے آگاہ نہیں ہوتے۔جامعہ الازہر میں پڑھاتے ہوئے جب میں مصرکے تاریخی مقامات کی سیرکا تذکرہ کرتاتو اپنے مصری رفقاکو ان سے بے خبرپاتاحتیٰ کہ قاہرہ کے رہنے والے ایسے اساتذہ بھی تھے جنھوںنے کبھی اہرامات نہیں دیکھے تھے۔ اہرامات تو زرادورتھے ایسے اساتذہ سے بھی ملاقات رہی جنھوںنے جامعہ کی لائبریری بھی نہیں دیکھی تھی۔ میںنے کچھ ایسے یونانیوں سے ہیڈرین لائبریری کا تذکرہ کیاجو ایتھنزہی میں پیداہوئے اوریہی زندگی گزاری ہے تو انھوںنے بڑے تعجب سے پوچھاکہ کیا ایتھنزمیں ایسی کوئی لائبریری بھی ہے …؟آغورامیں شہرکے قدیم آثار،پتھروں کے ٹکڑے، ان پر لگی ہوئی یونانی اور انگریزی زبان کی تختیاں، ویرانوں میں بکھرے ہوئے پژمردہ پھولوں کی طرح بکھری ہوئی تھیں۔کہیں دیوار کا ٹکڑارہ گیاتھاعمارت غائب تھی کہیں ستون موجودتھے ان کے اوپرچھت نہیں تھی کہیں محراب موجودتھی عمارت کا باقی حصہ اڑچکاتھا جن عمارتوں کے کھنڈر باقی رہ گئے ہہیں انھیں مرورایام سے بچانے کے لیے آہنی پائپ لگاکر ان میں جکڑ دیاگیاہے یہاں وہاں شکستہ مجسموں کے باقی بچ رہنے والے حصے کھڑے اپنے ماضی کا ماتم کررہے تھے کسی کا دھڑتھاتوسر نہیں تھاکسی کا سرباقی ر ہ گیاتھا ،دھڑ زمانے کی گردشوں میں گم ہوچکاتھا،کہیں توماضی کی عمارتوں کی یادگار ستون باقی تھے اور کہیں ستون بھی باقی نہیں بچے محض ان کابالائی حصہ بچ رہاتھا، جس پر صناعوںنے اپنی صناعی کے جوہر دکھائے ہوئے تھے ۔انھیں ستونوں کے تاج کہہ لیجیے ایک ایسے ہی تاج میں بنانے والے فن کار نے کسی دیوتاکی شبیہہ ابھاررکھی تھی اور اب باقی ساری عمارت میں سے وہی ٹکڑابچ رہاتھا۔کہیں زمانے کے قدموں تلے روندے گئے فرش کا کوئی ٹکڑاباقی بچ رہاتھا جس پر موزیک کے نشان اس کی گزشتہ و رفتہ آرائش کا پتا دے رہے تھے …دورمسجدکا گنبدکھائی دے رہاتھا قریب ایک گرجے کی عمارت کا باقیماندہ حصہ تھا یہ سینٹ ایسومیٹس کا چرچ تھا Tetraconch Churchکی عمارت کے باقی آثاربھی تھے ۔کہیں قبروں کی طرح کے نشان تھے جن کی محض تختیاں باقی رہ گئی تھیں ان پر یونانی زبان میں کچھ لکھاہواتھا بعض کتبات پر انگریزی بھی درج تھی لیکن حروف اتنے باریک تھے کہ ان کا پڑھنا آسان نہ تھا۔اس ویرانے میں بھی حذیفہ کو ایک’’ جید‘‘یونانی کتا مل گیاجس کے نزدیک تاریخی آثارکی حیثیت ایک ویرانے سے زیادہ نہیں تھی اور اس نے اس جگہ کو اپنے آرام کے لیے منتخب کیاہواتھا۔حذیفہ نے اس سگ ِخوابیدہ کی تصویربنانے میں زرابھی تاخیر نہ کی کہ سگ ِخوابیدہ بہ ہر حال سگان ِدنیاسے تو بہترہی ہے ۔
Old Bouleuterionبولیٹریون پر پہنچے تو مجھے ایک بار پھر سقراط کے آثارکی جستجوہوئی لیکن یہاں ایسی کوئی شے محفوظ نہیں تھی۔ کوئی ایسی یادگاری تختی
تھی نہ کوئی نشان ۔میں جو بچپن سے سقراط کا چاہنے ولاہوں ہرجگہ اسی کے نشانات ڈھونڈتاتھا لیکن حیران کن حدتک مجھے اس کا کوئی نشان کجاسیکڑوں مجسموں
کے ہجوم میں کوئی مجسمہ بھی نہ ملا۔ بولیٹریون وہ جگہ تھی جہاں ایتھنزوالے اپنی اسمبلی کا اجلاس کیاکرتے تھے۔ یہی جگہ یونان کا سینیٹ تھی اوریہیں جیوری
مقدمات کی سماعت کرتی اور ان کے فیصلے کیاکرتی تھی۔میں یہاں رک گیااور چشم تصورسے سقراط کے خلاف ہونے والی کارروائی دیکھنے لگا۔ سترسالہ سقراط
پرفردجرم عایدہورہی ہے ،وہ مجرموں کے کٹہرے میں کھڑاہے ،سیکڑوں لوگ اس کے سامنے ہیں اور میلی ٹاس اس پر جرح کررہاہے۔ بوڑھا ملزم اپناموقف
پیش کرتے ہوئے کہتاہے :میراکام بس یہی ہے کہ میں آپ لوگوں کو چاہے جوان ہوں یا بوڑھے اس طرف راغب کروں کہ جسم اور مال کو اپنی اوّلین ترجیح نہ
بنائیں بلکہ روح اور نفس کی پاکیزگی کو اوّلیت دیں ،ان کی اتنی نشوونماکریں کہ وہ نیکی کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز ہوجائیں۔ خیراور نیکی، مال و دولت سے نہیں ملتی بلکہ خیراورنیکی سے مال و دولت بھی ملتے ہیںاوروہ سب کچھ بھی جو آپ کودرکار ہوتاہے ……سقراط اپنے خیالات ظاہرکررہاتھا میلی ٹاس ان خیالات پر تنقیدکرتاہے ۔سقراط پر اس کا الزام ہے کہ وہ اجتماعی معاملات میں حصہ نہیں لیتا،وہ اسمبلی کے اجلاسوں میں نہیں آتا ،وہ دیوتائوں کو نہیں مانتا،وہ نوجوانوں کے اخلاق خراب کرتاہے …سقراط کہتاہے میری صاف گوئی ہی میری ملامت کا سبب بنی ہے، یہ نفرت ہی اس کا ثبوت ہے کہ میں جو کہتاہوں وہ سچ ہے ،مجھے بچپن سے ایک روحانی اورالہامی آواز آتی ہے جو مجھے ہر اس کام سے روک دیتی ہے جو مناسب نہ ہو ،اسی نے مجھے اسمبلی میں آنے اور آپ کی کارروائیوں میں حصہ لینے سے روکے رکھا …وہ خدائے واحدکی توحیدکا اقرارکرتاہے میلی ٹاس ،سقراط کامذاق اڑاتاہے۔ اس غیبی آوازپرہنستاہے، جیوری، میلی ٹاس کا ساتھ دیتی ہے۔طے پاتاہے کہ مقدمے کا فیصلہ ووٹنگ سے کیاجائے…ووٹنگ ہوتی ہے اور فیصلہ سقراط کے خلاف آتاہے ۔ایتھنزکی اس عدالت کا دستورہے کہ سزاسنانے کے بعدمجرم کو ایک موقع دیاجاتاہے کہ وہ اپنے لیے کوئی متبادل سزاتجویزکرے ۔ سقراط کہتاہے کہ زندگی ،جستجوئے حقیقت کی تڑپ کے بغیر بے معنی ہے، یہ اور بات ہے کہ آپ کو اس بات کا یقین دلاناآسان نہیں۔ اگرمیرے پاس کوئی رقم ہوتی تو میں اس سزاکے بدلے میں جرمانے کی سزاتجویزکردیتا لیکن میرے لیے اس کاامکان نہیں ہے الّایہ کہ آپ جرمانے کی رقم اتنی کم رکھیں کہ میں اسے اداکرسکوں …یہاں بوڑھے سقراط کے تلامذہ اسے رقم فراہم کرنے کا وعدہ کرتے ہیں اور وہ تیس منہاس جرمانے کو اپنے لیے متبادل سزاتجویزکرتاہے ۔
پیشتر اس سے کہ جیوری میں شامل سقراط کے حامی اس متبادل سزاکو مان لینے کی تحریک کریں میلی ٹاس کہتاہے کہ نہیں جناب اس طرح نہیں، اس بات پر دوبارہ رائے شماری ہوگی۔ چنانچہ دوبارہ رائے شماری ہوتی ہے کہ سقراط کی سزاکو جرمانے سے تبدیل کیاجائے یانہیں …؟رائے شماری میں دوبارہ یہی فیصلہ ہوتاہے کہ سقراط کو موت ہی کی سزادی جانی چاہیے …سقراط بڑے تحمل کے ساتھ سزاسنتاہے اورجیوری کے سامنے اپنی آخری گفتگومیں کہتاہے آپ کا خٰیال ہے کہ مستقبل میں آپ سے اس فیصلے کے بارے میں کوئی پرسش نہیں ہوگی …ہرگزنہیں ،صورت حال اس کے بالکل برعکس ہوگی ۔ایک نہیں کئی ہوں گے جو آپ کو مجرم ٹھہرائیں گے اور اس سزاکی سزا،اس سزاسے کہیں زیادہ سخت ہوگی…
…………………

اس سزاپر ڈھائی ہزارسال گزرچکے ہیں اور وہ نام نہادجیوری اب تک سزابھگت رہی ہے ۔میں بھی ان کئی میں سے ایک ہوں جو ہر عہدکے میلی ٹاسوں کو جانتے ہیں اورسقراط کو نہیں اس جیوری کو مجرم ٹھہراتے ہیں،جس نے سچائی کی شمع کو بجھاکر اپنے گلے میں ابدی ملامت کا طوق ڈالااوربہت سے میلی ٹاس میرے سامنے میں جو آج بھی یہ طوق بصدذوق و شوق اپنے گلے میں ڈال رہے ہیں۔سقراط کٹہرے سے نکل آیاہے ۔وہ مجھ سے کہتاہے ’’کیاتم نے ڈیلفی کی پیشانی پر لکھے ہوئے الفاظ پڑھے ہیں …؟میں کہتاہوں جب میں نے ڈیلفی کی پیشانی کے الفاظ پڑھے تھے تو اس وقت میں اسلام پورہ سرگودھامیں اپنے دانش کدہ میں تھا…Chose thyself and know thyselfیہی جملہ تو مجھے وہاں سے اٹھاکر یونان تک لایاہے ۔تم نے اچھاکیا جو یہاں آگئے، یہاں تم اپنی آنکھوں سے سچ اور جھوٹ کا فرق دیکھ سکتے ہو…اچانک مجھے اپنے ساتھ یوتھائی ڈیمس کھڑادکھائی دیتاہے …وہ کہتاہے میں تو دوبار ڈیلفی گیاہوں اور میں نے وہاں جاکر یہ جملہ بھی پڑھاہے…سقراط کہتاہے محض پڑھناتوکافی نہیں،کیا اس پر غور بھی کیااور کیااپنے بارے میں جاننے کی کوشش بھی کی…’’میں کون ہوں‘‘ یہ تو میں پہلے ہی جانتاہوں، یوتھائی ڈیمس برجستہ جواب دیتاہے …خودکو جاننے کے لیے اپنانام جان لیناتو کافی نہیں …ایک شخص کسی گھوڑے پر جب تک سواری نہ کرلے، اس کی سرکشی ،مضبوطی، کمزوری، سبک رفتاری، سستی سے اچھی طرح آگاہ نہ ہوجائے تب تک وہ یہ نہیں کہہ سکتاکہ اس نے گھوڑے کو اچھی طرح جان لیاہے۔ اسی طرح جب تک ہم اپنے اندر موجودقوتوں، صلاحیتو ں اور فرائض سے ناواقف ہوں جو ہم پرعایدہوتے ہیں تو اس وقت تک ہم خودکو جاننے کادعویٰ نہیں کرسکتے ………یہ جگہ توایسے ہے جیسے کسی عمارت میں داخلے کے لیے بنائی گئی ہو …ایک کھنڈر کو دیکھ کر حذیفہ پکاراتومیں ایتھنزکی عدالت سے باہر آگیا۔ ایک بار پھروہاں جہاں سقراط تھانہ اس کا کوئی نام ونشان …ہاں میرا خیال ہے یہاں پر یونانی دیوی Athenian Metroon کا معبدتھا جس کا اب صرف مدخل باقی رہ گیاہے۔میٹرون قدیم یونانیوِں کی مادردیویوں میں سے تھی ۔مادردیوی پدردیوتاکی زوج ہوتی تھی جومل کر زمین و آسمان کے نظام کے ذمہ دارسمجھے جاتے تھے۔یونانی دیومالامیں ایسی مادردیویوں کی کمی نہیں ۔ سائبیلCybele ڈیمیٹرDemeter اورریحہ rhea ایسی ہی دیویوں کے نام ہیںجن کے عریاں مجسمے اور ان کے وجود سے لپٹے ہوئے بچے ان کی امومت کو ظاہرکرتے تھے ۔ان میں کوئی زرخیزی کی ذمہ دارتھی، کوئی کاشت کاری کی ،کسی نے بچوں کی پرورش اپنے ذمے لے رکھی تھی وغیرہ …جس دھرتی نے ان ماتائوں کو جنم دیاآج خوداسے ان سے کوئی دلچسپی نہیں ان معابد کی ویرانی کو دیکھ کر ،ان کھنڈرات میں پھرتے ہوئے، ان بستیوں کاخیال آتارہاتھا جن کے بارے میں کہاگیاہے کہ … نَقُصُّہُ عَلَیْْکَ مِنْہَا قَآئِمٌ وَحَصِیْدٌ(کچھ بستیوں کی سرگزشتیں ہیں جو ہم تمھیں سنارہے ہیں۔ان میں سے کچھ تو قائم ہیں اور کچھ مٹ مٹاگئیں )صرف یہی نہیں وہ لوگ جو ان دیوی دیوتائوں کے حضور سربسجدہ ہوتے رہے، ان کے بارے میں سنایاگیا یہ فیصلہ بھی درِدل پر دستک دیتارہاکہ فَمَا أَغْنَتْ عَنْہُمْ آلِہَتُہُمُ الَّتِیْ یَدْعُونَ مِن دُونِ اللّہِ مِن شَیْْء ٍ(توان کے وہ دیوتا ،جن کو وہ اللہ کے سوا پکارتے تھے ،ان کے کچھ بھی کام نہ آ ّٓئے۔ ۱۱ھود۱۰۰۔ ۱۰۱)
مادردیوی کے اجڑے ہوئے معبدسے چندقدم آگے وہ عمارت نظرآرہی تھی جسے اس ویرانے میں سب سے بہتر حالت کی حامل عمارت قراردیاجاسکتاہے ۔یہ اطالوس کا برآمدہ Stoa of Attalos ہے۔اطالوس، ایشیائے کوچک کی ساحلی ریاست Pergamon کا حکمران تھا۔ یونانی روایت کے مطابق وہ ترکی کے شہر انطالیاکا بانی بھی تھا۔اس نے ۱۵۹قبل مسیح سے ۱۳۸قبل مسیح تک حکومت کی۔ اسی زمانے میں یہ عمارت تعمیرکی گئی جس کے آثار ہمارے سامنے تھے لیکن ان آثار کی روشنی میں یہاں بالکل اسی نقشے کے مطابق تعمیرنومیںجو برآمدہ اور ہال کھڑاکیاگیاتھا وہ امریکی ماہرین فن تعمیرکاتعمیرکردہ فن پارہ ہے جو ۱۹۵۲ء سے ۱۹۵۶ء کے دوران یونانی ماہرین فن تعمیرسے مل کر بنایاگیا ۔سارے آغورامیں اگر کسی عمارت میں اب جان باقی تھی تو وہ یہی برآمدہ تھا ۔اس کی وجہ بھی تعمیرنو کا عمل تھا، اس کا پراناڈھانچہ تو باقی آغوراکی طرح بربادہی تھا لیکن تعمیرنوکے بعد اس کی شکل و صور ت نکل آئی ہے اور اب اس میں آغوراکا عجائب کدہ قائم ہے۔
یہ عجائب گھرواقعی عجائب سے بھراہواہے لیکن یہ عجائبات، شکستہ و ریختہ ہیںکسی بت کا سرنہیں ہے تو کسی کا دھڑ غائب ہے کسی کا محض لباس دکھائی دے رہاہے توکوئی لباس کی قید سے یکسر بے نیازہے، کہیں چھوٹے چھوٹے ظروف کسی الماری میں سجائے گئے ہیں توکسی دوسری الماری میں زمانہ قبل مسیح کے سکے سجے ہوئے ہیں۔ ساتھ ان کی فہارس بھی آویزاں ہیں ۔بہت سے مجسموں کے نام قیاسی طور پردرج کیے گئے ہیں بعض تمثالیں یونانی دیومالاکے کرداروں کی نمائندگی کررہی ہیں ۔ایک شیشے کی الماری میں بابائے تاریخ ہیروڈوٹس صاحب کا سر رکھاہے تو دوسری میں انطونیو کا ۔ہومر کی ایلیڈ اور اوڈیسی کے کرداروں کے ٹوٹے پھوٹے مجسمے بھی موجودہیں ایفرودایتی یعنی زہرہ ،جس کاتفصیلی حال ہم پہلے بیان کرچکے ہیں، ایک شیشے میں بندہے ۔میں یہاں بھی سقراط کا دھڑ یا اس کا کوئی مجسمہ تلاش کرتارہا لیکن …ہائے سقراط تو یہاں بھی نہیں …اور اس کا کوئی نشاں بھی نہیں
ان ویرانوں میں پھرتے پھرتے بہت دیرہوگئی بیشتر اس سے کہ خوانندگان کرام تھک جائیں آغوراکی ہیڈرین لائبریری ( Hadrian’s Library)کا حال سنادیناچاہیے جس کے ذکرسے ہم نے بات شروع کی تھی ۔یہ لائبریری رومن بادشاہ Hadrian ہیڈرین کے زمانے میں ۱۳۲ عیسوی میں بنائی گئی ۔ اس کاشان دار مدخل رومیوں کے فن تعمیرکا نمونہ تھا ۔کبھی یہاںستون اور ان پر آرائشی بیل بوٹے بھی تھے ،گرداگرد کسی حدبندی کے نشانات ظاہر ہورہے تھے ۔درمیان میں کالموں میں گھراہواایک نیم مستطیل شکل کااندرونی صحن تھا۔ مشرقی جانب نرسل کے اوراق یعنی Pyparusکی کتب کے رول رکھے جانے کی جگہ تھی۔ یہی اصل لائبریری رہی ہوگی ۔ہم مصر میںنرسل کے اوراق کی رنگا رنگ شکلیں دیکھ چکے تھے ۔اہرام مصر پر اور خان الخلیلی کی فروش گاہوں میں ہر پرانی تصویر کو نام نہاد نرسل کے اوراق پر چھاپ کر فروخت کیاجارہاہوتاہے ۔اطراف میں کچھ ہال کمروں کی وضعیں تھیں جنھیں غالباً ریڈنگ رومزکے طور پر استعمال کیاجاتاہوگا ۔عمارت کے گوشے لیکچرہالزکے طور پر استعمال ہوتے تھے۔بتایاجاتاہے کہ ۲۶۷عیسوی میں Herulian invasionسے اس عمارت کو بہت نقصان پہنچابعدازاں Hercaliusنے اس کی مرمت کروائی۔ ۴۰۷سے ۴۱۲ ء کے زمانے میںبازنطینی دور میں یہاں تین گرجے بھی تعمیرکیے گئے۔ جن کی کچھ باقیات ہنوزموجود ہیں۔
آغوراہی میں افلاطون کی اکیڈیمی قائم ہوئی تھی اس اکیڈیمی کی بھی ایک لائبریری تھی۔ہوسکتاہے کہ رومن بادشاہ Hadrian ہیڈرین کے زمانے میں جب سنہ ۱۳۲ عیسوی میں یہ لائبریری بنائی گئی ہوتو اس کے پس منظر میں وہ لائبریری رہی ہو جس کی تاسیس افلاطون کی اکادیمی کے ایک جزوکے طور پر افلاطون ہی کے دورمیں ہوچکی تھی اور اس بات کے شواہدملتے ہیں کہ اس کتب خانے کی تاسیس کے لیے اہل خیرسے عطیات بھی لیے گئے تھے ۔
……………………

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post